شمالی کوریا کا 2 مختصر فاصلے کے بیلسٹک میزائلز کا تجربہ

Share Article

 

شمالی کوریا نے ایک مرتبہ پھر امریکہ کے لیے ’سب سے بڑا خطرہ‘ بنے رہنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کم فاصلے کے 2 بیلسٹک میزائلز کا تجربہ کرلیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ تجربہ جوہری ہتھیاروں سے لیس ملک کی امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقوں پر احتجاجاً کم فاصلے کے میزائلوں کے سلسلہ وار تجربوں کی تازہ کڑی تھی۔اس تجربے کے بعد جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’فوج نے 2 نامعلوم پروجیکٹائل کی نشاندہی کی ہے جو ممکنہ طور پر کم فاصلے کے بیلسٹک میزائل تھے‘۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ہماری فوج پوری تیاری کے ساتھ مزید ممکنہ تجربوں کی صورت میں شمال میں حرکات و سکنات پر نظر رکھی ہوئی ہے‘۔اس سلسلے میں جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر میں قومی سلامتی کا اجلاس منعقد ہوا جس کے جاری کردہ اعلامیے میں سنگین تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ پیانگیانگ نے یہ تجربے امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشقوں کے اختتام پر کیے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ ’اجلاس میں شامل اراکین نے جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے امریکی مقصد کے حصول کی غرض سے شمالی کوریا کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا‘۔دوسری جانب جاپانی وزیردفاع تکیشی ایوایا کا بھی کہنا تھا کہ شمالی کوریا نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ’بیلسٹک میزائل‘ فائر کیے۔خیال رہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے گزشتہ تقریباً ایک ماہ کے عرصے میں میزائل کا یہ ساتواں تجربہ ہے اور اسے قبل پیانگ یانگ جنوبی کوریا سے مذاکرات ختم کرنے کا بھی اعلان کرچکا ہے۔ادھر سینئر امریکی عہدیدار نے کہا کہ واشنگٹن میزائل تجرے کی اطلاعات پر صورتحال کی نگرانی کررہا ہے جبکہ قریبی اتحادیوں جاپان اور جنوبی کوریا سے مشاورت بھی جاری ہے۔اس حوالے سے جنوبی کوریا کی فوج نے کہا کہ وہ ان تجربوں کے حوالے سے خفیہ معلومات کا تبادلہ سیول کے بجائے جاپان سے کریں گے۔

 

خیال رہے کہ رواں ہفتے کے آغاز مین امریکی نمائندہ خصوصی برائے شمالی کوریا نے سیول کے دورے کے موقع پر کہا تھا کہ پیانگ یانگ کی جانب سے مثبت ردِ عمل ملنے کی صورت میں امریکہ فوراً مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہے۔تاہم وزیر خارجہ ری یونگ ہو کی جانب سے جاری بیان میں شمالی کوریا نے امریکی پابندیاں برقرار رہنے کی صورت میں امریکا کے لیے ’سب سے بڑا خطرہ‘ بنے رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *