یواے پی اے کو غیر آئینی قرار دینے کے متعلق درخواست پر مرکز کو نوٹس

Share Article

نئی دہلی، غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام ترمیمی قانون (یواے پی اے) 2019 کو غیر آئینی قرار دینے کا مطالبہ کرنے والی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ قانون میں اس ترمیم سے حکومت کو کسی شخص کو دہشت گرد قرار دینے کا حق مل گیا ہے، جبکہ اس سے پہلے صرف تنظیموں کو ہی دہشت گرد قرار دیا جا سکتا تھا۔

پٹیشن ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس نامی این جی او نے دائرکی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ کسی شخص کی بات سنے بغیر اسے دہشت گرد قرار دینا اس شخص کی ساکھ اور وقار کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ قانون آئین کے آرٹیکل 21 کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ترمیمی قانون کی دفعہ -35 میں اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ کسی شخص کوکب دہشت گرد قرار دیا جا سکتا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ محض ایف آئی آر درج ہو جانے یا دہشت گردی سے متعلق معاملے میں قصوروار ٹھہرائے جانے پر کسی شخص کو دہشت گرد قرار کس طرح دیاجا سکتا ہے۔ صرف حکومت کی رائے کی بنیاد پر کسی شخص کو دہشت گرد قرار دینا صوابدیدی ہے۔ عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ترمیمی قانون کی دفعہ -35 اور 36 کو غیر آئینی قرار دیا جائے کیونکہ ان سے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

نئیترمیمی قانون کے تحت کسی بھی شخص کو دہشت گرد قرار دیا جا سکتا ہے اور اس کے اثاثوں پر قبضہ کیا جا سکتا ہے۔ اس میں این آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو دہشت گرد قرار شخص کی جائیداد پر قبضہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *