مساجد میں خواتین کے داخلے سے متعلق درخواست پر مرکز کو نوٹس

Share Article

 

 مساجد میں نماز پڑھنے یا عبادت کرنے کے لئے عورتوں کو داخل ہونے دینے کے لئے ہدایات جاری کرنے کا مطالبہ کرنے والی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔عرضی ایک مسلم جوڑے نے دائر کی ہے۔

 

سماعت کے دوران جسٹس ایس اے بوبڈے نے درخواست گزار سے پوچھا کہ کیا آپ کو مسجد میں جانے سے روکا گیا تو درخواست گزار نے کہا کہ ہاں، اس پر کورٹ نے پوچھا کہ کس مسجد میں خواتین کو رسائی کی اجازت دی جاتی ہے۔اس پر درخواست گزار نے کہا کہ مکہ میں۔ اس پر جسٹس بوبڈے نے پوچھا کہ کیا مساوات کے حق کا استعمال کسی شخص کے خلاف کیا جا سکتا ہے۔ کیا اس کے لئے دفعہ 14 کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کیا مندر، مسجد یا چرچ ریاست ہے۔ا س پر درخواست گزار نے کہا کہ یہ ریاست نہیں ہیں لیکن یہ ریاست سے تمام سہولیات لیتے ہیں۔اس پر کورٹ نے کہا کہ ہم آپ کی درخواست پر صرف سبری مالا مندر کے فیصلے کی بنیاد پر سماعت کر رہے ہیں۔

 

 

وکیل آشوتوش دوبے کے ذریعے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ مساجد میں خواتین کے داخلیپر روک آئین کی دفعہ 14، 15، 21، 25 اور 29 کی خلاف ورزی ہے۔ہندوستان کا آئین عورتوں کو برابری کا حق دیتا ہے۔اس لئے خواتین کو مساجد میں داخل نہیں ہونے دینا ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

 

 

درخواست میں کہا گیا ہے کہ قرآن میں بھی ایسا کہیں نہیں ہے کہ خواتین کو داخل نہیں دیا جائے۔ قرآن میں ایسا کہیں ذکر نہیں ہے کہ محمدؐ صاحب نے خواتین کو مسجد میں داخل کی مخالفت کی تھی۔ خواتین کو بھی عبادت کرنے کا آئینی حق ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ موجودہ نظام کے تحت جماعت اسلامی اور اہل حدیثکی مساجد میں ہی خواتین کو داخلے کی اجازت ہے لیکن سنی کمیونٹی کے مساجد میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔ جن مساجد میں عورتوں کو رسائی کی اجازت ہے وہاں ان کے لئے علاحدہ دروازے ہوتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *