نوٹ بندی کے فیصلہ سے معیشت کئی سال پیچھے

Share Article

damiہندوستان میںسرکار جیسے کام کررہی ہے اس کی تعریف ہونی چاہیے۔ جب وزیر اعظم مودی نے اقتدار سنبھالا تھا، اس کے بعد پورے ملک میں ان کے حامیوں اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایک ہوا بنا دی تھی کہ ساری دنیا میںمودی نے ہندوستان کا جھنڈا بلند کردیا ہے۔ ملک ساری دنیا کے سامنے پہلی بار سر اٹھاکر کھڑا ہوا ہے۔ اس کا مطلب غیر ملکی میڈیا نے ہماری عزت بڑھانے کے جو قصیدے پڑھے، ان پر ہندوستان کو بہتناز تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ غیر ملکی میڈیا کا نام جب ہندوستان میںلیا جارہا تھا، ان دنوںجب ہم اس کی سچائی تلاش کرتے تھے، تو غیر ملکوں کے اخبار وہ قصیدے پڑھتے دکھائی نہیں دیے، جس کا دعویٰ ہندوستان کے میڈیا میں ہورہا تھایا جس کا دعویٰ خود میڈیا کررہا تھا۔ پارٹی اپنی ستائش کرے، یہ سمجھ میں آتا ہے،لیکن ہندوستان کا میڈیا شروع کے دوروںمیں جس طرح وزیر اعظم مودی کو کور کررہا تھااور جس طرح سے یہاںلائیو پروگرام دکھائے جارہے تھے، اس سے یہ چھاپ پڑی کہ ہندوستان کا سر غیر ممالک میںفخر سے اونچا ہوگیا ہے۔
اس کے بعد دو سال گزرگئے۔ وزیر اعظم لگاتار غیر ممالک میں رہے۔ یہ کہاوت عام ہوگئی کہ وہ ہندوستان میںدورہ کرنے آتے ہیں، اس کے بعد پھر بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔ یہ جملہ ان کے مخالفین کا اڑایا ہوا ہوسکتا ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس میںسچائی نظر آتی تھی۔ ان دنوں وزیر اعظم کے پاس ملک کے مسائل کو سلجھانے کے لیے وقت نہیں تھا۔ وہ جو اعلانات کرتے تھے، ان پر کتنا عمل ہورہا ہے، اس کا بھی اندازہ کرنے کے لیے شاید ان کے پاس وقت نہیںتھا۔ آج جب ہم ان کے سارے اعلانات کو دیکھتے ہیں تو ہماری سمجھ میں ہی نہیںآ تا ہے کہ کس میں کتنا کام ہواہے۔ سرکار پچھلے ڈھائی سال میں وزیر اعظم کے ذریعہ کیے گئے اعلانات پر اپنا کوئی رپورٹ کارڈسامنے نہیں لاپائی ہے۔ جب ہم بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کی سرگرمیاں دیکھتے ہیں، تو وہ بھی ہمیں گاؤں میںکہیں گھومتے ہوئے نہیںدکھائی دیتے ہیں۔ ذاتی بات چیت میںزیادہ تر ممبران پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ ہم گاؤںمیںجاکر بتائیںکیا، دکھائیںکیا؟ وہ وزیر اعظم کے بار بار کہنے کے باوجود لوگوں کے غصے سے ڈر کر اپنے اپنے انتخابی حلقے میں نہ گئے، نہ جاپارہے ہیں۔
اور اب انٹر نیشنل ریٹنگ ایجنسی موڈی کی بات۔ موڈی نے حکومت ہند سے کہا ہے کہ آپ نے ڈھائی سال میں ایسا کیا کیا ہے، جس سے ہم آپ کی بین الاقوامی ریٹنگ سدھار دیں۔ دراصل موڈی ایک ایسا ادارہ ہے، جو ہر ملک کو ایک رینک دیتا ہے۔ اسی رینک کو بنیاد بنا کر غیر ملکی سرمایہ کار اس ملک میں پیسہ لگاتے ہیں ۔ دراصل، یہ بازار کا بنایا ہوا ایک سسٹم ہے۔ اب تو ہم بھی بازار کا ایک حصہ ہیں، اس لیے موڈی کی ریٹنگ کی ہمارے لیے بہت بڑی اہمیت ہے۔ حکومت ہند نے موڈی سے کہا کہ وہ ہندوستان کی ریٹنگ سدھارے، کیونکہ ڈھائی سال میںحکومت ہند نے بہت بڑے بڑے کام کیے ہیں۔ انھوںنے وہ سارے کام گنا دیے، جن کا ذکر وزیر اعظم مودی اپنے اعلانات میں اکثر کرتے رہتے ہیں۔ موڈی نے جواب دیا کہ آپ نے ایسا کیا کیا ہے؟ شاید آپ نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے، جس کی وجہ سے ہم آپ کی ریٹنگ سدھاریں۔ اس سے پہلے فوربس میگزین نے اپنی طرف سے یہ کہا کہ نوٹ بندی اب تک کا سب سے غلط اور غیر اخلاقی فیصلہ ہے۔ اس نے عوام کو پریشانی کے سمندر میںدھکیل دیا ہے۔ اس سے پہلے جب8 نومبر کو نوٹ بندی لاگو ہوئی تھی، اس کے ایک ہفتہبعد ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے حکومت ہند کی ترقی کی شرح 7.6 فیصد رہنے کے اندازے پر اندازہ لگایا تھا کہ یہ شرح صرف7 فیصد رہ جائے گی۔
غیر ممالک میں دوسرے ردعمل کو ہم چھوڑ دیں۔اگر ہم ان تین ردعملوںکو دیکھیںتو ہمیںلگتا ہے کہ سرکار کے حامی ان تینوں ایجنسیوں پر ہندوستان مخالف ہونے کا الزام لگائیں گے او رانھیں غدار ہونے کا بھی اعلان کردیںگے ۔ انھیں جو کرنا ہو کریں، لیکن ایک آنکڑہ ہماری سمجھ میںنہیں آیا۔ 14 لاکھ 60 ہزار کروڑ کی کرنسی 1000اور 500 روپے کی شکل میں ہندوستان کے بازاروں میں ریزرو بینک نے ڈالی تھی۔ 15 دسمبر کے آس پاس 15.44 لاکھ کروڑ روپے حکومت ہند کے ریزرو بینک کے پاس واپس آچکے تھے۔ ا س کے بعد ریزرو بینک نے اعدادوشمار دینا بند کردیے، لیکن جب ہم نے پتہ لگایا تو جانکاری ملی کہ یہ اعداد وشمار 17 لاکھ کروڑ کو چھورہے ہیں ۔ اب جو بات ہماری سمجھ میں نہیں آرہی ہے، وہ یہ ہے کہ اگر 14 لاکھ 60 ہزار کروڑ روپے بازار میں تھے، تو 17 لاکھ کروڑ روپے واپس کہاں سے آگئے؟جبکہ سرکار نے مانا تھا کہ صرف چار لاکھ کروڑ روپے واپس آئیں گے، باقی پیسہ واپس نہیں آئے گا۔ جو پیسہ واپس نہیں آئے گا، وہ کالا دھن ہوگا یا دہشت گردو ں کے قبضے والا دھن ہوگا۔ اب کیسے اتنی بڑی تعداد میں پیسہ حکومت ہند کے پاس واپس آگیا؟ حکومت ہند نے اس کا کوئی اندازہ نہیںرکھا کہ جو پیسہ ان کے پاس آرہا ہے، وہ فیک کرنسی ہے، بلیک منی ہے یا صحیح پیسہ ہے۔ ہم حکومت ہند کے اُس بیان کا انتظار کررہے تھے کہ وہ کہے گی کہ نہیںروپے تو 17لاکھ کروڑ ہی بازار میںتھے،جو ہمارے پاس پورے آگئے۔ تب سرکار کا وہ اندازہ کہاںگیا کہ صرف چار لاکھ کروڑ روپے ہمارے پاس واپس آئیں گے، باقی بلیک منی کی شکل میںمل جائے گا۔ ا س کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ حکومت ہند، وزارت مالیات اور ریزرو بینک، یہ سب کاہل ہیں۔ انھوں نے ہندوستان کی معیشت کو اتنی چوٹ پہنچائی ہے کہ جو پیسہ وہ چاہے 400 کروڑ ہو یا چار لاکھ کروڑ ہو، جو فیک کرنسی کی شکل میںتھا، اس پیسے کو بھی ہم نے اصلی مان کر چلن میں لادیا اور وہ پیسہ ہم نے لوگوں کو واپس کردیا۔ہم نہیںپہچان پائے کہ ہم نقلی نوٹ سرکار کے خزانے میںلے رہے ہیں۔ اسے پکڑنے کا کوئی نظم سرکار نے نہیںکیا۔ ہم اس پیسے کو بھی نہیں پکڑ پائے، جو پیسہ دہشت گردوں کے پاس ہونے کا شک وزیر اعظم کے ذریعہ جتایا گیا تھا۔
یہ بوجھ ہندوستان کی معیشت کو کئی سال پیچھے لے گیا ہے۔ یہ بوجھ ملک کے لاکھوں لوگوں کی نوکری ختم کرگیا ہے۔ موٹے اندازے کے حساب سے اگلے دو مہینے میں ایک کروڑ سے چار کروڑ کے بیچ خالص بے روزگار ہندوستان کی سڑکوں پر گھومتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ بڑی بڑی کمپنیوں نے ہزاروں لوگوں کو نوکری سے نکال دیا ہے۔ جو خوردہ کاروبار میںلوگ لگے ہوئے تھے، انھوںنے اپنے یہاںسے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے لوگوں کو ہٹا دیا ہے ۔ اب ہم وزیر اعظم کے ذریعہ کیے گئے اعلان کیش لیس اکانومی کی طرف چل رہے ہیں۔
اب سرکار کہہ رہی ہے یا شاید وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ یہ ساری کوشش نقلی نوٹ یا دہشت گردوں کو یا بلیک منی کو ختم کرنے کے لیے نہیں تھی، یہ کیش لیس اکانومی کو شروع کرنے کی تھی۔ اب ملک کیش لیس اکانومی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جس ملک میں بینکوںکی تعداد پوری نہ ہو، اس ملک میںکیش لیس اکانومی ضرور کامیاب ہوگی۔ ہمارے ملک میںموبائل پر دوسرے موبائل سے کال کرنے میں تین منٹ کی بات چیت میں کم سے کم تین بار کال کٹتی ہے او رصارفین کو تین گنا پیسہ دینا ہوتا ہے۔ جس ملک میں موبائل سسٹم ٹھیک نہیںہے، وہاں ہم کیش لیس اکانومی کی بات کرتے ہیں۔ کیونکہ اُسی روٹ سے وہ مشین، جو کارڈ سویپ کرتی ہے، وہ مشین بینک سے جڑتی ہے،کنکشن نہیںہوپاتا ہے۔ 45-45 منٹ تک لوگوںکو انتظار کرنا پڑتا ہے۔ مشین ہینگ ہوجاتی ہے، لائن ہینگ ہوجاتی ہے۔ اس کا تجربہ اور بہت لوگوںکو ہوگا، مجھے ذاتی طور پر اس کا تجربہ ہے۔ 45 منٹ تک انتظار کرنے کے بعد میں پیمنٹ نہیںکرپایا اور سامان چھوڑ کر واپس چلا آیا۔
سرکار کا اپنا انفراسٹرکچر صفر ہے، یہ تو نہیںکہا جاسکتا ، لیکن صلاحیت میں صفر کے آس پاس ہی ہے۔ اس کے باوجود ہم نے ان ساری کمپنیوں کو، جو اس وقت ملک کے شہریوں پر،وہ شہری جو ٹیکس دیتے ہیں، تقریباً 49 فیصد ٹیکس دینا پڑجاتا ہے۔ کریڈٹ کارڈ او رڈیبٹ کارڈ والوں کو انفیکٹولی پانچ فیصد کمیشن دینا پڑتا ہے۔ وہ پیسہ ہم صرف اس لیے ادا کرتے ہیں، کیونکہ ہم سامان خرید رہے ہیں۔ ہم سارے ٹیکس دیتے ہیں، اس کے بعد بھی ہم اوپر سے تقریباً پانچ فیصد ٹرانزیکشن فیس ادا کرتے ہیں۔ سرکار کیش لیس اکانومی پر زور دے رہی ہے۔ اب سرکار بلیک منی اور نقلی نوٹ کی بات نہیںکررہی ہے،اب سرکار کیش لیس اکانومی کی بات کررہی ہے۔ اس ملک میں جہاں چاہے، جس کی غلطی سے ہو، ناخواندگی کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ جہاںبینک اور اے ٹی ایم نہیں پہنچ پائے، جہاںبجلی نہیں پہنچ پائی، جہاں سڑک نہیںہے، جہاں تاریں نہیںہیں، اس ملک میں ہم کیش لیس اکانومی کی بات کررہے ہیں۔ کیش لیس اکانومی دنیا کے کتنے ممالک میںہے، اگر سرکار اسے بتائے تو بہت اچھا۔
لیکن ہم شاید اس خواب میںجی رہے ہیںکہ اب ہمارے گھروںمیں کیش لیس اکانومی کی وجہ سے روزگار بڑھ جائیں گے، تنخواہیں بڑھ جائیں گی، نوکریاں بڑھ جائیں گی، زندگی آسان ہوجائے گی۔ بجلی، سڑک، مواصلات کے ذرائع، اسپتال اور اسکول پہنچ جائیں گے۔ہمیںانتظار کرنا چاہیے کہ ایسا ہو۔ لیکن اگر ایسا نہیںہوتا ہے تو ، اگر ایسا ہوتا ہوا بھی نہ دکھائی دے تو۔
ہندوستان کی خوش قسمتی ہے کہ اسے اکثر ایسے وزیر اعظم ملتے ہیں، ایسی سیاسی پارٹیاں ملتی ہیں، جو اسے خواب دکھاتے ہیں۔ ہندوستان کے عوام ان خوابوں کو سچ مان لیتے ہیں۔ ان کی قسمت میں صرف خواب دیکھنا ہوتا ہے۔ لیکن خواب سچ ہونے کا فائدہ ملک کے پیسے والوں کو ملتا ہے۔ سارے قدم بڑے کارپوریٹ، بڑے صنعت کار، بڑے سرمایہ داروںکے خزانے کو بھرتے ہیں۔ عوام کے پاس، تو جو اس کے پاس ہوتا ہے، وہ بھی کھینچ کے بڑ ے پیسے والوں کی تجوری میں چلا جاتا ہے۔ ایسا شروع سے ہوتا آیا ہے۔ اس بار تو یہ بہت ہی سائنسی طریقے سے ہوا ہے۔ ایسے سائنسی طریقے سے ہوا ہے کہ جس کی جیب سے نکل گیا، جسے پریشانی ہوئی، اسے لگ رہا ہے کہ اس کی جیب سے کم نکلا، اس کے پڑوسی کی جیب سے زیادہ نکل گیااور وہ اسی میںخوش ہے۔ اب 50 دن گزرچکے ہیں۔ ان 50 دنوں کے بعد او رکتنے دن گزریں گے پتہ نہیں۔ میں آخیر میں وزیراعظم کے اس اعلان سے پوری طرح متفق ہوں کہ جو لائن میں لگے ہوئے تھے، وہ چور اور بلیک منی والے لوگ تھے۔ میں وزیر اعظم کے اس اعلان سے بھی متفق ہوںکہ ان سب کے اکاؤنٹ میں، جن کا جن دھن اکاؤنٹ کھولا، ان کی جانچ ہونی چاہیے کہ ان کے پاس یہ پیسہ کہاںسے آیا؟ میں وزیر اعظم کے اس اعلان سے بھی متفق ہوں کہ یہ ملک بہت بڑی چھلانگ لگانے والا ہے او ردنیا کی سپرپاور بنے گا او رکیش لیس اکانومی کو ہم لاگو کریں گے۔ اب میں اپنے لیے ایشور سے دعا کرتا ہوںکہ ایشور میرییقین کو صحیح ثابت کرے اور حکومت ہند اور وزیر اعظم نریندر مودی کو وہ شہرت دے ، جس کے وہ مستحق ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *