نتن گڈکری بولے- پاکستان جانے والے پانی کو جمنا میں بهائیں گے

Share Article

 

مرکزی وزیر نتن گڈکری باغپت میں جمنا کے پانی ٹریٹمنٹ پلانٹ کا سنگ بنیاد کرنے پہنچے تھے۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان جانے والی تین دریاؤں کے پانی کو جمنا میں لایا جائے گا۔ اس کے لئے تین پراجیکٹ تیار کئے جا چکے ہیں۔

 

پلوامہ میں سی آر پی ایف جوانوں پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد پاکستان کو سبق سکھانے ہندوستان سے جانے والا پانی روکنے کا مطالبہ مسلسل اٹھ رہی ہے۔ اس دوران مرکزی وزیر نتن گڈکری نے ہندوستان کے حقوق والی تینوں دریاؤں کا پانی پاکستان کے بجائے جمنا میں لانے کی بات کہی ہے۔ ان کی اس اعلان نے پاکستان سے بدلے کو لے کر کئی سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ دراصل، مرکزی وزیر نتن گڈکری باغپت میں جمنا کے پانی ٹریٹمنٹ پلانٹ کا سنگ بنیاد کرنے پہنچے تھے۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان جانے والی تین دریاؤں کے پانی کو جمنا میں لایا جائے گا. اس کے لئے تین پراجیکٹ تیار کئے جا چکے ہیں۔

 

Image result for indian river to pakistan

کیسا ہے پراجیکٹ …
مرکزی وزیر نے کہا کہ دہلی -آگرا سے اٹاوہ تک جلمارگ کے ڈی پیآر تیار ہو گیا ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت باغپت میں دریا پورٹ بنایا جائے گا۔ کسانوں کو ہونے والی پانی قلت کا مسئلہ دور ہوگی اور بہت سے قسم کی فصلیں کسان تیار کر سکیں گے۔ گنے کی کاشت اور چینی ملوں کو بھی اس سے فائدہ ہو گا۔ گڈکری نے کہا کہ ہم گزرگاہوں پر بھی کام کر رہے ہیں۔ پانی کی کمی نہ رہے لہٰذا ہندوستان کے حقوق والی تینوں دریاؤں کا پانی جو پاکستان جاتا ہے، اس موڑ کر جمنا میں لایا جائے گا۔ اس سے ہریانہ اور مغربی اتر پردیش کے لوگ دہلی سے آگرہ جلمارگ سے جا سکیں گے۔

 

Image result for indian river to yamuna river

 

جمنا کنارے دریا پورٹ بننے سے یہ ہوگا فائدہ …
معلوم ہو کہ باغپت میں جمنا کنارے دریا پورٹ بھی تیار کیا جا رہا ہے. پورٹ سے چینی بنگلہ دیش اور میانمار تک بھیجی جا سکے گی۔ اس سے خرچ بھی کم ہوگا۔

Image result for indian river to yamuna river

 

سندھ پانی معاہدہ بنا رکاوٹ …
پاکستان جانے والے پانی کو روکنے کے لئے سندھ پانی معاہدہ رکاوٹ بن سکتا ہے۔ کیونکہ ہندوستان کے سرحد میں آنے والی تین دریاؤں کا پانی سندھ پانی معاہدے کے تحت روکا نہیں جا سکتا۔ پہلے ہوئے پاک ہندوستان جنگوں کے دوران بھی یہ معاہدہ مؤثر رہا تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *