دیکھا نہیں بی جے پی لیڈر کا ’طمنچے پر ڈسکو‘ شادی کی تقریب میں جم کر کی فائرنگ، وائرل ہو رہاہے ویڈیو

Share Article

 

بی جے پی لیڈر ششانک نے اپنے کمر سے بندوق نکالی اور طمنچے پر ڈسکو گانے پر گولیاں داغنے لگتے ہیں۔ اس فائرنگ سے کوئی زخمی تو نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی کی جان گئی۔ لیکن ارد گرد موجود کچھ لوگ سہم ضرور گئے۔ بی جے پی لیڈر کی طرف سے فائرنگ کے اس ویڈیو کے وائرل ہونے پر پولیس حرکت میں آ گئی ہے۔ پولیس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ معاملے کی جانچ کر کے مناسب کارروائی کی جائے گی۔ لیکن اس واقعہ کے کئی دن گزر جانے کے بعد بھی پولیس کی طرف سے کوئی کارروائی نہ کیے جانے پر پولیس پر بھی سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔

 

Image result for yogi adityanath

 

لکھنؤ: یہ اقتدار کا نشہ کہیں یا قانون کی دھجيا اڑانا۔ ایک بی جے پی لیڈر بھری بیڈ والی ایک شادی میں تابڑ توڑ فائرنگ کرتا رہا اور کسی نے اسے نہیں روک سکا۔ گولیوں کی آواز سن کر شادی کے منڈپ میں ایک بار تو افرا تفری مچ گئی۔ لیکن اقتدار کے نشہ میں چور نیتا جی نہیں مانے۔ ابھی نیتا جی کا قانون کی بكھيا اڑانے والی ویڈیو سامنے آیا ہے۔ جس لیڈر قانون اس کی پستول سے فائرنگ کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

 

 

معاملہ اترپردیش کے کانپور کا ہے۔ اس ویڈیو میں فائرنگ کرنے والا شخص بھاجپا یوا مورچہ کے ضلع صدر ششانک مشرا ہے۔ جو اقتدار کے نشے میں چور، ہوا میں گولیاں چلاتے نظر آرہے ہیں۔ ششانک کو یوپی حکومت کے کابینہ وزیر ستیش مهانا کے انتہائی قریبی مانے جاتے ہے۔یہ ویڈیو تب شوٹ کیا گیا تھا جب بی جے پی کارکن پرشانتسنگھ چنڈیل کہ 14 فروری کو تلک تقریب چل رہا تھا۔ جس میں ویڈیو سامنے آیا ہے اس میں نظر آ رہا ہے کہ ششانک مشرا کےتقریب میں اپنے دوستوں کے ساتھ موجود ہیں۔ چاروں طرف جشن کا ماحول ہے اور لوگ DJ کی دھن پر خوب ناچ گئے ہیں۔

 

Image result for yogi adityanath

اسی درمیان موج مستی کے درمیان بی جے پی لیڈر ششانک نے اپنے کمر سے بندوق نکالی اور طمنچے پر ڈسکو گانے پر گولیاں داغنے لگتے ہیں۔ اس فائرنگ سے کوئی زخمی تو نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی کی جان گئی۔ لیکن ارد گرد موجود کچھ لوگ سہم ضرور گئے۔ بی جے پی لیڈر کی طرف سے فائرنگ کے اس ویڈیو کے وائرل ہونے پر پولیس حرکت میں آ گئی ہے۔ پولیس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ معاملے کی جانچ کر کے مناسب کارروائی کی جائے گی۔ لیکن اس واقعہ کے کئی دن گزر جانے کے بعد بھی پولیس کی طرف سے کوئی کارروائی نہ کیے جانے پر پولیس پر بھی سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *