دارالعلوم دیوبند کا نیافتویٰ

Share Article
darul-uloom-deoband-UP
دارالعلوم دیوبندنے ایک نیافتویٰ جاری کیاہے۔دراصل دارالعلوم دیوبند نے اپنے ایک اہم فتوے میں کسی بھی شادی یا دیگرپروگرام میں اجتماعی طورپر مردوں اورعورتوں کے کھانا کھانے کوحرام قراردیاہے۔یہ فتویٰ اسلئے بھی خاص ہے کیونکہ آج کل زیادہ تقریبات میں مردوں اورعورتوں کا ایک ساتھ کھاناکھانے کا چلن تیزی سے بڑھ رہاہے۔فتوے میں مفتیوں نے شادیوں میں کھڑے ہوکرکھانا کھانے کوبھی ناجائزقراردیاہے۔
ویب پورٹل امراجالا کے مطابق ، شہرکے ایک محلہ کے مقامی شخص نے دارالعلوم کے مفتیوں کی بینچ سے کسی بھی پروگرام (شادی) میں کھانے۔پینے کے اجتماعی نظام کو کرنے اور اس میں مرد اور عورت کے ایک ساتھ کھانا کھانے اور کھڑے ہوکر کھانا کرنے کو لیکر الگ۔الگ سوال پوچھے تھے۔ اس کے جواب میں بینچ نے صاف طور پر کہا کہ اجتماعی طور پر مردوں اور عورتوں کا ایک ساتھ شامل ہوکر کھانا کرنا حرام ہے۔ مفتیوں نے مسلمانوں کو اس سے بچنے کی نصیحت بھی دی ہے۔
وہیں شادی یا کسی بھی پروگرام میں کھڑے ہوکر کھانا کھانے کے سوال پرمفتیوں نے کہا کہ یہ غیروں کی تہذیب ہے، اسلامی تہذیب نہیں ہے۔ اس لئے کھڑے ہوکر کھانا کھانا سراسر ناجائز ہے۔ اس کے ساتھ ہی مفتیوں نے یہ بھی کہا کہ اس طرح سے سماج کی بربادی میں دیر نہیں لگے گی۔
ادھر دارالعلوم اشرفیہ کے سینئر استاذ مولانا مفتی اطہر قاسمی نے دارالعلوم سے جاری فتوی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مفتیوں نے شریعت کی روشنی میں صحیح بتایا کہ اس طرح ایک ساتھ کھانا ناجائز اور حرام ہے۔یہ سراسراسلامی تہذیب کے خلاف ہیں اسلئے اس سے بچنا چاہئے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *