راجستھان میں صالح محمد بنے نئے وزیراقلیتی امور و اوقاف

Share Article
Saleh Mohammad

رایست راجستھان میں حالیہ اسمبلی انتخابات میں 8مسلم ایم ایل ایز منتخب ہوئے ہیں جن میںکانگریس کے 15امیدواروں میں سے 7اور بی ایس پی کے ایک شامل ہیں۔ گزشتہ صدر کانگریس راہل گاندھی کی نئی دہلی میں وزیراعلیٰ اشوک گہلوت اورنائب وزیراعلیٰ سچن پائلٹ سےملاقات کے بعد قلمدانوں کا جوا علان ہوا اس کےمطابق کانگریس کے صالح محمد وزیراقلیتی امور واوقاف ہیں۔ انہوںنے پوکھرن میں بی جے پی کے پرتاب پوری کو ہریا ہے۔

 

’اب کی بار‘ سے ’پھر ایک بار‘ کا کیا ہےمطلب؟

 

عیاں رہے کہ گزشتہ اسمبلی میںبی جے پی کے 2مسلم ایم ایل ایز تھے جب کہ اسمبلی میںکانگریس کی جانب سےکوئی مسلم نمائندگی نہیں تھی۔ ویسےریاست میں صرف ایک مسلم کے وزیر بنائے جانے سےمسلم کمیونٹی میںاطمینان نہیںپایاجارہاہے۔
2018اسمبلی انتخابات میںکانگریس کے15امیدواروںمیں سے کامیاب امیدواروں میں حکم علی خاں امینکاغذی زاہدہ خان امینکاں صالح محمد فیق خاں شامل ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ریاست میںمسلم نمائندگی مزید بڑھ سکتی تھی مگر مسلم ووٹ کی تقسیم سے کئی مسلم نمائندے ہارے ہیں۔ مثال کے طورپر بی جے پی کے روپا رام صرف اس لیے جیتےکہ بی ایس پی کےعبدالعزیز اور آزاد امیدوار منور علی کے درمیان مسلم ووٹ تقسیم ہوگیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کانگریس کے ذاکر حسین گائسوال85ہزار 713ووٹ حاصل کرنے کے باوجود ہار گئے۔ اسی طرح چورو اسمبلی حلقہ سے کانگریس کے رفیق منڈیلیا بھی 85ہزار383ووٹ حاصل کرنے کے باوجود 1850ووٹ سے کامیاب نہیںہوسکے۔ یہاں اگر بی ایس پی کے اصغر خاں کے علاوہ 2آزاد امیدوار یونس خاں اور سلیم گوجہر نہ کھڑے ہوتے تو رفیق منڈیلیا کی جیت یقینی تھی۔ تیجارہ میں بھی کانگریس کے امام الدین احمد خاں کا یہی حشر ہوا یہ ایس پی کے فضل حسین کے ذریعے 22ہزار 189ووٹ لے جانے کی وجہ سے 55ہزار 11ووٹ پاکر بھی کامیاب نہیںہوسکے۔ تیجارہ حلقہ میوات خطہ میں ہے اوریہاں میواتی مسلمانوں کی تعداد قابل ذکر ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *