سروج سنگھ
بہار اسمبلی انتخابات میں راہل فیکٹر کی بات تو پہلے سے ہو رہی تھی، لیکن انتخابی بگل بجنے کے بعد اس کے تیز ہوتے اثر نے نتیش، لالو اور پاسوان جیسے لیڈروں کی نیند حرام کر دی ہے۔ راہل گاندھی نوجوانوں سے بار بار اپیل کر رہے ہیں کہ چنئے انہیں جسے ملک نے چنا ہے۔ راہل کے جلسوں میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی شرکت یہ احساس کرا رہی ہے کہ صوبے کے نوجوان رائے دہندگان کے دل و دماغ میں کیا چل رہا ہے۔ نوجوان ووٹروں کا ایک بڑا طبقہ راہل گاندھی میں اپنی امید دیکھنے لگا ہے۔ ایسے میں اس کی کاٹ تلاش کرنا دوسری پارٹیوں کی مجبوری بن گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لالو پرساد نے اپنے کرکٹر بیٹے تیجسوی یادو اور رام ولاس پاسوان نے اپنے اداکار بیٹے چراغ پاسوان کو انتخابی اکھاڑے میں اتار دیا۔ چراغ و تیجسوی انتخاب تو نہیں لڑیںگے، لیکن راشٹریہ جنتال دل- لوک جن شکتی پارٹی اتحاد کے لیے زبردست تشہیر کر کے نوجوانوں کو لبھائیںگے۔ ان دونوں کی پوری کوشش راہل ٹچ کو بے اثر کر کے نوجوان ووٹروں کو اپنے پالے میں لانے کی ہوگی۔ اسی طرح جنتادل یونائیٹڈ- بی جے پی اتحاد بھی نوجوان ووٹروں کو لبھانے کے لیے خاص حکمت عملی پر کام کر رہا ہے۔
دراصل بی جے پی کے ایک اندرونی سروے نے اس بات کو مزید پختہ کر دیا ہے کہ نوجوانوں میں راہل کا کریز مسلسل بڑ ھ رہا ہے۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ راہل گاندھی جہاں بھی گئے وہاں نوجوان ووٹروں نے انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا۔ گزشتہ انتخابات میں نوجوانوں کا رجحان این ڈی اے کے حق میں تھا۔ راشٹریہ جنتا دل و لوک جن شکتی پارٹی یہ چاہتی ہیں کہ این ڈی اے سے کھسکنے والے ووٹروں کو اپنے پالے میں لایا جائے تاکہ مسلمانوں سے ہونے والے نقصان کی بھرپائی ہو جائے۔ ادھر این ڈی اے کی کوشش اپنے اس بنیادی ووٹ بینک کو بچانے کی ہے۔ جب کہ کانگریس کے لیڈر یہ مان کر چل رہے ہیں کہ نوجوان راہل گاندھی کو اپنا رول ماڈل مان رہے ہیںاور انہوں نے پنجے کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ نوجوانوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے کانگریس نے راہل گاندھی کو انتخابی تشہیر میں جھونکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ راہل بہار میں 20 سے زیادہ بڑے انتخابی جلسوں سے خطاب کریںگے۔ اس کے علاوہ شاہ رخ خان کے ساتھ کئی فلمی ستارے بھی نوجوانوں کا دل جیتنے کے لیے بہار میں تشہیر کریںگے۔ پارٹی کا خیال ہے کہ اعلیٰ ذات اور مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اگر نوجوانوں کا بھی پورا ساتھ کانگریس کو مل گیا تو بہار اسمبلی کے انتخابی نتائج چونکانے والے ہوسکتے ہیں۔ کانگریس کی اسی حکمت عملی کو تہس نہس کرنے کے لیے لالو پرساد نے اپنے بیٹے تیجسوی یادو اور رام ولاس پاسوان نے اپنے بیٹے چراغ پاسوان کو انتخابی تشہیر میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پہلے یہ کہا جارہا تھا کہ ان دونوں کو دو یا تین انتخابی جلسوں میں اتارا جائے گا، لیکن راہل گاندھی کی تیاری کو دیکھتے ہوئے راشٹریہ جنتال دل و لوک جن شکتی پارٹی نے اپنی حکمت عملی بدلی اور اب یہ دونوں پورے بہار میں تقریباً دو درجن سے زیادہ انتخابی جلسوں میں حصہ لیںگے۔ مقصد یہ ہے کہ نوجوانوں کے میدان میں راہل گاندھی کو واک اوور نہ دیا جائے۔ راہل کی گھیرابندی کچھ اس طرح کرنے کا ارادہ ہے کہ نوجوانوں میں ایک کنفیوژن پیدا ہو اور اس بڑے ووٹ بینک کا بٹوارا ہوجائے تاکہ راشٹریہ جنتا دل- لوک جن شکتی پارٹی کو فائدہ مل سکے۔ سیاست کے بارے میں تیجسوی کہتے ہیں کہ بچپن سے ہی مجھے سیاست کا شوق ہے۔ لالو پرساد تیجسوی کے رول ماڈل ہیں۔ تیجسوی کہتے ہیں کہ بہار میں ووٹ فیصد کم ہوتا جارہا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو سیاست میں آنا چاہیے۔ سونیا گاندھی سے تیجسوی کافی متاثر ہیں۔ سونیا گاندھی کو وہ شائستہ اور مضبوط خاتون بتاتے ہیں۔ اسی طرح چراغ پاسوان کے رول ماڈل ان کے والد رام ولاس پاسوان ہیں۔ چراغ کا بھی خیال ہے کہ نوجوانوں کو سیاست میں اپنا کردار نبھانا چاہیے۔ چراغ کی راہل گاندھی سے بات چیت ہوتی رہتی ہے، کیوں کہ دہلی میں یہ دونوں ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں۔ بہار میں راشٹریہ جنتا دل و لوک جن شکتی پارٹی کے بہتر امکانات دیکھنے والے چراغ پاسوان کو لگتا ہے کہ بہار میں ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔ این ڈی اے کی بھی پوری کوشش اپنے بنیادی ووٹ بینک کو بچانے کی ہے، اس لیے ٹکٹ سے لے کر انتخابی تشہیر تک میں نوجوانوں کو صحیح نمائندگی دینے کی بات طے کی گئی ہے۔ این ڈی اے یہ مان کر چل رہا ہے کہ نوجوان ووٹروں کا نقصان طے ہے، اس لیے پوری محنت نقصان کم سے کم کرنے کی ہے۔ غور طلب ہے کہ صوبے میں نوجوان ووٹروں کی تعداد ایک کروڑ 71لاکھ 9ہزار 728ہے۔ اس میں 18و 19سال کے ووٹروں کی تعداد 18لاکھ 39ہزار 213ہے، جب کہ 20سے 29سال کے درمیان کے ووٹروں کی تعداد ایک کروڑ 52لاکھ 70ہزار پانچ سو 15ہے۔ دیکھا جائے تو تقریباً پونے دو کروڑ ووٹروں کا لالچ سیاسی پارٹیوں کو اتناستا رہا ہے کہ وہ کسی بھی طریقے سے اس کو اپنے پالے میں کرنا چاہتے ہیں۔ نوجوانوں کے تئیں مہربانی کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ اس بار تہواروں کے موسم میں انتخابات ہو رہے ہیں۔ باہر نوکری کرنے والے نوجوان انہی تہواروں میں اپنے گھر آتے ہیں، اس لیے اندازہ یہ لگایا جارہا ہے کہ اس بار نوجوانوں کے ووٹ فیصد میں کافی اضافہ ہوگا۔ جنتا دل یونائیٹڈ کے ترجمان شیام رجک کہتے ہیں کہ باہر سے گھر آنے والے نوجوان بہار کی ترقی سے اتنا متاثر ہوںگے کہ وہ نتیش کمار کا ساتھ دینے کا من بنا لیںگے۔ ابھی تک تو باہر کام کرنے والے نوجوانوں کو بہار کے حوالے سے فضیحت ہی جھیلنی پڑتی تھی۔ یہ پہلا موقع ہے جب ان میں بہاری خود داری کا جذبہ پیدا ہوا ہے۔ یہ نوجوان محسوس کرنے لگے ہیں کہ بہاری کہلانا اب شرم کی نہیں بلکہ فخر کی بات ہے۔ دوسری طرف کانگریس کے سینئر لیڈر سمیر کمار سنگھ کا خیال ہے کہ نوجوانوں کا فطری رجحان ہماری پارٹی کی طرف ہے۔ راہل گاندھی کو یہ نوجوان اپنا رول ماڈل مانتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ نوجوانوں کی حصہ داری سیاست میں بڑھے۔ کانگریس پارٹی نہ صرف کہتی ہے بلکہ اس کے ذریعے نوجوانوں کے لیے ایسے ڈھیر سارے پروگرام چلائے جارہے ہیں جو ان کے خوابوں کو پورا کر رہے ہیں۔ ملک میں نوکریاں بڑھ رہی ہیں اور تعلیم کے معاملے میں دنیا میں ہندوستان کا نام ہو رہا ہے۔ سمیر سنگھ کا دعویٰ ہے کہ نوجوان علاقائی پارٹیوں کے جھانسے میں نہیں آئیںگے اور کانگریس کا ساتھ دیںگے۔ یووا این سی پی کے ریاستی صدر روہت کمار کا خیال ہے کہ اس الیکشن میں نوجوانوں کا ساتھ اسے ہی ملے گا، جس نے ان کے لیے کام کیا ہے۔ این سی پی نے برسہا برس نوجوانوں کو ان کا حق دلانے کا کام کیا ہے، اس لیے نوجوان ووٹروں نے این سی پی کا ساتھ دینے کا ذہن بنایا ہے۔ جب کہ راشٹریہ جنتا دل کے چھوٹو سنگھ کا دعویٰ ہے کہ تیجسوی یادو کی تشہیر سے راشٹریہ جنتا دل کے حق میں نوجوانوں کی لہر چلے گی۔ بہار کے نوجوانوں نے تیجسوی کو اپنے دلوں میں بٹھا لیا ہے۔ راہل گاندھی کا کوئی اثر ہمارے نوجوانوں پر نہیں پڑے گااور راشٹریہ جنتا دل ہی نوجوانوں کا اصل حامی ہے۔ اپنی بات ہم یہ کہہ کر ختم کر سکتے ہیں کہ ہر پارٹی کی نوجوان ووٹروں پر پینی نظر ہے اور نوجوانوں کا ووٹ جس پارٹی کے کھاتے میں زیادہ جائے گا اس کا اثر انتخابی نتائج میں دکھائی دے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here