اب تو مسلم کو مسلمان سے ڈر لگتا ہے

Share Article

عفاف اظہر، کناڈا
آج ہمارا معاشرہ  اس قدر غیر محفوظ کیوں ہے ؟آج ہم اتنے عدم تحفظ کا شکار کیوں ہیں؟ ،جبکہ ہمارا معاشرہ بھی اسلامی ہے اور ، جمہوریت کے علمبردار حکمران بھی ،ہمارے ادارے بھی اسلامی ہیں اور قانون بھی خدائی ہیں …،ہمارے پاس تمام اصول اور ضابطے بھی ہیں مگر ان سب کے باوجود بھی ہم ایسا کیوں محسوس کرتے ہیں کہ ہم آج  بے یار و مدد گار ہیں ، ہم ایک لاوارث قوم ہیں، ایک ایسی قوم جس کا ماضی کہیں تعصبات کے اندھیروں میں کھو چکا ہے۔ حال سے بے حال اور مستقبل بموں کے دھماکوں سے اڑتے انسانی چیتھڑوں کے سوا اور کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا … معصوم بمبار مجاہدوں کے ہاتھوں لہو لہان مستقبل قومی المیہ ہی نہیں بلکہ ایک لمحہ فکریہ بھی ہے۔
مساجد گولیوں سے چھلنی کر دی جاتی ہیں گولیاں چلانے والوں کے نعرے فضا میں گونجتے ہیں کہ لا الہٰ الا اللہ تو ادھر گولیوں کی بوچھار سے زخمی ہونے والے لہو لہا ن نمازیوں کی نزع کی آخری ہچکیوں کے ساتھ بھی یہی صدا سنائی دیتی ہے لا الہٰ الا اللہ .. ..مزار خود کش بم دھماکوں سے اڑا دیے جاتے ہیں۔ خود کش جیکٹ پہنے پھٹنے والے کے لبوں سے صدا ٓتی ہے لا الہٰ الا اللہ تو ادھر دھماکے سے اڑنے والے انسانی چیتھڑوں سے بھی یہ ہی آواز سنی دیتی ہے کہ لا الہٰ الا اللہ …جب قاتل کا بھی وہ ہی نعرہ جو مقتول کا نعرہ …خود کش بمبار کا بھی و ہی کعبہ جو دھماکوں سے اڑنے والوں کا کعبہ …تخریب  کاروں کا بھی و ہی رب جو تخریب گزیدوں کا ….ظالموں کا بھی وہی ایمان جو مظلوموں کا ….قاتل کہلا ئیں غازی تو مقتول شہید  …۔خود کش بمبار کہلائین  مجاہد اور دھماکے جہاد …تو پھر ابابیل کس کی مدد کو اتریں ؟ قاتل کی یا پھر مقتول کی ؟ … کنکر ی کس پر گرائیں ؟؟؟…خود کش مجاہد پر یا پھر لہو لہان مساجد و مزاروں پر ؟؟؟ہاں شاید اسی لئے تو پرندے اب نہیں آتے اور کنکری نہیں گراتے۔
اب کہاں ایثار و اخوت وہ مدینے جیسا
اب تو مسلم کو مسلمان سے ڈر لگتا ہے
کشمیر ،فلسطین ، چیچنیا ، بوسنیا ، افغانستان کا کیا ذکر کروں کہ وہ تو ہم سے بہت بہترہیں کہ وہاں کٹتے مرتے انسانی  لاشوں کو کوئی نام اور مقام تو حاصل ہے ..آوروں کے قصے کیا چھیڑیں کہ ہمارے پاس تو اپنے ہی درد کا درماں نہیں، اپنے رستے ہوئے ان گمنام سے زخموں کی چارہ گری کے کوئی اسباب تک نہیں  …شاید اس لئے کہ یہاں زخم رسیدہ بھی ہم ہیں اور زخم خوردہ بھی ہم …اس نشیمن کو دنیا کے نقشے پر لانے والا قائد جب زندگی کی آخری سانسیں گن رہا تھا تو طبی امداد پہنچانے میں دیر کرنے والے کون تھے ؟ جی ہاں وہ ہم خود ہی تھے امریکا نہیں … سقوطِ ڈھاکہ وطن دو لخت ہوا تو تخریب کار کون تھے ؟ اپنا ہی آشیانہ دو حصوں میں تقسیم کرنے والے کون تھے ؟ گریبان میں جھانکئے ، جی ہاں وہ بھی ہم خود ہی تھے۔ اسرائیل ہرگز نہیں …۔اس وطن کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے والے سندھو دیش ، پختون خواہ ، جاگ پنجابی جاگ اور عظیم بلوچستان کے نعرے لگانے والے کون ہیں ؟ جی ہاں وہ بھی تو ہم خود ہی ہیں۔ یہ کوئی ہندوستانی سازش نہیں … مذہب کے نام پر انتہا پسندی کی انتہا کرنے والے ، اپنے سیاسی مفادات کے حصول کی خاطر ملکی قوانین کی آڑ لینے والے، اپنی ملکی اقلیتوں کے بنیادی انسانی حقوق سے غداری کرنے والے، اپنی مادر وطن کی چھاتی کو زخموں سے چھلنی چھلنی کرنے والے کون ہیں ؟؟؟؟…جی ہاں وہ بھی تو ہم خود ہی ہیں کوئی اور نہیں …اپنا نشیمن تو ایک طرف اپنی ہی مساجد مزاروں اور عبادت گاہوں کو  لہولہان کر کے اپنے ایمان کو کوڑی کے بھاؤ بیچنے والے کون ہیں ؟ گریبانوں میں جھانکئے جی ہاں وہ بھی صرف ہم خود ہی ہیں … تعصبات کی سیاہ عینک پہنے وطن کے ہونہار سپوتوں کو ملک بدر کر کے وطن کو جہالت کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیلنے والے کون ہیں ؟ جی ہاں وہ بھی تو ہم ہی ہیں کوئی اور تو نہیں …۔چلیے اگر ایک لمحہ کو یہ فرض بھی کر لیں کے تخریب کار کوئی اور ہے، قصور وار کوئی دوسرا ہے اور سازشی ہاتھ کسی اور کے ہیں تو پھر اس جلتے ہوئے نشیمن کا ہر سلگتا ہوا زخم ہر لہو لہان گوشہ اوراپنی اس مادر وطن کی یہ اجڑی ہوئی کوکھ سوالیہ نشان لئے ہوئے ہے کہ میرے خزانے خالی کون کر گیا ؟… میری املاک کو نیلام کس نے کیا ؟ …میرے عہدے کس نے بیچے ؟ .. درآمد اور بر آمدات کی آڑ میں مجھے کون کون لوٹتا رہا ؟ …میرے عظیم ہلالی پرچم کا تقدس پامال کس نے کیا ؟ …کراچی سے لے کر پشاور تک میری سڑکوں کو لہو رنگ کس نے کیا ؟میرے قانون کو کس کس نے بیچا اور میرے منصفین کو کس کس نے خریدا ؟ …میرے آئین کی دھجیاں اڑانے والے کون ہیں ؟ …میری مساجد و مزاروں پر جہاد کرنے والے ایمان فروش کون ہیں ؟ میری اقلیتوں کے انسانی حقوق کی پامالی کا درس دینے والے، ان پر مظالم کے پہاڑ ڈھانے والے، اس ماں کے کفن کے ٹکڑوں کو تعصبات کے ہاتھوں بیچنے والے یہ وطن فروش کون ہیں ؟؟دختر قوم ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ہمدردی میں ملکی املاک نظر آتش کر کے ملکی امن و امن برباد کرنے والو  !… کیا مختاراں مائی اس قوم کی بیٹی نہ تھی ؟ ڈاکٹر قدیر کے غمخوارو !.. کیا ملک بدر نوبل پرائز یافتہ ڈاکٹر عبد السلام اس مادر وطن کا سپوت نہ تھا ؟ ؟؟
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
ا پنی تخریب کاریوں سے اپنا ہی نشیمن جلانے والو !… اس ہوس کی خندقیں تو آج بھی  نہیں بھریں مگر جنازہ بنی اپنی یہ سر زمین بموں کے دھماکوں سے اجڑتے وطن کا ہر گوشہ  دہائی دے رہا ہے کہ تخریب کارو قصور وار کوئی اور نہیں ، سازشی کوئی دوسرا نہیں بلکہ ہم خود ہی ہیں  … اپنے ماضی کو تعصبات کے اوراق میں دفن کرنے والے حال سے عیاری اور مستقبل سے غداری کرنے والے کوئی دوسرے نہیں صرف ہم خود ہیں ۔

Share Article

One thought on “اب تو مسلم کو مسلمان سے ڈر لگتا ہے

  • November 1, 2010 at 5:35 am
    Permalink

    واہ بہت بھرپور مضمون ہے . مضمون نویس کے قلم میں کمال کی کاٹ اور تحریر بلا کی خوبصورت ہے .

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *