ابھیشیک رنجن سنگھ

تمام سیاسی تجزیہ نگاروں کو بھی لوک سبھا انتخابات میں کمیونسٹ پارٹیوں سے بہتر کارکردگی کی امید نہیں تھی، لیکن محض 10 سیٹوں پرکمیونسٹ پارٹیاں سمٹ جائیں گی، ایسا کسی نے نہیں سوچا تھا۔ مغربی بنگال میں 45 سالوں تک حکومت کرنے والی سی پی ایم کو اس بار صرف دو سیٹیں ہی ملی ہیں، جبکہ گزشتہ بار اسے 16 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ بنگال میں سی پی ایم، فارورڈ بلاک اور ریوالیوشنری سوشلسٹ پارٹی (آر ایس پی) اس بار کھاتہ تک نہیں کھول پائی۔

ڈھائی دہائی قبل متحدہ بہار کی سیاست میں کمیونسٹ پارٹیوں کی بڑی مداخلت ہوا کرتی تھی۔ وسطی بہار، متھلانچل اور گنگا-کوسی کے علاقوں سے کئی ایم پی اور ایم ایل اے منتخب ہو کر پارلیمنٹ اور اسمبلی پہنچتے تھے۔ طلبہ، نوجوان اور کسان مزدوروں کے مسائل کو لے کر کمیونسٹ پارٹیوں نے کئی تاریخی آندولن کیے، لیکن سال 1990 کے بعد بہار میں کمیونزم کی بنیاد کمزور ہونے لگی۔ کمیونسٹ پارٹیوں کی اس بدحالی کی دو اہم وجوہات تھیں۔ پہلی وجہ کمیونسٹ لیڈروں کا عوامی جدو جہد سے مسلسل دوری اختیار کرتے جانا اور دوسری وجہ بہار میں ذات پات پر مبنی سیاست کا ابھار، خاص کر لالو اور رام ولاس پاسوان جیسے لیڈر، جنھوں نے سماجوادی سیاست کرنے کے بجائے ذات پات پر مبنی سیاست کو ہی اپنی اہم بنیاد بنا لیا۔ ٹھیک یہی صورتحال اتر پردیش کی تھی، جہاں ملائم سنگھ یادو اور مایاوتی نے ڈاکٹر لوہیا اور ڈاکٹر امبیڈکر کے اصولوں کے برعکس ذات پات کی سیاست کو ہوا دی۔ اسی لیے کمیونزم کی جڑیں ان دونوں ریاستوں میں کمزور ہوتی چلی گئیں۔

گزشتہ دنوں لوک سبھا انتخابات کے نتائج آئے۔ آخر وہی ہوا، جس کی امید کی جا رہی تھی۔ سی پی ایم کے گڑھ کہے جانے والے مغربی بنگال میں پارٹی کومحض دو سیٹیں حاصل ہوئیں، جبکہ ایم سی پی، فارورڈ بلاک اور آر ایس پی صفر پر ہی سمٹ گئی۔ بنگال کی رائے گنج سیٹ سے جیت حاصل کرنے والے سی پی ایم لیڈر محمد سلیم کو چھوڑ کر پارٹی کا کوئی بھی بڑا لیڈر الیکشن جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ بانکوڑا پارلیمانی سیٹ سے مسلسل 9 بار ایم پی رہ چکے واسو دیو آچاریہ کو بھی ترنمول کانگریس کی لیڈر من من سین کے ہاتھوں شکست سے دو چار ہونا پڑا۔
سال 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں کمیونسٹ پارٹیوں کو مغربی بنگال، کیرل اور تری پورہ میں محض 10 سیٹیں ہی ملی ہیں۔ اگر مغربی بنگال، کیرل اور تری پورہ میں، جہاں سی پی ایم کو 9 سیٹیں ملی ہیں، وہیں ایم سی پی کو صرف ایک سیٹ پر اکتفا کرنا پڑا ہے اور اسے یہ کامیابی کیرل میں ملی ہے۔ لوک سبھا انتخابات کے بعد سی پی ایم کے سامنے قومی پارٹی کا درجہ برقرار رکھنے کی مشکل کھڑی ہو گئی ہے۔ سی پی ایم کی کراری شکست کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قومی پارٹی کا درجہ برقرار رکھنے کے لیے اسے دو ممبر پارلیمنٹ کی ضرورت ہے۔ خبروں کے مطابق کاڈر بیسڈ کہی جانے والی سی پی ایم اپنے اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر اب ان دو آزاد ممبر پارلیمنٹ کی تلاش میں مصروف ہو گئی ہے، جو پارٹی کو اس بحران سے نکال سکیں۔
لوک سبھا انتخابات میں اپنی اس شرمناک شکست کے لیے کمیونسٹ لیڈر خود ذمہ دار ہیں۔ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد مانا جا رہا تھا کہ سی پی ایم کو اپنی غلطیوں کا احساس ہوا، لیکن لوک سبھا انتخابات کے نتائج یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ کمیونسٹ پارٹیوں کو ابھی تک اپنی خامیاں نظر نہیں آئیں۔ 90 کی دہائی میں نافذ اقتصادی پالیسیوں کے بعد ملک میں جل، جنگل اور زمین بچانے کے لیے کئی تحریکیں ہوئیں۔ شروعاتی دنوں میں کمیونسٹ پارٹیوں نے اس میں دلچسپی ظاہر کی، لیکن گزشتہ ایک دہائی میں کمیونسٹ پارٹیوں نے ان تمام زمینی جدوجہد سے اپنا ناطہ تو ڑلیا، جو کبھی اس پارٹی کا بنیادی اصول ہوا کرتی تھیں۔ نندی گرام، سنگور اور جنگل محل کے واقعات نے سی پی ایم کی اصلیت عوام کے سامنے پیش کر دی۔ سی پی ایم کے سینئر لیڈر ہرکشن سنگھ سرجیت نے ایک عوامی جلسے میں کہا تھا کہ کمیونسٹ کی طاقت طلبہ، نوجوانوں اور کسان مزدوروں سے ہے۔ جس دن یہ طبقہ ہم سے دور ہو جائے گا گا، اس دن ہم گمنام ہو جائیں گے۔

 

مرکز میں بی جے پی کی حکومت بننے سے کئی قسم کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ ان میں سے ایک ہے نکسل ازم کے مسائل اور ان کا حل۔ مانا جا رہا ہے کہ نریندر مودی کی قیادت میں بننے والی نئی حکومت مائونوازوں سے مذاکرات کر سکتی ہے۔ کیا مائونواز تنظیم ایسی کسی بھی تجویز کو قبول کرے گی؟ انقلابی تیلگو شاعر اور نکسل حامی وَروَر رائو سے اسی مسئلے پر چوتھی دنیا کے نامہ نگار ابھیشیک رنجن سنگھ کی خصوصی گفتگو کے اہم اقتباسات پیش خدمت ہیں۔

مانا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی مائونواز کے مسئلہ کو لے کر کوئی ٹھوس پہل کریں گے۔ ممکن ہے نئی حکومت نکسلی تنظیموں سے بات چیت کرے؟
مجھے تو دور دور تک اس کا امکان نظر نہیں آتا۔ ویسے بھی مرکزی حکومت نے مذاکرات کے نام پر مائونوازوں کوہمیشہ دھوکہ دیا ہے۔ جہاں تک نئی بی جے پی حکومت کی بات ہے، تو وہ بھلا ہم سے کیا بات چیت کرے گی۔ ان کے لیے تو نکسلی اور دہشت گردوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ بی جے پی کے نظریات میں تو نکسل ازم کا حل فوجی کارروائی سے ہی ممکن ہے۔
اس کے باوجود اگر مرکزی حکومت ایسی پہل کرے، تو اس صورت میں نکسلی تنظیموں کا فیصلہ کیا ہوگا؟
اس سے قبل بھی مرکزی حکومت اور نکسلی تنظیموں کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں، لیکن اس سے کوئی ٹھوس نتائج اخذ نہیں ہوئے۔ الٹا ہمارے لوگوں کے ساتھ فریب کیا گیا اور ہمارے کئی ساتھیوں کا دھوکے سے قتل کیا گیا۔
مرکزی حکومت کے ساتھ ہوئی سابقہ بات چیت میں نکسلی تنظیموں کے اہم مطالبات کیا تھے؟
گرین ہنٹ آپریشن کو فوری طور پر بند کیا جانا، جیلوں میں بند نکسلیوں کی رہائی اور ان پر درج مقدمات کو واپس لینے اور مرکزی سلامتی دستوں کے جوانوں کو ہٹانے کے علاوہ، نکسلیوں کو دہشت گرد نہ کہہ کر انہیں سیاسی کارکن کہا جائے۔ قدرتی وسائل پر مقامی عوام یعنی قبائلیوں کا حق ہونا چاہیے۔ ترقی کے نام پر قبائلیوں کو ان کے جل، جنگل اور زمین سے بے دخل نہیں کیا جائے، یہی ہمارے اہم مطالبات تھے۔ ہم آج بھی اپنے انہیں مطالبات پر قائم ہیں۔ اگر مرکزی حکومت ہمارے ان مطالبات کو مانتی ہے، تو بات چیت کے سلسلہ میں غور کیا جا سکتا ہے۔
لوک سبھا انتخابات میں لیفٹ پارٹیوں کو محض دس سیٹیں ہی ملی ہیں۔ اب تک کی تاریخ میں یہ سب سے کم تعداد ہے۔ کیا اسے کمیونزم کا خاتمہ سمجھا جائے؟
انتخابی نتائج اور جمہوریت کے ضمن میں میری رائے کافی الگ ہے۔ لوک سبھا انتخابات میں کمیونسٹ پارٹیوں کی شرمناک شکست کے ذمہ دار ان پارٹیوں کے لیڈر ہیں۔ بنگال میں نندی گرام اور سنگور کے واقعات کے بعد سی پی ایم کی اصلیت سامنے آ گئی۔ انتخابات میں کمیونسٹ پارٹیوں کو ملی شکست کے بعد یہ کہنا کہ کمیونزم کا خاتمہ ہو گیا ہے، یہ کہنا تو غلط ہے۔ جو کمیونسٹ لیڈر اقتدار کے لیے انتخابی سیاست میں آئے ہیں، انہیں تو واقعی مایوسی ہوئی ہوگی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here