پورے ملک اور الگ الگ طبقوں کے لحاظ سے 2017 کیسا تھا ؟مئی 2014 میں بی جے پی انتخاب جیتی تھی۔ اس وقت بہت سے لوگوں کو فکر تھی کہ کیا آئین جیسا بنا ہوا ہے اور جیسا اتنے سالوں سے چل رہا ہے ،وہ چل پائے گا یانہیں؟ لوگوں کو خوف تھا کہ یہ سرکار کہنے کو بی جے پی کی ہے، لیکن راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ حاوی رہے گا۔ ملک کو صرف رائٹ ونگر پالیسی نہیں ،بالکل فرقہ وارانہ پالیسی، جس میں ہندوئوں کا تسلط اور اقلیتوں کو خوفزدہ کرنے کی پالیسی شامل ہوگی۔ یعنی سرکار پورے ماحول کو بگاڑ دے گی، ایسی کوشش ہوئی ۔ لیکن چلی نہیں،کیوں؟کیونکہ نریندر مودی اپنی سوجھ بوجھ سے جلدی سمجھ گئے۔وہ کبھی مرکز میں وزیر نہیں رہے،صرف گجرات ریاست کے وزیر اعلیٰ رہے تھے۔لیکن کچھ مہینوں میںسمجھ گئے کہ مرکز کی سرکار الگ طرح کی ہوتی ہے۔ آپ کا نوکر شاہی سے روز کام پڑتا ہے اور آپ کو اِِن پُٹ بھی ملتے ہیں۔نریندر مودی چودہویں وزیراعظم ہیں۔ ان سے پہلے کے 13 وزراء اعظم نے کس طرح سے اپنی شراکت داری کی اور کیا ہوا؟خیال رہے کہ ملک میں اٹل بہاری واجپئی کی بھی سرکار بنی تھی، جو کئی معانی میں راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ سے الگ نہیں تھیں۔اٹل جی ، اڈوانی جی اور مرلی منوہر جوشی جی خود سوئم سیوک تھے۔ مودی جی سمجھ گئے کہ سنگھ کی پالیسیوں اور نظریات کو حاوی ہونے دیں گے تو سرکار چرمرا جائے گی ،چلے گی نہیں۔ سشما سوراج نے کہا تھا کہ بھاگوت گیتا کو راشٹریہ پستک ہونے کا اعلان کر دینا چاہئے ۔مودی جی نے فوری کہا، نہیں، راشٹریہ پستک صرف آئین ہے ۔ تب لوگوں کو کچھ بھروسہ ہوا۔ اسی طرح کی کئی مثالیں ہیں۔

 

 

 

 

 

 

یہ بڑی عجیب صورت حال ہے کہ ہر چیز پر آدمی اپنا حق سمجھتا ہے ۔جیسے گئو ماتا کی بات کریں تو سبھی ہندو گائے کو مانتے ہیں۔صرف ہندو ہی نہیں ،دوسرے لوگ بھی یہ مانتے ہیں کہ گائے ایک مفید جانور ہے۔ویر ساورکر کو سنگھ اور بی جے پی کے لوگ سب سے بڑے لیڈر مانتے ہیں۔ان سے ایک بار پوچھا گیا تھا کہ گائے کے بارے میں ان کا کیا خیال ہے؟ان کا جواب قابل ذکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ گائے ایک مفید جانور ہے۔ جب تک مفید رہے ، کسان کو اس کا استعمال کرنا چاہئے۔ فائدہ ختم ہو جائے تو اس کا قتل کر دینا چاہئے، اس کو مار دینا چاہئے، اس میں کوئی دشواری نہیں ہے۔اب یہ بات تو لوگ سمجھ نہیں پائیں گے کہ گائے کو مارنا، انسان کو مارنے سے بڑی چیز ہے۔ اس میں بھی مودی جی کا کہنا تھا کہ یہ جو گئو رکشک بن رہے ہیں، وہ دن میں گئو رکشک ہیں اور رات میں شیطان۔ وہ غنڈہ گردی اور غلط کام کرتے ہیں، لوگ ان سے ہوشیار رہیں۔ ایک دو سال میں ایسا ماحول ہو گیا کہ لوگوں کو یقین ہو گیا کہ نظم و نسق رہے گا۔ آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت نے بھی کبھی کوئی ایسی بات نہیں کہی ہے لیکن آر ایس ایس سے جڑی ہوئی کچھ تنظیمیں ہیں جیسے وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل ،ان کے لوگ ضرور شرارت کرتے ہیں۔پھر بھی لوگوں کو یہ بھروسہ ہو گیا کہ سرکار قانون سے چلے گی۔وہاں تک تو ٹھیک ہے۔
8نومبر 2016 کو مودی جی نے بغیر کسی کو کچھ کہے اچانک اعلان کر دیاکہ چار گھنٹے بعد سارے 500 اور 1000 روپے کے نوٹ خارج ہو جائیں گے۔ لوگوں کو نوٹ بندی کے فیصلے سے ایک جھٹکا لگا۔ اس کی کوئی توقع بھی نہیں کر سکتا تھا۔
مودی جی کو ہارنا پسند نہیں
مودی جی نے اعلان کرتے وقت یہ کہا تھا کہ اس کے تین مقاصد ہیں۔ پہلا، جس کے پاس بلیک منی ہوگا،وہ باہر نکل جائے گا۔ دوسرا جو نقلی نوٹ چھاپتے ہیں، وہ بند ہو جائیں گے اور تیسرا ٹیررسٹس اور ملی ٹینٹس کو کشمیر و باقی جگہ جو روپے ملتے ہیں، وہ بند ہو جائیں گے یا کم ہو جائیں گے۔ایک مہینے میں پتہ چل گیا کہ یہ تینوں باتیں نہیں ہوئیں۔ کیونکہ ہو ہی نہیں سکتی تھیں۔ جس کے پاس بلیک منی ہے، وہ کیش میں نہیں رکھتا ہے۔ہندی فلموں میں دکھاتے ہیں کہ ایک کورڈ کھولا، اس میں روپے بھرا ہے۔ جو فلم دیکھتا ہے، وہ ایسا سوچ سکتا ہے۔لیکن جو آدمی اقتصادی پالیسی سمجھتا ہے، وہ جانتا ہے کہ جو ٹیکس کی چوری کرے گا، وہ اس روپے کو برباد کیوں کرے گا ؟وہ اس روپے کو پھر کام پر لگائے گا۔ ٹیکس دے دے تو روپیہ قابل ا ستعمال ہو جائے گا۔ جب ٹیکس ہی نہیں دیا تب روپیہ تو مر گیا۔ جب کورڈ میں رکھ دیں گے تو فائدہ کیا ہوگا؟ایسے لوگ اس روپے کو زمین، فلم انڈسٹری ، سونے کی اسمگلنگ یا دیگر غیر قانونی کاموں میں لگاتے ہیں، تاکہ اس سے آمدنی ہوتی رہے۔ اس لئے ان کی پہلی بات بیکار ہو گئی۔ بلیک منی نہیں لوٹا۔ دوسرا تھا نقلی نوٹ ،پرانے نقلی نوٹ جب بنا کرتے تھے تب نئے بھی نقلی نوٹ بن سکتے ہیں۔ نقلی نوٹ کو لے کر جواعدادو شمار ہیں،ان سے معلوم ہوتا ہے کہ پرانے نوٹوں میں بھی نقلی نوٹ اتنی کم مقدار میں ہیں۔ اتنا کم فیصد ہے کہ اس پر کوئی دھیان دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن ایک سیدھی دلیل یہ ہے کہ کوئی بھی چیز نقلی بن سکتی ہے۔ تیسرا تھا کہ ٹیررسٹ کی فنڈنگ کم ہو جائے گی۔ لیکن کشمیر میں اعدادو شمار یہ نہیں دکھاتے ہیں لیکن بی جے پی تو ہر چیز کا کریڈٹ لے لے گی۔ نومبر میں نوٹ بندی ہوئی، کشمیر میں تین چار مہینے برف پڑتی ہے۔سرمائی موسم میں کارروائی کم ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد پھر 2017 میں کارروائی بڑھ گئی۔ اب پھر کم ہو گئی ہے کیونکہ پھر اب وہاں برفیلا ماحول ہو گیا ہے تو ایک دو مہینے میں بی جے پی کو یہ سمجھ میں آگیا کہ یہ پانسا تو غلط پڑ گیا۔ حالانکہ اسے یہ مانیں گے نہیں، لیکن وہ جانتے ہیں ۔جاننا الگ چیز ہے اور ماننا الگ چیزہے لیکن کیا کریں؟مودی جی کی شخصیت ہی ایسی ہے کہ ہارنا ان کوپسند نہیں ہے۔ جب ٹینس میچ کا فائنل ہوتا ہے تو دونوں کھلاڑی جیتنے کے لئے کھیلتے ہیں۔لیکن ہوتا یہی ہے کہ ایک ہی جیتے گا،دوسرا ہارے گا۔جو ہارنے کو تیار نہیں ہے، اسے میچ نہیں کھیلنا چاہئے۔پھر کیا کریں؟
مودی جی کا مزاج لوگوں کو حیران کرنا ہے
ایک پرانا جی ایس ٹی کا معاملہ پنڈنگ پڑا ہوا تھا ۔10-20 سال سے اس پر چرچا چل رہی تھی۔ تب مودی جی کی قیادت میں گجرات کی سرکار اس کی سب سے زیادہ مخالفت کرتی تھی لیکن بی جے پی نے سب کو مناکر اسے ایک جولائی 2017 سے لاگو کر دیا ۔ایک اتھل پتھل پہلے سے تھی، دوسری اتھل تھل اور شروع ہو گئی۔ کوئی چیز اچھی اور خراب نہیں کہہ رہا ہوں،لیکن نوٹ بندی بالکل ایک بیکار قدم تھا۔ جی ایس ٹی کو خراب نہیں کہہ رہاہوں،لیکن جس ڈھنگ سے بی جے پی نے ہڑبڑی میں لاگو کیا، اس سے سب گڑبڑ ہو گیا۔ آج چھ مہینے ہونے کو ہیں۔ اس بیچ جی ایس ٹی میں کئی بدلائو بھی کئے گئے۔وہ ٹھیک ہے کیونکہ سرکار کی پالیسی یہ تو نہیں ہو سکتی ہے کہ کوئی بھی ٹیکس لائے اس سے کاروبار ہی بند ہو جائے۔ یہ تو ان کی نیت ہو نہیں سکتی ، لیکن اثر یہی ہوا جولائی ،اگست میں۔ ستمبر ، اکتوبر تک اس میں کافی بدلائو کر دیئے اور اسے پالیسی اور متعلقہ بنا دیاگیا لیکن اب یہ چرچا ہے کہ سرکار جی ایس ٹی کوبند کرنے پر غور کر رہی ہے۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ کیسے ہو سکتاہے؟یہ غلط بات نہیں ہے۔ اگر بند بھی کر رہے ہیں تو کچھ نقصان نہیں ہوگا کیونکہ چھ مہینے کا ایک تجربہ سرکار نے کیا۔ سرکار اس کا تجزیہ کر کے دوبارہ کارگر ڈھنگ سے لاگو کرے۔ یوروپ میں سنگل ریٹ ہوتا ہے۔ ہندوستان میںابھی بہت پیچیدہ ہے۔ یہاںسرکار نے الگ الگ ریٹ لگائے لیکن یہ ایک بہت بڑا قدم ہے اور سرکار لے سکتی ہے۔ مودی جی کی فطرت ہے لوگوںکو حیران کرنا۔ وہ ایسا کرسکتے ہیں۔ اب کریںیا نہ کریں ، واپس اپنے سوال پر آتے ہیں۔
2017 میںنوٹ بندی کی مار اور جی ایس ٹی کی اتھل پتھل سے کسانوں کی حالت بہت خراب ہے۔ 2017 کو آپ ہندوستان کے لیے بہت اچھا سال نہیںکہہ سکتے ہیں۔ سیاست دیکھئے۔ مارچ اپریل میںیوپی کا الیکشن ہوا۔ وہاں بھاری اکثریت سے بی جے پی جیت گئی۔ بی جے پی نے یہ اشارہ دیا کہ اس کا مطلب عوام نے نوٹ بندی کو قبول کرلیا ہے۔ یہ تو سیاست کی ستم ظریفی ہے کہ نتیجے پر کوئی بھی آدمی کچھ بھی دلیل دے سکتا ہے اور بی جے پی نے ایسا ہی کیا۔ لیکن جیت تو جیت ہوتی ہے۔ گجرات میںایک قدم خراب حالت میںالیکشن ہوا۔ 182 سیٹوںمیںسے بی جے پی کے پاس پہلے 115 سیٹیںتھیں۔ 2014 میںلوک سبھا انتخابات میںبی جے پی نے 26 میںسے 26 سیٹیں جیتی تھیں۔ لوک سبھا انتخابات میںبی جے پی 160 اسمبلی سیٹوںپر آگے تھی، اس لیے امت شاہ نے بیان دے دیا کہ 150 سیٹیںلائیںگے۔ انھوں نے 10 کم کرکے بولا۔ اپنی طرف سے وہ احتیاط برت رہے تھے۔ انھوںنے یہاںتک کہا کہ 150 سے کم ہوںتو یہ کوئی خوشی کی بات نہیںہے۔ اس میںکوئی خوشی منانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے۔ جیسے ہی الیکشن شروع ہوا، بی جے پی کو لگ گیا کہ ہوا مخالف ہے۔ وجے روپانی، جو وہاں کے وزیر اعلیٰ ہیں، انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس 115 سیٹیں ہیں۔ اگر ان میں سے دو سیٹیں بھی کم آئیں تو جواب دینا بھاری پڑے گا یعنی بی جے پی 115 تک کے لیے تیار تھی۔ اب جو نتیجے آئے تو 99 پراٹک گئے۔ 100 سیٹیں بھی پوری نہیںہوئیں ۔ اب ایک آزاد کے بی جے پی میںشامل ہونے سے وہ 100 ہوگئے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

دس ماہ تک سرکار کوئی نیا ہتھکنڈہ نہیںاپنائے
2017 کا ایک سال برباد ہوگیا۔ کچھ کام ہوا ہی نہیں۔ پہلے مئی 2014 سے اکتوبر 2016 تک ڈھائی سال میںسرکار نے اچھا کام کیا۔ اس دوران لوگوں کی جتنی غلط فہمیاںاور ڈر تھے،وہ بھی دور ہوئے۔ لوگوںکو یہ ڈر تھا کہ ملک کا جو بنیادی ڈھانچہ ہے، کہیں وہ نہ بدل جائے لیکن لوگوںکو اکتوبر 2016 تک یہ تسلی ہوگئی کہ نئی سرکار بھی باقی سرکاروںجیسی ہی ہے۔ اچھا کام کررہی ہے۔ بی جے پی سرکار چاہتی ہے کہ صفائی ہو، کرپشن نہیں ہو، وہ سب ان کی مثبت آواز تھے۔ نومبر 2016 کے بعد بدقسمتی سے صورت حال بدل گئی۔ اب 2018 میںکیا ہوگا؟یہ الگ مسئلہ ہے۔ مئی 2019 میںالیکشن ہونا ہے تو اب صرف 16 مہینے ہی بچے ہیں۔ الیکشن کے ماحول میں6 مہینے تو یوںہی نکل جاتے ہیں۔ حقیقت میں10 مہینے ہی بچے ہیں۔ ا س میں سرکار کیا کرسکتی ہے؟ جہاں تک میرا تجربہ ہے، خاص طور سے ہندوستانی جمہوریت کے حوالے سے، سرکار کو کوئی نیا ہتھکنڈہ نہیںاپنانا چاہیے۔ اس کو 10 مہینے یہ یقین دلانے میںلگانا چاہئیںکہ بی جے پی سرکار بھی ویسی ہی چلے گی جیسے باقی سرکاریںتھیں۔ ٹھیک ہے، بی جے پی سرکار نے ایک قدم اٹھایا۔ اب چلا نہیںچلا ، یہ الگ بات ہے۔ ہر قدم کامیاب ہونا ضروری نہیںہے۔ نوٹ بندی ناکام ہوگئی ہے، جسے بی جے پی ماننے کو تیار نہیںہے۔ آج بھی وزیر لوگ بیان دیتے ہیں کہ اس کا دورس نتیجہ ٹھیک ہوگا۔ دور رس کا تو پتہ نہیں، لیکن آپ کا ٹرم تو پانچ سال کا ہے۔ دوبارہ جیتے تو پھر پانچ سال کا ہوگا۔ دور رس نتیجہ 50 سال میںکچھ ہوگا تب بحث کرنے کے لیے ہم لوگ تو رہیںگے نہیں۔ سرکار کے لیے مثبت کام یہ ہے کہ جو مسائل ہیں، خاص طور سے کسانوں، چھوٹے کاروباریوں، تاجروں اور چھوٹے دکانداروں کے، ان کو آپ دور کیجئے۔ان کے لیے اگر جی ایس ٹی ہٹانی پڑے تو ہٹائیے۔ ریٹ کم کرنا ہے تو کم کریے۔ لوگوںکو تسلی پہنچانے کا کام ہے۔ لوگ بہت تکلیف میںہیں، غصہ میں ہیں ۔ ایک اور بات یہ ہے کہ ہر چیز آپ الیکشن کے چشمے سے نہیں دیکھ سکتے ہیں۔ ملک تو لمبا چلتا ہے۔ الیکشن ہوتے رہتے ہیں لیکن الیکشن بھی ضروری ہے۔ آپ پارٹی میںہیں، تو کوئی ہارنا بھی نہیںچاہے گا۔ وہاں پر جیتنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ جیسا ہندوستان ہے، ویسے ہی اس ہندوستان کورہنے دیجئے۔
ہندو سیکولر ہی پیدا ہوتا ہے
پانچ ہزار سال پرانی ثقافت ہے۔ مجھے تعجب ہے کہ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ اپنے کو ہندوؤں کا نمائندہ یا ہندوؤں کی ترقی کرنے والا ادارہ سمجھتا ہے۔ ہندوؤں کی فطرت ہے کہ صبر سے چلو۔ ایک دوسرے سے لڑائی ، جھگڑا اور تضاد، یہ ہندوؤں کی فطرت نہیں ہے ۔ ہندوستان میں پانچ چھ لاکھ گاؤں ہیں۔ ہر گاؤںمیںمسلمان اگل بغل میںرہتے ہیں۔ ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ سبھی اپنا اپنا تیوہار مناتے ہیں۔ کسی طرح کا جھمیلا نہیں ہے۔ یہ ہندوستان ہے۔یہ ہندوستانی ذہنیت ہے اور یہی ہندو ذہنیت بھی ہے۔ ابھی کچھ لوگوںنے سیکولر لفظ کا مذاق اڑانا شروع کردیا ہے۔ ہندوسیکولر ہی پیدا ہوتا ہے۔ سیکولر کا مطلب کیا؟ انگریزی لفظ سیکولر کا مطلب ہے جس میںمذہب نان ریلجس، سائنٹفک ہو، وہ مطلب انڈیا میںنہیںہے۔ انڈیا میںسیکولر کا مطلب ہے سرو دھرم سمبھاؤ۔ ہندو دھرم ہی سرو دھرم سمبھاؤ والا ہے۔ ہندو میںوسو دیو کٹمبکم کا جذبہ ہے۔ جب پوری دنیا ایک خاندان ہے تو پھر اس میںبچا کون ؟ مسلمان الگ کیسے ہوگئے، یہ بولنا کہ ہندو مذہب کھوکھلا ہے، وسودیو کٹمبکم صرف بولنے کی بات ہے، غلط ہے۔ جو ٹیکہ نہیںلگائے گا، گھنٹی نہیںبجائے گا،اس کو جان سے مار دیںگے۔ نہیں، یہ ہندوستان نہیںہے۔ کم سے کم بچے 10 مہینوں میںبھی لوگوںکو یقین دلائیے کہ جو آدمی ہندوستانی شہری ہے، اس کے حقوق اور اس کے ادھیکار برابر ہیں، چاہے وہ کسی بھی مذہب کا ہو۔ ویر ساورکر کا بھگوان میںکوئی یقین نہیں تھا۔ انھوںنے کہا تھا کہ ہندوتو ثقافت مذہب ہے۔ انھوںنے بھگوان کا کبھی نام نہیںلیا تو کیا وہ ہندو نہیںتھے؟ ہندو دھرم یہی کہتا ہے کہ سب کا بھلا ہو۔ مودی جی کہتے تو ہیں،سب کا ساتھ، سب کا وکاس، لیکن زمین پر اشارے کچھ اور ہیں۔ میںسمجھتا ہوں کہ اگلے دس مہینے میں، بی جے پی جہاںپہنچ گئی ہے،وہاںسے تھوڑا پیچھے آئے، تو سب کے لیے اچھا ہوگا۔ بی جے پی کے لیے بھی،ملک کے لیے بھی او رشہریوںکے لیے بھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here