نیلسن منڈیلا : صدی کا آدمی

Share Article

اے یو آصف 
p-8پانچ دسمبر 2013کو جنوبی افریقہ کے ہافٹن ، جوہانسبرگ میں 95سالہ نیلسن منڈیلا کی وفات سے دنیا ایک ایسی شخصیت سے محروم ہو گئی جو کہ کسی ایک ملک و قوم نہیں بلکہ انسیات کی محسن ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہر جگہ بین الاقوامی سطح پر انہیں یاد کیا جا رہا ہے۔ تقریباً ایک صدی پر محیط وہ زندگی بھر رنگ و نسل کے تعصب کے خلاف جنگ لڑتے رہے اور اس لڑائی کے علمبرداربن گئے۔ جنوبی افریقہ میں آزادی کی تحریک میں نمایاں کردار ادا کرنے کے سبب وہ وہاں بابائے قوم کہلائے۔ بابائے قوم ہند مہاتما گاندھی کی جنوبی افریقہ میں سیاہ فام لوگوں کو مساوی حقوق دلانے کی جدوجہد سے متاثر نیلسن منڈیلا نے اپنے ملک میں سیاہ فام لوگوں کو حکمرانی کا حق و اختیار دلایا اور وہاں کی ایک تاریخ ساز ہستی بن گئے۔
نیلسن منڈیلا کا دنیائے انسانیت کو یہ وہ احسان ہے، جس کا اعتراف انہیں1993میں ، نوبل پرائز برائے امن، 1990میں حکومت ہند کے ’’بھارت رتن‘‘ ، حکومت پاکستان کے ’’نشان پاکستان‘‘، ترکی کے ’’تاترک پیس ایوارڈ ‘‘، برطانیہ کے ’’آرڈر آف سینٹ جان ‘‘اور ’’آرڈر آف میریٹ کے ’’بیلیف گرانڈ کراس ‘‘، امریکہ کے ’’میڈل آف فریڈم ‘‘، کناڈا کے ’’آرڈر آف کناڈا ‘‘، سوویت یونین کے آخری بار ’’لینن پیس پرائز‘‘ ، لیبیا کے اولین ’’قذافی انٹرنینشل پرائز فار ہیومن رائٹس‘‘ کو عطا کر کے کیا گیا۔ نیز نومبر 2009میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی نے 18جولائی کو ان کی یوم پیدائش کے طور پر ’’یوم منڈیلا‘‘ قرار دیا اور بنی نوع انسان سے کہا کہ ان کی اس وقت 67سالہ نسلی تعصب مخالف جدوجہد کے اعتراف میں67منٹ خدمت خلق میں لگائے۔ گرچہ یہ سوشلزم ، کمیونزم اور مارکسزم سے فکری طور پر اپنی ابتدائی زندگی میں قریب تھے ، مگر گاندھی جی کو ان کے عدم تشدد کے لئے اپنا رہنما تسلیم کرتے تھے۔

نیلسن منڈیلا 18جولائی 1918کو جنوبی افریقہ کے کیپ صوبہ میں مویزو میں اس وقت پیدا ہوئے جب جنگ عظیم اول کا دنیا کو سامنا تھا۔ پھر انھوں نے تقریباً 21برس کی عمر میں جنگ عظیم دوم کو بھی شروع ہوتے اور اپنے بچپن اور نوجوانی میں روس میں بادشاہت کے خاتمہ کے بعد سوشلزم کی بنیاد پر سوویت یونین کو وجود میں آتے دیکھا۔ یوگوسلاویہ ، چیکو سلوواکیہ ، چین اور کیوبا سمیت متعدد ممالک میں سوشلسٹ و کمیونسٹ انقلابات کے ساتھ ساتھ ایران کے اسلامی انقلاب بھی ان کی حیات میں آئے۔ اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ تقریباً ایک صدی میں ہونے والے تمام واقعات کے گواہ تھے اور خود اپنے ملک کی تاریخ کے معمار اعظم تھے۔ انھوں نے تعلیم یونیورسٹی آف ویٹواٹرس رینڈ، یونیورسٹی آف سائوتھ افریقہ ، یونیورسٹی آف لندن ایکسٹرنل سسٹم اور یونیورسٹی آف فورٹ پیئر سے لی۔ جوہانسبرگ میں قیام کے دوران یہ ابتداء ہی میں نوآبادیات مخالف سیاست میں دلچسپی لینے لگے اور اسی زمانے میں افریقن نیشنل کانگریس (اے این سی) اور یوتھ لیگ سے وابستہ ہو گئے ، پھر جب سائوتھ افریقن نیشنل پارٹی 1948میں بر سر اقتدار ہوئی تو یہ اے این سی کے 1952کی دفاعی مہم میں ابھر کر سامنے آئے اور اہم و کلیدی عہدوں پر فائز ہوئے۔

نیلسن منڈیلا اپنی حیات ہی میں اندرون و بیرون ملک ایک تاریخ ساز شخصیت کے طور پر تسلیم کر لئے گئے تھے۔ تبھی تو جہاں جنوبی افریقہ کے اندر ان کے بے شمار مجسمے نصب کئے گئے تھے، وہیں مختلف شہروں میں عمارات ، سڑکیں ، گلیاں اور چوک ان کے نام سے منسوب کر دئے گئے تھے۔ یہی صورتحال بیرونی ممالک میں بھی تھی۔ خود ہندوستان کی قومی راجدھانی نئی دہلی میں سینٹرل یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منڈیلا ہائوس اور منڈیلا روڈ اس کے مظہر ہیں۔
نیلسن منڈیلا 18جولائی 1918کو جنوبی افریقہ کے کیپ صوبہ میں مویزو میں اس وقت پیدا ہوئے جب جنگ عظیم اول کا دنیا کو سامنا تھا۔ پھر انھوں نے تقریباً 21برس کی عمر میں جنگ عظیم دوم کو بھی شروع ہوتے اور اپنے بچپن اور نوجوانی میں روس میں بادشاہت کے خاتمہ کے بعد سوشلزم کی بنیاد پر سوویت یونین کو وجود میں آتے دیکھا۔ یوگوسلاویہ ، چیکو سلوواکیہ ، چین اور کیوبا سمیت متعدد ممالک میں سوشلسٹ و کمیونسٹ انقلابات کے ساتھ ساتھ ایران کے اسلامی انقلاب بھی ان کی حیات میں آئے۔ اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ تقریباً ایک صدی میں ہونے والے تمام واقعات کے گواہ تھے اور خود اپنے ملک کی تاریخ کے معمار اعظم تھے۔
انھوں نے تعلیم یونیورسٹی آف ویٹواٹرس رینڈ، یونیورسٹی آف سائوتھ افریقہ ، یونیورسٹی آف لندن ایکسٹرنل سسٹم اور یونیورسٹی آف فورٹ پیئر سے لی۔ جوہانسبرگ میں قیام کے دوران یہ ابتداء ہی میں نوآبادیات مخالف سیاست میں دلچسپی لینے لگے اور اسی زمانے میں افریقن نیشنل کانگریس (اے این سی) اور یوتھ لیگ سے وابستہ ہو گئے ، پھر جب سائوتھ افریقن نیشنل پارٹی 1948میں بر سر اقتدار ہوئی تو یہ اے این سی کے 1952کی دفاعی مہم میں ابھر کر سامنے آئے اور اہم و کلیدی عہدوں پر فائز ہوئے۔ یہ اسی زمانہ میں وکالت کرتے ہوئے باغیانہ سرگرمیوں میں گرفتار کئے گئے ۔ تقریباً دس برس بعد حکومت کا تختہ پلٹنے کے الزام میں ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلا اور معروف ری وونیا ٹرائل میں انہیں عمر قید کی سزا ہوئی۔ یہ کل 27برس جیل میں رہے ، ابتداء میں روبین جزیرہ میں تو بعد میں پولس مور اور ویکٹر ورسٹر جیلوں میں ۔ان کے لمبے قید و بند کے خلاف بین الاقوامی طور پر تحریک چلائی گئی ، جس کے نتیجہ میں یہ 1990میں رہا کئے گئے۔ انھوں نے رہائی کے بعد اپنی آپ بیتی لکھی جو کہ اس زمانہ میں ’’بیسٹ سیلر‘‘ قرار دی گئی اور مختلف زبانوں میں اس کا ترجمہ بھی ہوا۔
انھوں نے انہی دنوں صدر ایف ڈبیلو ڈی کلرک سے نسلی تعصب کے خاتمہ کے لئے مذاکرات شروع کئے۔ ان کی ان ہی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ 1994میں کثیر جہتی نسلی انتخابات کرائے گئے اور اس میں ان کی افریقن نیشنل کانگریس کامیاب ہوئی۔ اس طرح اسی برس یہ جنوبی افریقہ کے اولین سیاہ فام منتخب صدر بنے اور نسلی کشیدگی کو ختم کرنے کی غرض سے قومی اتحاد حکومت تشکیل دی۔ بعد ازاں انھوں نے ملک کو نیا آئین فراہم کیا اور ماضی میں حقوق انسانی کی پامالی کی جانچ کے لئے ٹروتھ اینڈ ری کنسی لیئشن کمیشن (Truth & Reconciliation Commission)قائم کیا۔ سابق حکومت کی لبرل اقتصادی پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے انھوں نے زمینی اصلاحات کو مزید آگے بڑھانے اور غربت کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ صحت عامہ کے لئے متعدد تدابیر اختیار کیں۔ یہ اپنے زبردست فلاحی کام کو توکرتے رہے مگر انھوں نے اپنی رہنمائی میں دوسروں کو آگے بڑھانے کی غرض سے دوسری مدت کے لئے صدارتی انتخاب لڑنے سے انکار کر دیا اور اپنے نائب تھابو مبیکی کو جانشین کے طور پر موقع فراہم کیا۔ اس طرح یہ صدارتی ذمہ داریوں سے سبک دوش ہو کر چیریٹی کے کاموں، غربت کو دور کرنے کی کوششوں اور ایچ آئی وی کے ساتھ ساتھ ایڈس کے خلاف رائے عامہ کو بیدار کرنے میں لگ گئے ۔
نیلسن منڈیلا کو گاندھی جی اور ہندوستان سے خاص لگائو تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ 1990میں 27برس کی لمبی قید سے رہائی کے چند ماہ بعد انھوں نے اپنا غیر ملکی سفر ہندوستان سے شروع کیا اور بھارت رتن سے نوازے گئے۔ اس کے بعد 1995میں بھی یہاں کا پھر دورہ کیا۔ اس دوران یہ گاندھی جی کے وطن گجرات بھی خاص طور پر گئے۔ پھر جب 2004میں اس وقت کے صدر جمہوریہ ہند اے پی جے عبد الکلام جو ہانسبرگ تشریف لے گئے تو وہاں وہ ان سے خاص طور پر ملے۔ا س وقت اے پی جے جیل کی اس سیل میں بھی گئے جہاں منڈیلا نے اپنے قید و بند کے ایام بھی گزارے تھے اور وہاں کچھ لمحات گزار کر بہت ہی جذباتی ہو گئے۔ جنوری 1997میں جب بھارت رتن سے بعد میں نوازے گئے سچن تیندولکر کیپ ٹائون ٹیسٹ کے موقع پر جنوبی افریقہ گئے تب یہ دونوں تاریخ ساز شخصیات ایک دوسرے سے ملیں۔
نیلسن منڈیلا اپنے ملک جنوبی افریقہ میں پیپلز آف انڈین آری جین (PIOs)کے درمیان بھی بہت مقبول تھے۔ ۔ چوتھی دنیا سے بات کرتے ہوئے وہاں کے معروف تاجر حاجی محمد حجات جن کا آبائی وطن گجرات تھا اور جو وقتاً فوقتاً ہندوستان آتے رہتے ہیں ، نے کہا کہ نیلسن منڈیلا کی وفات سے ہندوستانی نسل کے لوگ یتیم ہو گئے ہیں۔افریقین نیشنل کانگریس سے وابستہ رکن پارلیمنٹ مایت کا کہنا ہے کہ ان کے انتقال سے جنوبی افریقہ اپنے سب سے بڑے مربی اور محسن سے محروم ہو گیا ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ منڈیلا کو ہندوستان اور ہندوستانی نسل کے لوگوں سے والہانہ لگائو تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *