دلیپ چیرین
بدعنوانی کی زد میں آئے نوکرشاہوں کی بدقسمتی ان کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی ہے۔زمین الاٹمنٹ گھوٹالے میں اتر پردیش کی سابق چیف سکریٹری نیرا یادو جیل گئیں،لیکن اب وہ ضمانت پر باہر ہیں۔وہیں دوسری طرف2جی گھوٹالے مسئلے پر اے راجہ سے رابطے کی وجہ سے محکمۂ مواصلات کے کئی اعلیٰ افسران پر سی بی آئی کا ڈنڈا ابھی چل ہی رہا ہے۔ان میں سابق سکریٹری برائے مواصلات سدھارتھ بہوریا،کے شری دھر،اے کے شریواستواور آر کے چندولیا بھی شامل ہیں۔
اس معاملے میں نوکر شاہوں کی مشکلیں کافی بڑھ گئی ہیں،جو حکومت میں ختم ہوتی جواب دہی کے احساس کی گواہی دے رہا ہے۔سرکاری نوکریوں اور سیاسی شعبہ کی عزت کم ہوتی جا رہی ہے۔یاد رکھئے، یادو کو سزا ملنے میںسات سال لگ گئے۔اس معاملے میں بھی لمبا وقت لگ سکتا ہے،اگر لمبا وقت نہیں لگاتو 2جی اور دوسرے گھوٹالوں میںانصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے مجرموں کو سلاخوں کے پیچھے بھیجا جا سکے گا۔

جموں کشمیر کے نوکرشاہوں کی مشکلیں

جموں کشمیر کے چیف سکریٹری،شیام سنگھ کپور کی خدمات اگلے مہینے مکمل ہو رہی ہیں،لیکن ان کی خدمات میں تب تک کے لیے اضافہ ہونے کی بھی امید ہے،جب تک ریاستی حکومت کو کوئی متبادل نہیں ملتا ۔اترا کھنڈ کے 1977بیچ کے افسر نوید مسعود کو کپور کی جگہ تقرر کرنے کے قیاس لگائے جا رہے تھے،مگر انہوں نے بغیر کچھ کہے اس عہدے کو ٹھکرادیا۔جانکاروں کے مطابق ،اعلیٰ عہدوں پر افسران کی تقری میںریاستی حکومتوں کو کافی پریشانیاں ہوتی ہیں۔
یہی نہیں ،کپور کے علاوہ کم از کم دو بڑے بابو ایس ایم ساہنی اور سیمول ورگس بھی ریٹائر ہونے والے ہیں۔یقینی طور پر ،حکومت کے پاس 1977بیچ کے صرف دو ہی بابو مادھو لال اور پرویز دیوان ہیں جن میں حکومت کواعلیٰ عہدوں پربحالی کے لیے غور کرنا ہے۔ظاہر ہے ، مشکل میںپڑی سرکاراب دیوان کو پھر سے بلانے پر غور کررہی ہے جو’ اسٹڈی لیو‘ پر ہیں۔حالانکہ ابھی اس پر فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔

نوکر شاہوں کی ٹویٹنگ

حال میں وکی لیکس ،سائبر اٹیکس اور فون ٹیپنگ جیسے کئی خلاصوں کی الجھن میں سرکاری کام کاج ٹھپ پڑا ہے۔اس سال کی شروعات میں نوکرشاہوں کے ذریعہ پرائیویٹ ای میل اکاؤنٹس اور سوشل میڈیا نیٹ ورکس کا استعمال سرکاری کا م کاج میں کرنے کو لیکر ،ہندوستانی حکومت نے نوکرشاہوں کو پھٹکار لگائی تھی۔حالانکہ ،وزارت خارجہ غیر ملکی عوامی پالیسی پر سیدھے ڈبیٹ کرنا چاہتی ہے۔
خارجہ سکریٹری نروپما راؤ نے حال میں راجدھانی میں اپنی وزار ت کے عوامی پالیسی شعبہ کے ذریعہ منعقد عوامی پالیسی کے ایک سمینار سے خطاب کیا۔راؤ چاہتی ہیں کہ وزارت خارجہ کے بابوموجودہ وقت میں اطلاع دینے کے خیا ل سے،عوام اور میڈیا سے متعلق سوشل نیٹورکنگ ٹولس جیسے فیس بک ،یو ٹیوب،ٹویٹرسائٹوں پر صرف نہ کی برابر رہیں۔جوائنٹ سکریٹری نودیپ سوری کی نگرانی میں عوامی پالیسی شعبہ پہلے سے انٹرنیٹ کا استعمال کرنے میںہندوستان کی ڈپلومیٹک کوششوں کے بارے میں غلط اور دقیانوسی اطلاعات کی مخالفت کر رہا ہے۔امید ہے ،وزارت خارجہ کی اس پہل سے دوسری وزارتوں کو بھی ان کے کام کاج کے طریقوں میں اصلاح کے لیے ایک نئی سیکھ ملے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here