این سی ٹی سی:ہندوستانی وفاقی ڈھانچے کے لئے نقصان دہ ہے

Share Article

وصی احمد نعمانی
اس وقت مرکز اور صوبائی حکومتوں کے درمیان National Counter Terrorism Centre (NCTC )دوسرے الفاظ میں ’’ قومی مزاحمت دہشت گردی مرکز‘‘ کے سوال اور اس کے اختیارات  پر ایک زبردست رسہ کشی کی حالت پیدا ہوگئی ہے۔اس مرکزی تنظیم کو ملک میں ایک کلیدی حیثیت دی جارہی ہے،جس سے تمام خفیہ تنظیموں کے ساتھ مل کر سربراہ کی حیثیت سے دہشت گردی یا مشتبہ دہشت گرد کو قابو میں کرکے ملک میں امن و امان قائم کرنے کا خواب دیکھا اور دکھایا جارہا ہے۔ہندوستانی این سی ٹی سی بالکل چربہ ہے ،امریکی این سی ٹی سی کا، اور امریکی طرز پر ہی ہے۔ہندوستان کی اس مرکزی تنظیم کو اختیارات دیے جانے پر مباحثہ جاری ہے۔ امریکی این سی ٹی سی کو اس کے اپنے ملک میں کلیدی رول حاصل ہے۔

بائی سرکاروں کو ان اختیارات کے متعلق فکر ہے جو انہیں دستور ہند کے ساتویں شیڈولڈ (لسٹ 11) میں دستیاب ہیں۔ جن کے تحت صوبائی حکومتوں کو پبلک آرڈر اور پولیس پر کنٹرول کا اختیار حاصل ہے اور ایسا کرنے کی صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری بھی ہے،لیکن ان کا کوئی اختیار ،نیم فوجی دستہ، فوج ، ہوائی اور نیوی فوج کے استعمال کا نہیں ہے۔ یہ صرف مرکزی سرکار کے کمانڈ میں کام کرتی ہیں۔اس لئے صوبائی حکومتوں کو بجا طور پر اس بات کا خدشہ ہے کہ این سی ٹی سی کے افسران  کو اتنا با اختیار بنا دیا گیا ہے کہ وہ آپریشن کنڈکٹ  کریں گے اور ان کے صوبوں میں مشتبہ دہشت گردوں کی گرفتاری وہاں کی پولیس اور وزارت داخلہ کی اطلاع کے بغیر انجام دیں گے۔

اس کی تشکیل امریکہ میں نائن الیون  کے حادثہ کے بعد 36   ماہ گزرجانے پر نہایت غور و فکر کے بعد عمل میں آئی۔ جس کا اہم رول یہ ہے کہ امریکہ کی تمام ذیلی ایجنسیوں  سے خفیہ اطلاعات حاصل کرکے اس کے تجزیہ کے بعد NCTCمنصوبہ بندی کا کام کرکے دیگر خفیہ تنظیموں کو با اثر بنانے کا کام کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ یہاں تک کہ امریکی مشہور خفیہ تنظیم CIA بھی اس کے لئے اطلاعات فراہم کرتی ہے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ امریکی این سی ٹی سی کے قیام  اور عمل کی وجہ سے نائن الیون کے حادثہ کے بعد کوئی نیا بڑا حادثہ نہیں ہوا ہے۔ اس کا سہرا امریکی این سی ٹی سی کے سر باندھا جارہا ہے ۔ اس کارکردگی سے ہندوستان کے وزیر داخلہ بے حد متاثر ہیں اور اسی لئے امریکی این سی ٹی سی کی ہو بہو نقل کرکے ہندوستانی این سی ٹی سی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس کی تشکیل کے بعد ہندوستان میں دہشت گردی کو پور ی طرح رام کیا جائے گا۔ چنانچہ امریکی این سی ٹی سی کی کارکردگی کا مطالعہ کرنے کے لئے ہندوستانی وزیر داخلہ جناب پی چدمبرم اور سابق قومی سلامتی مشیر جناب ایم کے نارائن نے امریکہ کا 2009 میں سفر کیا۔ تاکہ امریکی   این ٹی سی ٹی کے خطوط کو اپنا کر ہندوستان کو دہشت گردی سے آزاد کرایا جاسکے۔ ہندوستان میں این سی ٹی سی کی تشکیل کو جائز قرار دینے کے لئے آئین ہند کے آرٹیکل 73 اور 355 کا سہارا لیا گیا ہے۔ آرٹیکل 73  کے تحت مرکز کو اختیار ہے کہ وہ انتظام و انصرام کی قانونی توضیح کرے۔ اسی طرح مرکز کو بھی یہ اختیار ہے کہ وہ صوبائی حکومتوں کے لئے قوانین بنائے تاکہ مرکز اور صوبوں کے درمیان تال میل کی کوئی کمی نہ ہو۔جبکہ چندکا کہنا ہے کہ آرٹیکل 355 دستور ہند کے تحت مرکز کو اختیار حاصل ہے اور مرکز کافرض ہے کہ وہ صوبوں کی اندرونی  خلفشار اور بیرونی حملوں سے حفاظت کرے۔ اگرچہ یہ ایمرجنسی اختیارات مرکز کو خاص موقع  پر عمل کرنے کے لئے حاصلہیں مگر مرکز نے اس اختیار کا استعمال اس وقت کیا ہے ۔ وزیر  داخلہ کے ذریعہ جاری آفس میمورنڈم میں آرٹیکل 73 کا حوالہ دیا گیا ہے جو مرکزی سرکار کے ایگزیکٹیو اختیار سے بحث کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس طرح کے ایگزیکیٹیو اختیارات کے استعمال کے لئے مرکز کو پارلیمنٹ  کے حوالہ یا منظوری کی ضرورت نہیں ہے مگر مرکز کو یہ اختیارات محدود حد تک ہی حاصل ہیں اور صرف ان مدعوں سے منسلک ہیں جن پر قانون بنانے کا اختیارمرکز کو حاصل ہے لیکن مشترکہ لسٹ یا کانکریٹ لسٹ میں شامل مدعوں پر قانون بنانے کا اختیار مرکز کو حاصل نہیں ہے۔ چونکہ قانون فوجداری، ضابطہ فوجداری، پری وینیٹیو ڈی ٹینشن، قیدیوں کا نقل و حمل اور پبلک آرڈر مشترکہ لسٹ میں آتے ہیں جن پر نگاہ این سی ٹی سی کی بھی ہے۔ اس لئے صوبائی سرکاروں کا اعتراض ان کی نگاہ میں حق بجانب ہے کہ ان کی مرضی اور شرکت کے بغیر این سی ٹی سی کا قیام بے سود ہے اور اس سے صوبائی حکومتوں کے اختیارات مجروح ہوتے ہیں۔
صوبائی سرکاروں کو ان اختیارات کے متعلق فکر ہے جو انہیں دستور ہند کے ساتویں شیڈولڈ (لسٹ 11) میں دستیاب ہیں۔ جن کے تحت صوبائی حکومتوں کو پبلک آرڈر اور پولیس پر کنٹرول کا اختیار حاصل ہے اور ایسا کرنے کی صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری بھی ہے،لیکن ان کا کوئی اختیار ،نیم فوجی دستہ، فوج ، ہوائی اور نیوی فوج کے استعمال کا نہیں ہے۔ یہ صرف مرکزی سرکار کے کمانڈ میں کام کرتی ہیں۔اس لئے صوبائی حکومتوں کو بجا طور پر اس بات کا خدشہ ہے کہ این سی ٹی سی کے افسران  کو اتنا با اختیار بنا دیا گیا ہے کہ وہ آپریشن کنڈکٹ کریں گے اور ان کے صوبوں میں مشتبہ دہشت گردوں کی گرفتاری وہاں کی پولیس اور وزارت داخلہ کی اطلاع کے بغیر انجام دیں گے۔اس سے صوبائی پولیس مشینری کمزور اور بے اثر ہوجائے گی۔دوسری طرف اسی ساتویںشیڈولڈ میں لسٹ ’’1‘‘ میں مرکز کو  ہندوستان کے تحفظ کا اختیار دیا گیا ہے۔امریکی این سی ٹی سی کی ہو بہو نقل کرتے وقت دونوں ممالک کے اہم دستوری ڈھانچہ کو نگاہ  میں بالکل نہیں رکھا گیا ہے۔ مثال کے طور پر امریکی آئین کی دسویں ترمیم کے بعد اس کے سامنے بھی وفاقی اور صوبائی خلیج پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔ کیونکہ اس ترمیم کے بعد وہ  ’’ اختیارات جو دستور  کے ذریعہ متحدہ امریکہ کو تو ڈیلی گیٹیڈیا دستیاب نہیں ہیں ، مگر صوبائی حکومت کے لئے  ان اختیارات کے استعمال کی ممانعت بھی دستور کے تحت نہیں ہے۔ایسے تمام اختیارات صوبوں  یا عوام کے ہاتھوں میں محفوظ ہیں۔ جبکہ ہندوتانی وفاقی نظام میں یہ بالکل برعکس ہے یعنی ’ جو اختیارات صوبوں کو دستیاب  یا ڈیلی گیٹیڈ ہیں۔ ان کے علاوہ تمام اختیارات مرکز کے ہاتھوں میں محفوظ یا ریزرو ہیں‘‘ اس بنیادی دستوری فرق کا لحاظ کیے بغیر امریکی این سی ٹی سی کا ہو بہو اطلاق ہندوستان میں کیا جانا غیر موزوں لگتا ہے اور یہ کہنا کہ امریکی این سی ٹی سی کی وجہ سے وہاں د ہشت  پر قابو پا لیا گیا ہے۔ اس لئے ہندوستانی این سی ٹی سی بھی قابو کرلے گا ۔ دونوں میں زبردست فرق ہے اور خواب خیالی ہے۔ جناب  چدمبرم اور جناب ایم  کے نارائن سابق قومی سلامتی مشیر کے امریکی این سی ٹی سی کی کارکردگی کے مطالعہ کے مطابق۔اس کا کام ( امریکی این سی ٹی سی) صرف خفیہ اطلاعات کو حاصل کرنا ۔ دیگر امریکی ذیلی خفیہ ایجنسیوں سے تال میل پیدا کرنا ، اور باہدف منصوبہ بندی کرنا ہے اور بس۔ امریکی این سی ٹی سی کو یا قومی مزاحمت دہشت گردی مرکز کو آپریشن کے حصہ سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔یہاں تک کہ یو کے کی خفیہ  ایجنسیوں کی مثال دیتے ہوئے  کہا گیا ہے کہ وہ بھی مختلف خفیہ تنظیموں کے درمیان صرف تال میل پیدا کرتی ہے، مگر مذکورہ بالا تجزیہ کے باوجود یہ طے کیا گیا ہے کہ ہندوستانی این سی ٹی سی کو مروجہ عام خفیہ اطلاعات پر مبنی ذمہ داریوں کو پوری کرنے کے علاوہ اس کو اس بات کا ختیار ہوگا کہ وہ ( سرچ آپریشن) کنڈکٹ کرنے کے لئے بڑے پیمانہ پر اپنے اختیارات کا استعمال کرے گا۔ ان کا ماننا ہے کہ ان وجوہات کی بنا پر ہندوستانی این سی ٹی سی کی تشکیل سے کسی طور پر بھی اس کے وفاقی نظام پر کوئی حملہ نہیں ہوگا، بلکہ یہ صوبائی پولیس کی تال میل سے قومی سلامتی کی ضرورت کو پوری کرے گا ۔ ان کہ کہنا یہ بھی ہے کہ امریکہ میں نائن الیون  کے بعد کوئی بڑا حادثہ نہیں ہوا ہے کیونکہ این سی ٹی سی کی وجہ سے وہاں کے حالات پر  قابو پالیا گیا ہے۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ دہشت گردی پر قابو پاکر وہاں کی قومی سلامتی کو یقینی بنا لیا گیا ہے  جبکہ ہندوستان میں دہشت گردی رکنے کا نام نہیں لیتی ہے۔اس پر قابو پانا صوبہ اور مرکز دونوں کا فرض ہے۔لہٰذا این سی ٹی سی  کے ذریعہ ہی اس طرح  کے حالات پر قابو پایا جا سکے گا کیونکہ این سی ٹی سی اپنا کلیدی رول ادا کرے گا۔حساس اطلاعات کی شراکت داری ایک اہم حصہ ہے ۔ ہندوستان  میں خفیہ اطلاعات کی شراکت داری قابل  تسلی نہیں ہے۔ اس کی خاص وجہ مختلف خفیہ ایجنسیوں کے درمیان آپسی تال میل کا فقدان ہے اور ایک دوسرے کے کام میں Overlaping  ہے۔ مگر کثیر ایجنسی مرکز  زیادہ کامیاب رہی ہے۔اگرچہ آئی بی  اپنے کاموں کے بوجھ سے دبا ہوا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ بھی آئی بی  کے پاس افراد کی کمی کی وجہ سے بار بار  سرزد ہونے والی دہشت گردی کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور اس پر قابو پانا مشکل سا ہوگیا ہے۔ اسی لیے ہندوستانی این سی ٹی سی کی تشکیل کی سخت ضرورت ہے ۔ مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ این سی ٹی سی کا قیام ہندوستانی وفاقی ڈھانچہ کے لئے نقصان دہ نہیں ہے بلکہ قومی سلامتی کے لئے فائدہ مند ہے۔ اس کے باوجود آٹھ صوبوں  کے وزراء اعلیٰ نے اس کی کھلے اور دبے الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ ان سب کا کہنا ہے کہ این سی ٹی سی  کا قیام ہندوستانی وفاقی ڈھانچہ کو ہلا کر رکھ دے گا۔ کیونکہ اس سے صوبائی سرکاروں کے اختیارات پر ضرب پڑے گی۔ ان وزراء اعلیٰ کا دوسرا الزام یہ ہے کہ مرکزی سرکار نے این سی ٹی سی جیسے بااختیار ادارہ کے قیام اور تشکیل کا فیصلہ کرلیا مگر صوبائی حکومتوں کو اعتماد میں لینے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ہے ۔ اس کی مخالفت میں تامل ناڈو ، جموں و کشمیر ،اڑیسہ، گجرات، مغربی بنگال، بہار، مدھیہ پردیش کے بھاری بھرکم وزراء اعلیٰ شامل ہیں۔ ان سب کی مخالفت میں اٹھنے والی آواز کی وجہ سے مرکز اور صوبوں کے درمیان زبردست کھینچا تانی شروع ہوگئی ہے ۔ یہ تنازعہ مرکز اور صوبوں کے درمیان این سی ٹی سی کو دستیاب ’’ آپریشنل اختیارات‘‘ سے متعلق شروع ہوا ہے جبکہ این سی ٹی سی کو یہ آپریشنل اختیار ’’ انسداد غیر قانونی نقل و حمل‘‘ (UAPA) ترمیم شدہ ایکٹ کے تحت دستیاب ہوا ہے۔ یہ اختیارات 2008 میں ممبئی تاج ہوٹل میں ہوئے حادثہ کے بعد این سی ٹی سی کو تفویض کیے گئے ہیں۔ اس ترمیم کے مطابق کوئی بھی مشتبہ کسی بھی نامزد اٹھارتی کے کسی بھی آفیسر کے ذریعہ گرفتار کیا جا سکتا ہے’’ A Suspect may be arrested by any officer of the designated authority‘‘۔ہندوستانی این سی ٹی سی کو یہ بھی اختیار ہوگا کہ وہ کوئی بھی اطلاع بشمول دستاویز ، رپورٹ ، ٹرانسکرپٹ یا سائبر اطلاع وغیرہ کسی بھی ایجنسی سے حاصل کرے۔ مزید اسے یہ اختیار ہوگا کہ وہ (1) سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) (2 ) قومی تفتیشی ایجنسی (3 )نیشنل ٹیکنیکل ریسرچ آرگنائزیشن (4)ڈائریکٹریٹ آف ریونیو انٹلیجنس اور (5)ساتوں مسلح پولیس فورسیز بشمول (6) نیشنل سیکورٹی گارڈ  (این ایس آئی) کے لئے این سی ٹی سی نوڈل ایجنسی ہوگی۔جو تمام طرح کی خفیہ اطلاعات اور کائونٹر دہشت گردی کی نقل وحرکت سے متعلق جنرل اطلاع حاصل کرے گی۔ مثال کے طور پر آئی بی ریسرچ اینڈ انیلیسس ونگ (R&Aw) جوائنٹ انٹلیجنس کمیٹی (JIC) اور خفیہ تنظیموں  سے ، اطلاعات ہندوستانی این سی ٹی سی حاصل کرکے اسے عمل میں لائے گا۔ اس طرح این سی ٹی سی مخالفوں کے مطابق این سی ٹی سی کو ایسا  دانو بنا دینا ہوگا جو تمام ذیلی تنظیموں کو ہضم کرلے گا۔ اس طرح صوبائی حکومتوں کا خدشہ بظاہر حق بجانب لگتا ہے ۔ وزیر داخلہ نے 26 نومبر کے ممبئی حملہ کے پیش نظر اعلان کردیا تھا کہ ایک دہشتگردی مخالف مرکزی تنظیم جو مرکز کے زیر نگرانی ہوگی اس کا قیام  عمل میں آئے گا۔ بعد میں اس مرکزی تنظیم کا نام این آئی اے ( نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی ) رکھ دیا گیا۔اس سلسلہ میں نہایت عجلت  میں ایک بل پیش کرکے پارلیمنٹ سے پاس کراکر صدر جمہوریہ سے دستخط کراکر 30  دسمبر 2008 کو اسے قانون بنادیا گیا۔اس کے ایک سال کے بعد وزیر داخلہ نے دسمبر 2009 کو یہ اعلان کردیا کہ ہندوستان امریکی این سی ٹی سی کی نقل کرکے یا اس کے خدوخال پر منحصر مقامی ضرورت کے مطابق این سی ٹی سی کی تشکیل کرے گا، لہٰذا 3 فروری 2012  میں وزیر داخلہ نے ایک ایگزیکٹیو آرڈر جاری کرکے این سی ٹی سی کی تشکیل کردی۔ چنانچہ این سی ٹی سی در حقیقت کسی با ضابطہ ایکٹ یا بل کے ذریعہ  تشکیل شدہ نہیں ہے۔ یہ بذات خود آئی بی کے تحت رہ کر کام کرے گا۔ جبکہ آئی بی بذات خود بھی کسی اسٹے ٹیوٹ کے ذریعہ گورن نہیں ہوتا ہے۔ آئی بی کی تشکیل برٹش حکومت کے ذریعہ آج سے 125 سال قبل ہوئی تھی، جس کا واحد مقصد اس کے قیام کے وقت بڑے کھیل  کے تحت یہ تھا کہ وہ شمال مغرب فرنٹ میں روس کی نقل وحرکت کی نگرانی کرے۔ آئی بی دنیا کی قدیم ترین خفیہ ایجنسی کہی جاتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آئی بی کی پارلیمانی کوئی بھی نگہداشت نہیں ہوتی ہے ۔ اسی لئے آئی بی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ گرفتار کرے یا سیز کرے کیونکہ ان تمام مراحل کو انجام دینے کے لئے قانون کی سربراہی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو آئی بی کو کسی بھی حالت میں میسر نہیں ہے۔ گویا کہ این سی ٹی سی کی حیثیت بھیل پوری یا کسی کھچڑی کی ہے ،جس کی تشکیل کے لئے جگہ جگہ سے بہت  ساری چیزوں کو ملا کر کوئی شکل بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے بذات خود آئی بی کے لئے کوئی بھی گورننگ قانون نہیں ہے۔لیکن این سی ٹی سی انتظامیہ کے نوٹی فکیشن  کے ذریعہ انسداد غیر قانونی نقل و حرکت ایکٹ 1967  کے تحت کچھ اختیار حاصل کرتا ہے۔ اس قانون (UAPA) کو دو بار ترمیم  کے مراحل سے 2004 اور پھر 2008 میں گزرنا پڑا تاکہ وہ دہشت گردی سے نمٹ سکے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ این سی ٹی سی ان کاموں کو انجام دے سکتا ہے جو بذات خود آئی بی کے دائرہ اختیار سے باہر ہے جبکہ این سی ٹی سی  آئی بی کی نگرانی میں کام کرتا ہے۔ یعنی این سی ٹی سی کو گرفتار کرنے ، ڈیٹین کرنے، سوال و جواب کرنے اور مقدمہ چلانے یا ٹرائل کرنے کا اختیار حاصل ہے جبکہ آئی  بی کو ان سب کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ ہندوستانی این سی ٹی سی کے یہ اختیارات امریکی این سی ٹی سی ،جس کی ہو بہو نقل ہندوستان نے کی ہے کے اختیارات سے بالکل پرے ہے اور منفرد ہے یعنی  این سی ٹی سی خود مانیٹرنگ یا نگرانی یونٹ سے بڑھ کر ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہندوستانی این سی ٹی سی  کا افسر اڑ کر کسی بھی صوبہ میں وہاں کی پولیس یا وزارت داخلہ کو بتا ئے بغیر مداخلت کرسکتا ہے اور چار ماہ تک کسی بھی مشتبہ دہشت گرد کو بغیر ضمانت دیے گرفتار کرکے قید میں رکھ سکتا ہے اور اس طرح اس مشتبہ دہشت گرد کے بنیادی حقوق کو پامال کرسکتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ تمام صوبوں کی سرکاری ایجنسیاں بشمول پولیس کو ہر حالتمیں مطلع کرنے کا التزام کیا جائے ۔ دستاویز ، رپورٹ وغیرہ دستیاب کرائے جائیں۔ ورنہ ہندوستان کا ہر شہری مشتبہ دہشت گرد کہا جا سکتا ہے۔ اور این سی ٹی سی کا مطلب ہوگاNational Centre For Terrorising citizens  یعنی شہریوں کو دہشت زدہ کرنے کا مرکز۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *