نتیش حکومت پر مسلمانوں کو انصاف دلانے کا دبائو

Share Article

اشرف استھانوی
برمیشور مکھیا کا قتل اور اس کی سی بی آئی جانچ کی سفارش ایسے وقت میں ہوئی جب فاربس گنج پولیس فائرنگ کی پہلی برسی منائی جا رہی تھی۔ نتیش حکومت نے اعلیٰ ذات کی نمائندگی کرنے والی ایک انتہا پسند تنظیم کے سرغنہ کے قتل کے معاملے کی سی بی آئی جانچ کی سفارش اپنی حلیف بھارتیہ جنتا پارٹی اور مقتول برمیشور مکھیا کے اہل خاندان کے دباؤ میں آکر کردی۔حالاں کہ برمیشور مکھیا پر درجنوں قتل عام اور سینکڑوں افراد کے بہیمانہ قتل کے الزامات تھے۔ اور اس سلسلے میں 22 مقدمات بہار کی مختلف عدالتوں میں چل رہے تھے۔ یہ اور بات ہے کہ نتیش حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد گذشتہ ساڑھے چھ برسوں کے دوران مکھیا کے خلاف مقدمات کی صحیح پیروی نہ ہونے اور سابقہ لالو۔ رابڑی حکومت کے ذریعہ مکھیا کے خلاف لگائے گئے الزامات کی جانچ کے لئے تشکیل دئے گئے امیر داس کمیشن کو نتیش حکومت میں تحلیل کر دئیے جانے کے سبب مکھیا کے خلاف استغاثہ کی کارروائی کمزور پڑ گئی تھی او راسی کا نتیجہ تھا کہ 22 میں سے 16 معاملوں میں مکھیا کو الزامات سے بری کر دیا گیا تھا اور بقیہ 6 میں وہ ضمانت پر تھے۔ اور اس بات کا غالب امکان تھا کہ حکومت کے مخلصانہ رویہ کے طفیل وہ بقیہ مقدمات میں بھی بری کر دئیے جاتے لیکن بہار کی مختلف عدالتوں میں تقریباً دور درجن مقدمات اور لاکھوں کروڑوں عوام کے دلوں میں اتنی ہی تعداد میں درج شکایتیں انہیں ایک قاتل ثابت کرنے کے لئے کافی تھیں اوراگر ملک کی تمام عدالتیں بھی مکھیا کو تمام مقدمات میں بری کر دیتیں جب بھی بہار کے لاکھوں کروڑوں عوام کی انگلیاں سینکڑوں افراد کے قتل کے سلسلے میں مقتول مکھیا کی طرف کبھی بھی بے ساختہ اٹھنے کے لئے تیار رہتیں۔ اور نتیش حکومت کے مکھیا نواز وزیر گری راج سنگھ جیسے اعلیٰ ذات کے کروڑوں نمائندے مل کر بھی انہیں بے قصور یا گری راج سنگھ کے الفاظ میں انہیں گاندھیائی لیڈر ثابت نہیں کر پاتے۔

ممنوعہ انتہا پسند تنظیم رنویر سینا کے بانی اور آخری سانس تک اس کی سربراہی کرنے والے برمیشور مکھیا کے قتل کی سی بی آئی جانچ کی سفارش میں انتہائی فراخدلی اور جلد بازی کا مظاہرہ کرنے والی بہار کی نتیش حکومت پر فاربس گنج پولیس فائرنگ اور بہار میں بے قصور مسلم نوجوانوں کی غیر قانونی گرفتاری اور گرفتار نوجوان میں سے ایک کی پر اسرار شہادت اور ایک کی لگاتار پر اسرار ہوتی جا رہی مفقود الخبری کی سی بی آئی جانچ کے لئے تیز رفتار اور موثر پہل کرنے کا دباؤ بڑھنے لگا ہے۔

کون نہیں جانتا کہ نکسلیوں کے قہر سے بہار کے اعلیٰ ذات سے تعلق رکھنے والے بڑے کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے مکھیا نے رنویر سینا بنائی تھی اور اس نے نکسلی تشدد کا جواب تشدد سے دے کر قتل و غارت گری کی ایک نئی تاریخ رقم کی تھی۔ انصاف پسند اور امن میں یقین رکھنے والے افراد کی نظر میں ماؤ نوازوں کی پر تشددکاروائیاں ، رنویر سینا کی جوابی قتل و غارت گری اور مکھیا کا بہیمانہ قتل سب کے سب تعزیری اور قابل مواخذہ جرم ہیں۔ اور ان میں سے کسی بھی کارروائی کو درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ضرورکیا جا سکتا ہے کہ اگر برمیشور مکھیا کا قتل سی بی آئی جانچ کا متقاضی ہے تو پھر فاربس گنج پولیس فائرنگ میں شہید ہونے والوں کو انصاف دلانے کے لئے سی بی آئی جانچ کیوں ضروری نہیں سمجھی گئی۔ برمیشور کے قتل کی سی بی آئی جانچ کی سفارش صرف ان کے اہل خاندان کر رہے تھے یا وہ طبقہ کر رہا تھا جس کے مفادات کے تحفظ کے لئے انہوں نے تشدد کا راستہ اپنایا تھا یا قانون اپنے ہاتھ میں لیا تھا۔ جب کہ فاربس گنج پولیس فائرنگ کی جانچ کا مطالبہ پورا بہار کر رہا تھا جس میں ہر فرقہ او رطبقہ اور ہر سیاسی پارٹی کے لوگ(حکمراں اتحاد کو چھوڑ کر) شامل تھے۔فاربس گنج میں جن لوگوں کو اپنی جانیں گنوانی پڑی تھیں ان میں سے کسی کے خلاف بھی دنیا کی کسی بھی عدالت یا مقامی فاربس گنج تھانہ سمیت کسی بھی تھانے میں کوئی معاملہ کبھی درج نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے کبھی تشدد اور قتل و غارت گری کا راستہ نہیں اپنایا تھا۔ انہوں نے قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی غلطی کبھی نہیں کی تھی۔ شہیدوں میں 6 ماہ کا شیر خوار بچہ، ایک حاملہ ماں اور اس کی کوکھ میں سانس لے رہا 7 ماہ کا بچہ بھی شامل تھا۔ اس نوجوان کا بھی کوئی قصور نہیں تھا جس کے چہرے اور سینے کو بوٹوں سے کچل کر ایک خاکی وردی دھاری نے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ اس منظر کو میڈیا کی آنکھ سے سارے ملک کے عوام نے دیکھا تھا کیا یہ معاملہ سی بی آئی جانچ کا متقاضی نہیں تھا۔ لیکن نتیش حکومت نے اپنی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سی بی آئی جانچ کے تمام مطالبات کو مسترد کر دیا اور ایک نام نہاد عدالتی کمیشن قائم کر دیا اور یہ کہہ کر عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ 6 ماہ کے اندر رپورٹ آجائے گی اور رپورٹ میں جو لوگ بھی قصور وار قرار پائیں گے انہیں معقول سزا دی جائے گی۔ لیکن خود حکومت نے ایسا نہیں ہونے دیا اس نے 6 ماہ تک تو کمیشن کو بنیادی سہولیات بھی مہیا نہیں کر ائے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ایک سال بعد بھی اس کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں کوئی رپورٹ آنے یا فاربس گنج کے مظلومین کو انصاف ملنے کی امید ہے۔
اسی دوران انجینئر فصیح محمود کے سعودی عرب سے اٹھائے جانے اور تقریباً دوماہ بعد بھی اس کی کوئی خبر نہ ملنے اور پونے کی یرودا جیل میں دہشت گردی کے الزام میں بند قتیل ظفر صدیقی کے پر اسرار قتل نے ریاست کا ماحول مزید گرم کر دیا ہے۔ بہار میں حکمراں این ڈی اے کو چھوڑ کر تقریباً تمام سیاسی پارٹیاں مسلم رضا کار تنظیمیں حقوق انسانی کے تحفظ کے لئے کام کرنے والوں اور خود قتیل صدیقی، فصیح محمود، کفیل اختر کے اہل خاندان سمیت سارا بہار اس وقت نتیش حکومت سے تقاضا کر رہا ہے کہ بہار کے ایک خاص خطہ کے مسلمانوں کو دہشت گردی کے نام پر ٹارگٹ کرنے کی خفیہ اور دیگر تفتیشی ایجنسیوں کی من مانا کارروائیوں بالخصوص قتیل صدیقی اور فصیح محمود کے معاملے کو بے نقاب کرنے کے لئے ریاستی حکومت اپنی سطح سے مرکزی حکومت سے نہ صرف سی بی آئی جانچ کی سفارش کرے بلکہ اس کے لئے دباؤ بھی ڈالے تاکہ مسلمانوں کو دہشت گردی کے نام پرقربان کرنے کی منصوبہ بند بند سازش کا انکشاف ہو سکے۔ قتیل کے والد ظفیر صدیقی، بھائی حنظلہ ، سیف محمد افروز، آفتاب نے اس قتل کے لئے دہشت گردی مخالف دستہ اے ٹی ایس اور آئی بی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قتیل حالاں کہ بے قصور تھا ۔ پھر بھی اگر آئی بی اور اے ٹی ایس کے لوگ اسے قصور وار مان رہے تھے یا الزام لگا رہے تھے تو انہیں اپنے الزام کو عدالت میں ثابت کرنا چاہئے تھا او ریہ کام عدالت کا تھا کہ وہ اسے سزا دیتی۔ لیکن وہ تو ابھی تک اس کے خلاف فرد جرم تک عائد نہیں کر سکے تھے۔ اور ایسے حالات میں وہ جب کہ انتہائی سیکوریٹی والے یروداجیل کے اسپیشل سیل میں بند تھا اسے کیسے قتل کر دیا گیا۔اس کی جانچ سی بی آئی سے کرائی جائے ۔
قتیل صدیقی کی لاش بذریعہ طیارہ ممبئی سے دہلی ہوتے ہوئے پٹنہ ایئر پورٹ پہنچی تو حکومت کا کوئی نمائندہ وہاں نہیں سیاسی پارٹیوں میں راشٹریہ جنتا دل کے رہنما وہاں ، اہل خاندان کا غم بانٹنے پہنچے تھے۔ پارٹی کے سکریٹری جنرل اور رکن پارلیمنٹ رام کرپال یادو اور بہار قانون ساز کونسل میں حزب اختلاف کے لیڈر پروفیسر غلام غوث نے کہا کہ اتنی ہائی سیکوریٹی والی جیل میں قتیل صدیقی کا قتل کیسے ہو گیا۔ اس کی سی بی آئی جانچ ہونی چاہئے۔ تاکہ اصلیت کا پتہ چل سکے۔ کیوں کہ اس معاملے میں سازش کی بُو آرہی ہے۔ ان رہنماؤں کا یہ بھی کہنا تھا کہ بہار کے دربھنگہ اور مدھوبنی کے گاؤں میں گذشتہ کئی ماہ سے مسلم نوجوانوں کی پر اسرار طریقے سے گرفتاریاں ہو رہی ہیں مگر ریاستی حکومت کو جیسے کچھ پتہ ہی نہیں رہتا اور اب تو انہیں پر اسرار طریقے سے غائب کر دینے یا جیل میں ہلاک کر دینے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ یہ انتہائی خطرناک رجحان ہے۔ حکومت کو اس معاملے میں ضروری پہل کرتے ہوئے مسلمانوں کو انصاف دلانے کے لئے آگے آنا چاہئے۔سی پی آئی کی بہار یونٹ نے بھی قتیل ظفر صدیقی کے قتل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری راجندر پرساد سنگھ کا کہنا تھا کہ قتیل صدیقی کے قتل سے اقلیتی فرقہ میں دہشت اور عدم تحفظ کا احساس عام ہے۔ کیوں کہ دربھنگہ مدھوبنی اور کوسی علاقے کے کئی مسلم نوجوانوں کو بغیر ثبوت کے اور بغیر ریاستی پولیس کو بتائے دوسری ریاستوں کی پولیس اٹھا کر لے جاتی ہے اور یہ سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بیشک دہشت گردی ایک بڑا مسئلہ ہے اور اس سے ہر فرقہ اور طبقہ متاثر ہورہا ہے۔ لیکن شک کی بنیاد پر ایک خاص فرقہ کے لوگوں کو نشانہ بنانا کسی طرح بھی صحیح نہیں۔ اس سے جمہوریت میں لوگوں کا اعتماد کمزور ہوگا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے مسلمانوں کی اس طرح غیر قانونی گرفتاری کی تو ماضی میں مخالفت کی ہے لیکن اسے روکنے کے لئے کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی ہے۔ جب کہ انہیں اس معاملے میں پہل کرتے ہوئے مسلمانوں کو انصاف دلانے اور سازش کو بے نقاب کرنے کے لئے آگے آنا چاہئے۔ سابق مرکزی وزیر محمد علی اشرف فاطمی اور بہار کانگریس کے رہنما اعظمی باری نے بھی اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
24 جون کو ہزاروں کی تعداد میں انصاف پسند شہریوں نے راجدھانی پٹنہ کے کارگل چوک کے نزدیک عظیم الشان دھرنا دیا اور زبردست صدائے احتجاج بلند کی۔ اس زبردست احتجاجی دھرنے کے توسط سے نہ صرف دہشت گردی کے جھوٹے الزام میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کی مذمت کی گئی بلکہ ایسے نوجوانوں کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا گیا ۔ دھرنے میں راجدھانی پٹنہ ‘ دربھنگہ ‘ مدھوبنی کے علاوہ ریاست کے مختلف ضلعوں سے نمائندہ وفد نے شرکت کی ۔ دھرنے کا اہتمام ’’ناگرک پہل ‘‘ کی جانب سے کیا گیا تھا ۔دھرنے میں شریک مختلف سماجی اور حقوق انسانی کی علمبردار تنظیموں کے ذمہ داروں نے شرکت کی ۔مقررین نے کسی بھی سطح پر دہشت گردی کی مذمت کی لیکن دہشت گردی کے نام پر ملزم کو مجرم قرار دے کر اے ٹی ایس کے ذریعہ بغیر کسی اطلاع کے غیر قانونی طریقہ سے مسلم نوجوانوں کو اٹھا لئے جانے کی کارروائی پر حد درجہ تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس طرح کی کارروائی متعصبانہ ‘ ظالمانہ اور حقوق انسانی کی صریح خلاف ورزی ہے ۔ مقررین نے کہا کہ دہشت گردی کے نام پر اس طرح کی گرفتاری ایک خاص فرقہ کے لوگوں کو بد نام کرنے اور انہیں دہشت زدہ کرنے کی مذموم کوشش ہے ۔ ایسی کارروائی سے دہشت گردی کو کمزور نہیں کیا جا سکتا ۔ ملک میں فرقہ وارانہ سیاست ‘ حکومت کی پشت پناہی میں چلائی جانے والی فرقہ وارانہ سرگرمی اور فساد ‘ملک کا پڑوسی ممالک ‘ مغربی ایشیا کے دوست ممالک سے رشتوں کا خراب ہونا اور دہشت گردی سے نپٹنے کی حکومت کی غلط پالیسی نیز پولس کا ظالمانہ سلوک دہشت گردی کی جڑ میں نظر آتا ہے ۔ریاست بہار میں 17بے قصورلوگوں کو دہشت گردی کے نام پر گرفتار کیا گیا ہے ۔ دربھنگہ اور مدھوبنی کے مسلم اکثریت والے علاقوں کو ایک سازش کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ان تمام گرفتاریوں میں آئین اور سپریم کورٹ کی طرف سے کسی کی گرفتاری سے متعلق پولس گائیڈ لائن اور حقوق انسانی کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں ۔ایسے واقعات میں حکومت کی خاموشی انتہائی افسوسناک ہے ۔ مقررین نے قتیل صدیقی کا پونے جیل میں قتل کو ہندستانی جمہوریت کے لئے ایک بد نما داغ قرار دیا وہیں سعودی عرب سے گرفتار کئے گئے انجینئر فصیح محمود کے بارے میں حکومت ہند کی طرف سے کوئی معلومات فراہم نہ کئے جانے کو باعث شرم قرار دیا ۔ مقررین نے اس طرح کی متعصبانہ کارروائی کے لئے مرکز اور ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جہاں مرکز ی حکومت کی ایجنسیاں اس طرح کی ظالمانہ کارروائی انجام دے رہی ہیں وہیں اس معاملے میں ریاستی حکومت کی خاموشی اور گمراہ کن بیان بھی حد درجہ افسوسناک ہے ۔ریاست میں کسی طرح کی کارروائی سے مقامی حکومت یا انتظامیہ ہر گز صاف انکار نہیں کر سکتی اور خاموشی سے اپنا دامن نہیں بچا سکتی ۔اس لئے ایسے معاملات میں حکومت کو پوری ایمانداری اور کھلی ذہنیت کا مظاہرہ کرنا چاہئے تاکہ انصاف کا تقاضہ پورا ہو اور عوام کا اعتماد قائم ہو سکے ۔ دھرنے کے توسط سے ریاستی حکومت سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ بہار سے ہوئی اس طرح کی سبھی گرفتاریوں کے سلسلے میں ایک اعلی سطحی ٹیم تشکیل کرے اور اس ٹیم کو متعلقہ ریاستوں کے دورے پر بھیجا جائے جو اس طرح کے واقعات کے بارے میں حقیقت سے عوام کو واقف کرائے ۔ وہیں قتیل صدیقی کا عدالتی حراست میں ہوئے قتل معاملے کی بھی اعلی سطحی جانچ کا مطالبہ کیا گیا ۔یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ جن لوگوں کو بنا چارج شیٹ کے طویل مدت سے جیلوں میں قید رکھا گیا ہے اور اذیتیں دی جا رہی ہیں انہیں فوری رہا کیا جائے نیز دہشت گردی جیسے حساس معاملے میں لا پروائی برتنے والے پولس افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔مختلف جماعتوں اور تنظیموں سے وابستہ مقررین نے ایک آواز میں اس عہد کا اعادہ کیا کہ اس سنگین مسئلے پر اب خاموش نہیں رہا جا سکتا ہے اورملک کے جمہوری قدروں کے تحفظ کے لئے بے قصور لوگوں کو مکمل انصاف دلانے تک تحریک سرگرمی کے ساتھ جاری رکھی جائے گی ۔ دھرنا سے سی پی آئی مالے کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹا چاریہ ‘ قانون ساز کونسل میں اپوزیشن لیڈر غلام غوث ‘ معروف سماجی کارکن ستیہ نارائن مدن ‘ کنچن بالا ‘ فادر فلپ منترا ‘ مہندر یادو ‘ نیئر الزماں ‘ نیئر فاطمی ‘ ایس یو سی آئی کے ارون سنگھ ‘ سعودی عرب میں گرفتار انجینئر فصیح محمود کی اہلیہ نکہت پروین والدہ عامرہ جمال ‘مقتول قتیل صدیقی کے بھائی شکیل صدیقی ‘سماجی کارکن انیس انکر ‘ سلمان خان ‘ فادر دیوسیا ‘زاہد انصاری ‘ روپیش ‘ ڈاکٹر حامد رضا ‘ شمیم رضا ‘ رام چندر لال داس ‘ پروفیسر ایم این کرن ‘ پروفیسر ونئے کنٹھ ‘ ڈاکٹر ڈیزی نارائن ‘ ایل جے پی کے ڈاکٹر ستیہ نند شرما ‘ سماجی کارکن کرشن مراری ‘ سی پی ایم کے سرودیہ شرما ‘ واحد انصاری ‘ محمد عارف انصاری ‘ رابطہ کمیٹی کے محمد افضل حسین ‘ رام جی رائے ‘ کے ڈی یادو ‘ پشپ راج ‘ اے کے پربھاکر ‘ فارورڈ بلاک کے وکیل ٹھاکر ‘ پٹنہ ہائی کورٹ کے سینئر وکیل بسنت چودھری ‘ حسن رضا ‘ شفیع انصاری ‘ منت اللہ ‘ اشوک مانو ‘ عبد السلام ‘ ظفر امام ‘ شیلندر پرتاپ ایڈووکیٹ ‘ منیش رنجن ایڈووکیٹ ‘ سسٹر لینا ‘ سسٹر روزالین سمیت بڑی تعداد میں مختلف سماجی ‘ سیاسی ‘ملی اور حقوق انسانی کے علمبردار تنظیموں سے وابستہ افراد نے خطاب کیا ۔
ان کا کہنا تھا کہ اب تک جتنے بھی نوجوان اس علاقہ سے اٹھائے گئے ہیں کسی کے خلاف کوئی معاملہ نہیں تھا۔ سب بے قصور ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج تک کسی کے خلاف عدالت میں کوئی معاملہ پیش نہیں ہو سکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نتیش حکومت اس دباؤ کا سامنا کس طرح کرتی ہے اور مسلمانوں کو انصاف دلانے اور اپنی سیکولر شبیہ کو بچانے کے لئے کون سا قدم اٹھاتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *