نور امروہوی کے مجموعۂ کلام ’’دعائیں کام آتی ہیں‘‘ پر گفتگو

Share Article
Noor-amrohvi

وزارت ثقافت، حکومت ہند کے تعاون سے غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام نور امروہوی کے مجموعۂ کلام ’دعائیں کام آتی ہیں‘ پر مذاکرے کا انعقاد ہوا۔ جلسے کی صدارت کرتے ہوئے ممتاز دانشور پروفیسر اخترالواسع نے فرمایا کہ میں غالب انسٹی ٹیوٹ اور نور امروہوی کا شکرگزار ہوں جنھوں نے اتنی خوبصورت محفل میں شریک ہونے کے لیے مجھے دعوت دی۔ نور امروہوی خود تو امریکہ میں رہتے ہیں لیکن ان کا دل ہمیشہ ہندستان میں دھڑکتا ہے۔ ان کی شاعری میں وطن کی محبت اور بزرگوں کے احترام کا جذبہ بہت نمایاں ہے، ابھی وہ جوان ہیں اور ان کی مقبولیت اور شہرت قابل رشک ہے میری دعا ہے کہ وہ اس سے بھی اعلیٰ درجے کی شاعری پیش کریں۔ بزرگ شاعر جناب گلزار دہلوی نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ نور امروہوی نے کم عمری میں بہت شہرت حاصل کی اس کے باوجود وہ نہایت خلیق اور منکسر المزاج شخصیت کے مالک ہیں۔ میں نے کئی مرتبہ ان کی دعوت پر امریکہ کا سفر کیا ان کی محبت اور مہمان نوازی کے خوشگوار اثرات اب بھی میری یادوں کا حصہ ہیں۔ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود ڈاکٹر ایس۔ فاروق صاحب نے کہا کہ نور امروہوی میں شعری اظہار کی بے پناہ صلاحیتیں ہیںآپ ملک اور بیرون ملک جس طرح مقبول ہیں وہ اس بات کی دلیل ہے کہ دعائیں کام آتی ہیں۔

جلسے کے دوسرے مہمانِ خصوصی دلّی اردو اکادمی کے وائس چیرمین پروفیسر شہپررسول نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئی کہا کہ میرا وطن بھی ضلع امروہہ میں ہے لہٰذا نور امروہوی سے میرا علاقائی تعلق بھی ہے اور ان کی تخلیقات ادبی رسائل کے وسیلے سے میرے مطالعے میں آتی رہی ہیں ان کی شاعری میں جذبے کی صداقت اور راست مکالمے نے مجھے بہت متاثر کیا۔ مستقبل میں بھی ان سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔بی۔بی۔سی لندن سے وابستہ بہجت ایوب زنجانی نے فرمایا کہ نور امروہوی سے میرے بے تکلفانہ مراسم ہیں وہ ایک صاف دل اور بے ریا انسان ہیں اور یہی معصوم جذبہ اور حب الوطنی ان کی شاعری میں ظاہر ہوئی ہے۔
مشہور ادیب و صحافی ہالینڈ سے تشریف لائے اسد مفتی نے کہا کہ آج سے پہلے نور امروہوی سے ملاقات تو نہیں ہوئی تھی لیکن ان کے اشعار ان سے غائبانہ تعارف کا وسیلہ بنے۔میںیورپ پہنچنے کے بعد ان کی شاعری پر کالم ضرور لکھوں گا۔ مشہور شاعر ملک زادہ جاوید نے اپنی گفتگو کے دوران کہا کہ میں نے کم لوگ دیکھے ہیں جن کی مقبولیت ان کے شہر اور دور دراز علاقوں میں یکساں ہو نور امروہوی کا قیام امریکہ کے جس علاقے میں ہے وہاں بھی ان کے قدردانوں کی تعداد قابل لحاظ ہے۔اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ لوگ ان کی شاعری میں اپنے جذبات کی ترجمانی پاتے ہیں۔ جناب فاروق ارگلی نے کہا کہ امروہہ ایک تاریخی اور مردم خیز بستی ہے یہ بستی جوہر اگلتی رہتی ہے نور امروہوی کا شمار بھی ایسے ہی جواہرات میں ہے۔ نور امروہوی کے معاصرین میں کم لوگ ہیں جواپنی شاعری میں اس قدر سچائی اور سادگی سے اپنی بات کہنے کا ہنر جانتے ہوں۔

آخر میں نور امروہوی نے مختصراً اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں غالب انسٹی ٹیوٹ اور تمام حاضرین کا تہ دل سے ممنون ہوں کہ انھوں نے مجھے اتنی عزت بخشی، یہاں میری تعریف میں جو بھی کہا گیا وہ در اصل حسن نظر کا کمال ہے میں خود کو اس تعریف کا مستحق نہیں پاتا۔اس موقعے پر نور امروہوی نے مختصراً اپنا کلام بھی پیش کیا جسے سامعین نے بہت پسند کیا۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ ناظم معین شاداب نے اس جلسے کی نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے کہا کہ نور امروہوی کی شاعری کا خمیر گہرے تجربات و مشاہدات سے تیار ہوا ہے ان کے یہاں صنعت کاری سے شعوری پرہیز کا احساس ہوتا ہے وہ جو کچھ محسوس کرتے ہیں اسے سادہ اور موثر انداز میں پیش کر دیتے ہیں۔

غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر رضا حیدر نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ میں غالب انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے نور امروہوی اور تمام حاضرین کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ کی آمد سے آج کی یہ شام یادگار ہو گئی ہے۔ نور امروہوی کی شاعری کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنی بات کو موثر پیرائے میں کہنے کا ہنر جانتے ہیں اور یہ وہ وصف ہے جو ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتا۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کی ہمیشہ کوشش رہتی ہے کہ ایسے فنکاروں پر گفتگو منعقد کرے جو صحیح معنوں میں ادب تخلیق کر رہے ہیں۔ نور امروہوی جس انداز کی شاعری کر رہے ہیں اس سے مستقبل کے امکانات بہت روشن ہیں۔ اس جلسے میں ڈاکٹر رحمن مصور، ڈاکٹر ادریس احمد، ڈاکٹر محضر رضا، ڈاکٹر سہیل انور، محترمہ شبنم، نشتر امروہوی، سلیم امرہوی،ارشد ندیم، جاوید عباسی،راجیوریاض، محمد عمر، مشتاق احمد، عبدالتوفیق کے علاوہ مختلف علوم و فنون کے افراد موجود تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *