نئی قومی تعلیمی پالیسی :حکومت ہند نے دارالعلوم دیوبند سے تجاویزطلب کی

Share Article
darul-uloom-deoband
حکومت ہند نے نئی قومی تعلیمی پالیسی تیار کرنے میں دارالعلوم دیوبند سے بھی تجاویز طلب کی ہیں، حکومت ہند کی وزارت برائے فروغ انسانی وسائل نے قومی تعلیمی پالیسی کا مسودہ مرتب کرنے کے لئے جو ڈرافٹ کمیٹی تشکیل دی ہے اس میں دارالعلوم دیوبند کو شامل کیاگیاہے۔ دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم مولانا عبدالخالق سنبھلی نے ملک کی قومی تعلیمی پالیسی کے سلسلہ میں کہاکہ کسی بھی ملک کی قومی تعلیمی پالیسی ملک کی نسل نو کا مستقبل طے کرتی ہے اس لئے یہ بہت حساس معاملہ ہے ہم بھی اس بات کی کوشش کررہے ہیں کہ حکومت کو اس سلسلہ میں تجاویز بھیجی جائیں۔
میڈیا کو جاری اطلاعات میں مولانا عبدالخالق سنبھلی نے بتایا انہوں نے کہا کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی تیار کرنے میں دارالعلوم دیوبند کی تجاویز بھی طلب کی گئیں ہیں۔ حکومت ہند کی وزارت برائے فروغ انسانی وسائل نے قومی تعلیمی پالیسی کا مسودہ مرتب کرنے کے لئے جو ڈرافٹ کمیٹی تشکیل دی ہے اس کی جانب سے دارالعلوم کو بھی تجاویز پیش کرنے کے لئے دعوت نامہ موصول ہوا ہے، مشہور سائنس داں پدم بھوشن ڈاکٹر کستوری رانگن کی زیر صدارت قائم ہوئی ڈرافٹ کمیٹی کی جانب سے مورخہ 19؍ جنوری کو بنگلور میں جو اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اس میں دارالعلوم دیوبند کے نمائندہ کے طورپر رکن شوریٰ مولانا محمد اسماعیل مالیگاؤں شرکت کریں گے۔
اس اجلاس میں اقلیتوں کی تعلیمی شرکت کے سلسلہ میں دارالعلوم دیوبند اپنی رائے رکھے گا، دارالعلوم دیوبند کا ماننا ہے کہ ملک کی قومی تعلیمی پالیسی ہر قسم کی عصبیت اور تاریخی اغلاط سے پاک اور نسل نو کے لئے مفید تر ہو، نئی تعلیمی پالیسی میں اقلیتی اداروں کو بھی اپنی دستوری آزادی کے ساتھ فروغ پانے کا موقع ملے، ہماری تجویز ہوگی کہ نئی تعلیمی پالیسی میں مدارس اسلامیہ کی دستوری خود مختاری باقی رہے اور عصری علوم کے اداروں میں بھی اقلیتی طبقہ کے زیر تعلیم بچوں کو ان کی تہذیب واشاعت اور عقائد کے مطابق حصول علم کے مواقع حاصل ہوں۔
Share Article

One thought on “نئی قومی تعلیمی پالیسی :حکومت ہند نے دارالعلوم دیوبند سے تجاویزطلب کی

  • January 17, 2018 at 6:53 pm
    Permalink

    Very much informative

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *