سروج سنگھ 
p-10پٹنہ کے کرشن میموریل ہال میں پارٹی کے ہزاروں عہدیداروں اور لیڈروں کی موجودگی میں نتیش کمار نے شرد یادو کے ہاتھوں سے جنتا دل (یو)کی کمان اپنے ہاتھوں میں لے لی۔ حالانکہ سرسری طور پر اسے محض ایک رسمی کہا گیا، لیکن اپنے بھاشن میں نتیش کمار نے جن باتوں کی وضاحت کی اس سے صاف ہو گیا کہ ان کی سیاسی لائن میں کہیں سے بھی کوئی کنفیوژن نہیں ہے اور وہ کیا اور کیسے چاہتے ہیں، اسے ان کے مخالفین اور حامی دونوں سمجھ لیں۔ آگے شرد یادو کا کیا کردار ہوگا، اسے بھی طے کر دیا گیا اور ملک بھر سے آئے پارٹی عہدیداروں کو یہ پیغام دے دیا گیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جنتا دل (یو) کو پورے ملک میں مضبوط کیا جائے اور اس میں سبھی کا کردار اہم ہے۔ لگے ہاتھ شراب بندی اور ’سنگھ مکت بھارت‘ کا ہتھیار بھی نتیش کمار نے اپنی پارٹی کے لوگوں کو تھما دیا۔ کہا جائے تو قومی کونسل کی میٹنگ میں جنتا دل (یو) نے ایک باب کا خاتمہ کیا اور ایک نئے باب کا آغاز کردیا۔پارٹی نے اپنے ہیرو اور ہدف کو طے کر لیا ہے۔
پارٹی صدر کے طور پر اپنے پہلے بھاشن میں نتیش کمار نے بہت سارے بھرم دور کرنے کی کوشش کی۔ نتیش کمار نے کہا کہ جو سیاسی پنڈت یہ سمجھ رہے ہیں کہ وزیر اعظم عہدہ کے لئے میں اپنی دعویداری پیش کر رہا ہوں تو وہ غلط سمت میں اپنا دماغ لگا رہے ہیں۔ ملک کا اگلا وزیر اعظم کون ہوگا ؟یہ وقت اور ملک کے عوام طے کر دیں گے۔آپ اور ہم دعویٰ کرنے والے کون ہوتے ہیں۔ ویسے بھی جو وزیر اعظم بننے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ کبھی وزیر اعظم نہیں بن پاتے۔نتیش کمار نے باتوں کو اور صاف کرتے ہوئے کہا کہ جب میں’ سنگھ مکت بھارت‘ اور بی جے پی کی سوچ کی مخالفت کرنے والی پارٹیوں اور لیڈروں کے اتحاد کی بات کرتا ہوں تو میری منشا صرف اور صرف یہ ہوتی ہے کہ 2019 کی لڑائی میں نریندر مودی کی واپسی نہ ہونے پائے۔میرا پکا ماننا ہے کہ اگر ہم بی جے پی مخالف طاقتوں کو ایک اسٹیج پر لانے میں کامیاب رہے تو نریندر مودی کا جانا طے ہے۔ لیکن جب میں ایسی باتوں کی پہل کرتا ہوں تو میرے ذہن میں یہ بات نہیں ہوتی ہے کہ مجھے ہی سب لوگ لیڈر مان لیں۔ پہلے سب لوگ ساتھ آئیں اور بی جے پی اور سنگھ سے ملک کے سامنے جو خطرہ پیدا ہو گیا ہے اس کا مل کر مقابلہ کریں۔ کون لیڈر ہوگا اسے بعد میں دیکھ لیا جائے گا۔ نتیش کمار کہتے ہیں،لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہے، سبھی کو قربانی دینی ہوگی تب کوئی تصویر بنے گی۔ بہار میں ہم لوگوں نے مہاگٹھ بندھن بنایا تو میں نے اور لالو جی نے قربانی دی۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہم لوگ کبھی بھی بی جے پی کو نہیں روک پاتے۔ اس کامیاب پالیسی کو ہم لوگ پورے ملک میں لاگو کرنا چاہتے ہیں اور میں اس کے لئے کوشش کررہا ہوں۔ اب کامیابی ملے گی یا نہیں ،یہ تو وقت بتائے گا۔ لیکن ہماری ذمہ داری ہے کہ اس سمت میں مَیں اپنی کوشش جاری رکھوں۔
نتیش کمار نے اپنے خطاب میں یہ صاف کر دیا کہ میں بغیر کسی عہدہ کے لالچ کے اتحاد کی کوشش کررہا ہوں ۔ غور طلب ہے کہ جیسے ہی نتیش کمار نے’ سنگھ مکت بھارت ‘کا نعرہ دیا تھا تو یہ چرچا گرم ہو گئی تھی کہ 2019 میں وہ خود کو نریندر مودی کے متوازی رکھنا چاہتے ہیں۔لگے ہاتھوں لالو پرساد اور طارق انور کا بھی سپورٹ نتیش کمار کو مل گیا۔ بحث تیز ہو گئی کہ نتیش نے وزیر اعظم عہدہ کے لئے اپنی دعویداری تیز کر دی ہے اور جلد ہی نریندر مودی بنام نتیش کمار کی سیاسی جنگ کا یہ ملک گواہ بنے گا۔ جانکار بتاتے ہیں کہ نتیش کمار نے ابھی سے ہی اس طرح کی سیاسی لڑائی کے خطرے کو پہچان لیا، کیونکہ انہیں لگا کہ اس سے ان کے دوست کم اور دشمن زیادہ بن جائیں گے اور بی جے پی مخالف اتحاد بنانے میں دشواری آئے گی۔یو پی کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے تو کہنا بھی شروع کر دیا کہ نریندر مودی کی مخالفت کے لئے ملائم سے بہتر چہرہ اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ نتیش کمار کو لگا کہ اگر دوسرے لیڈروں کی بھی مخالفت شروع ہو گئی تو ان کی مہم شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائے گی۔ اس لئے انہوں نے دو ٹوک کہا کہ میں وزیر اعظم کی دوڑ میں نہیں ہوں اور صرف اپوزیشن اتحاد کی بات کررہا ہوں،کیونکہ اسی پالیسی سے ہمیں کامیابی مل سکتی ہے، جسے بہار میں ہم نے ثابت کرکے دکھا دیا ہے۔ اس ایشو پر صفائی دینے کے بعد نتیشکمار نے کہا کہ وہ شراب بندی کو ایک سماجی آندولن کے طور پر پورے ملک میں چھیڑنا چاہتے ہیں ۔ بہار کے لوگوں نے جس طرح سے اس مہم کو ہاتھوں ہاتھ لیا ہے اس سے صاف ہے کہ ملک بھر میں اسے کامیابی ملے گی۔
نتیش کمار یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس مہم کی چاہنے کے باوجود کوئی مخالفت نہیں کرسکتا، چاہے حامی ہو یا مخالف، دوسری بات یہ ہے کہ اسی طرح کے کچھ پروگراموں کو لے کر اپوزیشن اتحاد کے لئے ماحول بنایا جاسکتاہے۔ نتیش کمار اسی پس منظر میں یو پی اور جھارکھنڈ میں بڑے پروگرام کررہے ہیں۔ صاف ہے کہ نتیش کمار دلی کی طرف بڑھ تو رہے ہیں، لیکن پورے احتیاط کے ساتھ۔ کیونکہ ان کو بھی پتہ ہے کہ ایک چھوٹی سی بھی چوک ان کی پوری مہم کو کھنڈر میں پہنچا دے گی۔جہاں تک بہار میں اپوزیشن پارٹیوں کا سوال ہے تو وہ سبھی’ ابھی انتظار کرو اور دیکھو‘ کی پالیسی پر کام کر رہے ہیں۔ان پارٹیوں کی ایک ہی امید فی الحال لالو پرساد ہی ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں کو ایسا لگتا ہے کہ لالو اور نتیش کا ساتھ زیادہ دنوں تک چلنے والا نہیں ہے۔ شراب بندی کا سارا سہریٰ نتیش کمار کو مل رہا ہے۔ ووٹ بینک کے حساب سے اس سے راشٹریہ جنتا دل کو کہیں کوئی فائدہ ملتا نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ الٹے اس میں راشٹریہ جنتا دل کو سیاسی طور پر نقصان ہی ہوا ہے۔کیونکہ شراب کے دھندے میں زیادہ تر یادو برادری کے لوگ ہی ہیں۔ بی جے پی اور ان کے اتحادی پارٹیوں کو لگتاہے کہ لالو پرساد موقع کی تلاش میں ہیں۔ جنتا دل( یو) کے ترجمان نیرج کمار کہتے ہیں کہ بی جے پی کے لوگ خیالی پلاﺅ پکاتے رہیں، کہیں کچھ نہیں ہوگا۔ نتیش کمار اور لالو پرساد دونوں لیڈر سماجی انصاف کے آندولن کو آگے بڑھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ دونوں لیڈروں کی بس یہی خواہش ہے کہ غریبوں کا بھلا ہو اور بہار میں تیزی سے ترقی ہو۔ بی جے پی کے لوگ خواب دیکھتے رہیں۔ ان کو پتہ ہونا چاہئے کہ 2019 میں دلی کے اقتدار سے بھی بے دخل ہو جائیںگے۔نیرج کمار کا دعویٰ ہے کہ صوبے کی سرکار پورے پانچ سال مضبوطی سے چلے گی اور آنے والے لوک سبھا انتخاب میں بی جے پی کی ہار طے ہے۔ صاف ہے کہ نتیش کمار کا مشن 2019 جاری ہے اور ارادہ بھی صاف ہے۔ جانکاروں کا ماننا ہے کہ نتیش کمار نے جو سیاسی لائن طے کیا ہے، اسی پر وہ پورے ملک میں گھومیں گے اور اپوزیشن اتحاد کا ماحول بنائیں گے۔ پانچ صوبوں کے انتخابی نتائج کے بعد اس میں تیزی آنے کی امید ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here