نیوزی لینڈ: مسجد حملے میں شہید ہونے والوں میں 8 ہندوستانی، ان میں 5 گجرات کے

Share Article

 

کرئسٹ چرچ: نیوزی لینڈ کی النور اور لنوڈ مسجد میں جمعہ کو ہوئے دہشت گردانہ حملے میں آٹھ ہندوستانیوں کی موت کی تصدیق ہو گئی ہے۔ ایک اب زخمی ہے۔ نیوزی لینڈ میں موجود بھارتی سفارت خانے کے سیکنڈ سکریٹری پرم جیت سنگھ نے ہفتہ کی دیر رات یہ معلومات دی۔ سفاکانہ دہشت گردی کے واقعہ میں 49 افراد ہلاک اور 50 زخمی ہو گئے تھے۔

متاثرین کے لواحقین نے مودی سے مدد کی فریاد
new-zealand-terror-attack-2

مرنے والوں میں گجرات کے رمیز عارف بھائی ووہرا، ان کے والد محمد علی ووہرا، محبوب کھوکھر، حافید موسی اور جنید کارا شامل ہیں۔ کیرالہ کی پی جی طالبہ اینس علی کی بھی شہید ہوئی ہے۔ ان کے علاوہ حیدرآباد کے فرحاز احسان سمیت 2 افراد کی موت کی تصدیق ہوئی۔ لواحقین نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ سشما سوراج سے مدد مانگی ہے۔

حملہ آور نے کورٹ میں اوکے سائن دکھایا
new-zealand-terror-attack-3

دوسری طرف، مساجد میں فائرنگ کر49 لوگوں کا بے رحمانہ قتل کرنے کا ملزم آسٹریلوی شہری بریٹن ٹیرنٹ کو ہفتہ کو رٹ میں پیش کیا گیا۔ افسوس تو دور کی بات ہے،اس نے اوکے سائن بنا کر دکھایا۔ یہ سائن سفید فام پرست گروپوں کی طرف سے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اس کے دل میں اسلام ہی نہیں بلکہ سیاہ فام لوگوں کے تئیں بھی نفرت کا اظہار تھا۔

ویڈیو میں نظر آیا تھا حیدرآباد کا ایک نوجوان
new-zealand-terror-attack-1

حیدرآباد کے خورشید اقبال نے بتایا:’ میرے بھائی احمد جہانگیر بھی جمعہ کو نیوزی لینڈ کی النور مسجد گئے تھے۔ایک ویڈیو ملا ہے ، جس میں وہ نظر آ رہے ہیں۔ اس کے سینے میں گولی لگی ہے اور وہ اسٹریچر پر لیٹے ہیں۔

وہیں وزیر اعظم مودی نے حملے میں مارے گئے معصوم لوگوں کے تئیں دکھ کا اظہار کیا تھا۔ مودی نے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کو لکھے گئے خط میں کہا کہ بھارت تمام قسم کے دہشت گردی اور اس طرح کے واقعات کی حمایت کرنے والوں کی مذمت کرتا ہے۔اس قسم کی نفرت اور تشدد کی جمہوریت میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

جسے پہلے گولی لگی، اس نے حملہ آور کو کہا تھا’ہیلو برادر‘

حملہ آور ٹیرنٹ فیس بک لائیو جب ہتھیار لے کر مسجد پہنچا تو سب سے پہلے دروازے پر ایک شخص سے اس کا سامنا ہوا۔ اس شخص نے حملہ آور کے استقبال میں ہیلو برادر کہا، یہ دیکھ کر بھی کہ حملہ آور اس کی طرف بندوق تانے ہوئے تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ تبھی اسے گولی مار دی گئی۔ یہ واقعہ اسی ویڈیو میں قید ہو گیا، جسے حملہ آور فیس بک پر لائیو دکھا رہا تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *