نتیش کے نقش قدم پر شیوراج

Share Article

دلیپ چیرین
بدعنوانی  کے خلاف نتیش کمار کی لڑائی کو چاروں جانب سے تعریفیں ملیں۔ جب نتیش کی حکومت نے 2009میں ایک بل پاس کرکے داغی نوکرشاہوں کی ملکیت ضبط کرنے کا انتظام کیا۔تب اس قانون نے نہ صرف سرخیاں بٹوریں بلکہ اسے جم کر تعریف بھی ملی۔نتیش سمیت سب نے یہ مانا کہ اس قانون نے انہیں دوبارہ وزیر اعلیٰ بنانے میں مدد کی۔اب مدھیہ پردیش کی حکومت نے بھی اسی طرح کا ایک بل پاس کیا ہے۔ یہ بل ان بابوئوں کی ملکیت کو ضبط کرنے کی طاقت دیتا ہے، جنھوں نے غیر قانونی طریقے سے بدعنوانی کے ذریعہ پیسہ کمایا ہے۔نیا اسپیشل کورٹ بل2011یہ یقینی بنائے گا کہ  پٹواری سے لیکر چیف سکریٹری تک کے خلاف بدعنوانی کے کسی معاملے کی سنوائی اسپیشل کورٹ میں جلد سے جلد ہو۔بدعنوانی کے بڑھتے معاملات پر ریاستی حکومت کی تشویش جائز ہے۔گزشتہ کچھ وقت میں بڑے پیمانے پرنوکرشاہوں کے ذریعہ بدعنوانی میں شامل ہونے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔حال میں سینئر آئی اے ایس افسر اروند جوشی اور ان کی اہلیہ ٹینو کو غیر قانونی طریقے سے 350کروڑ روپے کی کمائی کے لیے گرفتار کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ کئی بڑے دیگر بابوئوں سے وابستہ ہائی پروفائل معاملے(بدعنوانی) کے بھی سامنے آئے۔ہم تو یہی امید کر سکتے ہیں کہ شیو راج سنگھ چوہان کی یہ پہل بھی اسی طرح رنگ لائے، جیسے بہار میں نتیش کمار کی پہل رنگ لائی۔
بینکنگ سیکٹر میں سربراہوں کا فقدان
گزشتہ 9ماہ سے پنجاب اینڈ سندھ بینک کے سی ایم ڈی کا عہدہ خالی ہے، لیکن اب تک اس مسئلے کو لیکرپی ایم او اور وزارت مالیات کے درمیان جاری تنازعہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اب تک یہ دونوں مل کر یہ طے نہیں کر پائے ہیں کہ چلی آ رہی روایت کے مطابق اس عہدے پر ایک سکھ کو بٹھایا جائے یا نہیں، لیکن صرف یہی ایک قدم نہیں ہے، جسے لیکر اتنی سرگرمی دکھائی جا رہی ہے۔ابھی بھی بینکنگ سیکٹر کے ایسے کئی ہائی پروفائل عہدے بھرے جانے باقی ہیں، لیکن فائل ہے کہ ایک وزارت سے دوسری وزارت کے ہی چکر کاٹ رہی ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ سڈبی کے نئے سی ایم ڈی سشیل منہوت کا نام طے ہونے میں9ماہ سے زیادہ کا وقت لگا۔ نابارڈ میں بھی اعلیٰ عہدے پر تقرری کو لیکر گزشتہ سال سے چلا آرہا انٹرویو ابھی بھی جاری ہے، لیکن حکومت کسی فائنل نام پر نہیں پہنچ سکی ہے۔آئی ڈی بی آئی کے ڈپٹی ایم ڈی کی تقرری کو لیکربھی یہی صورتحال ہے۔اس عہدے کے لیے نومبر2009میںانٹرویو ہوئے تھے۔صرف اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے چیئرمین کی تقرری کو لیکر حکومت نے جلد بازی دکھائی تھی۔ او پی بھٹ کے ریٹائر ہونے کے فوراً بعد ہی اس عہدے پر پردیپ چودھری کو مقرر کر دیا گیا تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *