کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے جنرل سکریٹری اے بی بردھن ملک کے انتہائی سینئر اور معزز سیاستدانوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ملک، غیر ممالک اور ریاستوں سے متعلق مختلف معاملات کے وہ ماہر ہیں۔بہار اسمبلی الیکشن کا معاملہ ہو یا اجودھیا پر آئے حالیہ فیصلے کا، وہ ہر موضوع پر انتہائی بے باکی سے بولتے ہیں۔ ’چوتھی دنیا‘  اردو کی ایڈیٹر وسیم راشد اور چوتھی دنیا ہندی کے کوآرڈی نیٹر ایڈیٹرمنیش کمار نے گزشتہ دنوں ان سے مختلف اہم مسائل پر تفصیلی بات چیت کی۔ بات چیت کے اہم اقتباسات نذر قارئین ہیں۔

س: بہار انتخابات کے سلسلے میں آپ سے بات کرنی ہے۔ گزشتہ انتخابات میں تقریباً 10سیٹیں تھیں۔ اس بار بہار  میں جو کمیونسٹ پارٹی انتخاب لڑرہی ہے تو اب اس کی اسٹرٹیجی کیا ہے؟
ج: مختلف اخباروں کو پڑھنے سے اور خاص طورپر ’چوتھی دنیا‘ کو پڑھنے سے ایسا لگتا ہے کہ اب بھی بہار میں انتخابات پولیرائزڈ ہے۔ ایک طرف نتیش کمار اور بی جے پی ہے اور دوسری طرف لالو پرساد یادو اور رام ولاس پاسوان، اسی طرح آپ کہہ رہے ہیں۔ یہ بات گزشتہ 3-4انتخابات میں صحیح تھی، لیکن اب یہ بالکل صحیح نہیں ہے۔ ابھی پولورائزیشن تو ہے ہی نہیں۔ کم سے کم چار ایسی پارٹیاں ہیں جو تقریباً تمام سیٹوں پر انتخاب لڑ رہی ہیں۔ یہ دونوں اتحاد تو لڑ ہی رہے ہیں۔ کانگریس کا کیا ہوا۔ کانگریس پہلے لالو کے ساتھ تھی، اب تو وہ الگ لڑ رہی ہے اور کوئی کہہ نہیں سکتا کہ کانگریس کی وہاں کچھ بیکنگ ہے یا نہیں۔ اعلیٰ ذات کا وہ ایک طبقہ جو لالو پرساد کے ساتھ کبھی نہیں رہا، لیکن گزشتہ انتخابات میں بی جے پی کی وجہ سے جنتا دل یونائیٹڈ کے ساتھ تھا، اس بار وہ کانگریس کے ساتھ جائے گا، اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ الیکٹرورل فورس کی شکل میں بی ایس پی بہار میں کوئی بڑی پارٹی نہیں ہے، لیکن وہ بھی تقریباً تمام سیٹوں پر لڑ رہی ہے۔ ووٹرز کے ایک طبقہ کو توڑنے کی صلاحیت اس کے پاس ہے، منتخب کر کے لانے کی بھلے ہی نہ ہو۔ بھلے ہی وہ 3-4سیٹیں لے آئے، لیکن کئی جگہوں پر 3-4ہزار لوگوں کو توڑنے کی صلاحیت اس کے پاس ہے۔ اس کا اعداد و شمار کہاں ہے۔ پھر اس بار تینوں بڑی لفٹ کی پارٹیاں بھی ایک ساتھ مل کر لڑ رہی ہیں۔ صد فی صد اتحاد نہیں ہے، لیکن تقریباً 200سیٹوں پر وہ لڑ رہی ہیں اور ان میں 170سیٹوں میں آپسی تال میل ہے۔ 24سیٹیں ایسی ہیں جہاںآپسی جھگڑا ہے۔ سی پی آئی ایم ایل کا سی پی آئی کے ساتھ 17سیٹوں پراختلاف ہے اور سی پی ایم کے ساتھ 7سیٹوں پر۔ اس کو آپ کم مت سمجھئے، اس لیے لیفٹ بھی ایک چیلنج ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب ووٹ پولورائزیشن نہیں ہیں اور کئی باتوں کی وجہ سے دونوں اتحاد کے تئیں لوگوں میں مایوسی ہے، اسے دیکھ کر مجھ کو نہیں لگتا کہ صرف یہ دونوں اتحاد ہی اقتدار کے دعویدار ہیں۔ ’چوتھی دنیا‘ کی اب تک کی خاصیت رہی ہے کہ وہ ان سب باتوں کا باریکی سے تجزیہ کرتی ہے، لیکن آج وہ بھی اسے دوطرفہ مقابلہ بتانے پر تلی ہوئی ہے۔ دوسری بات یہ کہ لیفٹ کو چھوڑ کر جتنی پارٹیاں ہیں، وہ اقتدار میں رہ چکی ہیں۔ کانگریس مرکز میں اقتدار میں ہے۔ مرکزی حکومت کے خلاف جو بے اعتمادی ہے، وہ کانگریس کے خلاف ہی ہے، لیکن لیفٹ پارٹیاں کبھی ریاست میں برسراقتدار نہیں رہیں، تو بہار کی جو بھی حالت اب تک رہی، اس کے لیے لیفٹ کو تو کوئی مجرم نہیں ٹھہرا سکتا۔
س: گزشتہ پانچ سالوں میں نتیش کمار کا جو دور حکومت رہا ہے، اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
نتیش کمار کے دور حکومت میں لالو کے راج میں جو لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ تھا جیسے چوری، ڈکیتی ، لوٹ ماری، زنابالجبر، قتل وغارت وغیرہ ان سب میں تھوڑی کمی آئی ہے، لیکن ابھی یہ سب کچھ ختم نہیں ہوا ہے۔ لالو کے راج میں تو اتنی حالت خراب تھی کہ میں کبھی پٹنہ سے مدھوبنی تک گیا تو 8گھنٹے لگتے تھے۔ سڑکوں کی حالت بے حد خستہ تھی، ان کی کبھی مرمت نہیں ہوتی تھی۔ لالو تو اتنے ترقی کے مخالف تھے کہ ایک بار انہوں نے بیان دیا تھا کہ بیان بازی کرنے اور بکواس کرنے میں تو ان کے جیسا کوئی نہیں ہے۔ غریبوں کو سڑکوں سے کیا لینا دینا ہے۔ سڑکیں تو موٹر گاڑیوں کے لیے ہیں۔ یہی ان کی ترقی کی سمجھ ہے۔ انہیں ترقی کی کوئی پروا ہی نہیں تھی۔ نتیش نے اس میں تھوڑا سدھار کیا، لا اینڈ آرڈر کی اصلاح کی، لیکن نتیش کا یہ دعویٰ کہ بہار کی ترقی کی شرح 11فیصد ہے، ایک دم مضحکہ خیز ہے۔ بہار کی اقتصادیات کی اہم بنیاد اب بھی زراعت ہے اور زراعت میں 1-2فیصد ترقی ہے، تو یہ کیسے ہوسکتا ہے۔بہار میں انڈسٹریز تو ہیں ہی نہیں۔یہاں تک کہ جو شوگر مل تھیں، انہیں بھی نہیں کھلوایا گیا۔ ایسی حالت میں ان کا یہ دعویٰ بالکل بے بنیاد ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ان کا دعویٰ ویسا ہی ہے جیسا ایک زمانے میں این ڈی اے حکومت نے انڈیا شائننگ کا کیا تھا اور کیوںکہ لوگ قدم قدم پر دیکھتے تھے کہ انڈیا کی کیا حالت ہے، اس لیے انڈیا شائننگ کا دعویٰ ان کے لیے الٹ ہی پڑا۔ نتیش کا بھی ترقی کا یہ دعویٰ ٹکے گا نہیں۔ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح کی ترقی ہوئی ہے اور اس ترقی کی بنیاد کیا ہے۔ میں اعداد و شمار کی بات نہیں کر تاہوں، میں صرف اتنا کہتا ہوں کہ بہار میں انڈسٹریز نہیں ہیں، آئی ٹی سیکٹر کی بہتر ترقی نہیں ہوپائی ہے، زراعت ہی اہم بنیاد ہے اور اس کی ترقی کی حالت آپ دیکھ ہی رہے ہیں، تو یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ نتیش کمار کا دعویٰ صرف ایک چھلاوا بھرسے زیادہ کچھ نہیں یہ لوگوں کو بے وقوف بنانے کی ایک چال ہے۔ بہار کی عوام بیک ورڈ ہوسکتی ہے، لیکن بہار بڑی تعداد میں دانشوروں کو بھی پیداکرتا ہے۔ وہاں کے لوگ اس پر یقین نہیں کریںگے۔ میں کہتا ہوں کہ ان پارٹیوں کی مخالفت کرنے کی ایک نہیں ہزار وجوہات ہیں۔
ایک بات جو سمجھ میں نہیں آتی ہے کہ بہار کی عوام تو ابھی فیصلہ نہیں کر پائی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نتیش گزشتہ پانچ سالوں میں ترقی کا جو دعویٰ کر رہے ہیں، وہ جھوٹا ہے۔ سڑکوں کی سدھار کا جو ان کا دعویٰ ہے، وہ صرف 17فیصد سڑکوں کو بنایا یا مرمت کروایا گیا ہے، باقی سڑکیں ویسی ہی حالت میں ہیں، ان پر کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ لوگ اب بھی ریاست سے باہر جارہے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دیہی علاقوں میں روزگار نہیں ملتا، لیکن جب متبادل کی بات آتی ہے تو ان کے سامنے لالو یادو ہی ہیں۔
لالو کبھی متبادل ہو ہی نہیں سکتے۔ لوگوں نے انہیں 15سال تک دیکھا ہے، 7سال لالو کے اور 8سال رابڑی کے۔
س: آپ کی پارٹی تو نظریات پر مبنی ہے مگر بہار کا خاص فیکٹر کیاہے؟
ج: میں ایک بات کہنا چاہوںگا کہ بہار کی ایک بدقسمتی ہے کہ ہر پارٹی ذات پات کی بنیاد پر ووٹ مانگنے میں لگی ہوئی ہے۔تمام سیاست اسی کے ارد گرد گھومتی رہی ہے۔ دیگر جگہوں پر کتنی ترقی ہوئی اور کتنی نہیں یہ بھی ایک اہم مسئلہ ہوتا ہے۔ ہندی زبان والے علاقوں میں کچھ حد تک جنوبی ہندوستان میں بھی، ذات ایک فیکٹر ہے، لیکن بہار میں تو پورا جوڑ توڑ ہی اسی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ جب کہ ذات آج اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ آج ہر یادو لالو کو ووٹ نہیں دیتا ہے، نہ ہی ہر کرمی نتیش کا حامی ہے۔ ذاتوں کے درمیان آج اتنی آپسی سختی بھی نہیں ہے، جو بابری سانحہ سے پہلے اور اس کے بعد تھی۔ اس کی سب سے بڑی مثال حال ہی میں اجودھیا معاملے میں آیا فیصلہ ہے۔ ہم اور آپ اس کی نکتہ چینی کرتے ہیں، جب کہ وہ کوئی جوڈیشیل پروناؤنسمنٹ ہے ہی نہیں۔ تمام لوگ یہی کہتے ہیں لیکن لوگ کہیں بھی اس کے لیے سڑکوں پر نہیں اترے، مار پیٹ نہیں ہوئی، تو پھر کس پولیرائزیشن کی بات ہو رہی ہے، جس کا فائدہ انہیں مل سکتا ہے۔ یہ تمام وہ اہم پہلو ہیں جن کا کم سے کم ’چوتھی دنیا‘ کو اپنے سروے میں تجزیہ کرنا چاہیے تھا۔
س: اجودھیا فیصلے سے دھیان میں آیا۔ بہار میں جو مسلمان ہیں وہ سب سے زیادہ خراب حالت میں ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کسی بھی پارٹی کے پاس ان کے لیے کوئی اسکیم ہی نہیں ہے۔ ان لوگوں کے لیے آپ کے پاس کوئی اسکیم ہے یا نہیں؟
ج: اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بہار کے مسلمانوں کی حالت سب سے خراب ہے۔ یہ بات اس سے بھی صاف ہے کہ ریاست میں سب سے زیادہ پسماندہ مسلم سماج کے ہیں۔ لیفٹ کی ایک خاصیت رہی ہے کہ انہوں نے سیاست میں کبھی مذہب کا نام نہیں لیا۔ دوسری بات یہ ہے کہ فرقہ واریت کا سہارا نہیں لیا۔ مسلمانوں کو بھی کبھی نہیں اکسایا۔ میں کہتا ہوں کہ رام ولاس پاسوان دو انتخابات تک یہ کہتے رہے کہ مسلم وزیراعلیٰ ہو۔ اس کا کیا مطلب ہے۔ پھر کہنے لگے کہ وزیر اعلیٰ لالو کی پارٹی کا ہو اور نائب وزیراعلیٰ ان کی پارٹی کا کوئی مسلمان۔ اس طرح کی غیرمدلل باتوں سے یہی ہوتا ہے کہ آگے چل کر کوئی اور بھی زیادہ بڑا مطالبہ کرسکتا ہے۔ لیکن لیفٹ نے کبھی ایسا بھی نہیں کیا۔ ایک بات جو لیفٹ کے حق میں ہے، وہ یہ کہ ان کی سیکولرازم پر انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی۔ میں ایک سیمنار میں گیا جس میں ’جماعت اسلامی‘ جیسے اداروں کے نمائندے بھی موجود تھے۔ میں بولنے میں کوتاہی نہیں کرتا، لیکن فضول کی تعریف بھی نہیں کرتا۔ میں نے ان سے کہا کہ ہم سیکولر ہیں، کیوں کہ یہ ہمارے نظریہ کا ایک حصہ ہے۔ ہم کسی عیسائی کے ساتھ ہونے والے جرم کے بھی اتنے ہی خلاف ہیں، جتنے آپ کے۔ ہمیں یہ بھی منظور نہیں ہوگا کہ اس ایشو پر آپ ہندؤں کے خلاف کچھ کریں۔ میں نے ان سے یہ بھی کہا کہ آپ کی کئی باتیں ہمیں بالکل منظور نہیں ہیں۔ کمیونل کارڈ کھیلنے کی کسی بھی کوشش کے ہم خلاف ہیں۔ مسلم ووٹ بینک کا جو تذکرہ ہوتا ہے، اس کی یہی وجہ ہے کہ آپ ایک بینک کی طرح ہی ووٹنگ کرتے ہیں۔ آپ کے فتوے، مسجدوں سے آنے والی آواز، اس کا کیا مطلب ہے اور ان کی کیا ضرورت ہےـ؟ ہم سیکولرازم کے ایشو پر آپ کے سرٹیفکیٹ کے محتاج نہیں ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں تین بار اسمبلی انتخاب لڑا، اس میں میں نے ان کا کردار محسوس کیا ہے۔ ایک بار ’جماعت اسلامی‘ کے لوگوں نے انتخاب کے دوران میرے نام کو عبدالبشیر بردھن لکھ کر میری حمایت میں پرچے چھپوادیے تو مجھے بڑا غصہ آیا۔ میں نے ایک میٹنگ لے کر انہیں جھڑک دی اورکہا کہ میں مسلمان نہیں ہوں۔ کون ہندو ہے اور کون مسلمان، اس کا فیصلہ وہ خود نہیں کرتا، یہ فیصلہ تو ماں کے پیٹ میں ہی ہو جاتا ہے اور یہ جھوٹے طریقے ہیں، میں ایسا نہیں چاہتا۔ میں نے کہا یہ مت کیجئے۔ یہ بھی بہت بڑا کمیونزم ہے، تو اس لیے میں کہ رہا ہوں ہم تو کبھی کمیونل رہے ہی نہیں ہیں۔ مغربی بنگال میں 30-34سال میں سب سے بڑی غلطی جو ہوئی لیفٹ فرنٹ کی وہ سنگور، نندی گرام ہے، جس سے لوگوں کو یہ لگا کہ وہ لوگ جنہوں نے زمین دی اورجو واپس زمین چھیننا چاہتے ہیں’ان دی نیم آف بزنس ریلائزیشن‘، تو میں نے کہا بھائی یہ سرٹیفکیٹ آپ مجھ کو مت دیجیے۔ ڈیموکریسی تو جمہوریت کا راج ہے، لیکن ڈیموکریسی کی کسوٹی ہے کہ ’وہاٹ از یور ٹریٹمنٹ ٹوورڈس مائناریٹی۔‘
س: میں ایک اور سوال کرنا چاہ رہا تھا کہ پروٹیکشن ایک الگ ایشو ہے، لیکن جو سوشل انڈیکیٹر مسلمانوں کے ہیں، وہ بہت ہی خراب تصویر بتاتے ہیں۔ حالانکہ آپ کیرالا کے مسلمانوں کا مقابلہ اگر بہار اور اترپردیش کے مسلمانوں سے کریںتو’ دیز پیپل اسٹینڈس نو وے۔‘
ج: ہر میٹنگ میں میں کہتا ہوں کہ جذباتی سوالوں سے آگے نکلو۔ سب سے بری حالت تمہاری تعلیم میں ہے اس کے علاوہ تمہیں کہیں سے بھی کوئی بھی لون دینے کو تیار نہیں ہے کوئی تمہارے لئے فائنانس کرنے کو تیار نہیں ہے پر کبھی تم لوگوں نے ایک جگہ جمع ہوکر ان مسائل پر بات کی ہے۔ ہاں مگرتمہاری میٹنگ اس پر ضرور ہوتی ہے کہ کس نے قرآن پھاڑ دیا، کس نے قرآن جلا دیا۔ کس نے پیغمبر کے بارے میں کیاکچھ کہہ دیا اور وہ بھی ڈنمارک میں کیا کہا اور ہالینڈ میں کیا کہا، اس کو لے کر آپ یہاں میٹنگ کرتے ہو۔ میں نے کہا جذبات کے سوال کے حوالے سے آپ نے پوری کمیونٹی کو برباد کردیا۔
س: آپ نے بہت اچھی بات کہی، لیکن آپ کو ایسا لگتا ہے کہ ان سب کے درمیان ایسا کوئی مسلمان ہے جس کی بات مسلم کمیونٹی مان سکے۔
ج: نہیں، کوئی نہیں اور اس وجہ سے جو غیرتعلیم یافتہ طبقہ ہے، اس کو چھوڑ دیا جاتا ہے مسجد کے بھروسے، اور ملا مفتیوں کے کے بھروسے اور وہ بناسوچے سمجھے اپنے فتوے دے دیتے ہیں۔
س: ایک ایشو یہ بھی ہے  کہ لیفٹ کا  جو آڈیولوجیکل پلانٹ ہے، اس میں  خامی ہے اور  یہ لیفٹ  کے لئے تنقید بھی ہے۔ لیکن اکثر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ لیفٹ کی مخالفت دہلی میں پریس کانفرنس اور ٹی وی چینلز تک ہی محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔ آپ اپنی لڑائی سڑک پر کیوں نہیں لڑتے؟
ج: میں اسے قبول کرتا ہوں، لیکن میں یہ بھی کہتا ہوں کہ جذباتی سوالوں کو لے کر تو ہم نہیں جاسکتے اور وہ بھی بہار میں۔ کمیشن بٹھایا، کمیشن کی رپورٹ بھی آئی۔ ایک ہفتے کے اندر جاری کردیا کہ ہم اس کو نافذ نہیں کریںگے اور رپورٹ کے آتے ہی جتنے زمین مالک تھے، چھوٹے چھوٹے زمین مالک ہی ہوںگے، لیکن ان کے لیڈنگ لائسنس بڑے بڑے زمین مالک کی طرح تھے۔ نتیش کمار جنتادل یونائٹیڈ، بی جے پی، کانگریس، راشٹریہ جنتا دل سب نے اٹھ کر مخالفت کی۔ پر اس میں جو کمیشن کی رپورٹ ہے اس میں بہت بڑی باتوں کو لے کر اگر ہم نہ بھی چلیںتو بھی تین چار سفارشات ایسی ہیں، جن کو عمل میں لانے میں بہت جدو جہد کرنی ہوگی، ایسامیں نہیں مانتا ہوں۔ ایک مسئلہ یہ ہے کہ ان لوگوں کے پاس گھر نہیں ہے۔ پانچ لاکھ بے گھر خاندان ہیں، جن کی جھونپڑیاں زمین مالکوں کے گھر پر بنی ہوئی ہیں۔اچھا چلو تمہاری جھونپڑی اگر وہاں پر بنی ہوئی ہے تو بھی تم کچھ بنا معاوضے کے مزدوری کر رہے ہوان کا کچھ بگاڑ تو نہیں رہے ہو۔ اس نے کہا کہ بھائی 10 ڈیسمل زمین دیجیے۔ نتیش کمار نے کہا کہ 10 ڈسمل بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ارے بھائی تو پانچ ڈیسمل دے دو۔ وہ بھی نہیں کیا اور ایسا نہیں اس مسئلہ پر تینوں لیفٹ پارٹیاں متحد ہیں۔ جب بات آئی کہ کسی دوسری پارٹی کے ساتھ مذاکرات ہوسکتے ہیں یا نہیں تو دی ڈیوائڈنگ لائن واج دس۔ کیا ہوگا۔ اگر آل اگینسٹ دی ڈسٹری بیوشن آف لینڈس۔
سوال: سی پی آئی ایم ایل نے بیچ میں ایک ریلی بھی کی تھی، اس پر پولس کا رویہ کافی چوکانے والا تھا۔ اس سے یہ نہیں لگتا کہ جیسے جیسے ہم وقت کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ بہار میں یہ بھی دیکھنے کو مل رہاہے کہ چاہے وہ ٹیچرس ہوں یا اسٹوڈنٹس چاہے اقلیت سبھی پروٹیسٹ کرتے ہیں۔
ج: ایوری تھنگ از میڈ بائی دی پولس۔ میں جو لینڈ ریکارڈ کمیشن کی بات کر رہا تھا۔ 1971میں پھر 1977میں اور ایک بار 1960میں۔ تین بار ہم لوگوں نے بڑے بڑے لینڈاسٹرگل کیے۔ اب بھی اگر آپ جائیںگے مدھوبنی میں تو وہاں پر پارٹی آفس ہے اس کے سامنے یا بیگوسرائے میں، تقریباً 100-100 شہیدوں کے نام آپ کو لکھے مل جائیںگے۔ اچھا وہ زمین ان کے قبضے میں ابھی بھی ہے۔ جو زمین ہم لوگوں نے تقسیم کی۔ سب چھین نہیں سکے۔ لالو نے دو بار وعدہ کیا کہ جن کے پاس زمین ہے، وہی اس کے مالک ہوںگے، لیکن ابھی تک کوئی پرچا نہیں ملا۔ پرچا نہ ملنے کی وجہ سے قبضے میں ہوتے ہوئے بھی زمین ان کی نہیں ہے۔ کسانوں کو کریڈٹ ملنے کے لیے زمین ملنا ضروری ہے، اچھا پھر لالو نے کیا کیا۔ پرچے بانٹ دیے، جن کو پرچے بانٹے، ان کی زمین کہاں ہے کوئی نہیں جانتا۔ تو پرچے وداؤٹ زمین اور زمین وداؤٹ پرچا دونوں۔ تو ہم نے کہا کہ یہ تیرلڑائی تو بھائی کر لو کہ زمین کسی کے قبضے میں ہے اور پرچا دیا ہے دوسرے کو۔
س: ایک ایشو اور جو اس بار انتخابات میں وہاں آیا ہے، حالانکہ وہ لیفٹ سے بالکل الگ ہے، لیکن اس پر آپ کا رد عمل ضرور چاہیں گے کہ یہ جو ۔۔۔۔۔ پولیٹکل پارٹیز؟
ج: اس میں کچھ مت پوچھئے۔ اس میں پورا الزام انہیں پر نہیں رکھتا۔ سب سے بڑی سیاست تو کانگریس کی ہے اور پوری راہل کی، جو نوجوانوں سے اپیل کرتےہیں، میں پوچھتا ہوں کن نوجوانوں کو؟ وہ سب جن کے باپ ایم پی، ایم ایل اے اوروزیر رہ چکے ہیں، ان کے لڑکے اور لڑکیاں، بھتیجے اور بھانجے وہ ہی اگلے جنریشن کے ہیں اور بہار کے اندر لالو نے کتنے بانٹے یہ تو میں نہیں جانتا۔ لالو کے بیٹے کو جانشین اعلان کردیا گیا۔ ان پارٹیوں کی نہ سیاست ہے، نہ پروگرام ہے اور نہ آئیڈیالوجی۔ تو یہ بتائیے کہ لوگوں کے درمیان کیا رپورٹ جائے گی۔
س: ایک اور ایشو ہے جو بہار کے لیے خاص ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہر پارٹی نمبر بڑھا رہی ہے کہ بڑے سے بڑے مجرم کوٹکٹ دیں۔ وہ بھی کوئی چھوٹے موٹے مجرم نہیں بلکہ جو لوٹ، عصمت دری وغیرہ بڑے بڑے جرائم میں ملوث ہیں؟
ج: وہ تو تصویر واضح ہوگئی ہے کہ کس کے کتنے امیدوار ایسے ہیں اور جناب راہل جی نے اس بات کا جواب نہیں دیا کہ لولی آنند اور پپو یادو کو ٹکٹ کیسے؟ کون سے اتھیکس میں ایسا ہے ذرا بتائیے۔ بی جے پی والے بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں جتنی کہ کانگریس۔ ’دی آر آن لی فائٹنگ فار پاور‘ اور اگر پاور میں رہ کے ریٹائر ہونے کا وقت آگیا ہے تو بیٹے کو اپنی جگہ دے دیتے ہیں، یہی سیاست کا طریقہ ہے۔
س:اس بار لیفٹ الائنس کو کتنی سیٹیں ملیں گی؟
ج: میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتاہوں۔ جو بھی لڑ رہے ہیں، جیتنے کے لیے لڑ رہے ہیں، لیکن انتخاب میں تو دو ہی متبادل ہیں، تیسرا تو ہے ہی نہیں، یا تو آپ جیتیںگے یا ہاریںگے۔ ہر کوئی کوشش کرے گا۔ ’منی پلیز اے بگ رول‘ اس معاملے میں ہم بہت کمزور رہے ہیں۔
س: آپ اس نسل  کے لیڈر ہیں جو کچھ آپ کہتے ہیں، لوگ اس کو سنتے ہیں، آپ ایک طرح سے گائڈنگ لائٹ ہیں، جہاں سیاست صرف اور صرف اخلاقیات کے اصولوں  پر منحصر ہے، آپ لوگوں کی آئیڈیالوجی ایسی ہے جس کی ہم مثال دیتے ہیں؟
ج: میں پہلی دفعہ 1957میں منتخب ہو کر آیا۔ میرا پورا خرچہ ایک ہزار آٹھ سوروپے تھا۔ اور 1967اور1972میں میرا مکمل خرچ ایک لاکھ دو ہزار روپے تھا۔ پر اب آپ اتنی کم رقم کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ کروڑ سے نیچے کا سوال ہی نہیں ہے۔ اب ہم کروڑ روپے کہاں سے لائیں؟
س: بابری مسجد معاملے میں آپ کے حساب سے مسلمانوں کو کیا قدم اٹھانا چاہئے؟
ج: دیکھیے یہ جو فیصلہ ہے، مسلمان اس سے سب سے زیادہ مایوس ہیں۔ دونوں فریق میں کسی کے پاس اویڈنس نہیں ہے۔ بس فیتھ۔ آپ کیسے کہہ رہے ہیں کہ یہ ان کی جگہ ہے، کیوں کہ ہندؤں کا ماننا ہے کہ رام وہیں پیدا ہوئے تھے۔ یہ جو جناب کروناندھی ہیں، یہ کبھی کبھی بڑے پتے کی بات کہتے ہیں۔ ان کا کہناہے کہ پوری گرویڈین کمیونٹی کے جو سب سے بڑے حکمراں رہے ہیں، وہ راج راجا رہے ہیں۔وہ پانچ چھ سال پہلے تھے ۔ وہ کہاں پیدا ہوئے کسی کو اب تک نہیں معلوم۔ رام کہاں پیدا ہوئے، یہ سب کو معلوم پڑ گیا۔ بھروسہ پر صرف اگر آپ فیصلہ کرو تو کیا ہوگا۔ اس لیے میں کہتا ہوں، ہندو ہو یا مسلمان، دونوں کمیونٹی کی سمجھ داری کی، میں داد دیتا ہوں کہ کوئی میدان میں نہیں اترا۔ ایک ہی مثبت بات ہے کہ یہ پنچایت کی طرح کا فیصلہ ہے۔ بی پی راؤ کا بھی یہی خیال ہے، یہی خیال تاریخ دانوں کا بھی ہے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ تھوڑا تھوڑا کر کے لے لو۔ تم بھی تھوڑا اور تم بھی۔ حالانکہ اٹ از ناٹ بیسٹ آن اینی ایویڈنس۔ ان کو دو حصہ اور ان کو ایک حصہ کیوں، اس کا بھی کوئی منصفانہ جواز نہیںہے، لیکن لوگوں نے سمجھ داری دکھائی اور کسی طرح لوگوں تک یہ بات پہنچی کہ جو طریقہ کار ہے وہ یہی ہے۔ آپسی سمجھوتے سے تو نتیجے تک پہنچ نہیں سکتے اور آپسی سمجھوتہ سے یہ حل ہوگا؟ اس پر بھی میرا یقین نہیں ہے، کیوں کہ اب انہوں نے حدبندی کردی ہے، تم بھی تھوڑا لے لو، تم بھی، اور میرا ماننا ہے کہ اب جب سب سپریم کورٹ میں جانے کی بات کر رہے ہیں تو وہاں یقین اور فیتھ پر مبنی فیصلے سے بچا جائے، لیکن سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ جو ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا ہے ’دیٹ پرووائڈس اے بیسک فار اے سولیوشن‘ ہوسکتا ہے، ’دی مے رٹین۔ دی مے ناٹ ٹرائڈ ٹو ڈسٹرب اٹ۔‘
س:بنگال میں ممتابنرجی جس طریقے سے آگے جارہی ہیں اور جس طرح  سے آپ نے سنگور وغیرہ کا بھی ذکر کیا اور جس طرح سے سی پی ایم کے خلاف آپ لوگوں نے خوب تنقید کی۔ آپ کو نہیں لگتا کہ سی پی ایم کی پالیسیوں یا ان کے مسائل کی وجہ سے آپ لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔
ج: ہم فرنٹ میں ہیں تو فرنٹ میں رہیںگے۔ ابھی جو ممتا بنرجی کا حملہ ہے، وہ سی پی ایم کے خلاف ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے ہم آپس میں دراڑ نہیں پڑنے دیںگے۔ ایک زمانے میں ہم کریڈٹ کے حصہ دار رہے ہیں تو تھوڑا بہت جو اٹیک ہے، اس کا بھی سامنا کرنے میں حصہ دار رہیںگے۔ اس سیاسی دباؤ کو جھیلنا چاہیے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here