نائٹی پہننا منع ہے

Share Article


جنوبی ہند میں ایک گاؤں کے چند بزرگوں نے خواتین پر دن کے اوقات میں نائٹی یا شب خوابی کا لباس پہننے پر پابندی لگا دی ہے۔جیسا کہ اس ڈھیلے ڈھالے لباس کے نام نائٹیز سے ہی ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ اصل میں رات کو سوتے وقت پہنے جانے والا لباس تھا، لیکن چند سالوں کے دوران ملک کے شہروں، دیہاتوں اور قصبوں میں لاکھوں خواتین کا دن میں پہنے جانے والا پسندیدہ لباس بھی بن گیا ہے۔چار ماہ قبل ریاست آندھرا پردیش کے ٹوکالاپلی گاؤں کی نو ارکان پر مشتمل ایک کونسل نے جس کی سربراہی بھی ایک خاتون ہی کر رہی تھیں، خواتین اور لڑکیوں کو حکم دیا کہ وہ صبح سات بجے سے شام سات بجے تک نائٹی نہیں پہن سکتیں اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو انھیں دو ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔یہی نہیں اگر کوئی اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والی خاتون کے بارے میں اطلاع دیتا ہے تو اسے ایک ہزار روپے بطور انعام دیا جائے گا۔

 

گاؤں والے اس پابندی پر سختی سے عمل کر رہے ہیں اور تاحال اس کی خلاف ورزی کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے۔اسی گاؤں کے ایک بزرگ بالی وشنو مورتھی نے بتایا کہ اس پابندی کا مقصد خواتین کو اپنے جسم ظاہر کرنے سے روکنا ہے۔ ’گھر پر نائٹی پہننے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن اسے گھروں سے باہر پہننے سے توجہ ان کی جانب ہو سکتی ہے اور اسے پہننے والی کے لیے مسئلہ بن سکتا ہے۔‘بعض رہائشیوں جن میں مرد اور خواتین دونوں شامل ہیں نے کہا ہے کہ انھوں نے اس حکم کی مخالفت کی لیکن انھیں اسے ماننا ہی پڑا کیونکہ انکار کی صورت میں انھیں جرمانہ ادا کرنا پڑتا جو کہ مچھیروں کے اس گاؤں والوں کے لیے ایک بڑی رقم ہے۔
نائٹیز کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ برطانوی دور میں ہندوستان آئی کیونکہ انگلش خواتین اسے پہنا کرتی تھیں۔ پھر اسے با اختیار ہندوستانی خواتین نے پہننا شروع کر دیا۔تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ نائٹی بیڈ روم سے گلیوں میں کب آئی، لیکن 70 کی دہائی میں گجرات کے ایک چھوٹے سے قصبے میں پلتے بڑھتے ہوئے انھوں نے ’ماؤں اور آنٹیوں‘ کو دن کے اوقات میں قریبی مقامی بازاروں میں بھی نائٹی پہنے دیکھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *