نشنک کے دامن پر لگا بدعنوانی کا داغ

Share Article

راج کمار شرما
ریاست اتراکھنڈ کی نشنک حکومت نے اپنے سب سے زیادہ متنازع پن بجلی پروجیکٹ کو یک لخت مسترد کرنے کا فیصلہ لے لیا۔ حکومت کے اس فیصلے سے ریاست کی حزب مخالف جماعت کو موقع مل گیا ہے۔ اس سے پہلے بھی اپوزیشن نے ایوان کے اندر اور ایوان کے باہر یہ الزام عائد کیا تھا کہ ریاست کی اس حکومت کے ذریعہ 54واٹر الیکٹرک اسکیم میں وزیر اعلیٰ اور ان کی حکومت بدعنوانی میں ملوث ہے۔سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ وزیر اعلیٰ نے یہ فیصلہ ہائی کورٹ میں زیر التوا اشونی کمار شرما کی مفاد عامہ کی عرضی کے آنے والے فیصلے سے ڈر کر آناً فاناً میں لیا۔بجلی اسکیموں سے توبہ کرکے نشنک حکومت نے اپنی ہونے والی رسوائی سے بچ نکلنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن ذرائع کے مطابق اس سے حکومت کی پریشانی کم ہونے والی نہیں ہے۔۔ اسی موضوع کو اٹھانے پر اتراکھنڈ کے ٹہری ضلع پنچایت کے صدر کو ڈسپلن کے نام پر پارٹی سے برطرف کردیا گیاتھا۔ ریاستی حکومت نے ایک ایک نو آموز کمپنیوں کو کئی کئی اسکیمیں ریوڑی کی طرح تقسیم کردی تھیں، جس میں سنگھ کے لیڈروں کے ساتھ مرکزی بی جے پی لیڈروں کے نام آنے سے حکومت کی پریشانی بڑھ گئی تھی۔ بیک فٹ پر آتے ہی حکومت نے تنازع میں گھری ہوئی واٹرالیکٹرک اسکیموں کے الاٹمنٹ پر روک لگانے کا فیصلہ کرلیا۔حکومت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ الاٹمنٹ پر ہونے والے اعتراضات کے معائنے کے دوران پتہ چلا کہ 25جولائی کو جاری اشتہار ریاست کی توانائی پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اب نئے اشتہارات جاری کئے جائیں گے۔ حکومت نے56کمپنیوں کو 963.6 میگاواٹ کی واٹر الیکٹرک اسکیمیں الاٹ کردی تھیں۔ علاوہ ازیں سولر، بایوماس و بایومتھنیشن کی بھی تین اسکیمیں الاٹ کی گئی تھیں۔ان کمپنیوں سے پریمیم کے طور پر 20کروڑ روپے سے بھی زائد رقم جمع کرائی گئی تھی۔ اس کے بعدہی ان اسکیموں کے تعلق سے حکومت پر انگلیاں اٹھنے لگی تھیں۔ اس معاملے میں کانگریس سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے حکومت کو بجٹ سیشن کے دوران خوب گھیرا۔ ایوان کے باہر بھی سڑکوں پر اترکر ،کانگریس نے ان معاملوں میں ہوئے گھوٹالے کے لئے سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا۔ اب صوبہ کی سیاست میں ان متنازع اسکیموں کی منسوخی کو ریاست کی اہم اپوزیشن اپنی فتح کی شکل میں دیکھ رہی ہیں۔بی جے پی کے قومی صدر نتن گڈکری نے اپنے دہرادون کے دورے کے دوران کہا تھا کہ سبھی کاغذات دیکھ لئے گئے ہیں ،کوئی گڑبڑی نہیں ہے۔گڈکری نے ان گھوٹالوں سے واقف ہونے کے بعد بھی نشنک حکومت کی کھل کر تعریف کی تھی۔ اب میڈیا ان سے یہ سوال کررہا ہے کہ گڈکری جی جب سب کچھ ٹھیک ہی تھا تو پھرحکومت کو الاٹمنٹ کے عمل کو منسوخ کرنے کی ضرورت کیوں آن پڑی؟ریاست کی بہوجن سماج پارٹی کے رکن اسمبلی شہزاد نے بی جے پی حکومت کے ذریعہ واٹر الیکٹرک اسکیم کی منسوخی کو حزب اختلاف کی شاندار فتح سے تعبیر کیاہے۔ اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ نشنک حکومت بدعنوانی میں ملوث ہے اور اس پورے معاملے کی سی بی آئی کے ذریعہ جانچ ضرور ہونی چاہئے۔ بی ایس پی نے مطالبہ کیا ہے کہ رشی کیش کا اسٹرڈیا گھوٹالے کے عمل کو بھی منسوخ کرکے ، اس کی بھی جانچ سی بی آئی سے کرائی جائے۔ نشنک حکومت کو پہلی بار اسمبلی سے سڑک تک گھیرنے والے لیڈر ہرک سنگھ راوت اور ریاستی کانگریس کے صدر یشپال آریہ نے بیک آواز کہا کہ اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ اپوزیشن کی بات میں دم تھا اور یہ کارروائی اپوزیشن کی ایک شاندار جیت  ہے۔ حکومت نے ان کے دباؤ کی وجہ سے مجبور ہوکرہی اس طرح کا فیصلہ لیا۔ حکومت کے اس فیصلے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکومت بے داغ نہیں تھی۔ ان کا ماننا ہے کہ سی بی آئی کے ذریعہ جانچ ہوجانے سے حکومت کا اصلی چہرہ عوام کے سامنے آجائے گا۔ حکومت کی اسکیموں کو منسوخ کرنے کے فیصلے کے باوجود ریاست کے بیدار عوام کی نگاہیں ہائی کورٹ کے فیصلے پر ابھی بھی ٹکی ہوئی ہیں۔ اس معاملے میں صوبے کی نشنک حکومت اب بھی کچھ زیادہ ہی خوفزدہ نظر آرہی ہے۔کیونکہ حکومت نے اس معاملے کی پیروی عدالت میں کرنے کے لئے حکومت اتر پردیش کے سابق اسپیکر و سرکردہ لیڈر پنڈت کیسری ناتھ تر پاٹھی جی کو لگارکھا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *