نتیش حکومت میں بھی مسلمانوں کے لئے صرف لالی پاپ

Share Article

اشرف استھانوی
بہار میں نتیش کمار کی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے آج سے سات سال قبل جب اقتدار سنبھالاتھا تو حکمراں اتحاد کے رہنمائوں نے بالعموم اور خود وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بالخصوص یہ دعویٰ کیاتھا کہ مسلمانوں کے جو کام آزادی کے بعد 65برسوں کے دوران نہیں ہوئے وہ اس حکومت کے دوران پورے ہوںگے، کیوںکہ یہ حکومت سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے، سب کو ان کا واجب حق دینا چاہتی ہے اور ’نیائے کے ساتھ وکاس‘ یعنی انصاف کے ساتھ ترقی میں یقین رکھتی ہے۔ اس وقت مسلمانوں کو بھی ایسا لگنے لگاتھاکہ شاید اب ان کے اچھے دن لوٹنے والے ہیں اور ان کے سبھی نہیں تو کم از کم کچھ بنیادی مسائل ضرور حل ہوجائیںگے۔ اس لیے انہوںنے بھی اس حکومت سے کافی توقعات وابستہ کرلی تھیں۔ اس وقت حکومت کی طرف سے بھی کچھ ٹھوس پہل کے اشارے مل رہے تھے ، اس لیے مسلمان تیزی کے ساتھ بلکہ پورے جوش وخروش کے ساتھ حکمراں اتحاد کے ساتھ جڑتے چلے گئے اور نتیش کے ہاتھوں کو مضبوط کرنا اپنا سیاسی فریضہ سمجھنے لگے ۔ وسط مدتی انتخاب میں جب اپوزیشن راشٹریہ جنتادل نے بہتر مظاہرہ کرتے ہوئے عام انتخاب میں واپسی کا اشارہ دیا تو مسلمان پریشان ہوگئے۔ انہیں یہ ڈر ستانے لگا کہ کہیں آرجے ڈی حکومت کی واپسی ان کی ممکنہ ترقی کے راستے مسدود نہ کردے۔ یہی وجہ تھی کہ 2010کے عام انتخاب میں مسلمانوں نے بالعموم اور پسماندہ مسلمانوں نے بالخصوص این ڈی اے کی کھل کر حمایت کی اور اسے ریکارڈ توڑ اور تاریخ ساز کامیابی سے ہمکنار کرایا۔ لیکن اس سے مسلمانوں کو کوئی فائدہ ہونے کے بجائے الٹا نقصان ہوا، کیونکہ حکومت اور حکمراں اتحاد پر تاریخ ساز کامیابی کا ایسانشہ چڑھا کہ وہ نشے میں اپنے سارے وعدے ہی فراموش کرگیا۔

شاید حکومت کو یہ غلط فہمی ہوگئی کہ مسلمان جس طرح ماضی میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے خوف سے لگاتار آرجے ڈی کے ساتھ چپکے رہے، اسی طرح اب آرجے ڈی کی واپسی کے خوف سے وہ لگاتار نتیش حکومت کی حمایت کرتے رہیںگے اور ان کی گاڑی اسی طرح فراٹے بھرتی رہے گی، اس لیے اب مسلمانوں کے لیے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ نتیش حکومت لالو اور رابڑی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مسلمانوں کو خوش کرنے کے لیے جذباتی بیان دینے ، سرپرٹوپی اور کاندھے پر رومال ڈال کر مذہبی تقریبات میں شریک ہونے، مزارات اور خانقاہوں میں نیاز مندانہ حاضری دینے ، اسلام اور بزرگان دین کی عظمت کا گن گان کرنے یا مذہبی مقامات کی حسن کاری کے لیے اپنے مخصوص فنڈ سے رقمیں جاری کرنے کی اس پالیسی پر عمل کرنے لگے، جس سے عام مسلمان خوش بھی ہوجائیں اور ان کی ترقی کے لیے کوئی ٹھوس کارروائی کرنے کی ضرورت بھی نہ رہے۔

شاید حکومت کو یہ غلط فہمی ہوگئی کہ مسلمان جس طرح ماضی میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے خوف سے لگاتار آرجے ڈی کے ساتھ چپکے رہے، اسی طرح اب آرجے ڈی کی واپسی کے خوف سے وہ لگاتار نتیش حکومت کی حمایت کرتے رہیںگے اور ان کی گاڑی اسی طرح فراٹے بھرتی رہے گی، اس لیے اب مسلمانوں کے لیے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ نتیش حکومت لالو اور رابڑی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مسلمانوں کو خوش کرنے کے لیے جذباتی بیان دینے ، سرپرٹوپی اور کاندھے پر رومال ڈال کر مذہبی تقریبات میں شریک ہونے، مزارات اور خانقاہوں میں نیاز مندانہ حاضری دینے ، اسلام اور بزرگان دین کی عظمت کا گن گان کرنے یا مذہبی مقامات کی حسن کاری کے لیے اپنے مخصوص فنڈ سے رقمیں جاری کرنے کی اس پالیسی پر عمل کرنے لگے، جس سے عام مسلمان خوش بھی ہوجائیں اور ان کی ترقی کے لیے کوئی ٹھوس کارروائی کرنے کی ضرورت بھی نہ رہے۔ اسی کانتیجہ تھا کہ جب ملک میں صدارتی انتخاب کی سرگرمی چل رہی تھی ، بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے سیکولروزیر اعظم کا معاملہ اٹھاکر ایک بار پھر مودی جن کو باہر نکال دیا۔ یہ ان کے لیے اس وقت اس لیے بھی ضروری تھا، کیونکہ صدارتی انتخاب میں یوپی اے امیدوار پرنب مکھرجی کی حمایت کرنے کے بعد نائب صدر جمہوریہ کے انتخاب میں انہوںنے یوپی اے کے مسلم امیدوار حامد انصاری کی مخالفت کا فیصلہ کیاتھا۔ اس سے مسلمانوں میں ناراضگی پیدا ہوسکتی تھی۔ چنانچہ انہوںنے بے وقت ہی مودی بم دھماکہ کردیاتھا اور مسلمان جذبات کی رو میں بہہ کر ایک پڑوسی پرنب مکھرجی کی حمایت اور دوسرے پڑوسی حامد انصاری کی مخالفت کی مصلحت کو سمجھنا تو دور رہا اس کے آس پاس پھٹکنے کے قابل بھی نہیں رہے۔
ماضی میں بھی حکمراں جماعتیں مسلمانوں کا اسی طرح جذباتی استحصال کرتے ہوئے انہیں بیوقوف بناتی رہی ہیں اور اپنی سیاسی روٹیاں سینکتی رہی ہیں، لیکن پہلے اور اب میں ایک بڑا فرق یہ پیدا ہوگیاہے کہ ماضی میں جب حکومتوں سے مسلمان ناراض ہوتے تھے یا مسلمانوں کو نظر انداز کرنے کے واقعات بڑھتے تھے یا حکومت وقت مسلمانوں کے کسی خاص مسئلے کی طرف مجرمانہ چشم پوشی کرتی تھی تو مسلم مذہبی ادارے آگے آتے تھے اور حکومت کی باقاعدہ سرزنش کرکے اسے تنبیہ کرتے تھے کہ حکومت اپنے رویے پر نظر ثانی کرے ورنہ وہ اپنے ماننے والوں کو حکومت کے خلاف کھڑا کردیںگے۔ تب حکومت بھی سہم جایاکرتی تھی اور کسی حدتک اپنے رویے میں تبدیلی لانے کی بھی کوشش کرتی تھی، لیکن اب تو مسلمانوں کے پاس یہ متبادل بھی نہیں رہا، کیونکہ حکومت نے مسلمانوں سے ان کا یہ آخری حربہ بھی چھین لیاہے۔ حکومت نے تمام مذہبی اداروں کے سربراہوں کو سرکاری عہدے دے کر ایک طرح سے ان مذہبی اداروں کو یرغمال بنالیاہے۔ امارت شرعیہ کے ناظم مولانا انیس الرحمٰن قاسمی، بہار ریاستی حج کمیٹی کے چیئرمین ہیں تو ادارۂ شرعیہ بہار کے مہتمم مولانا غلام رسول بلیاوی ریاستی پروگرام نفاذکمیٹی کے وائس چیئر مین ہیں۔ تبلیغی جماعت کے ایک امیر 89 سالہ ڈاکٹر کلیم احمد عاجز ؔ کالعدم بہار اردو مشاورتی کمیٹی کے چیئرمین ہیں تو دوسرے مبلغ ممتاز عالم بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے چیئرمین بنے ہوئے ہیں۔ خانقاہ منعمیہ پٹنہ سٹی کے سجادہ نشیں حضرت مولانا سید شاہ شمیم منعمی کی خانقاہ کی حسن کاری کے لیے وزیر اعلیٰ نے اپنے ایم ایل سی فنڈ سے ایک کروڑ روپے فراہم کرائے ہیں،اس کے علاوہ ضلع انتظامیہ کی جانب سے بھی لاکھوں روپے کے ترقیاتی کام اس خانقاہ میں ہوئے ہیں۔ ان مذہبی رہنمائوں کی تاج پوشی اور اس کے نتیجے میں انہیں حاصل ہونے والی سرخ بتی والی گاڑی اور دوسری سہولیات نے ان کی زبان بند کردی ہے۔ حکومت کو آنکھیں دکھانا تو دور رہا وہ کوئی مفید مشورہ دینے کی بھی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اب تو ان کا کوئی بیان بھی آتاہے تو ایک سرکاری عہدہ دار جیسا ہوتاہے۔ سنجیدہ اور حساس معاملوں میں تو وہ لب کشائی کی جرأت تک نہیں کرپاتے ہیں۔ ایسے میں بھلا حکومت کی سرزنش کون کرے؟ اس صورتحال کا خمیازہ بہار کے مسلمانوں کو بھگتنا پڑ رہاہے۔ مسلمانوں کے سارے مسائل نظر انداز ہیں۔ حکومت نے سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن کی سفارشوں کی روشنی میں پڑوسی ریاستوں مغربی بنگال اور اتر پردیش کی طرف سے مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کی ٹھوس پہل کے باوجود بہار میں اپنی طرف سے کوئی پہل نہیں کی۔ نتیش حکومت نے اپنی پہلی مدت کار کے دوران مسلمانوں کی فلاح اورترقی کے لیے دس نکاتی پروگرام خود ہی بنایا اور خود ہی اسے زندہ دفن کردیا۔ دوسری مدت کار کے دوران تو اس پروگرام کا ذکر تک نہیں ہے۔
اردو کو بہار میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ ضرور حاصل ہے، مگر نتیش حکومت کے دوران بہار کے اسکولی نصاب میں اردو کی لازمیت ختم کردی گئی ہے اور جب اردو کی لازمیت ہی نہیں رہی تو فارسی کی اہمیت تو از خود ختم ہوگئی۔ فارسی کی بات کون کرے، اب تو اردو کی درسی کتابیں اور اردومیڈیم اسکولوں کے لیے اردو میں دوسرے مضامین کی کتابیں تقریباً نہیں چھپتی ہیں۔ چھپتی بھی ہیں تو اردو طلباء کو دستیاب نہیں کرائی جاتیں۔ ریاست کے ہر اسکول میں اردو یونٹ قائم کرنے کا نتیش حکومت کا وعدہ ،وعدۂ معشوق بن کر رہ گیاہے۔ اردو اساتذہ کی جو منظورشدہ سیٹیں پہلے سے ہیں ، وہ بھی ہزاروں کی تعداد میں خالی رہ گئیں۔ محکمہ راج بھاشا کے اردو ملازمین کی خالی اسامیاں بھی خالی ہی رہ گئیں۔ اردو کے عملی نفاذ کے لیے قائم کیاگیا اردو ڈائریکٹریٹ ہاتھی کا دانت بن کر رہ گیاہے۔ اردو مشاورتی کمیٹی اپنے چیئرمین کی طرح ہی نہ کچھ سنتی ہے نہ دیکھتی ہے، بلکہ معذور اور مجبور محض ہے۔ کمیٹی کے سربراہ زیادہ تر غیر ملکی دورے پر رہتے ہیں، حالانکہ تنخواہ اور دیگر سہولیات وہ بلاتامل حاصل کرتے رہتے ہیں،وہاں پر ان کی مذہبی غیرت اور حمیت بھی انہیں للکارتی نہیں ہے۔ بہار اردو اکیڈمی کو بھی دوسال سے تشکیل نہیں دیاگیاہے۔
سرکاری امدادیافتہ مدارس کی حالت بھی بدتر ہے۔ مدارس کے اساتذہ اور ملازمین کو آج بھی سرکاری ملازمین کے مساوی تنخواہ اور پنشن وگریٹی چیوٹی کی سہولت حاصل نہیں ہے۔ انہیں آج بھی تیسرے تنخواہ کمیشن کی سفارش کے مطابق انتہائی قلیل اور ذلت آمیز تنخواہ مل رہی ہے، جب کہ دیگر سرکاری ملازمین ساتویں تنخواہ کمیشن کی سفارش کے ساتھ کافی ہینڈ سم سیلری حاصل کررہے ہیں۔ 2459 مدارس کو منظوری دینے کے معاملوں میں بھی ابھی تک عمل نہیں ہوسکا ہے۔ 4جنوری 2012کو مدرسہ بورڈ کی تشکیل کی گئی ہے، اس کا چیئرمین ایک مبلغ ممتاز عالم کو بنایاگیا ہے جو بہار مدرسہ ایکٹ 1982کے شرائط وضوابط کو پورانہیں کرتے۔ ان کی تقرری کے خلاف پٹنہ ہائی کورٹ میں کئی مفاد عامہ زیر سماعت ہیں۔نتیش حکومت نے فرسٹ ڈویژن میں میٹرک پاس کرنے والے طلباء اور طالبات کو یک مشت 10ہزار روپے کا حوصلہ افزائی وظیفہ دینے کا فیصلہ 2007 سے کیاہے، مگر اس سے مدرسہ بورڈ کے فارغین کو مستثنیٰ رکھاگیاہے۔
نتیش حکومت کی اقلیت بیزاری کا اس سے بڑا ثبوت کیاہوسکتاہے کہ وہ حکومت کے تمام محکموں کی کارگزاریوں کا جائزہ تولیتی ہے مگر محکمہ اقلیتی فلاح کے کاموں کا کوئی جائزہ نہیں لیاجاتا اور نہ ہی اس کی مانیٹرنگ کا کوئی نظم ہے۔ محکمہ اقلیتی فلاح میں عرصے سے کل وقتی سکریٹری نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار جو از خود تمام محکموں کا جائزہ لیتے ہیں اور کئی اہم محکموں کے پرنسپل سکریٹریوں کو اپنی سیوا یاترا کے دوران حاضر رہنے کی ہدایت کرتے ہیں، مگر محکمہ اقلیتی فلاح اس سے مستثنیٰ ہے۔ شاید اس لیے کہ حکومت کے سربراہ ہونے کے ناتے انہیں یہ بات بخوبی معلوم ہوتی ہے کہ اس محکمہ میں کچھ کرنے کے لیے ہے ہی نہیں توجائزہ کس چیز کا لیا جائے گا۔ اقلیتی فلاح کے سلسلے میں کوئی فیصلہ ہوابھی تو اس کا نفاذ ضروری نہیں سمجھا گیا، جب کہ دلتوں سے متعلق ہر فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنایاگیا۔ بے روزگار مسلم نوجوانوں کو روزگار سے جوڑنے کی تو کوئی اسکیم ہے ہی نہیں۔ اوروں کے لیے ملازمت اور روزگار کے مواقع ہیں مگر مسلمانوں کے لیے صرف قرض کا لالی پاپ اور وہ بھی ان کی پہنچ سے باہر ۔ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن سے قرض کا حصول کسی نیشنلائزڈ بینک سے قرض حاصل کرنے سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ اس محکمہ میں کبھی فل ٹائم سکریٹری کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔
عام مسلمانوں کی بات کیاکی جائے جب پارٹی کے سرگرم مسلم کارکنوں کا بھی کوئی پرسان حال نہیں ہے، جس سے ان میں بھی مایوسی عام ہے۔ انہیں اب ایسا لگنے لگاہے کہ ان کا کام صرف جھنڈے دھونا ہے۔ پھل کھانا ان کی قسمت میں نہیں ہے۔ اس سال راجیہ سبھا اور ریاستی قانون ساز کونسل دونوں کے لیے دوسالہ انتخابات ہوئے مگر کسی بھی انتخاب میں مسلمانوں کو کوئی موقع نہیں دیاگیا۔ لالوکادامن جھٹک کر نتیش کا دامن تھامنے والے سابق ریاستی وزیر اور ممتاز ماہر قانون شکیل احمد خان موقع کا انتظار کرتے کرتے داعی اجل کو لبیک کرنے پر مجبور ہوگئے، مگر انہیں موقع نہیں ملا۔ اب کونسل کی ان بارہ سیٹوں پرپارٹی کے کارکنوں کی نظر ہے جنہیں نامزدگی کے ذریعہ پر کیاجاناہے، لیکن پارٹی کے مخلص کارکنوں کو یہ اندیشہ ستا رہاہے کہ کہیں یہ بھی مذہبی رہنما اور جبہ ودستار والے نہ لے اڑیں اور وہ ہاتھ ملتے رہ جائیں۔ ایسے میں یہ سوال ذہن میں اٹھنالازمی ہے کہ کیا نتیش حکومت میں بھی مسلمانوں کے لیے صرف لالی پاپ ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *