نئے سال میں مزید سرخ ہوگی سرزمین بنگال

Share Article

بمل رائے
دو ہزار دس کے آخری ماہ میں یہاںپھیلی شر پسندی اور انارکی نے یہ اشارہ کر دیا ہے کہ 2011کے اسمبلی انتخابات تک کیا ہونے والا ہے؟ پہلے بھی کئی مرتبہ لکھا جا چکا ہے کہ بنگال کی مستقبل کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی انتخابات تک خاموش نہیں بیٹھنے والی ہیں۔ادھر، بایاں محاذ نے بھی پلٹ کر کھڑے ہونے کی حکمت عملی کو بھی زمین پر اتار دیا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی حکمت عملی کا اشارہ خوفناک نظر آ رہا ہے۔ ان پالیسیوں میں نیا رنگ مرکز کے گھوٹالوں میں پھنسی حکومت کی وجہ سے بھی آ رہا ہے، جس میں ایک اہم اتحاد ہے ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس۔ 2جی اسپیکٹرم جے پی سی تفتیش کے اپوزیشن کے مطالبہ کے ساتھ شروعاتی ہمدردی،حال ہی میں پٹرول اور پیاز کی قیمتوں میں اضافہ کی مخالفت اور ریاست میں کانگریس کو بنا ساتھ لئے بھی انتخابات لڑنے کی دھمکیوں کے پیچھے ممتا کا ایک ڈر بھی ہے کہ کہیں گیہوں کے ساتھ گھن بھی نہ پس جائے۔ کہنے کی بات نہیں کہ گھوٹالوں اور مہنگائی کے سبب آج کی تاریخ میں یو پی اے کا گراف بری طرح گرچکا ہے۔انہیں ایشوز کے دم پر ریاست میں بایاں محاذ 4جنوری سے زبردست انتخابی تشہیر میں مصروف ہوگیا ہے۔
یہ تمام سرگرمیاں ممتا کو مضطرب کر رہی ہیں اور وہ ہاتھ آئی بازی کو پلٹنے کا کوئی امکان پیدا نہیں ہونے دینا چاہتیں۔40دن کی اس انتخابی تشہیر کے بعد 13فروری کو کولکاتہ میں بایاں محاذ کا ایک بڑا جلسہ ہونے والا ہے۔ آگے آگے بایاں محاذ کے جلسے ہو رہے ہیں تو پیچھے پیچھے انہیں جگہوں پر ترنمول کانگریس کے لیڈر بھی عوام کے درمیان جا کر الزامات کی صفائی دیتے پھر رہے ہیں۔ دونوں گروپ وہیں جا رہے ہیں، جہاں پر تشدد وارداتیں ہوتی ہیں۔ دونوں کا اپنے عوام کے لئے ایک ہی پیغام ہے۔ ’’ڈٹے رہو کیڈروں! ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘۔دسمبر 2010میں نظر آئی پر تشدد طلبا سیاست کے پیچھے بھی اسی حکمت عملی نے کام کیاتھا۔ ممتا نے حال ہی میں کہا تھا کہ کالجوںکے انتخابات میں اب تک ترنمول طلبا یونین کے امیدواروں کو انتخابات میں پرچۂ نامزدگی بھرنے سے بھی روک دیا جاتا تھا۔ اس بار تمام کالجوں میں ترنمول پورے دم خم کے ساتھ میدان میں اتری اور اسی طرح کی تیاری بایاں بازو کی طلبایونین یعنی فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) کی بھی تھی۔ حالانکہ طلبا تشدد کے پہلے واقعہ میں حملہ مبینہ طور پر ترنمول کی جانب سے ہی ہوا، جب ہاوڑہ کے آندول میں ایک ایس ایف آئی طلبا سوپن کولے کا پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ایس ایف آئی کے دیگر 10طلبا زخمی بھی ہوئے۔سوپن کے خلاف مظاہر ہ کر رہے ایس ایف آئی اور ترنمول کے طلبا کے درمیان کولکاتہ میں بھی تصادم ہوا۔مہانگر کے آشوتوش کالج کے طالب علم سووک ہاجرا کی بائیں آنکھ پھوڑ دی گئی۔ اس کا علاج حیدر آباد میں چل رہا ہے۔ ہاجرا موڑ پر ہوئے اس تصادم میں ایس ایف آئی کے 9طلبا زخمی بھی ہوئے۔ خوب تصادم ہوا۔کولکاتہ لڑائی کا میدان بن گیا۔
بتایا جاتا ہے کہ جسمانی طور پر معذور سو وک کو سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اور وہ بھیڑکے تشدد کا شکار ہوا۔ 20دسمبر کو مسلح فسادیوں نے شمالی 24پرگنا ضلع کے بنگائوں میں ترنمول کانگریس طلبا کونسل کے صدر شنبھو مالاکار کو گولی مار کر زخمی کر دیا۔ 22دسمبر کو آندول کے اس کالج میں انتخابات کے لئے ارد گرد کے چار تھانوں کی پولس کو پہرا دینا پڑا۔ سوپن کو جب وزیر اعلیٰ بدھا دیب بھٹاچاریہ اور ومان بوس جیسے لیڈران نے خراج عقیدت پیش کیا، تو ممتا نے ایک دن پہلے لال گڑھ میں مبینہ طور پر ایم سی پی کیڈروں کے ہاتھوں مارے گئے ترنمول کارکنان سناتن ہیمبرن کی لاش کوکولکاتہ منگوا کر باقاعدہ پانچ کلومیٹر تک ماتمی جلوس نکالا۔ دونوں گروپوں نے ایک دوسرے پر لاشوں کی سیاست کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
ایم سی پی نے کہا کہ ممتا مائونوازوں کی لاشیں منگوا کر ریاست میں شورش پیدا کر رہی ہیں۔ایم سی پی کے مطابق ہیمبرن پولس مظالم کے خلاف بنی پیپلز کمیٹی( پی سی پی اے) کا سرگرم ممبرتھا۔پولس نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کبھی جھارکھنڈ پارٹی کا ممبر رہ چکا ہیمبرن پی سی پی اے کے سدھو کانو گر ملیشیا کا ممبر تھا۔ ایم سی پی کے ریاستی سکریٹری ومان بوس نے تو ہیمبرم کو ترنمول کا ممبر بتانے کی مذمت بھی کی اور کہا کہ 2009کے لوک سبھا انتخابات کے بعد سے بایاں محاذ کے 337لیڈران اور کیڈروں کے مارے جانے میں مائونوازوں اور ترنمول دونوں کا ہاتھ ہے۔
طلبا کے درمیان تشدد جاری رہا۔ گزشتہ 21دسمبر کو گریا دین بندھو کالج کے طا لب علم کاجل کرن منڈل کی لاش ملنے سے سنسنی میں مزیدا ضافہ ہوگیا۔ وہ ترنمول طلبا کونسل کا سرگرم ممبر تھا اور اپنے کالج کے اسٹوڈینٹ یونین الیکشن میں کھڑا ہوا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اسے ایم سی پی کی اسٹوڈینٹ یونین اے اے ایف آئی سے دھمکی مل رہی تھی اور وہ دو دن سے لاپتہ تھا۔21کو یادو پور میں ریلوے لائن پر اس کی لاش ملی۔ پہلے سے ہی گرمائی سیاست تب مزید گرما گئی، جب ترنمول والوں نے اس طالب علم کی لاش کے ساتھ کولکاتہ میں جلوس نکالا۔ 23دسمبر کو بردمان میں رائنا کے شیام سندر کالج کے ترنمول طلبا یونین کے سیکت نگیل کو بھی چاقو مار کر زخمی کیا گیا۔ اسی دن جنوبی24پرگنا کے پاتھیر پرتما میں اے ایس ایف آئی اور ترنمول طلبا یونین کے درمیان ہوئی جھڑپوں میں 4افراد زخمی ہوئے۔
پر تشدد طلبا سیاست کے اس نئے دور نے 70کی دہائی کی شروعات کی نکسلی تحریک میں طلبا کی شراکت کی یاد تازہ کر دی۔حالانکہ اس وقت کی طلبا تحریک کا مقصد صرف اپنا حق حاصل کرنا تھا مگر آج یہ طلبا صرف سیاسی جماعتوں کا مہرا بن کر رہ گئے  ہیں۔اس طلبا سیاست میں اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے باہری شر پسند عناصر بھی داخل ہو رہے ہیں۔ایس ایف آئی دبدبے کو قائم رکھ کر ایم سی پی اپنی مقبولیت میںمسلسل ہوتی گراوٹ کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔کیونکہ گزشتہ لوک سبھا انتخابات کے بعد ہوئے تمام ضمنی انتخابات اور مقامی انتخابات سے بایاں محاذ کی عوامی مقبولیت کم ہوتی جا رہی ہے۔اسمبلی انتخابات سے تین چار ماہ قبل ایم سی پی اپنے کیڈروں کے حوصلے پست نہیں ہونے دینا چاہتی۔ 21تاریخ کو ہی ریاست کے بیشتر کالجوں میں طلبا یونین الیکشن کے نتائج آئے اور نکسلی متاثرہ علاقوں مغربی مدنیٰ پور، بانکوڑا او ر پرولیا کے علاوہ جنوبی بنگال کے ان کالجوں میں ترنمول طلبا یونین 20سال بعد قابض ہوئی۔حالانکہ کل ملا کر دیکھا جائے تو کولکاتہ اور آس پاس کے علاقوں میں لیفٹ طلبا یونین کا دبدبا قائم رہا۔پھر بھی یہ واضح ہو گیا ہے کہ ریاست میں تبدیلی کی لہر ابھی تھمی نہیں ہے یا ایک دم سے پلٹنے والی نہیں ہے۔
جماعتی جدوجہد ہو یا نکسلی تشدد، کہیں تھمتا نظر نہیں آ رہا اور نہ ہی کوئی امید کی کرن نظر آ رہی ہے۔15دسمبر کو 40نکسلیوں نے پرولیا ضلع کے باغ بادی گائوں پر حملہ بولا اور گھروں سے نکال کر سات فارورڈ بلاک کیڈروں کا قتل کر دیا۔ان میں ایک خاتون پردھان بھی تھی۔بعد ازیں پولس نے جھالدا علاقہ سے پانچ لاشیں برآمد کیں۔ان لاشوں کے پاس سے مائونوازوں کے پوسٹر بھی برآمد ہوئے، جن میںیہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ حفاظتی دستوں کے لئے خفیہ طریقہ سے کام کر رہے تھے۔
اس کے پہلے پانچ دسمبر کو بردوان میں مبینہ طور پر ایم سی پی کیڈروں نے ایک ترنمول حامی کی بیوی کی آبروریزی کی اور بعد میں اسے آگ لگا دی۔وہ اسپتال میں زندگی اور موت سے جدوجہد کر رہی ہے۔حالانکہ ایم سی پی کے ڈسٹرکٹ چیف سکریٹری امل ہالدار نے کہا کہ گھریلو جھگڑے کے بعد اس خاتون نے آگ لگائی اور یہ بیان اس نے مجسٹریٹ کے سامنے بھی دیا۔ اس واردات سے یہ خدشہ اور مضبوط ہو جاتا  ہے کہ بنگال میں اس وقت خواہ جس سبب سے خون خرابہ ہو رہا ہو ، اسے سیاسی شکل دینے کی پوری پوری کوشش کی جا رہی ہے۔21دسمبر کو مرشد آباد ضلع کے کھار گرام میں مبینہ طور پر ایم سی پی حامی فسادیوں نے سراج الدولیٰ عرف باپی نام کے ایک کانگریسی گرام پنچایت پردھان کا قتل کر دیا، حالانکہ بم دھماکہ سے ایک حملہ آور بھی مارا گیا۔22دسمبر کو ہی ہاوڑہ کے چندر پور میں مبینہ طور پر ترنمول کی شہہ والے حملہ آوروں نے ایک ایم سی پی حامی شیخ شہانگیر کو گولی مار دی۔ اس واردات کے بعد یہاں دونوں جماعتوں کے درمیان معمولی تشدد بھی ہوا۔ 26دسمبر کو مغربی مدنیٰ پور کے گوالتوڑ میں بارین منڈل نام کے ایک ترنمول حامی کا گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ شک کیا جا رہا ہے کہ اس میں ایم سی پی کا ہاتھ ہے۔
اسی دن شام کو ممتا بنرجی نے کولکاتہ کے دھرم تلا میں کئے گئے جلسے میں پھر جنگل محل سے حفاظتی دستوں کو ہٹانے کا اپنا رٹا رٹایا پرانامطالبہ دہرایا۔ادھر، دہلی میں ترنمول کے ممبران پارلیمنٹ نے وزیر اعظم منموہن سنگھ سے مل کر اپنا دکھڑاسنایا۔ کولکاتہ میں گورنر ایم کے نارائن نے وزیر اعلیٰ کو بلا کر ریاست میں جاری تشدد کو روکنے کے لئے کہا۔ یہ سب چل ہی رہا تھا کہ ممتا کے دبائو میں وزیر داخلہ پی چدمبرم نے وزیر اعلیٰ کو ایک خط بھی لکھ دیا۔جس میں قانونی نظم و نسق کی خراب صورتحال کے لئے لتاڑ لگائی گئی ہے اور ’ہرماد واہنی ‘کو برخاست کرنے کو کہا گیا ہے۔
تشدد کی سیاست کا کوئی کنارہ نظر نہیں آ رہا اور آئندہ چار پانچ ماہ میں خون کا بہنا شایدہی رک پائے۔ بنگال میں صحیح معنوں میں جنگل راج قائم ہوگیا ہے اور اس کے لئے حکومت اور اپوزیشن دونوں ذمہ دار ہیں۔ایک کو اپنی کرسی کو محفوظ رکھنا ہے تو دوسرے کا تختہ پلٹ کرنا ہے۔ اس سب کے درمیان پھنسے ہیںتو صرف  بنگال کے عوام ۔ جو کئی سالوں سے تبدیلی کے حق میں ہیں۔ ممکن ہے، اگر اس جنگل راج پر جلدہی قابو نہیں پایا گیا تو وہ اپنے فیصلہ پر نئے سرے سے غور وخوض کرنے پر مجبور ہوں گے اور سوچیں گے کہ تبدیلی صرف تبدیلی کے لئے ہو یا کچھ بھلے کے لئے۔

چدمبرم کا خط

اس میں کوئی شک نہیں کہ چدمبرم نے ممتا کے آگے جھکتے ہوئے حکومت کو خط لکھا۔ حکومت کو جنگل محل سے ایم سی پی کی’ ہرماد واہنی ‘( ہتھیار بند ایم سی پی کیڈر) کو ہٹانے کو کہا گیا تھا۔ ’ہرماد واہنی ‘بنگلہ کا لفظ ہے اور خط میں اس لفظ کے استعمال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ممتا نے اسے لکھنے کو سیدھے ڈکٹیٹ کیا ہوگا؟ چدمبرم نے کسی ماہر زبان یا پرنب دادا سے پوچھنے کی زحمت نہیں اٹھائی کہ اس کا مطلب کیا ہے؟ بنگال میں اس لفظ کی ادائیگی صرف بایاں محاذ کے مخالف کرتے ہیں۔ پہلی غلطی تو یہ ہوئی کہ خط کولکاتہ پہنچنے سے پہلے ہی 24دسمبر کو ہی میڈیا کو لیک کردیا گیا۔ جب خط 27دسمبر کو وزیر اعلیٰ کے دفتر پہنچا تو افرا تفری مچ گئی۔ بایاں محاظ کے لیڈران نے کہا کہ اس کا سیدھا مطلب ترنمول کو سیاسی فائدہ پہنچانا تھا۔ تین دنوں تک ان سے خط پر ردعمل مانگا جاتا رہا، مگر وہ کچھ بولنے سے قاصر رہے۔ایک خطرناک وہم طاری ہو گیا۔اپوزیشن کا جوش و خروش دیکھئے کہ اس معاملہ پر اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے خلاف خصوصی اختیارات کی خلاف ورزی کا نوٹس لانے کی بھی تیاری ہو چکی تھی۔ 27دسمبر کو جنرل ڈاک سے پہنچا یہ لیٹر بم جیسے ہی وزیر اعلیٰ تک پہنچا، لیفٹ لیڈر مشتعل ہو اٹھے۔ اس میں ’ہرماد واہنی‘لفظ پر وزیر داخلہ کی مہر جو لگ گئی تھی۔ ایک دن قبل وزیر اعلیٰ نے ایک عوامی جلسہ میں چدمبرم سے پوچھا کہ کیا انہیں ممتا اور مائونوازوں کے میل ملاپ کے بارے میں معلوم ہے؟ ریاست میںقانونی نظم و نسق بدسے بدتر کہے جانے سے بھی لیفٹ لیڈران کو مرچی لگی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے جوابی خط میں وہی صفا ئی دی، جس کے بارے میں وہ پہلے سے کہتے آرہے ہیں۔ مائونوازوں کی دہشت سے اپنا گھر بار چھوڑ کر بھاگے لیفٹ کیڈروں کو حفاظت مہیا کرانے کیلئے انہیں پارٹی دفتروں میں رکھا جا رہا ہے۔ ممکن ہے کہ حفاظت کے لحاظ سے ان کے پاس کچھ ہتھیار بھی ہوں گے۔حکومت نے ’ہرماد واہنی‘‘جیسی کسی تنظیم کے سرگرم ہونے سے صاف انکار کیا ہے۔جس طرح ترنمول پر مائونوازوں سے مدد لینے کا الزام لگایا جا رہا ہے، اسی طرز پر لیفٹ حکومت پر حفاظتی دستوں کا بیجا استعمال کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ حالانکہ دونوں کی صورتحال میں کافی فرق ہے۔ دیہی علاقوں میں ایم سی پی کے کیڈر مائونوزوں کی نقل وحرکت اور ان کے اڈوں کی جانکاری حفاظتی دستوں کو دے کر مدد کر رہے ہیں۔ پرولیا ضلع کے باغ بادی گائوں میں7فارورڈ بلاک کیڈروں کا قتل مائونوازوں نے اسی شک میںکیاتھا۔ حفاظتی دستے پولس کے ماتحت کام کر رہے ہیں، مگر یہی نہیں کہا جا سکتا ہے کہ ایم سی پی حفاظتی دستوں کا استعمال ترنمول حامیوں کے خلاف کر رہی ہے۔ترنمول کو لگتا ہے کہ حفاظتی دستوں کی طاقت کی وجہ لیفٹ جنگل محل کے تین اضلاع میں اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت پھر سے حاصل کر رہی ہے۔ لیفٹ بھی تشہیر کر رہی ہے کہ ممتا مائونوازوں کے ساتھ ہیں، اس لئے وہ حفاظتی دستوں کو ہٹانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ حالانکہ ریاست کا سیاسی نقشہ ایسا ہے کہ ممتا کی کاٹ تیار نہیں ہو پا رہی ہے۔ ٹھیک اسی طرح، جیسے بایاں محاذ نے سوچا تھا کہ ریاست سے نینو کے جانے کے بعد سے کم سے کم شہرکا متوسط طبقہ تو ممتا سے منھ موڑ لے گا، مگر بعد کے انتخابات میں ایسا نظر نہیں آیا۔ ممتا اتحاد کو لے کر بھی کبھی کبھار کانگریس کو ہڑکاتی رہتی ہیں اور ایک بار تو انھوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر جنگل محل میں حفاظتی دستوں کے بیجا استعمال کی بات غلط ثابت ہوگی تو وہ اپنا عہدہ بھی چھوڑنے کے لئے تیار ہیں۔ اسے ممتا کی بالواسطہ دھمکی کی شکل میں دیکھا گیا۔ شکر ہے کہ وزیر داخلہ حفاظتی دستوں کو ہٹانے جیسے کسی فیصلہ پر نہیں سوچ رہے ہیں۔ ظاہر ہے، آئندہ پانچ ماہ یعنی اسمبلی انتخابات تک حفاظتی دستوں کو ہٹانے کا فیصلہ خود کشی ہی ہوگا۔ ممتا کو اپنا سیاسی فائدہ نظر آ رہا ہے، نہ کسی نکسلیوں کی دہشت گردی۔ ویسے ان میں یہ سوچنے کی اتنی دوراندیشی نہیں ہے کہ اس رخ سے اقتدار میں آ نے کے بعد کتنا بڑا سیاسی چیلنج آ سکتا ہے، کیونکہ نکسلی کسی کے نہیں ہیں اور بڑے بڑے نظریات کی آڑ میں ان کا واحد ہتھیار تشدد اور دہشت گردی ہی ہے۔
بایاں محاظ نے اس مسئلہ پرمرکز پر بھی نشانہ سادھا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ وزیر داخلہ نے ترنمول کا حق لیا ہے اور اسی کے نظریہ سے حالات کا اندازہ لگا کر خط لکھا ہے۔ اس الزام میں دم بھی ہے۔ حالانکہ مرکزمیں اسپیکٹرم گھوٹالہ میں جے پی سی کے مطالبہ کے ایشو پر بی جے پی کے ساتھ کھڑی ایم سی پی عام طور پر ریاست میں اہم طور پر ترنمول کو ہی نشانہ بناتی رہی ہے۔ بایاں محاذ کے چیئر مین ومان بوس نے چیلنج دیا ہے کہ اگر ترنمول اپنے مارے گئے اور زخمی کیڈروں کی فہرست پیش کرے تو بایاں محاذ بھی اپنی فہرست دینے کو تیار ہے۔ویسے وزارت داخلہ نے اپنی جو فہرست پیش کی ہے، اس کے مطابق لوک سبھا انتخابات کے بعد سے ریاست میں مارے گئے اور زخمی سیاسی کارکنان میں ترنمول کے 96اور 1237،کانگریس کے 15اور 221اور ایم سی پی کے 65اور 773کیڈر ہیں۔حالانکہ تینوں ہی خیمے اپنے زخمی کیڈروں کی تعداد زیادہ بتا رہے ہیں۔
چدمبرم کے خط سے کانگریس کے تئیں ایم سی پی کے لیڈران کا وہم بھی ٹوٹ گیا ہے۔اس کے لئے بہار کے انتخابی نتائج اور گھوٹالوں کے سبب مرکز میں بدلی سیاست ذمہ دار ہے۔ کانگریس اور لیفٹ کے اتحاد کے تار اس وقت جڑتے ہیں، جب ملک کے سیکولرکردار کو مبینہ فرقہ پرست طاقتوں سے خطرہ ہوتا ہے۔ ڈی ایم کے سے رشتوں میں آئی تلخی کے بعد ممتا کانگریس کے لئے ضرروری ہو گئی ہیں۔اس طرح، بہار کی کراری چوٹ سہلاتی کانگریس ریاست میں ترنمول کو جھٹکا دینے کی حالت میں نہیں ہے۔راہل کا دسمبر میں مجوزہ بنگال دورہ بھی اسی لئے رد کرنا پڑا۔ صورتحال ایسی بن رہی ہے کہ ممتا صرف چدمبرم کو ہی نہیں، بڑے بڑوں کو ناچ نچائیںگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *