ڈاکٹر ذاکر نائک کو ’’ دہشت گردی کا سلفی مبلغ ‘‘ کہنے پر پائینیر اخبار کو نوٹس

Share Article
dr-zakir-naik
نئی دہلی: پچھلے دنوں منی لاندرنگ کے مبینہ کیس میں ڈاکٹر ذاکر نائک کی بعض املاک پر انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے قبضہ کرلیا ہے۔ یہ خبر اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا نے پی ٹی آئی کے حوالے سے نشر کی جس میں ڈاکٹر ذاکر نائک کو ’’متنازع مبلغ‘‘ بتایا گیا، لیکن روزنامہ پائینیر نے یہی خبر اپنے 20جنوری 2019 کے شمارے میں شائع کرتے ہوئے ڈاکٹر ذاکر نائک کو ’’دہشت گردی کا سلفی مبلغ‘‘ (Salafist terror preacher) کا وصف دیتے ہوئے یہ خبر شائع کی۔
29جنوری 2019کودہلی اقلیتی کمیشن کی طرف سے جاری پریس ریلیز کے مطابق،دہلی اقلیتی کمیشن نے اس کا از خود نوٹس لیتے ہوئے اخبار کے ایڈیٹر کو نوٹس بھیج کر کہا ہے کہ یہ صحافتی آزادی کا انتہائی غلط استعمال ہے اور اس کا مقصد ایک ایسے شخص کو بدنام کرنا ہے جو محض ملزم ہے اور ابھی تک کسی عدالت نے اس کو مجرم نہیں قرار دیا ہے۔ مزید برآں مذکورہ شخص محض منی لانڈرنگ کے کیس میں ملزم گردانا گیا ہے ، اسے دہشت گردی کی تبلیغ یا فنڈنگ کا ملزم نہیں گردانا گیا ہے۔نوٹس میں ایڈیٹر کو ہدایت دی گئی ہے کہ کمیشن کو باخبر کریں کہ اخبار نے کس طرح یہ رائے قائم کی کہ ڈاکٹر ذاکر نائک ’’دہشت گردی کے سلفی مبلغ‘‘ ہیں۔ نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر یہ غلطی کسی ضرورت سے زیادہ پرجوش صحافی کا کارنامہ ہے تو اخبار ایک تصحیح شائع کردے کہ ڈاکٹر ذاکر نائک صرف منی لانڈرنگ کے ایک مبینہ کیس میں ملزم ہیں اور اس شائع شدہ تصحیح کی کاپی کمیشن کو دے دی جائے۔ جو اب دینے کے لئے کمیشن نے ایڈیٹر پائینیر کو11 فروری تک کا وقت دیاہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *