کملیش تیواری قتل کے پیچھے نئی دہشت گرد تنظیم تیار ہونے کا اندیشہ

Share Article

 

۔ اب تک کی تحقیقات میں اس واقعہ کے پیچھے بڑے گینگ کا انکشاف، طویل سازش کے تحت ہوا قتل
۔ رام مندر مسئلے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے سے پہلے ماحول بگاڑنے کی سازش

 

ہندو سماج پارٹی کے رہنما کملیش تیواری کاقتل ایک گہری سازش کا حصہ ہے۔ اب اس کیس کے پرت در پرت ظاہر ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔ اب پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کا بھی خیال ہے کہ اس معاملے کا انکشاف جتنا آسان مانا جا رہا تھا، اتنا ہے نہیں۔ یہ کیس اجودھیا میں رام مندر تنازعہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ سے پہلے ماحول بگاڑنے کی سازش کا بھی حصہ ہو سکتا ہے۔ لہٰذا خفیہ ایجنسیوں کے بھی کان کھڑے ہو گئے ہیں۔ مستقبل میں ایسا واقعہ دہرایا نہ جائے ، اسکے لئے پیر کی رات پوری ریاست میں پولیس نے ہوٹلوں، دھرمشالائوں، لاج اور ٹھہرنے کی جگہوں پر تلاشی مہم چلا کر مستعدی بڑھا دی ہے۔

کوئی نئی دہشت گردی تنظیم تیار ہونے کا خدشہ
اس قتل کے تار کرناٹک، گجرات، مہاراشٹر، نیپال کے ساتھ ہی ان ریاستوں کے کئی اضلاع سے جڑتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اب تک کی دہشت گرد تنظیموں سے الگ کوئی نئی دہشت گردی تنظیم تیار ہو چکی ہے۔ یہ بھی امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ تنظیم ایک دو دنوں میں تو تیار نہیں ہوئی ہوگی۔ یہ بہت دنوں سے ماڈیول کے طور پر کام کر رہی ہوگی۔ یہ بھی امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس تنظیم کو کسی پرانی تنظیم کی پشت پناہی حاصل ہو۔

مرکزی ایجنسی سے جانچ کے بڑھ گئے امکان
تمام پہلوؤں کو دیکھتے ہوئے اس معاملے کی کسی مرکزی ایجنسی سے پورے معاملے کی جانچ کرائے جانے کا امکان بڑھ رہا ہے۔ پیر کے روز ڈی جی پی اوم پرکاش سنگھ نے بھی کہا کہ کسی بھی امکان سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ گجرات اے ٹی ایس نے اکتوبر 2017 میں دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس کے مشتبہ افراد کو گرفتار کیا تھا۔ ان سے پوچھ گچھ میں ہی دہشت گردوں کے ذریعہ کملیش کے قتل کی سازش کی بات سامنے آئی تھی۔

ملزمین کو کئی جگہ سے مل رہی مدد
اب تک کی تحقیقات میں یہ سامنے آ چکا ہے کہ فرار ملزمینپٹھان معین الدین احمد اور شیخ اشفاق حسین جہاں بھی گئے، وہاں مقامی سطح پر ان کو مدد ملی ہے۔ اسی طرح سے ان کی مدد کے لئے دوسری ریاستوں سے بھی آگے آنے کی بات سامنے آ رہی ہے۔ اس سے یہ لگنے لگا ہے کہ یہ منظم طریقے سے کیا گیا قتل ہے۔ اس کے لئے طویل پلاننگ کی گئی ہو گی۔ ان معلومات پر یوپی اے ٹی ایس دیگر ریاستوں کی اے ٹی ایس سے رابطہ بنا کر اس پورے نیٹ ورک کی تہہ تک جانے کی کوشش کر رہی ہے۔ مختلف ریاستوں کی جانچ ایجنسیوںکی جانچ بھی اس پورے معاملے کے پیچھے کسی تنظیم کا ہاتھ ہونے کی سمت میں بڑھ رہی ہے۔

نیپال جانے کی کوشش میں تھے دونوں فرار ملزم
سورت سے ہی سازش رچنے والوں فیضان، مولانا محسن شیخ اور رشید احمد پٹھان کو گرفتار کیا گیا۔ کملیش تیواری کو قتل کرنے کے بعد پٹھان معین الدین احمد اور شیخ اشفاق حسین بریلی گئے۔ ملزمین کے مددگار بریلی میں بھی ہیں، کیونکہ جب وہ وہاں پہنچے تو انہیں علاج میں مدد پہنچائی گئی۔ اس کے بعد دونوں ملزم نیپال جانے کی کوشش میں 20 اکتوبر کو نیپال سرحد کے گوریفنٹا تک پہنچ گئے تھے لیکن سرحد پر سخت مستعدی دیکھ کر بارڈر پار نہیں کر سکے اور پلیا واپس لوٹنے کے بعد انووا سے شاہ جہاں پور پہنچے۔ ایس ٹی ایف نے انووا کے ڈرائیور کو حراست میں لے لیا ہے۔ اس نے بتایا کہ دونوں نیپال سرحد پار کرنا چاہتے تھے، لیکن مستعدی دیکھ کر شاہ جہاں پور واپس آ گئے اور ٹیکسی چھوڑ دی۔

گجرات سے قاتلوں کے لئے بک کرائی گئی تھی ٹیکسی
قتل کے ملزمین کو نیپال پہنچانے کے لئے گجرات سے فون کیا گیا تھا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ ٹیکسی ڈرائیور کے مالک لکھیم پور کے پلیا میں رہتے ہیں، جبکہ ان کے رشتہ دار گجرات میں ہیں۔ قاتلوں کے لئے انہی نے ٹیکسی مالک کو فون کیا تھا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ ٹیکسی کا کرایہ 5000 روپے تھا، جس کی ادائیگی بھی گجرات سے ہی ہوئی تھی۔ پولیس حکام نے بتایا کہ قاتل اتوار کی رات تقریباً 12 بجے ٹیکسی سے شاہ جہاں پور ریلوے اسٹیشن پہنچے تھے۔ اس کا پتہ چلتے ہی ایس ٹی ایف اور اے ٹی ایس نے ہوٹلوں اور مدارس میں تابڑ توڑ چھاپے مارے۔ تفتیشی ایجنسیاں یہ جاننے میں مصروف ہیں کہ ملزم اب شاہ جہاں پور میں ہی چھپے ہیں یا کہیں اور فرار ہو گئے ہیں۔

سرینڈر کرنے کے لئے وکیل کو کال
لکھنؤ کے ٹھاکرگنج رہائشی ایک وکیل کو پیر کی صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے کال آئی۔ ذرائع کے مطابق فون کرنے والوں نے خود کا تعارف کملیش قتل کے ملزم شیخ اشفاق حسین اور پٹھان معین الدین احمد کے طور پر دیتے ہوئے کورٹ میں سرینڈر کرنے کی خواہش ظاہرکی ۔ وکیل نے تھوڑا وقت مانگا تھا لیکن بعد میں دوبارہ فون نہیں آیا۔ ملزمین کا فون آنے کے بعد وکیل نے فوری طور پر اس کی معلومات پولیس کو دی۔ جس موبائل نمبر سے فون آیا تھا، وہ لکھیم پور کے پلیا کے ٹیکسی ڈرائیور کا تھا۔ ملزمین نے اسی سے وکیل کا موبائل نمبر مانگ کر فون کیا تھا۔ وکیل سے ملزمان کے رابطہ کرنے کی معلومات ہوتے ہی پولیس الرٹ ہو گئی ہے۔

گجرات اور مہاراشٹر سے پکڑے گئے چار مشتبہ
مہاراشٹر کی اے ٹی ایس ٹیم نے ناگپور سے سید عاصم علی نام کے نوجوان کو دبوچا ہے۔ پکڑا گیا ملزم سید عاصم علی تیواری قتل کے ماسٹر مائنڈ رشید پٹھان سے مسلسل رابطے میں تھا۔ کملیش تیواری کے قتل میں اس کا کردار بھی مشکوک لگ رہاہے۔ یوپی اے ٹی ایس نے پیر کے روز ناگپور کورٹ میں اسے پیش کرنے کے بعد 72 گھنٹے کی ٹرانزٹ ریمانڈ حاصل کی ہے۔ اس سے پہلے گجرات سے گرفتار کئے گئے مولانا محسن شیخ، رشید پٹھان اورفیضان کو احمد آباد سے 72 گھنٹے کی ٹرانزٹ ریمانڈ پر پیر کے روز لکھنؤ لاکر عدالت میں پیش کیا گیا اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ اس طرح اب تک اس معاملے میں چار افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اس قتل کا ماسٹر مائنڈ رشید پٹھان ہے۔

ایس ٹی ایف دیکھ رہی سی سی ٹی وی فوٹیج
ایس ٹی ایف نے کچھ جگہوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور اس کا باریکی سے مطالعہ کر رہی ہے۔ پیر کے روز صدر کوتوالی پولیس نے روڈ ویز کے کنٹرول روم میں بیٹھ کر سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھا، جسے پین ڈرائیو میں ڈاؤن لوڈ کیا گیا۔ کملیش کے قاتلوں کی گرفتاری پولیس کے ٹیڑھی کھیر ثابت ہوتی جا رہی ہے۔ اسی وجہ سے ڈی جی پی اوپی سنگھ نے ڈھائی ڈھائی لاکھ روپے کا انعام مقرر کیا ہے۔ ڈی جی پی نے پیر کے روز کہا کہ اس قتل میں پولیس اور ایس آئی ٹی چھوٹی چھوٹی چیزوں کوجوڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کئی ایسی معلومات ملی ہیں، جسے اشتراک نہیں کیا جا سکتا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *