گائے ، دودھ اور زرعی بحران پر واضح پالیسی کی ضرورت

Share Article

پچھلے دنوں کے اخبارات وزیر اعظم کے امریکہ کے دورے کی خبروں سے بھرے ہوئے تھے۔ ہندوستان کے لیے امریکہ اہم ملک ہے اور وزیر اعظم کا امریکی صدر سے ملنا بہت اہمیت کا حامل ہے۔ بدقسمتی سے دونوںقومی سربراہوںکے بیچ کن مدعوںپر بات چیت ہوئی، اسے عام نہیںکیا گیا ہے۔ وزیر اعظم کا امریکہ کے نئے صدر سے ملنا ہمیشہ ایک اچھا خیال رہا ہے۔ لیکن ہندوستان کے لیے کچھ تشویش کے موضوعات ہیں۔ جیسے امریکہ کا دہشت گردی کے تئیں برتاؤ، ایچ 1 بی ویزا وغیرہ ۔ کوئی بھی یہ دیکھ سکتا ہے کہ ایچ 1 بی ویزا پر بہت پروگریس نہیںہوا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہندوستان کو اس معاملے کو دبانا چاہیے۔ کیونکہ ہندوستان ایک ایسا ملک نہیںہے جو ایچ 1 بی ویزا پر منحصر ہے۔ ہمیں نوکری چاہیے تو انھیںبھی تکنیکی جانکاروںکی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے مدعے کی بات کریں، تو یہ اچھا ہوا کہ امریکہ نے ایک آدمی کو دہشت گرد بتایا ہے۔ یہ قدم پاکستان کے تئیںجھکاؤ کو نہیںدکھاتاہے۔ میںیہ نہیںکہوںگا کہ یہ جھکاؤ ہندوستان کی طرف ہے اور پاکستان کے خلاف ہے۔ یہ اعلان پاکستان کو یاد دلاتا ہے کہ ہم یہ سب ہمیشہ کے لیے نہیںلے کر چل سکتے ہیں ۔ پاکستان کو یہ پیغام سمجھنا چاہیے۔ ناراض کشمیری نوجوان ،جو پاکستان کی طرف دیکھتے ہیں،ان کے لیے بھی یہ ایک پیغام ہے۔ یہ پیغام بتاتا ہے کہ بین الاقوامی برادری کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے اس راستے کی حمایت نہیںکرتی ہے۔ بے شک ہماری سرکار کو بہت کچھ کرنا ہے۔ سفارتی محاذ پر بہت کچھ کرنا ہوگا۔ ان سب میںوقت لگتا ہے۔ ہمیںانتظار کرنا چاہیے۔
سرکار کا دوسرا بڑا فیصلہ ایئر انڈیا کے ڈس انویسٹمنٹ سے جڑا ہوا ہے۔ اس فیصلہ سے جڑی تفصیل کی غیر موجودگی میںکوئی بھی یہ تبصرہ نہیںکرسکتا ہے کہ یہ اچھا فیصلہ ہے یا برا۔ سب سے پہلے ، انڈین ایئرلائنس اور ایئر انڈیا کا فیوژن یوپی اے سرکار نے کیا تھا۔ یہ غلط صلاح پر مبنی تھا۔ لوفتھانسا، سوئس ایئر، برٹش ایئرویزوغیرہ کے ساتھ مسابقت کرنے والی ایئر انڈیا ایک انٹر نیشنل ایئرلائن تھی،جبکہ انڈین ایئر لائنس کی ہندوستان میںتب تک اجارہ داری تھی، جب تک کہ سرکار نے نجی ایئر لائنس کو آنے کی اجازت نہیں دی۔ انڈین ایئرلائنس کی کارکردگی خراب نہیں تھی۔ مسابقت کے باوجود، اس نے بڑی تعداد میںاڑانوں اور ورک کلچر کے سبب اپنی زمین بنا لی تھی۔ ایئر انڈیا اس وجہ سے کمزور پڑ گئی کیونکہ یہاں بہت زیادہ اسٹاف تھا اور بہت سخت انٹرنیشنل مقابلہ تھا۔ اس کے علاوہ، یہ افواہ تھی کہ یو پی اے سرکار نے ایئر انڈیا کو اپنی ری پیمنٹ کیپسٹی سے کافی زیادہ طیارے خریدنے کی اجازت دی تھی۔ یو پی اے سرکار نے کچھ راستے غیر ملکی ایئر لائنس کو سونپ دیے، خاص طور سے ایمریٹس کو۔ یہ فیصلہ بہت مشکل تھا۔ سرکار کو بہت محتاط رہنا چاہیے۔ اسے ایک کامرشیل فیصلہ نہیںلینا چاہیے ، جو اس کے خود کے کاروباری اداروں پر منفی اثر ڈال دے۔ لیکن جو کچھ کیا گیا ہے، اس کے بارے میںوہ ہمیں نہیںبتاتے۔ وزارت برائے شہری ہوابازی کو کیا پتہ چلا، وہ ،ہمیںنہیںبتا ئیں گے۔ وہ اچانک کہتے ہیں ، قرض اتنا ہے کہ ہمیںاسے بیچنا چاہیے۔ عوام کو پتہ ہونا چاہیے کہ صحیح آنکڑہ کیا ہے؟ انٹریسٹ ڈپریسی ایشن اور ٹیکس سے پہلے ایئر انڈیا کی سالانہ کمائی کیا ہے۔ اسے ای بی آئی ڈی ٹی اے (سود، ٹیکس، ڈپریسی ایشن اور ریفائن منٹسسے قبل کی آمدنی) کہا جاتا ہے۔ اگر وہ مثبت ہے ، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ ابھی بھی پیسہ بنا رہے ہیں۔ پھر کیپٹل ری کنسڑکشن کی کیا ضرورت ہے؟ یہ کہنا کہ ایئر انڈیا کا قرض 56 ہزار کروڑ ہے تو یہ کس کا ہے۔ یہ سرکار کا پیسہ ہے۔ کسی انٹرپرائز کی دیکھ بھال کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اگر وہ پیسہ کما سکتا ہے تو اسے بنائے رکھنا چاہیے۔ اور ای بی آئی ڈی ٹی اے منفی ہے تو پھرکوئی امید نہیں ہے۔

 

اب نجکاری کا سوال آتا ہے۔ اسے کون خریدے گا؟ پرائیویٹ سیکٹر سرکا ر نہیںہے۔ وہ صرف فائدے کے لیے چیزیںخریدتے ہیں۔ یہ کہنا بے وقوفی ہے کہ ہم اس کا ڈس انویسٹمنٹ کریں گے۔ کون اسے خریدے گا؟ جب تک آپ قرض میںکٹوتی کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، تب تک کون خریدے گا؟ پہلے تو آپ اسے پیشہ ورانہ طور پر قابل عمل انٹرپرائز بنائیں۔ اس سے پہلے کہ آپ خریدار کھوجنے کی کوشش کریں۔ بے شک سرکار میںبہت دانالوگ ہیں۔ انھیںاپنا دماغ لگانا چاہیے۔ لیکن صرف میڈیا میںایئر انڈیا کو بیچنے کا اعلان کرنے سے ایئر انڈیا کے ملازمین کو دقت پیش آئے گی۔ اس کا ایئرلائنس پر مضر اثر ہوگا۔ انھیں اپنے ہوم ورک کرکے آنا چاہیے اور ایک ورک پلان لانا چاہیے۔
پھر سوال ہے گایوں کا۔ اچھی بات یہ ہے کہ جہاں تک ملک کی پالیسیوں کا تعلق ہے، این ڈی اے سرکار، یوپی اے سے الگ نہیںہے۔ یہ اچھا ہے، کیونکہ ہم نے 70 سالوں میںاچھا مظاہرہ کیا ہے۔ چاہے جو بھی تشہیر کی جائے یا بی جے پی پروپیگنڈہ کرے لیکن وہ غیر متفق نہیںہوسکتے۔ منریگا، آدھار وغیرہ یوپی اے کی پالیسیاں تھیں۔ موجودہ سرکار اسی پر چل رہی ہے۔ اب گائے ہے۔ گائے کے لیے قومی پالیسی کی ضرورت ہے۔ موجودہ پالیسی ناکافی ہے۔ حقیقت میںزرعی بحران اتنا ہے کہ قرض میںرعایت دینے کے بعد بھی خود کشی کے واقعات ہوتے ہیں۔ کیونکہ زراعت غیر منافع بخش ہوگئی ہے۔ قرض معافی ، حل نہیںہے۔ حل یہ ہے کہ کیسے ان کی آمدنی بڑھائی جائے۔ ملک میںکافی تعداد میںکسان گائے اور بھینس رکھتے ہیں اور دودھ بیچ کر کماتے ہیں۔ جب فصلوں کی قیمت میںکسان گائے اور بھینس رکھتے ہیں اور دودھ بیچ کر کماتے ہیں۔ جب فصلوںکی قیمت کم ہوجاتی ہے تودودھ کی فروخت سے ملا پیسہ ان کے کام آتا ہے۔ یہ ایک اہم حقیقت ہے۔ اب یہ گائے کے مدعے سے جڑا ہے۔ اس لیے میںاس پر بات کررہا ہوں ۔ کسان کہتا ہے کہ ہم گائے کا استعمال کرتے ہیںاور جب گائے دودھ دینا بند کردیتی ہے تو ہم اسے بیچ دیتے ہیں۔ فطری طور پر یہ گائیں مذبح میںچلی جاتی ہیں جہاںسے بیف ایکسپورٹ ہوتا ہے۔ اب آپ نے اس پر پابندی لگادی، جیسا کہ ظاہر ہوتا ہے۔ کسان کو اسے ایک تاجر کو بیچنا ہوگا، جو اسے دس سے بیس ہزار روپے دے رہا ہے۔ آپ کسان کو اور زیادہ تناؤ دے رہے ہیں۔

 

ایک جامع قومی پالیسی کو سمجھنا چاہیے۔ یقینی طور پر کوئی ایسی پالیسی نہیںہونی چاہیے جو گائے کو ہمیشہ کے لیے زندہ رہنے کی اجازت دے۔ انسان مرجاتا ہے، گائے بھی مرجاتی ہے۔ ہندوستان بیف ایکسپورٹ میںسب سے بڑا ملک ہے۔ اگر یہ گائے کا بیف نہیںہے تو یہ بھینس کا مانس (بیف) ہوگا۔ لیکن ایک بار جب آپ مبینہ گئو رکشکوں کو مداخلت کرنے کی اجازت دے دیتے ہیںتو کوئی بھی شخص کسی کو بھی مار سکتا ہے۔ ٹرک روک سکتا ہے۔ ایسے میںہم ایک تاریک دور کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ملک قانون پر عمل کرنے والی جمہوریت کی اپنی شبیہ کھودے گا۔ اس کے بعد آپ کیسے امید کریںگے کہ امریکہ اور مغربی ممالک آپ کے ساتھ تجارت کریں۔ یا تو آپ ایک تیسری دنیا ، وہمی، اندھ وشواسی، مذہبی ملک ہیںیا آپ ایک جدید، سائنٹسٹ، آگے دکھائی دینے والی جمہوریت ہیں۔ انتخاب آپ کو کرنا ہے۔
یہ لوگ سوچتے ہیںکہ وہ مودی کے حامی ہیں، میںان کی حالت زار کو سمجھتا ہوں۔ آر ایس ایس اور وی ایچ پی کی طویل تاریخ رہی ہے لیکن انھیں بھی ترقی یافتہ ہونا ہے۔ آر ایس ایس آج ایسا نہیںہے جو 30 سال قبل تھا۔ میںان لوگوںکو جانتا ہوں۔ وشو ہندو پریشد نے ایک بار رام مندر کو سب سے بڑا مدعا بنایا تھا۔ کیا آج وہ ایسا کرسکتی ہے؟ نہیں۔ وقت بدلنے کے ساتھ چیزوںکو بدلنا ہوتا ہے۔ سرکار کو ایک کمیٹی کا قیام کرنا چاہیے یا اسے نیتی آیوگ کو دینا چاہیے۔ سرکار کو گائے ، دودھ ادر زرعی بحران پر واضح پالیسی کے ساتھ آنا چاہیے۔ مجھے نہیںلگتا کہ ان کے (سرکار) پاس کرنے کو بہت کچھ ہے۔ یوجنا آیوگ ختم کیا جاچکا ہے۔ سرکار کو اپنا دماغ لگانا چاہیے۔ وہ ایسے حل کے ساتھ آگے آسکتی ہے جو ملک کے لیے اچھا ہو۔ چاہے جو بھی سرکار آئے یا جائے۔ ایک سرکار آئے اور ایک سرکار جائے، جمہوریت میںاس سے کوئی فرق نہیںپڑتا ہے۔ لیکن سماج کے سبھی طبقوںکو قابل قبول حل نکالنا چاہیے۔ ہمیںامید کرنی چاہیے کہ ایسا کچھ ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *