بیمار پاکستانی طبی خدمات کو درست کرنے کی ضرورت

Share Article
imran khan priminister of pakistan

پاکستان کی صحت کا نظام بیمار ہے۔ ایک کے بعد ایک آنے والی سرکاروں نے پچھلے 70 برسوں سے لگاتار اس اہم شعبے کو نظر انداز کیا ہے۔اس بیمار نظام کو بہتر بنانے کے لئے فوری طور پر درست کئے جانے کی ضرورت ہے۔
وزیر اعظم عمران خاں کی سرکار پاکستان میں نظامِ صحت کی ضرورتوں اور اس کی اہمیت سے آگاہ ہے، ساتھ ہی وہ اس پر کام کرنے کے لئے تیار بھی ہے۔اپنے انتخابی منشور میں عمران خاں کی پارٹی’ پاکستان تحریک انصاف ‘( پی ٹی آئی )نے ملک کے نظامِ صحت کی بحالی کا وعدہ بھی کیا تھا۔ حال ہی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم نے ہر پاکستانی تک معیاری طبی خدمات مہیا کرانے کا اپنا وعدہ دہرایا تھا۔
بہر حال اس کام کو پورا کرنے کے راستے میں کئی چیلنجز ہیں، جن سے سرکار کو نمٹنا ہے ۔ناکافی فنڈنگ پاکستانی ہیلتھ سروسز کو سب سے زیادہ متاثر کررہی ہے۔ دراصل طبی شعبے کے لئے معمولی بجٹ الاٹمنٹ یہاں کی 20 کروڑ آبادی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے کافی نہیں ہے ۔2017-18 کے اقتصادی سروے کے مطابق فیڈرل سرکار اور صوبوں کا مجموعی طبی خرچ صرف 384.57 ارب روپے تھا۔ یہ رقم ملک کی جی ڈی پی کا ایک فیصد سے بھی کم ہے ۔
پاکستان میں زیادہ تر لوگ پبلک سیکٹر کی ہیلتھ سروسز کا استعمال کرتے ہیں۔لیکن چھوٹے بجٹ الاٹمنٹ کی وجہ سے اس کا دائرہ کافی محدود ہے۔ موجودہ وقت میں ملک میں 1211 پبلک سیکٹر کے اسپتال ہیں۔ اس کے علاوہ 5508 بنیادی طبی اکائیاں اور 676 دیہی طبی مراکز ہیں۔ جہاں تک مریض – ڈاکٹرکے تناسب کا سوال ہے تو یہاں 957 لوگوں پر صرف ایک ڈاکٹر ہے اور 1580 لوگوں پر ایک بڑے ڈاکٹر۔سرکاری اسپتالوں پر گنجائش سے زیادہ بوجھ ہے۔ یہاں اسٹاف اور آلات کی کمی ہے۔ ان اسپتالوں کا متعلقہ افسروں کے ذریعہ مناسب مشاہدہ بھی نہیں ہوتا۔

 

 

جمہوریت کی بقا اب اس ملک کے 125 کروڑ کے ہاتھوں میں ہے

 

پرائیویٹ سیکٹر کی ہیلتھ سروسز بہت مہنگی ہیں اور ان کے معیار بھی ایک جیسے نہیں ہیں۔ ملک کے زیادہ خوشحال اور درمیانی طبقہ کے لوگ علاج کے لئے پرائیویٹ اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں ۔پھر بھی ایک ریگولیٹری نظام کے فقدان کی وجہ سے ان اسپتالوں میں بھی مطلوب سروسز نہیں مل پاتیں۔
پریوینٹیو ہیلتھ سروسز مہیا کرنے کے معاملے میں بھی پاکستان کا ریکارڈ بہت خراب ہے۔ بچوں کی بیماریوں کو روکنے والی ٹیکہ کاری کے معاملے میں پاکستان دنیا کے پانچ پھسڈی ملکوں میں سے ایک ہے۔ مثال کے طور پر پوری دنیا سے پولیو کا خاتمہ ہو چکا ہے لیکن یہ ملک ابھی بھی اس بیماری کو روکنے کے لئے جدو جہد کررہا ہے۔ نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح (55فی ہزار نوزائیدہ ) کے معاملے میںبھی پاکستان کا ریکارڈ دنیا میں سب سے خراب ہے۔
دراصل کسی موثر ریگولیٹر میکانزم کے نہ ہونے کی وجہ سے یہاں لاکھوں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ اخباروں میں چھپی حالیہ رپورٹوں کے مطابق متعلقہ افسروں کی منظوری کے بغیر پاکستان میں عیب دار طبی آلات (جیسے اسٹنٹ ) کا استعمال کیا جارہا ہے۔ ایسا تب ہو رہا ہے جب سپریم کورٹ نے ایسے معاملوں کا نوٹس لیتے ہوئے اس پر روک لگانے کا حکم دے رکھا ہے۔ سپریم کورٹ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ( پی ایم ڈی سی ) جو ڈاکٹروں اور دانت کے ڈاکٹروں پر نگرانی رکھتی ہے اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی جو دوائوں اور طبی سازو سامان کو کنٹرول کرتاہے، معیاری طبی خدمات یقینی کرانے میں ناکام ہیں۔
ان حالات میں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ نو تشکیل شدہ سرکار ایک وسیع منصوبہ تیار کرے اور پورے ملک کی طبی خدمات میں سدھار کے لئے فوری طور پر کارروائی کرے۔ پاکستان کی فیڈرل سرکار کے لئے ضروری ہے کہ وہ صوبائی سرکاروں کے ساتھ مل کر بہتر طبی خدمات مہیا کرنے کے لئے مندرجہ ذیل نکات پر کام کرے۔

 

اب سچ-جھوٹ اورترقی-تباہی کا فرق مٹ گیاہے

 

 

ہیلتھ بجٹ اور کوریج کی توسیع
یہ ضروری ہے کہ فیڈرل سرکار اور صوبائی سرکار طبی شعبے کے لئے بجٹ الاٹمنٹ بڑھائے۔اضافی فنڈنگ کا استعمال دیہی علاقوں اور اطراف کے علاقوں میں نئے اسپتالوں کی تعمیر کے لئے کیا جاناچاہئے اور موجودہ طبی خدمات کو جدید آلات کے ساتھ اپ گرید کرنا چاہئے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق ، دیہی اور دور دراز کے علاقوں میں ایسے اسپتال ہیں جہاں ڈھنگ کے ایکسرے مشین بھی نہیں ہیں اور نہ ہی جانچ کے لئے مناسب لیب ہیں۔ علاقائی سطح پر سرمایہ کاری بڑے شہروںکے پبلک اسپتالوں کی بڑی بھیڑ کو بھی کنٹرول کرے گا۔ فیڈرل سرکار کو یہ یقینی کرنا ہوگا کہ ہر ایک بچے کو ضروری ٹیکہ لگ سکے ۔
سب کے لئے طبی خدمات یقینی ہو
لاکھوں غریب پاکستانی جو پرائیویٹ اسپتالوں میں اپنا علاج نہیںکروا سکتے، ان کے لئے پبلک ہیلتھ سروسز تک پہنچ کا سب سے اہم ایشو ہے۔ عمران خاں سرکار نے پورے ملک میں غریب اور ضرورت مند خاندانوں کو سرکاری سبسڈی والے ہیلتھ بیمہ اور ہیلتھ کارڈ فراہم کرانے کا وعدہ کیا ہے۔ حالانکہ اس اسکیم کی شروعات خیبر پختن خواہ اور اسلام آباد کے کچھ حصوں سے کی گئی ہے ،لیکن اس اسکیموں کو ہر ضرورت مند پاکستانی خاندانوں تک پہنچنا بہت مشکل کام ہے۔ اس اسکیم کو جلد سے جلد لاگو کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سبھی صوبوں کے غریب پاکستانی اس سے مستفید ہو سکیں۔
ریگولیٹری نظام میں سدھار
ماضی میں سیاسی مداخلت اور خراب نگرانی کی وجہ سے ڈی آر پی، پی ایم اور ڈی سی جیسے ریگولیٹر اداروں کے طریقہ کار بے حد خراب رہے ہیں۔ سرکار کو ان اداروں کو خود مختار اور جوابدہ بنانا چاہئے ، کیونکہ وہ پورے ملک میں طبی خدمات میں سدھار کے لئے اہم ہیں۔ اس کے علاوہ پرائیویٹ اسپتالوں میں بڑھتے بے جا استعمال کی شکایتوں کو کم کرنے کے لئے مناسب ضابطہ اخلاق کی بھی ضرورت ہے۔ سروسز کے معیار کی بنیاد پر ڈاکٹروں اور پرائیویٹ کلینک کے لئے ایک گریڈنگ سسٹم ہونا چاہئے تاکہ طبی شعبے میں بھی مقابلے کو حوصلہ افزائی ملے ۔ لاپرواہی اوربے جا استعمال کے قصوروار پائے گئے طبی ملازمین کی جوابدہی طے کی جانی چاہئے۔

 

مستحسن ہے کسانوں کی قرض معافی کا اعلان

 

مناسب اور بروقت آنکڑے جمع کرنا
پاکستان میں نہ تو کافی طبی خدمات سے متعلق اعدادو شمار دستیاب ہیں اور نہ ہی انہوں نے اکٹھا کرنے کا انتظام کیا ہے۔ انٹرنیشنل کنسرٹیم آف انوسٹی گیٹیو جنرلسٹ ( آئی سی آئی جے ) کے ذریعہ کی گئی ایک گلوبل جانچ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انسانی جسم میں غلط منتقلی کی وجہ سے دنیا بھر میں متعدد مریض متاثر ہوئے ہیںاوریونٹوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ آئی سی آئی جے کے مقامی معاونین کے مطابق پاکستان میں اس طرح کے واقعات سے متعلق اعدادو شمار نہیں ہونے کی وجہ سے یہاں کی کمزور ریگولیٹری نظام ہے ۔سرکار اور ریگولیٹری اداروں کو یہ یقینی کرنے کے لئے لازمی اعدادو شمار مناسب طریقے سے اکٹھا کیا جائے، اس کے لئے ایک ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا کرنے سے میڈیکل کے پیسے سے جڑے لوگوں اور اداروں کی افادیت اور صلاحیت کو بڑھاوا ملے گا۔
مذکورہ انتظامات کو لاگو کرکے سرکار پاکستان کی بیمار نظام صحت کو چست درست کر سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف 20 کروڑ لوگوں کی صحت میں سدھار ہوگا، بلکہ یہ پاکستان کی تمام اقتصادیات کی ترقی میں بھی حصہ دار بنے گا۔ کیونکہ ایک صحت مند ملک ہی زیادہ پیداوارکرنے والا ملک ہوتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *