modi
پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میں20جولائی 2018کو لوک سبھا میں مرکزی حکومت کے خلاف اپوزیشن پارٹیوں کے ذریعہ لائی گئی عدم اعتماد کی تحریک پر 12 گھنٹے تک بحث چلی۔ لوک سبھا میں عدم اعتماد کی تحریک پر مودی حکومت نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا۔ مودی حکومت کوعدم اعتماد کی تحریک کی مخالفت میں 325 ووٹ پڑے جبکہ تحریک کی حمایت میں 126 ووٹ پڑے۔ایک طرح سے نریندرمودی اگنی پریکشامیں کامیاب ہوگیا۔ بی جے ڈی اورشیو سینا نے ووٹنگ سے قبل واک آوٹ کیا۔ نریندر مودی نے اپوزیشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میں بھگوان سے پرارتھنا کرتا ہوں کہ آپ 2024 میں بھی عدم اعتماد کی تحریک لائیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اپوزیشن پارٹی کانگریس پر زور دار حملہ بولتے ہوئے آج کہا کہ 48 سال کی حکمرانی میں کانگریس نے ملک میں ‘اسکیم’ (گھوٹالہ) کی سیاست کی اور وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت صرف 48 ماہ میں ‘اسکیم’ (منصوبوں) کی حکمرانی دی ہے۔
جمعہ کے روز لوک سبھا میں مودی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتمادپر حکمراں جماعت کی جانب سے بحث میں حصہ لیتے ہوئے بی جے پی کے راکیش سنگھ نے کہا کہ کانگریس کی حکومت میں ہوئے سارے اسکیم ملک کے ماتھے پر سیاہ دھبہ ہیں۔ 2۔جی، کول، ٹیٹرا، کامن ویلتھ اور آگسٹا ویسٹ لینڈ گھوٹالے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس کے ان کارناموں کی وجہ سے دنیا میں بھارت کا سر شرم سے جھک گیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے اپنے دور میں داغدار حکومت دی اور دمدار حکومت دی ہے۔
بہرکیف وزیر اعظم نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ جن لوگوں کو خود پر بھروسہ نہیں ہے، وہ دوسروں پر کیا بھروسہ کریں گے۔ انہوں نے حقائق کے بغیر ملک کو گمراہ نہ کرنے کی بھی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت نے 50 لاکھ لوگوں کو روزگار دیا۔ ملک میں میٹرو کی توسیع میں کام ہورہا ہے۔ روزگار کے معاملے میں کانگریس ملک کو گمراہ کررہی ہے۔ ملک میں ہائی وے کا جال بچھایا جارہا ہے۔ انفارمیشن اینڈ ٹکنالوجی میں دن رات کام ہورہا ہے۔ ملک میں اگر 2014 میں ہماری حکومت نہیں بنتی تو ملک خطرے میں تھا۔نریندر مودی نے کہا کہ ریاستیں ہجومی تشدد کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ ہماری حکومت مسلم بہنوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ ہم نے بینکوں کی اصلاحات کے لئے کام کیا۔ بینکوں کی مدد کے لئے پیسہ دیا جارہا ہے۔ کانگریس کے دورا قتدار میں این پی اے کا جال پھیلا۔ لون ادا کرنے کے وقت دوسرا لون دے دیا جاتا تھا۔ کانگریس نے اپنے چہیتوں پر خوب لٹایا۔ کانگریس 32 بلین ڈالر کا قرض چھوڑ کر گئی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here