ملک زادہ جاوید
جولوگ جدت پسندی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے ہیں، ان میں یکسانیت کی باڑھ سی آگئی ہے۔ قدیم بنیادوں پر قائم رہ کر شاعری میں نیاپن پیدا کرنے والوں کی تعداد عنقاء ہوتی جارہی ہے۔ ایک ہی طرح کے لفظوں کے استعمال سے موجودہ شاعری انحراف نہیں کرپارہی ہے۔ مثال کے طورپر شجر، جگنو، پرندہ، بچے، ماں، گھر، تتلی، سفر، خوشبو، پتے، لہجہ، چاند، بادل، موسم، ماضی، اخبار، دیوار، راستہ، آئینہ، بارش، دھوپ، پانی، اجالا، اندھیرا، چادر، بیٹا ، بیٹی، باپ، بھائی، آسمان، حالات، کتاب، ورق، ہجرت، فاصلہ، بھوک، بے بسی، وقت، زندگی، دیوار، کھڑکی، کمرہ، چھت، دالان، آدمی، تازگی، اداسی، دوستی، دشمنی، آندھی، لہو، نصیب، خوف، تاریکی، پھول، شاخیں، دھواں، دروازہ، روشنی، سیاست، بچپن، وقت، ثمر، خزاں وغیرہ وغیرہ۔ نئی نسل کے جدید شعرا کے حوالہ سے یہ بات بالکل سچ ثابت ہورہی ہے اگر کسی شاعر نے اپنے اشعار میں کوئی نیا لفظ جوکہ نئی غزل میں ابھی تک نہیں برتاگیاہے، اشعارمیں شامل کیا ہے تو ایسے لفظ کا دیگر شعراء نے پوسٹ مارٹم کردیا ہے اور اس لفظ کو اتنا استعمال کیا ہے کہ اس کی چمک ماند پڑ گئی ہے۔ نئے اور تازہ خیال کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے؟ کچھ شعراء جدت پسندی کی رو میں اتنا آگے بڑھ گئے ہیں کہ ان کی سنجیدہ شاعری بھی مزاحیہ شاعری کا روپ اختیار کرلیتی ہے۔
1980کے بعد جو نئی نسل اپنی شاعری کے حوالہ سے ادب کے افق پر چمکی ہے، اس نے جدید شاعری میں کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں، خوب خوب تجربات کئے ہیں اور اپنی ایک شناخت قائم کی ہے۔ آہ وفغاں، شوق وانتظار، ہجرووصال، لب ورخسار تک محدود رہنے والی شاعری بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ اپنا پیرہن تبدیل کرچکی ہے۔ ترقی پسند شعراء نے اس معاملے میں اپنی نظموں اور غزلوں کے حوالہ سے روایت کے بتوں کو توڑا ہے اور جدید شعراء نے اسے عام انسانوں کے مسائل سے جو ڑا ہے۔داخلی باتیں ہوں یا خارجی، آج ہمیں منظر عام پر نظر آتی ہیں۔ نئی نسل کے شعراء کا یہ کارنامہ کم نہیں ہے کہ اس نے عوام کو اپنی شاعری سے باندھے رکھا ہے اور خواص کو اپنی فکری بصیرت سے آشنا کیا ہے۔ مشاعروں کے مقبول شاعر منظر بھوپالی نے جب یہ شعر کہا کہ
کہہ دو میر ؔوغالب ؔسے شعر ہم بھی کہتے ہیں
وہ صدی تمہاری تھی یہ صدی ہماری ہے
تو اس شعر پر ہنگامہ برپا ہوگیا ۔لوگوں نے اس شعرپر کھل کر تنقیدیں کیں اور یہاں تک کہا کہ یہ چھوٹا منہ بڑی بات ہے ۔ کچھ لوگوں نے اسے میرؔ و غالبؔ کی توہین کہا۔ حالانکہ میرے نزدیک یہ شعر نئی نسل کی خود اعتمادی کی ایک دلیل ہے۔ بظاہر اس شعر میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جو اردو شاعری کی ایک صدی میرؔ و غالبؔ کی عظمتوں کو حرف پہنچاتی ہو۔ اس شعر میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ اردو شاعری کی ایک صدی میرؔ وغالبؔ جیسے بڑے شاعروں کے نام منسوب ہے اور موجودہ صدی نئی نسل کے حوالہ سے جانی پہچانی جاتی ہے۔ اسی طرح ندا فاضلیؔ کے اس شعر پر قدامت پسند حضرات صف آرا ہوگئے۔
سورج کو چونچ میں لئے مرغا کھڑا رہا
کھڑکی کے پردے کھینچ دئے رات ہوگئی
ان کے نزدیک یہ شعر جدت پسندی کی ایک بھونڈی مثال تھی۔ اس سلسلہ میں مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ جب کوئی شاعر یا ادیب روایت کی دیوار میں سیندھ لگاتا ہے تو اس کے اوپر چاروں طرف سے یلغار ہوجاتی ہے اور لوگ اسے طرح طرح کے خطابات سے نوازنے لگتے ہیں۔ مگر یہ شعر جدید شاعری کی بہترین مثال ہے، جس نے روایت کے صنم کدوں میں ایک ہلچل مچادی۔ کافی دنوں تک ندافاضلیؔ کو اپنے اس شعر کی وجہ سے پرانے اور بوسیدہ حضرات کی فکر سے الجھنا پڑا اور ان کی مخالفت سے دوچار ہونا پڑا۔ نئی نسل کے نمائندہ شاعر اور نثر نگار منور راناؔ نے جب ’’ماں‘‘ کو موضوع غزل بنایا تو بہت سے ادیبوں اور شاعروں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ ’’ماں‘‘ غزل کا موضوع نہیں ہوسکتی۔ ان حضرات کے نزدیک غزل کے لفظی معنوں کی بنیاد تھی، جس کے مطابق غزل میں صرف عورت کے حسن کی تعریف یا اس سے بات چیت کی جاسکتی ہے۔ میرا ان تمام حضرات سے کہنا ہے کہ غزل کے لفظی معنوں کو اگر سچ بھی مان لیا جائے تو کیا کوئی بیٹا اپنی ماں سے عشق نہیں کرسکتا یا اپنی ماں کی تعریف میں غزل کے شعر نہیں کہہ سکتا۔
آج غزل نے اپنا دامن بہت وسیع کرلیا ہے۔ طرح طرح کے موضوعات اس میں در آئے ہیں۔ حیات وکائنات اور گردوپیش میں رونما ہونے والے واقعات، سماج، سیاست، حالات حاضرہ پر غزل کے اشعار گفتگوکرنے لگے ہیں۔ کوئی نیا موضوع نہیں ہے، جس میں موجودہ شاعری نے کمندیں نہ ڈالی ہوں۔ ایسی صورت میں ’’ ماں‘‘ جو کہ تعلق کے لحاظ سے انسان کے سب سے قریب ہے۔ اس کے ذکر کے بغیر محبت اور رشتوں کی پاکیزگی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ چنانچہ اس کے ذکر سے غزل کیسے اچھوتی رہ سکتی ہے۔ آج کے اردو کے زیادہ تر شعراء منور راناؔ کی تقلید کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں اور ’’ماں‘‘ کے کردار کو اپنی غزلوں یا نظموں میں پیش کررہے ہیں۔ یہ دنیا کا دستور ہے کہ وہ ہر اس چیز کی مخالفت کرتی ہے جو کہ پہلے سے رائج نظام کی تبدیلی پر مضمر ہو، بعد میں اس کی عظمتوں کی معترف اور مداح نظر آتی ہے۔تبدیلی وقت قدرت کا حسین تحفہ ہے جس کے ساتھ انسان کو چلنا چاہئے مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کہ گزرے زمانوں پر ناز کرتے ہیں، وہ موجودہ فکر اور معاشرہ سے مطمئن نہیں ہوتے۔ اس کی کمیوں پر نظر رکھتے ہیں اور پچھلے زمانوں سے اس کا موازنہ کرتے ہیں۔ اسے برا بھلا کہتے ہیں۔ ایسے حضرات لکیر کے فقیر ہوتے ہیں اور وقت کی رفتار کاساتھ نہیں دے پاتے اور کچھ دنوں بعد گمنامیوں کے گہرے غاروں میں دفن ہوجاتے ہیں۔ نئی نسل کے شعراء کا المیہ یہ ہے کہ انہیں پرانے ادیبوں اور شاعروں کی سرپرستی کے بجائے ان کی مخالفت کو جھیلنا پڑرہا ہے۔ ہماری تنقید پرانی قبروں میں دفن شعراء یا ادیبوں کی لاشیں نکال نکال کر ان پر تنقیدی مضامین لکھ رہی ہے، ان پر تحقیق کررہی ہے۔ زندہ ادیبوں اور شاعروں پر ان کی نگاہیں نہیں ٹھہر رہی ہیں۔ اس کے پیچھے ان کا مقصد صرف اتنا ہے کہ جب اس ادیب یا شاعر کی Bibliographyبنے گی تو اس کانام بھی جلی حرفوں میںشامل ہوگا۔ ان پرانے تنقید نگاروں کو کون سمجھائے کہ ہر نسل اپنا تنقید نگار خود پیداکرتی ہے۔ خداکا شکر ہے کہ نئی نسل نے جہاں اچھے شعرا اور نثر نگار پیداکئے ہیں، وہاں اس نے تنقید نگاروں کی ایک پوری کھیپ بھی تیار کرلی ہے، جس میں سے کچھ کے نام حسب ذیل ہیں۔ ڈاکٹر کوثر مظہری، ڈاکٹر علی احمد فاطمی، شافع قدوائی، ڈاکٹر مولیٰ بخش، جمال اویسی، راشد انورراشد، امتیاز احمد، ندیم احمد، سلیم شہزاد، سلیم انصاری، سیفی سرونجی، مشتاق صدف، سرور الہدیٰ ، ہمایوں اشرف، فاروق جائیسی، جاوید انور، انور پاشا، شمیم طارق ، عارف ہندی، فرحت احساس، ابراہیم اشک، عطا عابدی، شہاب ظفر، ساجد رشید، عبدالاحد ساز، شہزاد انجم، شہپر رسول وغیرہ وغیرہ کے نام شامل ہیں۔
ہندوستان کے مختلف شہروں سے نئی نسل سے وابستہ کچھ حضرات ادبی رسالوں کی اشاعت میں مصروف ہیں جو کہ نئی نسل کی ترجمانی کا وسیلہ اپنے رسالے کو بنائے ہوئے ہیں۔ تنقیدی مضامین ہوں یا شعری یا نثری تخلیقات ہوں ان رسالوں میں معروف ادیبوں شاعروں کے ساتھ غیر معروف قلم کاروں کی بھی اچھی خاصی نمائندگی ہورہی ہے، جو چند رسالے نئی سوچ اور تازہ لہجہ کو بروئے کار لارہے ہیں، ان میں نیاورق، ذہن جدید، تحریک ادب، تحریر، شاعر، نئی کتاب، کتاب نما، اردو دنیا، ایوان اردو، امکان، بزم سہارا، انتساب، لاریب، آجکل، گلبن، صدا، جمناتٹ، نئی صدی، نیادور، انشا، ادب ساز، اثبات، اردو چینل، کسوٹی جدید، مژگاں، ترکش، مباحثہ، جہان اردو، انتخاب۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کچھ پرانے ادیب وشاعر جو کہ کسی خاص نظریہ کے مبلغ ہیں، ان کا ماننا یہ ہے کہ موجودہ ادب وشاعری کے امکانات وقتی ہیں۔ یہ حضرات اپنے نظریات کی قندیل آندھی کے سامنے جلائے ہوئے ہیں، جن کے ماننے والے مختصر ترین رہ گئے ہیں۔ ایسے حضرات کے سلسلہ میں صرف اتنا کہا جاسکتا ہے کہ اللہ انہیں عقل سلیم عطاکرے۔ نئی شاعری کا مفہوم یہ قطعی طور پر نہیں ہے کہ آپ اس میں ایسے ایسے لفظوں کا استعمال کریںکہ نظم یا غزل اس کا بوجھ نہ اٹھاسکے۔ جدید شاعری کی ابتدا میں تجریدی اشعارکہے گئے اور اردو کے کئی مقبول شاعروں نے اس میں طبع آزمائی کی مگر اسے قبول نہیں کیا گیا۔ جدت پسندی ٹھیک ہے مگر اس کی ایک حد مقرر ہونی چاہئے۔ حد سے باہر جو چیز چلی جاتی ہے وہ اپنے محور سے کٹ جاتی ہے اور وہ لاتوجہی کا شکار ہونے لگتی ہے۔ آزاد غزل کا تجربہ مظہر امام صاحب نے کیا مگر اسے بھی اردو ادب کے سنجیدہ اور پڑھے لکھے حضرات نے قبول نہیں کیا۔ نثری نظم حالانکہ کبھی کبھی اردو رسائل میں نظر آتی ہے یا کسی شعری نشست میں کوئی شاعر سناتاہوا دکھائی دیتا ہے، مگر اس صنف کو بھی عروج حاصل نہیں ہوسکا۔ ہاں آزاد نظم کے چاہنے والے لوگ ابھی موجود ہیں، جو کہ اسے سن کر یا پڑھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ماہئے، دوہے، رباعی،ہائیکو، ثلاثی، کا چلن دھیمے دھیمے ختم ہوتا جارہا ہے مگر اس کے پسند کرنے والوں کی تعداد ابھی باقی ہے، جو کہ بہت تھوڑے حضرات پر مشتمل ہے۔ قطعات کی روایت ابھی قائم ہے، چار مصرعوں میں بڑی سے بڑی بات کو کہنے کا ہنرنئے اور پرانے شعراء میں موجود ہے، جسے عوام اور خواص کی حمایت حاصل ہے۔ گویا کہ اوزان اور بحور میں کی گئی شاعری کو آج بھی قدر ومنزلت کی نگاہوں سے اردو زبان میں دیکھاجارہا ہے۔ دنیا کی بیشتر ترقی یافتہ زبانوں کی شاعری میں بحر، ردیف قافیہ، نہیں ہے، ان کا خیال ہے کہ وہ اس فریم میں پھنس کر اپنی فکر کو زیادہ وسعت نہیں دے سکتے۔ مگر ہماری زبان کے وہ شعراء قابل ستائش ہیں جو کہ ان پابندیوں کے ساتھ اچھی اور معیاری شاعری کی تخلیق کررہے ہیں اور اردو ادب کے خزانہ میں اضافہ کررہے ہیں۔ دنیا کے ہر شعبہ میں امکانات موجود ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ اردو شاعری میں آنے والے دنوں میںکوئی ردوبدل ممکن ہو۔کوئی نئی تحریک پھر سے اپناسر اٹھائے اور اردو شاعری میں ایک نیا موڑآئے۔ مگر یہ بات میں پورے اعتماد اور یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہماری موجودہ شاعری(جدید شاعری) اور ہمارے موجودہ ادب(جدید ادب) کو فراموش کرنے کی ہمت مستقبل کے بس کی بات نہیں ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here