نتیش حکومت جرائم کو کنٹرول نہیں کر پارہی ہے

Share Article

اشرف استھانوی
بہار میں ایمر جنسی جیسے حالات پیدا ہوتے جا رہے ہیں۔ افسر شاہی بے لگام ہے۔ نومبر2005 کے بعد حالات میں جو خوشنما تبدیلی آئی تھی وہ کہیں گم ہوتی نظر آرہی ہے۔ قتل، اغوا، لوٹ ، عصمت دری اور رہ زنی کے واقعات عام ہوتے جا رہے ہیں۔ حکومت کامیابی کے نشے میں چور اور خواب غفلت میں مبتلا ہے۔ میڈیا پر غیر معلنہ سنسر شپ عائد ہے۔ اس لیے باتیں کھل کر سامنے نہیں آ پا رہی ہیں۔ اقتدار کے نگار خانے میں بیٹھے لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ سب ٹھیک ہے، لیکن حقیقتاًکچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ نتیش حکومت کو بڑے ارمانوں او رامیدوں کے ساتھ اقتدار میں دوبارہ لانے والے غریب عوام ایمر جنسی جیسی گھٹن محسوس کر رہے ہیں اور یہ خطرہ محسوس کر رہے ہیں کہ جس طرح پہلی ایمر جنسی کے بعد اندرا گاندھی کو اس کی قیمت چکانی پڑی تھی اسی طرح اس غیر معلنہ ایمر جنسی کی قیمت نتیش کمار کو نہ چکانی پڑے۔

حال ہی میں رونما ہونے والے واقعات ایسے ہیں جو حکومت کو ہلا دینے کے لیے کافی ہیں، لیکن ان واقعات پر نہ تو ریاست میں کوئی ہنگامہ ہوا، نہ کوئی تحریک چھیڑی اور نہ ہی ایوان اقتدار میں کوئی زلزلہ آیا، وجہ رہی میڈیا کی حکومت نوازی۔ میڈیا نے بڑے بڑے معاملوں کو اس طرح دبادیاجیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔کچھ باتیں الیکٹرانک میڈیا اور قومی میڈیا کے توسط سے سامنے آئیں بھی اور اس کے نتیجے میں جھیل کی خاموش سطح پر کوئی ہلکی سی ہلچل مچی بھی تو حکومت اور انتظامیہ کے آمرانہ رویہ نے اسے خاموشی کے ساتھ دبا دیا۔ حکومت کو احساس تک نہیں ہونے دیا کہ کچھ غلط ہو گیا ہے یا اسے سدھارنے کی کوئی ضرورت ہے۔

حال ہی میں رونما ہونے والے واقعات ایسے ہیں جو حکومت کو ہلا دینے کے لیے کافی ہیں، لیکن ان واقعات پر نہ تو ریاست میں کوئی ہنگامہ ہوا، نہ کوئی تحریک چھیڑی اور نہ ہی ایوان اقتدار میں کوئی زلزلہ آیا، وجہ رہی میڈیا کی حکومت نوازی۔ میڈیا نے بڑے بڑے معاملوں کو اس طرح دبادیاجیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔کچھ باتیں الیکٹرانک میڈیا اور قومی میڈیا کے توسط سے سامنے آئیں بھی اور اس کے نتیجے میں جھیل کی خاموش سطح پر کوئی ہلکی سی ہلچل مچی بھی تو حکومت اور انتظامیہ کے آمرانہ رویہ نے اسے خاموشی کے ساتھ دبا دیا۔ حکومت کو احساس تک نہیں ہونے دیا کہ کچھ غلط ہو گیا ہے یا اسے سدھارنے کی کوئی ضرورت ہے۔ ایمر جنسی کے دوران بھی ایسے ہی حالات تھے ۔ میڈیا پر سنسر شپ عائد تھی، افسران بے لگام تھے۔ ان کے پاس سارے اختیارات تھے، جو چاہتے تھے کرتے تھے اور عوام آہ بھی کرتے تھے تو ان کی آہوں کو ان کے گلے میں ہی دبا دیا جاتا تھا۔میڈیا میں کوئی بات آتی نہیں تھی، افسران کچھ بتاتے نہیں تھے۔ حکومت سمجھتی تھی کہ سب خیریت ہے، عوام پوری طرح حکومت اور اس کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ لیکن معاملہ اس کے بر عکس تھا۔ اندر ہی اندر نفرت اور بیزاری بڑھ رہی تھی اور یہ نفرت عام انتخابات کے وقت منفی ووٹنگ کے ذریعہ سامنے آئی۔ حکومت کا جنازہ نکل گیا اور ایمر جنسی کے دوران عمدہ حکمرانی کا جو خواب دیکھا گیا تھا اس کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی۔
بہار میں بھی آج کل ایسے ہی حالات ہیں ۔ راجدھانی میں گزشتہ دنوں انکور پبلک اسکول کی پرنسپل نیلم شرما کا دن دہاڑے ان کی رہائش گاہ میں قتل کر دیا گیا۔ قاتل اپنے ساتھ نقد اور زیورات سمیت لاکھوں کی مالیت لوٹ لے گئے۔ یہ واقعہ پٹنہ کے پوش علاقہ پاٹلی پترا کالونی تھانہ کے تحت راجیو نگر ریلوے کراسنگ کے پاس دن کے اجالے میں 10 سے 12 بجے کے دوران پیش آیا۔35 سالہ نیلم شرما حادثہ کے وقت اپنے گھر میں تنہا تھیں۔ ان کی بیٹی نیہا راجدھانی کے ایک مشہور اسکول میں +2 کی طالبہ ہے۔ وہ حادثہ کے وقت اسکول گئی ہوئی تھی۔ بیٹا پُنے میں انجینئرنگ کی پڑھائی کر رہا ہے۔ اس نے اسی صبح اپنی والدہ سے بات کی تھی اور بتایا تھا کہ اس کے کالج کی چھٹی ہو گئی ہے اور وہ ٹرین سے گھر لوٹ رہا ہے۔ نیلم شرما کے شوہر سنجے کمار دیگھا کے آشانہ روڈ پر واقع انکور پبلک اسکول کے ڈائریکٹر ہیں، وہ اس وقت اسکول میں ہی تھے۔ دن کے تقریباً پونے بارہ بجے اسکول کی اسٹاف کرن جھا ڈرائیور ونود کمار کے ساتھ جب کسی کام کے لیے پرنسپل کے گھر پہنچی او رکال بیل بجایا تو کوئی جواب نہیں ملا ۔ پھر دروازے پر ہاتھ مارا تو درازہ کھلا ہوا ملا۔ اندر پہنچنے پر پرنسپل کے ہاتھ پائوں بندھے ہوئے ملے۔ نیلم شرما بری طرح زخمی تھیں۔ اسکول کے اسٹاف نے نیلم کے شوہر کو فون پر اس صورت حال کی اطلاع دی۔ انہیں فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا مگر وہ جاں بر نہ ہو سکیں ۔ پولس اس قتل او رلوٹ کانڈ کا خلاصہ کرنے یا قاتلوں کو گرفتار کرنے میں تادم تحریر ناکام ہے۔ دن کے اجالے میں یہ سب کچھ ہو گیا اور کسی کو خبر تک نہیں ہوئی۔ پرنسپل کے قتل کے احتجاج میں پرائیوٹ اسکول ایک دن بند رہے۔ اور سی پی آئی مالے اور ایوانے پٹنہ بند کی کال دے کر قاتلو ںکی گرفتاری میں پولس کی ناکامی کے خلاف اپنا احتجاج ظاہر کیا ۔ اس سے قبل پٹنہ ہائی کورٹ کی ایک خاتون وکیل کا اسی طرح دن دہاڑے ان کے فلیٹ میں قتل کر دیا گیا ۔ قاتل آرام سے آئے، اپنا خونی کھیل کھیلا اور دروازہ برابر کرکے نکل گئے۔ فلیٹ والوں کو بھی تب پتہ چلا جب کئی دن گزر جانے کے بعد لاش سے بدبو پھیلنے لگی۔ دروازہ اندر سے کھلا تھا لیکن لوگ یہ سمجھتے رہے کہ شاید دروازہ اندر سے بند ہے۔ اپارٹمنٹ کے کسی فلیٹ میں آنے جانے والوں کو اپنا نام، پتہ، ملاقات کا وقت یہ سب کچھ درج کرنا پڑتا ہے۔حیرت کی بات ہے کہ قاتل گارڈ کی نظر سے بچ کر آئے، اندر اج کیے بغیر فلیٹ تک پہنچے او رپھر آرام کے ساتھ اپارٹمنٹ سے اس طرح صفائی کے ساتھ نکل گئے کہ کسی کو شک تک نہیں ہوا۔ یہ بھی تعجب کی بات رہی کہ قتل کے بعد سے لے کر اس کے انکشاف تک کئی دنوں تک کوئی وزیٹر ان سے ملنے نہیں آیا، جب کہ وکیل ہونے کے ناطے ان کے پاس لوگ آتے ہی جاتے رہتے تھے۔ اس معاملے پر بھی وکیلوں کا معمولی سا احتجاج سامنے آیا اور پھر اس کے بعد سب کچھ معمول پر آگیا۔ اسی دوران پٹنہ میں ایک جرنلسٹ اور ایک دوسرے مسلم نوجوان کا بھی قتل ہو گیا مگر کوئی خاص ہلچل نہیں ہوئی۔
اسی دوران انٹر کے ایک لا پتہ طالب علم سوربھ کے قتل کا معاملہ سامنے آیا جو گزشتہ سال نومبر سے ہی لا پتہ تھا ۔ وہ پٹنہ کے گردنی باغ روڈ نمبر 29 ، کواٹر نمبر 3 کے بلاک ٹو سرکاری کوارٹر میں اپنے دادا کے ساتھ رہتا تھا۔ 20 نومبر 2011 کو وہ اپنی دادی سے راجگیر جانے اور شام تک لوٹ آنے کی بات کہہ کر نکلا تھا، لیکن وہ لوٹا نہیں۔ اگلے دن اغوا کاروں نے اس کے اغوا کی اطلاع دی اور اس کی رہائی کے عوض 25 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد گھر والوں نے اس کے اغوا کی اطلاع پولس کو دی۔ پولس کے مشورہ سے یہ لوگ 24 نومبر کو نقلی نوٹ لے کر ویشالی ضلع میں اغوا کاروں کے بتائے گئے ٹھکانے پر نوٹ پھینک کر چلے آئے، لیکن نہ تو سوربھ لوٹا اور نہ ہی پولس اسے برآمد کر سکی یا اغوا کاروں کا پتہ چلا سکی۔
اسی طرح پٹنہ کے بہادر پور علاقہ سے ایک شخص کااغوا ہوا اور اس کی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ جس موبائل نمبر سے اس اغوا کے سلسلے میں اغوا کاروں نے تاوان کا مطالبہ کیا تھا اسی موبائل سے سوربھ کے گھر والوں سے بھی رقم کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد اس دوسرے معاملہ میں گرفتار نشا کو ریمانڈ پر لے کر جب پولس نے پوچھ تاچھ کی تو راز کھلتا گیا۔ نشا کی نشاندہی پر دہلی کے مہرولی علاقہ سے ایک اغوا کار کو گرفتار کیا گیا اور پھر اس کی نشاندہی پر ویشالی ضلع کے ہرٹوتی گائوں کی ایک جھاڑی سے سوربھ کا ڈھانچہ برآمد کیا گیا جسے قتل کے بعد وہاں دفن کر دیا گیا تھا۔
مذکورہ تمام واقعات ظاہری طو پر پیشہ ور بد معاشوں او رجرائم پیشوں کی کارروائی معلوم ہوتی ہے مگر 23 جولائی کو لوگ اس وقت حیرت میں پڑگئے جب بی جے پی ایم ایل سی اشوک اگروال کو اپنے ہی نوکر کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ انہیں کٹیہار پولیس نے دیر رات ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کرکے چیف جیوڈشیل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جہاں سے انہیں 14 دنوں کی عدالتی حراست میں جیل بھیج دیا گیا۔ اشوک اگروال کے نوکر دھیرج مہتو کا ایم ایل سی کی رہائش گاہ پر گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ ایم ایل سی نے اس واقعہ کو غیر ارادی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اتفاقاً گولی لگ جانے سے اس کی موت ہو گئی، لیکن مقتول کے بھائی نیرج مہتو نے اس کے لیے ایم ایل سی کو ذمہ دار قرا ردیتے ہوئے نامزد ایف آئی آر درج کرائی تھی۔مقتول کے سر میں کافی قریب سے گولی ماری گئی تھی ۔ بعد میں جانچ ٹیم او رفورنسک کی رپورٹ میں اس بات کا خلاصہ ہوا کہ یہ معاملہ غیر ارادی قتل کا نہیں تھا ۔ اس کے بعد ہی ایم ایل سی کی گرفتاری عمل میں آئی۔ یہ معاملہ بھی کوئی گل نہیں کھلا سکا، کیوں کہ بات ایک غریب نوکر کی تھی اور مقتول کے بھائی نیرج مہتو نے اگر ایم ایل سی کے خلاف نامزد ایف آئی آر درج کرانے او رانصاف کی لڑائی لڑنے کی ہمت نہ دکھائی ہوتی تو شاید ملزم کی گرفتاری بھی عمل میں نہ آتی ۔ بی جے پی نے ایم ایل سی کو پارٹی سے معطل کرکے اپنی ذمہ داری پوری کر لی ہے اور خود کو بری الذمہ قرا ر دے دیا ہے، لیکن اگر اس حقیقت پر نظر ڈالی جائے کہ یہ وہی بی جے پی ایم ایل سی ہیں جن کے لیے فاربس گنج فائرنگ کا خونی کھیل کھیلا گیا، اس معاملے میں بھی ایم ایل سی کے خلاف نامزد ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی اور اگر اس وقت ان کے خلاف کارروائی ہوئی ہوتی تو شاید دھیرج مہتو کا قتل نہ ہوا ہوتا۔
بہر حال، ایم ایل سی کی گرفتاری کی خبر ابھی گرم ہی تھی کہ 24 جولائی کو راجدھانی پٹنہ سے متصل حاجی پور میں اسٹیٹ بینک کے 70 لاکھ روپے لوٹ لیے گئے۔ یہ واقعہ بھی دن دہاڑے پیش آیا۔ اسٹیٹ بینک کے حاجی پور مین برانچ سے یہ رقم نکال کر سون پور برانچ لے جائی جا رہی تھی۔ مارشل جیپ سے یہ رقم بینک کے اسسٹنٹ کیشیئر دو سیکورٹی گارڈ اور ڈرائیو رلے کر جا رہے تھے۔ جیسے ہی جیپ گنڈک ندی پر بنے پرانے پل پر پہنچی وہاں کمانڈو جیسے لباس میں ملبوس مسلح جرائم پیشوں نے جیپ رکوائی ۔ دونوں سیکورٹی گارڈ کو اسلحہ کی زد پر لے کر غیر مسلح کیا اور انہیں ندی میں پھینک دیا اور پھر جیپ لے کر آگے بڑھے اور نئے پل کے پاس جا کر لاکر کا تالا توڑا اور رقم ایک تھیلے میں رکھ کر پاس ہی میں کھڑی دوسری وین سے حاجی پور کی طرف فرار ہو گئے۔ طالبات اور خواتین سے چھیڑ چھاڑ یا جنسی زیادتی کے واقعات تو اس قدر عام ہیں کہ ان کا ذکر بھی آسان نہیں۔ قتل اور اغوا کے جن واقعات کا ذکر ہوا ہے وہ بھی محض نمونہ کے طور پر ہوا ہے۔ ورنہ بہت سارے واقعات تو ٹھیک سے سامنے بھی نہیں آرہے ہیں۔
ریاست کے آئینی سربراہ اور انتظامی سربراہ یعنی گورنر اور وزیر اعلیٰ کے درمیان رسہ کشی کا سلسلہ طویل تر ہوتا جا رہا ہے، جس سے اعلیٰ تعلیم کا شعبہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ افسر شاہ حکومت کی کمزوری کا فائدہ اٹھارہے ہیں، وزیر اعلیٰ کو جیسا چاہتے ہیں سمجھا دیتے ہیں ۔ باقی وزراء یا ارکان قانون سازیہ کی کوئی وقعت نہیں ہے تو پنچایتی اداروں کے نمائندوں کو کون پوچھے؟ گزشتہ دنوں پورنیہ کے ڈی ڈی سی نے ایک نائب مکھیا کو سر عام تھپڑ مار دیا، لیکن اس کی گونج ایوان اقتدار تک نہیں پہنچ سکی۔ مقامی لوگوں کے غم و غصہ کو افسر شاہوں نے دبا دیا۔ اس سے قبل پٹنہ کی سٹی ایس پی کم نے اپنے بیٹے کی ناگہانی موت کے خلاف احتجاج کر رہی ماں کو سر عام تھپڑ جڑ دیا تھا۔ یہ واقعہ راجدھانی کا تھا اس لیے اس کی گونج اقتدار کے گلیاروں تک پہنچی اور ریاستی اسمبلی میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو معافی بھی مانگنی پڑی۔ اسی طرح سمستی پور میں ایک بے لگام ڈی ڈی سی نے فیس لینے کی غلطی کرنے والے وکیل کو تھانہ کی ہوا کھلادی۔ اس واقعہ کے خلاف آواز اٹھی مگر صرف وکیلوں کی طرف سے، جو بہت دمدار ثابت نہیں ہوئی۔ بھوجپور ضلع ہیڈ کوارٹر آرہ میں پر امن دھرنا پر بیٹھے ضلع پارشدوں کو بد نام زمانہ مجرموں کی طرح کمر میں رسہ او رہاتھ میں ہتھکڑی لگا کر جیل بھیجا گیا، ان کا قصور صرف یہ تھا کہ ایک اور بے لگام ڈی ڈی سی کو لگام دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ پورنیہ میں سابق رکن پارلیمنٹ رنجیتا رنجن نے اغوا،عصمت دری او رقتل کے خلاف عوام کو سڑکوں پر لانے کی کوشش کی تو ان پر ڈھیر سارے فرضی مقدمات لاد دیے گئے۔ مظفر پور میں ایک وزیر کے سیاہ کارناموں کو اجاگر کرنے والے پنچایتی راج کے ایک نمائندہ کو جیل بھیجنے کا انتظام کر دیا گیا۔ مونگیر چیمبر آف کامرس نے جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف مہم چھیڑی تو اس کے عہدیداران و ارکان اور ان کے سیاسی سرپرستوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی۔ یہ سارے واقعات کیا ایمر جنسی کی یاد تازہ نہیں کرتے ہیں اور اگر کرتے ہیں تو کیا اس کا انجام ایمر جنسی کے سیاہ دور کے انجام جیسا نہیں ہو سکتا ہے اور اگر ایسا ہے تو دوسروں کو نوشتہ دیوار پڑھنے کا مشورہ دینے والے نتیش کمار خود نوشتہ دیوار کیوں نہیں پڑھ رہے ہیں اور اگرنہیں پڑھ رہے ہیں تو اس کا انجام کیا ہوگا؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *