تلنگانہ واڑیسہ جماعت اسلامی نے نئی حج پالیسی کوشریعت میں مداخلت قراردیا

Share Article
Hamid-Mohammed-Khan
مرکزی حکومت کی مقررکردہ سرکاری کمیٹی کی مرتب کردہ حج پالیسی کے مسودہ پرجواخباری اطلاعات کے بموجب وزیراقلیتی امورکوپیش کردی گئی ہے۔نئی حج پالیسی پرحامدمحمدخان امیرحلقہ جماعت اسلامی ہند تلنگانہ واڑیسہ نے سخت اعتراض کرتے ہوئے مطالبہ کیاکہ مرکزی حکومت اس مسودہ کوفی الفورواپس لے اورنئی پالیسی مرتب کرے جوصرف انتظامی امورسے متعلق ہو۔حامدمحمدخان نے کہاکہ بغیرمحرم کے سفرکی اجازت دینے کی مجازمرکزی حکومت نہیں ہے۔یہ معاملہ شریعت سے متعلق ہے ۔اورشریعت اسلامیہ کے خلاف عمل پرمجبورکرناشریعت میں مداخلت کے مترادف ہے اورمسلمانوں کیلئے یہ قابل قبول نہیں ہے۔
حامدمحمدخان نے مزیدکہاکہ 21امبارکیشن پائنٹس کوگھٹاکر9کردینے کی سفارش اس کے سوااورکیاہوسکتی ہے کہ مسلمانوں کواورمشقت میں ڈالاجائے۔حکومت آسانیاں فراہم کرنے کے نام پرآسانیوں پرقدغن لگارہی ہے۔عازمین حج کوسفرکیلئے ان مقامات سے جنہیں بندکردیاگیاہے زائدرقم خرچ کرنی پڑے گی ۔انہوں نے کاکہ حکومت کی نئی پالیسی کے مطابق 70سال سے زائدعمراورچوتھی مرتبہ کے درخواست گزارکوبھی قرعہ اندازی کے مرحلہ سے گزاراجائے گا جوآسانیاں پہلے فراہم تھیں حکومت ان آسانیوں کوبھی ختم کرنے کے درپے ہے۔یہ بات فہم سے بالاترہے کہ حکومت کونئی حج پالیسی مرتب کرنے کی ایسی کیاضرورت پیش آئی ہے۔جوپالیسی مروج ہے اس پرمسلمانوں کواعتراض نہیں ہے۔البتہ اس میں مزیدبہتری کی گنجائش ہے جس پرغورکیاجاسکتاہے۔خانگی ٹورآپریٹرس کیلئے 30فیصدکوٹہ فضائی سفریاسمندری سفرکیلئے مقررکیاگیاہے اس کی وضاحت بھی پالیسی میں نہیں کی گئی ہے۔حامدمحمدخان نے اصرارکیاکہ سرکاری کمیٹی میں مسلمانوں کی نمائندہ جماعتوں کی شمولیت ہو۔انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کی تمام مذہبی تنظیموں اورمسلم پرسنل لاء بورڈ سے ان کے تعاون کی اپیل کی۔حامدمحمدخان نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ نئی حج پالیسی کے مسودہ کواسی وقت قطعیت دی جائے جب مسلمانوں کی تمام نمائندہ جماعتیں اس سے اتفاق کریں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *