نتیش جی گڈ گورننس کہاں ہے

Share Article

سروج سنگھ

 بہار کو آگے بڑھانے اور سنوارنے کا خواب صرف نتیش حکومت نے ہی نہیں دیکھا ہے، بلکہ یہ خواب ہر ایک بہاری کے دل میں گزشتہ چھ سالوں سے پل رہا ہے۔ انصاف کی پٹری پر تیزی سے ترقی کی دوڑتی گاڑی دیکھنا ایک ایسا خواب ہے، جسے ہر بہاری سجائے ہوا ہے اور چاہتا ہے کہ یہ جتنی جلدی ہو، حقیقت کا لبادہ پہن عام لوگوں کو دکھائی دینے لگے۔

جب راجدھانی پٹنہ میں لوگوں کو پینے کا صاف پانی نہیں مل پا رہا ہے تو پورے صوبہ کی بات کرنا ہی بیکار ہے۔ بجلی اور صنعت کے معاملے میں صوبائی حکومت مرکز کی طرف سے بھید بھاؤ کا رونا رو رہی ہے۔ مایوس کرنے والی بات تو یہ ہے کہ پہلی مدت کار کی دو حصولیابیوں ، سڑکوں اور قانون اور نظم و نسق کی چمک پھیکی پڑنے لگی ہے۔ خواتین کی خودمختاری کی بات تو کی جا رہی ہے، لیکن ان کے اغوا اور قتل کے معاملے کافی بڑھ گئے ہیں۔ نکسلیوں کا دبدبہ لگاتار بڑھ رہا ہے اور یہ بات سامنے آ گئی ہے کہ صوبہ میں ترقی کا پہیہ نکسلیوں کے ذریعے ہری جھنڈی دکھائے بغیر آگے بڑھنا ناممکن ہے۔

لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بدعنوانی کی زنجیریں ترقی کی گاڑی کا پہیہ پورے بہار میں روک رہی ہیں۔ بغیر امتحان کے بحال زیادہ تر ٹیچر ایپل کی اسپیلنگ طالب علموں کو بتاتے ہیں –  اے، سٹّل سٹّل پی، ایل اور ای۔ دماغی بخار سے دو سو سے زیادہ بچے مظفرپور اور گیا میں مر جاتے ہیں، لیکن سرکار سنجیدہ نہیں ہو پاتی۔ جب راجدھانی پٹنہ میں لوگوں کو پینے کا صاف پانی نہیں مل پا رہا ہے تو پورے صوبہ کی بات کرنا ہی بیکار ہے۔ بجلی اور صنعت کے معاملے میں صوبائی حکومت مرکز کی طرف سے بھید بھاؤ کا رونا رو رہی ہے۔ مایوس کرنے والی بات تو یہ ہے کہ پہلی مدت کار کی دو حصولیابیوں ، سڑکوں اور قانون اور نظم و نسق کی چمک پھیکی پڑنے لگی ہے۔ خواتین کی خودمختاری کی بات تو کی جا رہی ہے، لیکن ان کے اغوا اور قتل کے معاملے کافی بڑھ گئے ہیں۔ نکسلیوں کا دبدبہ لگاتار بڑھ رہا ہے اور یہ بات سامنے آ گئی ہے کہ صوبہ میں ترقی کا پہیہ نکسلیوں کے ذریعے ہری جھنڈی دکھائے بغیر آگے بڑھنا ناممکن ہے۔
شروعات خواتین کی خود مختاری کے بڑے بڑے دعووں سے کرتے ہیں۔ سرکار کہتی ہے کہ پنچایتوں میں ریزرویشن دے کر خواتین کو آگے آنے کا موقع دیا گیا۔ اس کے علاوہ خواتین کی فلاح کے لیے بہت سارے پروگرام چلائے گئے ہیں، لیکن خواتین پر ہوئے مظالم کے سرکاری اعداد و شمار پر ہی نظر ڈالی جائے تو صحیح تصویر سامنے آ جائے گی۔ حق اطلاع کے تحت شیو پرکاش رائے کے ذریعے مانگی گئی تفصیلات میں کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ نے بتایا کہ صوبہ میں عورتوں کے اغوا اور جہیز کے نام پر قتل کے معاملے کافی بڑھ گئے ہیں۔ 2005 میں خواتین کے اغوا کے 854 اور جہیز کے نام پر قتل کے 1044 معاملے درج کیے گئے۔ اسی طرح 2006 میں اغوا کے 925 اور جہیز کے نام پر قتل کے 1006، 2007 میں اغوا کے 1184 اور جہیز کے نام پر قتل کے 1091، 2008 میں اغوا کے 1494 اور جہیز کے نام پر قتل کے 1233، 2009 میں اغوا کے 1997 اور جہیز کے نام پر قتل کے 1188، 2010 میں اغوا کے 2552 اور جہیز کے نام پر قتل کے 1307 معاملے اور 2011 کے اگست ماہ تک اغوا کے 1856 اور جہیز کے نام پر قتل کے 953 معاملے درج ہو چکے ہیں۔ یہ تو سرکاری اعداد و شمار ہیں۔ صوبہ کے لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہاں آدھے سے زیادہ معاملے تو درج ہوتے ہی نہیں ہیں۔ خاص کر خواتین سے جڑے معاملے تو اور بھی درج نہیں ہو پاتے ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی تازہ رپورٹ (ہندوستان میں جرائم – 2010) کے مطابق بھی بہار میں اغوا کی وارداتیں بڑھی ہیں۔ نکسلیوں کا دبدبہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ بنا لیوی دیے تعمیراتی کام شروع کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ابھی حال ہی میں جموئی ضلع میں 15 مزدوروں کو نکسلی اس لیے اٹھا لے گئے کہ انہیں اس کام کی لیوی نہیں ملی تھی۔ مزدوروں کو چھڑانے کی انتظامیہ کی ساری کوشش بیکار ثابت ہوئی اور لیوی پر سمجھوتہ ہوجانے کے بعد ہی مزدوروں کو چھوڑا گیا۔ بہار کے 20 سے زیادہ ضلعے نکسل متاثرہ ہو چکے ہیں۔ نکسلیوں کے بند کے دوران کئی ضلعوں میں کرفیو جیسا ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔ عام آدمی کے لیے ضروری سہولیات کی بات کریں تو سڑک، بجلی، پانی اور صحت کو لے کر حالت مسکرانے والی نہیں ہے۔ سرکار کے لاکھ دعووں کے باوجود پبلک ویلفیئر کی کئی اسکیموں میں متعدد سوراخ ہیں۔
گلوبلائزیشن کے دور میں آج بہار کا گیا- بودھ گیا شہر غیر ملکیوں کے لیے ایک اہم مذہبی سیاحتی مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے، چاہے وہ ہندو مذہب کے ماننے والے ہوں یا بودھ مذہب کے۔ سناتن دھرم کی مذہبی کتابوں کے مطابق، پوری دنیا میں گیا ہی واحد ایسا مقام ہے، جہاں پتروں (آباء و اجداد) کو موکش شراد یا پنڈ دان کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک و بیرونِ ملک سے سناتن دھرم کے ماننے والے سال بھر گیا آتے ہیں۔ اسی طرح پوری دنیا کے بودھ مذہب کے ماننے والے گوتم بدھ کی تپو بھومی اور گیان بھومی ہونے کے سبب بودھ گیا آتے ہیں۔ ان سب کے باوجود ان شہروں کی حالت بہت اچھی نہیں ہے۔ شہری سہولیات کے نام پر صرف کچھ سڑکیں ٹھیک ٹھاک نظر آتی ہیں۔ بہت ساری سڑکیں خستہ حالت میں ہیں۔ شہر کے سیوریج سسٹم اور بجلی سپلائی کی حالت بہت خستہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گیا شہر کا ڈرینیج سسٹم جتنا اچھا تھا، اتنا کسی شہر کا نہیں تھا۔ انگریز انجینئروں نے صاحب گنج کے نام سے جب گیا شہر بسایا تھا تو پوری تیاری کے ساتھ شہر کی متعدد اسکیمیں بنائی گئی تھیں۔ ڈرینیج سسٹم، پینے کے پانی کی فراہمی، صفائی کا انتظام بہت اچھا تھا۔ پورے شہر میں ٹرام کی طرح کوڑے کچرے کے لیے گاڑیاں چلا کرتی تھیں، لوگ ان میں ہی کوڑا کچرا پھینکا کرتے تھے اور شہر خوبصورت اور صاف نظر آتا تھا، لیکن آج گیا میں میونسپل کارپوریشن ہونے کے بعد بھی سارے سسٹم فیل ہو گئے ہیں۔ بغیر پلاننگ کے روز بن  رہے مکانوں، کالونیوں میں ڈرینیج سسٹم کی کمی، پینے کے پانی کی عام لوگوں کے لیے فراہمی میں کمی اور بجلی سپلائی نہ ہونے کے چلتے پورا شہر حیران و پریشان نظر آتا ہے۔ گیا میونسپل کارپوریشن کے سرگرم رہنے کے باوجود شہر کے سبھی 53 وارڈوں کے زیادہ تر چھوٹے بڑے نالے جام رہتے ہیں، جس سے کئی محلوں میں نالے کا پانی سڑکوں اور گلیوں میں بھرا رہتا ہے۔ مگدھ کے دیگر شہروں اورنگ آباد، جہان آباد، نوادہ، شیر گھاٹی، ٹکاری، داؤد نگر، اَروَل وغیرہ شہروں میں میونسپل کونسل یا نگر پنچایت ہونے کے باوجود حالت نہایت خستہ ہے۔ پینے کے پانی کا انتظام آزادی کے بعد بھی ٹھیک نہیں ہو پایا ہے۔ جو تھوڑا بہت کام ہوا، وہ ضرورت کے حساب سے اونٹ کے منھ میں زیرا کے برابر ہے۔
بجلی کی فراہمی میں بھی کوئی خاص بہتری نہیں آئی ہے۔ متعدد پروگراموں کے تحت پول لگائے گئے، تار کھینچے گئے، لیکن حالت ویسی کی ویسی ہے۔ شہروں میں ہر پول پر بجلی کے تاروں کا جال پھیل گیا ہے، جسے بدلنے یا ٹھیک کرنے کی کوئی کوشش آج تک نہیں کی گئی۔ بجلی سپلائی کی حالت بہت خراب ہے۔ گیا شہر کو ہر روز 50 میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہے، لیکن سیاحت کے اس موسم میں بھی صرف 25 میگاواٹ بجلی کی سپلائی ہو پا رہی ہے۔ گیا – بودھ گیا میں بجلی مل بھی رہی ہے، مگدھ سب ڈویژن کے دیگر شہروں کی حالت تو کہنے کے لائق نہیں ہے۔ بجلی گھنٹے دو گھنٹے ٹھہر جائے تو لوگ بجلی محکمہ کو نہیں، بھگوان کا شکریہ ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ نام نہاد گڈ گورننس میں مگدھ سب ڈویژن کے لوگوں کو شہری سہولیات کا فائدہ نہیں مل پا رہا ہے۔ سرکاری محکمے اور افسران چاہے جتنی لمبی چوڑی باتیں کرلیں، لیکن زمین پر کچھ ٹھوس نظر نہیں آتا۔ شیخ پورہ ضلع کی کئی اہم سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں اور کئی بننے کے ساتھ ہی ٹوٹ گئیں۔ وزیر اعظم سڑک اسکیم کے تحت بننے والی سڑکوں کا حال اور بھی خراب ہے۔ شیخ پورہ – میہوس روڈ کی تعمیر کا کام گزشتہ چار سالوں سے ادھورا پڑا ہے، یہاں صرف پتھر بچھاکر چھوڑ دیا گیا۔ ضلع کی پہچان سامس وشنو دھام ہوتے ہوئے نالندہ کو جوڑنے والی نیم دار گنج – کون سڑک کا بھی یہی حال ہے۔ گزشتہ چار سالوں میں اس روڈ پر محض گٹی بچھانے کا کام ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ کو بیلاب گاؤں میں سیوا یاترا کے تحت کھانا کھانا تھا۔ ببھن بیگھا – خلیل چک روڈ بے حد خستہ ہونے کے سبب انہیں سامس ہوتے ہوئے دس کلومیٹر گھوم کر وہاں جانا پڑا۔ وہیں نالندہ سے شیخ پورہ ہوتے ہوئے پٹنہ ضلع کے مکامہ تک جانے والا این ایچ – 82 بھی گزشتہ پانچ سالوں سے زیر تعمیر ہے۔ سیمانچل کی حالت اس سے زیادہ خراب ہے۔ ارریہ، کٹیہار اور کشن گنج میں صرف چھ سے آٹھ گھنٹے بجلی مل رہی ہے۔
محکمہ صحت تو لگتا ہے اپنی مرضی سے چل رہا ہے۔ پورنیہ کے سول سرجن پر تمام الزامات ہیں، لیکن وہ شان سے نوکری کر رہے ہیں۔ کشن گنج اور ارریہ کے ضلع اسپتالوں میں سبھی ضروری دوائیں دستیاب نہیں ہیں۔ جو دستیاب ہیں، انہیں حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو سولہ جتن کرنے پڑتے ہیں۔ سہرسہ اس برسات میں بھی ٹاپو بنا، کیوں کہ پل اور سڑکیں ٹوٹ جانے کے سبب وہ پٹنہ سے صرف ریلوے کے ذریعے ہی کئی دنوں تک جڑا رہا۔ مونگیر اور بھاگلپور کی بات کریں تو بجلی اور پانی کو لے کر یہاں وبال زیادہ ہے۔ مانگ کے مقابلے کم سپلائی نے یہاں لوگوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ عوام نے کئی بار سڑکوں پر اتر کر احتجاج کیا۔ سرکار کے لاکھ دعووں کے باوجود یہاں پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں ہے۔ جمال پور میں کئی نئی سڑکوں کی حالت خراب ہے۔ سارن سب ڈویژن میں نکسلیوں کے بڑھتے قدموں نے نئی مصیبت پیدا کر دی ہے۔ سرکار دعویٰ کرتی ہے کہ صوبہ انصاف کے ساتھ ترقی کر رہا ہے۔ سبھی چاہتے ہیں کہ ایسا ہو، لیکن صرف کہنے سے کام چلنے والا نہیں ہے۔g

کانٹی بجلی گھر کا مستقبل بھی اندھیرے میں
بجلی کو انتخابی ایشو بنانے کے باوجود سرکار بجلی کی پیداوار کو لے کر بہت سنجیدہ نہیں دکھائی دیتی۔ کبھی وہ وسائل کی کمی کا رونا روتی ہے تو کبھی مرکز کی لاپروائی کا۔ کانٹی اور برونی تھرمل کو پھر سے شروع کرانے کی ساری کوششیں ابھی تک صرف کاغذوں میں دکھائی دیتی ہیں۔ مظفرپور کے کانٹی میں نیا بجلی گھر بنانے کا منصوبہ گزشتہ بیس سالوں میں پورا نہیں ہو پایا۔اس پروجیکٹ کو مرکزی حکومت کی ہری جھنڈی 1990 میں ہی مل گئی تھی اور اگلے ایک سال کے اندر منظوری کی تمام کارروائیاں بھی پوری کر لی گئیں۔ باوجود اس کے دو دہائی گزر گئی، پروجیکٹ زمینی حقیقت نہ بن سکا، لیکن کوشش جاری ہے۔ پروجیکٹ زمینی حقیقت کب بنے گا، کوئی نہیں جانتا۔ بہار بجلی بورڈ کی نگرانی میں کانٹی میں پہلے مرحلہ کے تحت 250 میگاواٹ کا بجلی گھر بننا تھا اور دوسرے مرحلہ کے تحت توسیع کرتے ہوئے اس کی استعداد 500 میگاواٹ کی جانی تھی۔ اس کے لیے 152 کروڑ روپے کی اسکیم منظور کی گئی اور 10 ویں اور 11 ویں پنج سالہ منصوبہ میں اسے تیار کر لینا تھا۔ صوبائی حکومت سے باقاعدہ منظوری ملنے کے بعد 500 میگاواٹ کی صلاحیت والے اس بجلی گھر کو 1990 میں وزارتِ ماحولیات اور 1991 میں نیشنل ایئرپورٹ اتھارٹی کلیئرنس مل گیا۔ اسی سال ایس پی سی بی سے این او سی مل گیا۔ زمین او رپانی کا بھی انتظام ہو گیا تھا۔ سنٹرل الیکٹریسٹی اتھارٹی سے مئی 1993 میں ٹیکنو ایکانومک کلیئرنس ملنے کے بعد 1995 میں پلاننگ کمیشن نے بھی پروجیکٹ کو ہری جھنڈی دے دی۔ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بجلی گھر بنانے کی تمام کوششیں کاغذ سے باہر نہیں آ پائیں۔ ریگولر مونیٹرنگ اور پیسے کی کمی کے سبب پروجیکٹ وہیں اٹکا رہا۔ اس دیری کے سبب صوبہ بجلی کے بحران کا شکار رہا، وہیں اب اچانک اسے 110 میگاواٹ کا جھٹکا لگ گیا ہے۔ ایئرپورٹ اتھارٹی کے اعتراض کے بعد کانٹی بجلی گھر کی صلاحیت میں 110 میگاواٹ کی کٹوتی ہو گئی ہے۔ ایئرپورٹ اتھارٹی نے 18 سالوں کے بعد 16 جولائی، 2008 کو اس کی چمنی کی اونچائی کو لے کر اعتراض جتایا اور اسے کم کرنے کے لیے کہا۔ لہٰذا سیکورٹی کے مد نظر چمنی کی اونچائی گھٹائی گئی، جس سے بجلی گھر کی استعداد بھی گھٹانی پڑی اور اس میں 55-55 میگاواٹ کی کمی ہو گئی۔ اب وہاں 195-195 میگاواٹ کی دو یونٹوں کی تعمیر ہوگی۔ حالانکہ نتیش سرکار نے وہاں اتنی ہی استعداد والی تیسری یونٹ بھی بنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس بجلی گھر کا بجٹ تین کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔

بند چینی ملوں کا تالا کب کھلے گا
چینی صنعت کے محاذ پر صوبائی حکومت اب تک کچھ خاص نہیں کر پائی۔ بند چینی ملوں کو دوبارہ کھولنے کے لیے پرائیویٹ کمپنیوں کے 32 آفر آئے ہیں، جن پر غور کیا جا رہا ہے۔ یہ ملیں گزشتہ 15 سالوں سے بند پڑی ہیں۔ اس سمت میں حکومت کی تین کوششیں بے نتیجہ رہی ہیں۔ محکمہ صنعت کے چیف سکریٹری سی کے مشرا نے بتایا کہ چوتھی بڈنگ میں تقریباً 32 کمپنیوں کے آفر آئے ہیں۔ جن بند ملوں کے لیے ٹنڈر منگائے گئے تھے، ان میں بن منکھی، فتوحہ، وارسلی گنج، گورارو، گورول، سیوان، نیو ساون، سمستی پور اور لوہٹ وغیرہ شامل ہیں۔ اسٹیٹ چینی مل کارپوریشن کی یہ ملیں 1994-95 سے بند پڑی ہیں۔ نتیش سرکار نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ان ملوں کو دوبارہ شروع کرنے کی سمت میں پہل کرتے ہوئے انہیں نجی ہاتھوں کو سونپنے کا فیصلہ لیا۔ تین راؤنڈ کے ٹنڈر کے بعد صرف چھ ملوں کے لیے پرائیویٹ کمپنیاں سامنے آئیں، جن میں لوریا، سگولی، موتی پور، ریام، بہٹہ اور سرکاری چینی ملیں شامل ہیں۔ ایچ پی سی ایل، انڈیا پوٹاش لمیٹڈ، ترہت انڈسٹریز اور پرسٹان نامی کمپنیوں کو مذکورہ ملیں لیز کی بنیاد پر سونپی گئی ہیں۔ بقیہ ملوں کے لیے تین راؤنڈ کی بڈنگ میں کامیابی نہ ملنے کے بعد گنا صنعت محکمہ نے حال میں چوتھے راؤنڈ کا ٹنڈر مانگا ہے۔ اس بار حالت بدلی ہوئی نظر آئی۔ پرائیویٹ کمپنیوں نے کافی دلچسپی دکھائی اور ان کے 32 آفر آئے۔ دیکھنا ہے کہ بند چینی ملوں کا تالا کھل پاتا ہے یا نہیں۔
انجینئرنگ کالج: ٹیچر کم، لیب نہیں، ہاسٹل ندارد
طالب  علموں کو تکنیکی تعلیم بہار میں ہی مل سکے، اس کے لیے مالی سال 2009-10 میں چار نئے شہروں میں انجینئرنگ کالج کھولے گئے۔ فی الوقت چھ انجینئرنگ کالج ہیں، لیکن ان میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ سرکار کا دعویٰ ہے کہ انجینئرنگ کالجوں میں بنیادی سہولیات بحال کرنے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مظفرپور، بھاگلپور، نالندہ، موتیہاری، گیا اور دربھنگہ میں صوبائی حکومت کے انجینئرنگ کالج ہیں۔ سبھی کو ملا کر ایک سال میں 1,390 طلباء کا داخلہ مختلف شعبوں (ٹریڈ) میں ہوتا ہے۔ چار سالہ نصاب کے تحت تقریباً پانچ ہزار طالب علم ان انجینئرنگ کالجوں میں پڑھائی کر رہے ہیں۔ طلباء کی شکایت ہے کہ نہ پوری تعداد میں ٹیچر ہیں اور نہ لیب۔ ہاسٹل نہ ہونے کے سبب طالب علموں کو کالج آنے جانے میں پریشانی ہوتی ہے۔ ذرائع کی مانیں تو جس وقت کالج کھولے گئے، اس وقت عمارتوں کی تعمیر بھی شروع نہیں ہوئی تھی۔ متبادل انتظام کے تحت چل رہے ان کالجوں میں پڑھائی کر رہے طالب علموں کی حالت اچھی نہیں ہے۔ طلباء کا ایک وفد وزیر اعلیٰ، وزیر تعلیم اور سائنس و ٹکنالوجی کے وزیر سے مل کر اپنی پریشانیاں بیان کر چکا ہے، پر کوئی دھیان نہیں دیا گیا۔ محکمہ جاتی آفیسر اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ کالجوں میں ریگولر ٹیچروں کی تعداد 60 سے بھی کم ہے، لیکن ٹھیکے پر 300 سے زیادہ ٹیچروں کی بحالی کی گئی ہے۔ وزیٹنگ پروفیسر بھی وقت وقت پر بلائے جاتے ہیں۔ تعلیم کی سطح کو لے کر بھی طلباء کو شکایت ہے۔ محکمہ جاتی آفیسر اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ 15 ہزار روپے کے اعزازیہ کے سبب بہتر ٹیچروں کو کھوجنے میں پریشانی ہو رہی ہے۔ اعزازیہ کو 25 ہزار روپے کرنے کی تجویز کابینہ کو بھیجی گئی ہے۔ وزیٹنگ پروفیسر کو 400 روپے فی کلاس دیے جاتے ہیں، جسے بڑھا کر 600 روپے کرنے کی تجویز کابینہ کو بھیجی گئی ہے۔ وزیٹنگ پروفیسروں کو کالج آنے جانے کا کرایہ دینے کی بھی تجویز ہے۔ انہیں 25 کلاس لینے کی اجازت ہوگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *