کوئی سی اے جی کو چیلنج نہیں کر سکتا

Share Article

کمل مرارکا 
رٹیل مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے ایشو پر ایک بار پھر بحث ہو رہی ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے، جس کا اعلان کرنے سے پہلے ملک میں اتفاق رائے ہونا چاہیے تھا۔ گزشتہ لوک سبھا اجلاس کے دوران سرکار نے وعدہ کیا تھا کہ جب تک اس پر اتفاقِ رائے نہیں ہوتا ہے، وہ اسے نافذ نہیں کرے گی، لیکن سرکار نے اچانک اپنا من بدل لیا اور رٹیل مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق پالیسی کا اعلان کر دیا۔ اس نے اس کے لیے اپوزیشن پارٹیوں کو بھی ساتھ نہیں لیا۔ سرکار کو اگر ایوان کا اجلاس ٹھیک سے چلانا ہے تو اسے اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے اور آپسی سمجھ قائم کرنی چاہیے۔ ایسا کرنے پر ہی ایوان کا اجلاس ٹھیک سے چلایا جا سکتا ہے۔ اگر ایوان کا اجلاس چلتا ہے اور کسی طرح کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا ہے تو اس کے چلنے کا کوئی مطلب نہیں ہے اور لوگ خود کو ٹھگا ہوا محسوس کریں گے۔
کسی بھی ملک میں تانا شاہی بغیر کسی وجہ کے نہیں آتی ہے۔ تانا شاہی تبھی آتی ہے، جب جمہوریت صحیح معنوں میں اپنا کام نہیں کر پاتی ہے۔ اس وقت ملک کی حالت یہ ہے کہ جمہوریت کے سبھی اداروں کو کسی نہ کسی طرح نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ ابھی پریس بھی لوگوں کے ساتھ نہیں ہے۔ وہ لوگوں کو تنگ کرنے کے لیے سرکار کا ایک دوسرا ہتھیار بن گیا ہے۔ عدلیہ مداخلت کرتی ہے، لیکن وہ سرکار کے سبھی معاملوں اور سبھی پالیسیوں میں مداخلت نہیں کر سکتی ہے۔ پارلیمنٹ ہی لوگوں کی صحیح طور پر نمائندگی کرتی ہے اور سرکار پارلیمنٹ کے ذریعے ہی منتخب کی جاتی ہے۔ اگر سرکار اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں ناکام ہو جاتی ہے، تو وہ بہت تکلیف دہ وقت ہوتا ہے۔ آج ہمارے ملک میں ایسی ہی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے۔
سرکار نے سی اے جی رپورٹ نامنظور کر دی ہے۔ یہی نہیں، وہ اس کے اختیارات کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ ملک کے لیے خطرناک ہے۔ سرکار سی اے جی کے ممبران کی تعداد بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔ اسے الیکشن کمیشن کی طرح بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن جس وزیر نے سی اے جی کو کثیر رکنی بنانے کی بات کی ہے، اس نے شاید آئین کی دفعہ 148 کو نہیں پڑھا ہے۔ سی اے جی کے لیے ایسا کوئی انتظام آئین میں نہیں کیا گیا ہے۔ سی اے جی کو ہٹانے کے لیے بھی آئین میں صاف طور پر لکھا گیا ہے کہ جو طریق کار سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ہٹانے کے لیے ہے، اسی طریق کار کی پیروی سی اے جی کو ہٹانے کے لیے بھی کی جائے گی۔ سی اے جی کے لیے آئین میں جو انتظام کیا گیا ہے، وہ اہم ہے۔
جیسے ہی وزیر اعظم نے کابینہ میں رد و بدل کی، کچھ وزیروں نے سی اے جی کے اختیارات کو تقسیم کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ اس قسم کی روایت پر روک لگائی جانی چاہیے۔ اہم یہ نہیں ہے کہ سرکار کس کی ہے، بلکہ اہم یہ ہے کہ کس طرح جمہوریت کو برقرار رکھا جائے۔ ہمیں تاریخ سے سبق لینا چاہیے۔ ایمرجنسی کے وقت آئینی اداروں کی طاقت کو کمزور کیا گیا تھا۔ ہمیں اس غلطی کو دہرانا نہیں چاہیے۔ اگر پھر سے ایمرجنسی کی صورتِ حال پیدا کی جاتی ہے تو ہم اسے برداشت نہیں کر سکیں گے۔ اگر آئینی اداروں کی طاقت کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو وزیر اعظم کو مداخلت کرنی چاہیے اور اپنے وزیروں سے کہنا چاہیے کہ آپ وہی کام کریں، جس کے لیے آپ کو مقرر کیا گیا ہے۔ وزیروں کو کرنے کے لیے بہت سارا کام بچا ہوا ہے اور انہیں وہی کرنا چاہیے۔
سی اے جی نے جو رپورٹ دی ہے، وہ صحیح ہے۔ اس نے ٹو جی اسپیکٹرم کے بارے میں کہا ہے کہ اس میں سرکار کو 1.76 لاکھ کروڑ کا نقصان ہوا ہے، جو کسی بھی سطح پر غلط نہیں کہا جاسکتا۔ سرکار کا کام لوگوں کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے، سرکاری رقم کو بڑھانا ہے، نہ کہ نقصان کو کم بتانے کے لیے دلیل گڑھنا۔ سول سوسائٹی اپنا کام کر رہی ہے اور اگر سرکار کو اسے سمجھنا ہے تو اسے اپنے کردار میں اصلاح کرنی ہوگی، اپنا کردار اور صاف ستھرا کرنا ہوگا۔ سرکار سی اے جی پر بحث نہیں کر سکتی، اس کی رپورٹ کو غلط نہیں بتا سکتی اور اس کی بے عزتی نہیں کر سکتی ہے۔ کسی کو بھی سی اے جی کے کام کو چیلنج کرنے کا حق نہیں ہے۔ اگر اس طرح کی روایت پر روک نہیں لگائی گئی تو ملک کو اس کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *