انگریزی اخبار میں اے ایم یو کے خلاف شائع خبر گمراہ کن اور بے بنیاد: اے ایم یو

Share Article

amu

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے انگریزی کے ایک قومی اخبار ٹائمس آف انڈیا میں شائع خبر ”اے ایم یو نے7 پی ایچ ڈی امیدواروں پر 3تعلیمی میقات کے لئے داخلہ پر پابندی لگائی“پر سخت اعتراض جتاتے ہوئے اسے گمراہ کن،حقیقت سے پرے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے خلاف ایک قدم بتایا ہے۔ اس خبر میں کہا گیا ہے کہ ایک مقامی سیاستداں کے کہنے پر شعبہ ہندی میں ایک طالبہ کو ضابطہ کے خلاف پی ایچ ڈی میں داخلہ دیا گیا ہے جبکہ مذکورہ طالبہ نے داخلہ فارم بھی نہیں بھرا تھااور انٹرویومیں بھی شامل نہیں ہوئی تھی۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے واضح کیا ہے کہ مذکورہ طالبہ بینائی سے محروم ہونے کی وجہ سے پی ایچ کیٹیگری میں آتی ہے اور اس نے مجوزہ تاریخ کے اندر داخلہ فارم بھی بھرا تھا لیکن کسی تکنیکی خامی کی وجہ سے اس کا فارم جمع نہیں ہو سکا۔ بعد میں اسی نوع کی تکنیکی خامی کی وجہ سے دیگرکئی پی ایچ کیٹیگری کے طلباء کے ساتھ مذکورہ طالبہ کا فارم بھی قبول کر لیا گیا تھا۔ یونیورسٹی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس طالبہ کو یو جی سی نیٹ /جے آر ایف ہونے کی بنیاد پر ضابطہ کے مطابق پی ایچ ڈی داخلہ امتحان میں شامل ہونے سے مستثنی قرار دیا گیا تھا لیکن اس طالبہ نے انٹرویو میں حصہ لیا اور میرٹ کی بنیاد پر اسے پی ایچ ڈی کورس میں داخلہ دیا گیا۔اس لئے یہ کہنا کہ طالبہ کو کسی مقامی لیڈر کی سفارش پر داخلہ دیا گیا ہے، پوری طرح غلط، گمراہ کن اور اے ایم یو کے وقار پر ایک ضرب ہے۔

اے ایم یو انتظامیہ نے بتا یا کہ پی ایچ ڈی میں داخلے کے سبھی امیدواروں کے نمبر ویب سائٹ پر شائع کیے گئے ہیں اور یہ الزام پوری طرح بے بنیاد ہے کہ داخلہ کے عمل میں شفافیت کے اصولوں کو اختیار نہیں کیا گیا ہے۔اے ایم یو نے سبھی قومی اور مقامی اخباروں سے اپیل کی ہے کہ یونیورسٹی سے متعلق کسی بھی ایسی خبر کو شائع کرنے سے پہلے اے ایم یو انتظامیہ سے وضاحت ضرور لے لیں جس سے اے ایم یو کے وقار کو ٹھیس پہنچتی ہو۔یونیورسٹی نے واضح کیا ہے کہ مذکورہ انگریزی اخبار کے خلاف قانونی چارہ جوئی پر غور کیا جا رہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *