اشرف استھانوی 
بہار میں نتیش حکومت کے دوران فرقہ پرستوں کو کس حد تک فروغ حاصل ہوا ہے اور ان کے حوصلے کس حد تک بلند ہو گئے ہیں، اس کا تازہ ترین نمونہ گزشتہ 9 دسمبر کی صبح اس وقت سامنے آیا، جب ریاست کے انتہائی پسماندہ اور مسلم اکثریتی ضلع کشن گنج میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شاخ قائم کرنے کے لیے ریاستی حکومت کی طرف سے یونیورسٹی انتظامیہ کو مہیا کرائی گئی 224 ایکڑ زمین پر شرپسندوں نے بن واسی کلیان سمیتی کے بینر تلے ٹنٹ نصب کرکے مندر کی تعمیر کے لیے پوجا ارچنا شروع کردی اور جب مقامی لوگوں نے اس کے خلاف احتجاج بلند کیا اور انہیں یونیورسٹی کی زمین پر اس طرح کی غیر قانونی کارروائی سے روکنے کی کوشش کی تو وہ روایتی اسلحہ سے لیس ہو کر مرنے مارنے پر تل گئے۔ اس کے بعد امن پسند اور علم دوست سیکولر ہندو مسلمان اس واقعہ کے خلاف احتجاج کرنے اور یونیورسٹی کی زمین کو فرقہ پرستوں کے قبضہ سے آزاد کرانے کے لیے جگہ جگہ سڑک جام کرکے مظاہرے کرنے لگے او رحکومت و انتظامیہ کی بے حسی اور بے عملی کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے۔حالات جب زیادہ کشیدہ ہو گئے اور خبر ریاستی ہیڈ کوارٹروں پر پہنچی تو حکومت حرکت میں آئی او راس نے ضلع انتظامیہ کو سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے شرپسندوں سے سختی کے ساتھ نپٹنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد ضلع انتظامیہ حرکت میں آئی اور اس نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے مندر تعمیر کی سازش میں شریک بن واسی کلیان سمیتی کے دو ارکان اجے سنگھ اور مادھو ترپاٹھی کو حراست میں لیا ، شرپسندوں کی گاڑیاں ضبط کیں اور یونیورسٹی کی زمین کو شرپسندوں کے قبضہ سے آزاد کرایا۔ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا کہنا ہے کہ کشن گنج میں اے ایم یو سنٹر ہر حال میں بنے گا اور اگر کسی نے اس زمین پر قبضہ کرنے یا یونیورسٹی کے کام میں رخنہ اندازی کی کوشش کی تو اس کے خلاف سختی کے ساتھ نمٹا جائے گا خواہ وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب شرپسندوںنے اے ایم یو سنٹر کی راہ میں رخنہ اندازی کی ہے۔ سنٹر کے قیام کے سلسلے میں جب سے مہم شروع ہوئی ہے تبھی سے فرقہ پرست اس کے خلاف سرگرم ہیں۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار بھلے ہی لگاتار کوشش کرتے رہے ہوں، مگر ایسا لگتا ہے کہ ان کی حلیف بی جے پی دل سے حکومت کے فیصلے کے ساتھ نہیں ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کی طلبا تنظیم ودیارتھی پریشد اس کے خلاف لگاتار تحریک چلاتی رہی ہے ۔ بات اے ایم یو سنٹر تک ہی محدود نہیںرہی ، پورے سیمانچل علاقہ میں مسلمانوں کی بد حالی دور کرنے کے لیے مسلم تنظیموں اور اداروں کی طرف سے جب بھی کوئی پہل ہوئی، فرقہ پرست راہ میں حائل ہو گئے۔ ملیہ ایجو کیشنل ٹرسٹ کی طرف سے پورنیہ کے پروڈا میں 150 ایکڑ زمین میڈیکل کالج اور آئی ٹی آئی کے قیام کے لیے خریدی گئی ۔ اس پر آدی باسیوں نے قبضہ کر لیا اور وہ بھی فرقہ پرستوں کی شہ پر۔ اے ایم یو معاملے میں بھی پس پردہ فرقہ پرست ہی نظر آرہے ہیں، کیوں کہ اس معاملے میں بی جے پی لیڈر دلیپ جیسوال کا نام لیا جا رہا ہے۔ اے ایم یو سنٹر کا معاملہ چوں کہ اہمیت کا حامل ہے ، اس لیے اس معاملے میں شاید حکومت اپنی ناک بچانے میں کامیاب ہو جائے، مگر دیگر تمام معاملوں میں حکومت کی ناکامی بہت کچھ اجاگر کرتی ہے۔ معاملہ ملیہ ایجو کیشنل ٹرسٹ کا ہو یا بی بی رئیس النساء وقف اسٹیٹ کی 35 ایکڑ زمین پر آدی باسیوں کے قبضہ کا یا کوچا دھامن میں بلاک کے بستہ کولا گائوں میں قبرستان کی زمین کو آدی باسیوں کے نام کرنے کا معاملہ ہو، حکومت ہر جگہ ناکام نظر آتی ہے۔ اس قبرستان پر اب آدی باسیوں کی فصل لہلہارہی ہے او رتدفین پر پوری طرح روک ہے۔
مظفر پور ضلع کے سریا بلاک کے گوری گاواں گائوں میں مسلمان مسجد کی تعمیر کا ارادہ کرتے ہیں تو شرپسند عناصر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور مسجد کی جگہ پر خنزیر کا گوشت کاٹ کر اس کا ناپاک خون دیوار اور اینٹوں پر لگا کر سب کو ناپاک کر دیتے ہیں۔ 25-30 گھروں پر مشتمل مسلمانوں کی آبادی کو سینکڑوں مسلح افراد دن کے اجالے میں دہشت زدہ کرتے ہیں، مگر حکومت او رانتظامیہ انہیںتحفظ فراہم کرنے یا مسجد کی تعمیر کو یقینی بنانے میں ناکام رہتی ہے۔ اس سلسلے میں بہار قانون ساز کونسل میں حزب اختلاف کے رہنما پروفیسر غلام غوث مظفرپور کے ڈی ایم اور ایس ایس پی سے مسلمانوں کو تحفظ دلانے کی اپیل کرتے ہیں، مگر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا ہے۔ ویشالی ضلع کے چک مجاہد پور کی مسجد پر مقامی شرپسند حملہ کرتے ہیں اور کئی دنوں تک اذان اور نماز نہیں ہو پاتی ہے، مگر انتظامیہ شرپسندوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر پاتی ہے۔ کیمور ضلع کے ادارگائوں کی مسجد پر غلاظت پھینکی جاتی ہے ، وہاں کے مسلمانوں کو خوف زدہ کیا جاتا ہے۔ جب مقامی لوگ تھانہ میں ابتدائی رپورٹ درج کرانے جاتے ہیں تو افسر انچارج ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ رہتاس ضلع ہیڈ کوارٹر سہسرام میں حافظ مسعود کی لاش قبر سے نکال کر اس کی بے حرمتی کی جاتی ہے، مگر حکومت او رانتظامیہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہے۔ سہسرام کے شاہ جمعہ محلہ میں تجمل انصاری کے مکان پر مورتی رکھ کر پوجا ارچنا کردی جاتی ہے، مگر شرپسندوں کو اس شرپسندی اور اشتعال انگیزی سے نہ باز رکھا جاتا ہے اور نہ ہی انہیں کوئی سزا دی جاتی ہے۔ نالندہ ضلع کے بہار شریف کے خاص گنج محلے میں مسجد کی تعمیر اور توسیع کے خلاف اشتعال انگیزی کرکے تعمیری کام میں خلل ڈالا جاتا ہے او ردفعہ 144 کا نفاذ کراکے تعمیر کا سلسلہ روکا جاتا ہے۔ نوادہ ضلع کے اکبر پور کی مسجد پر لائوڈ اسپیکر کا بہانہ بنا کر حملہ ہوتا ہے، گولی چلتی ہے، ایک شخص کی موت ہو جاتی ہے اور تین دنوں تک مسجد میں اذان اور نماز کا سلسلہ منقطع رہتا ہے۔ مونگیر شہر کی ایک مسجد میں شرپسندوں کے ذریعہ قرآن کریم کی بے حرمتی کی جاتی ہے او راس سلسلے میں مقامی تھانہ میں ابتدائی رپورٹ بھی درج کرائی جاتی ہے مگر کارروائی صفر۔ جموئی ضلع کے سمل تلا میں 14 انصاری برادری کے لوگوں کو منظم سازش کے تحت شرپسندوں کے ذریعہ دردناک طریقے سے قتل کر دیا جاتا ہے۔ 8 مرد اور 6 خواتین سے جینے کا حق چھین لیا جاتا ہے۔ اس معاملے میں ظالموں کے خلاف کارروائی تو دور رہی مظلومین اور مقتولین کے ورثاء کو معاوضہ تک نہیں ملتا ہے، کیوں کہ قتل کے اس واردات کو حکومت نکسلی کارروائی قرار دیتی ہے۔ شرپسند اور فرقہ پرست جو 7 سال قبل تک بہار کا رخ کرنے سے بھی گھبرا تے تھے، اب کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں۔
روز گار کی فراہمی اور وسائل کی تقسیم کا معاملہ یہ ہے کہ جہاں ا وروں کو ملازمت دی جاتی ہے ، مسلمانوں کو قرض کے جال میں پھنسایا جارہا ہے۔ مدارس اسلامیہ کے اساتذہ او رملازمین کو تیسری شرح تنخواہ کے مطابق ذلت آمیز تنخواہ دی جا رہی ہے، مگر دوسرے سرکاری ملازمین چھٹی شرح تنخواہ کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد 12882 اردو اساتذہ کی بحالی کی راہ ہموار بھی ہوئی تو اس میں خاص اردو اساتذہ کے لیے ایسی ایسی شرطیں جوڑی گئیں کہ ٹرینڈ اردو ٹیچر کی 12 ہزار اسامیوں کو پر نہیں کیا جا سکا۔ اس پر بھی انصاف کے ساتھ ترقی کی رٹ لگائی جا رہی ہے۔ایسے میں مسلمان اب یہ سوال کرنے لگے ہیں کہ اگر یہی انصاف کے ساتھ ترقی ہے تو پھر ظلم، نا انصافی اور بربادی کی کیا صورت ہوگی؟
حقیقت بھی یہی ہے کہ نتیش حکومت نیائے کے ساتھ وکاس یعنی انصاف کے ساتھ ترقی کا نعرہ دیتی ہے، لیکن اس حکومت میں نہ تو مسلمانوں کے ساتھ انصاف ہو رہا ہے اور نہ ہی ان کی ترقی کے لیے کوئی ٹھوس کام ہو رہا ہے۔ اس کے بر عکس مسلمانوں کے خلاف ظلم اور نا انصافی کو روا رکھا جا رہا ہے۔ انہیں باعزت زندگی گزارنے، اپنے مذہبی فرائض انجام دینے، تعلیمی ادارے قائم کرنے اور روزی روٹی کمانے کے بنیادی حق سے محروم رکھا جاتا ہے اور فرقہ پرست کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں او رمسلم اقلیت کو جہاں اور جیسے ممکن ہو رہا ہے نقصان پہنچا رہے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here