ممنوعہ نکسلی تنظیم سی پی آئی ماؤنواز کے پانچ لاکھ کی انعامی خاتون نکسلی پی سی دی عرف پری سلا عرف ساوڑی دیوی اور کرن عرف پکوسمیت چھ ہارڈ کونکسلیوں نے پیر کو دمکا میں ڈی آئی جی راج کمار لکڑا اور ایس پی وائی ایس رمیش کے سامنے خود سپردگی کر دی۔ ایس پی دفتر میں ہتھیار ڈالنے والے نکسلیوں میں شامل پی سی دی، سابق نکسلی تالا دا کی بیوی ہے۔ پکو کے خلاف 16 مقدمے درج ہیں۔ پی سی دی کے شوہر سکھلال دیہری نے بھی پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔
Image result for women Naxals surrender
پولیس نے بتایا کہ جھارکھنڈ حکومت کی ہتھیار ڈالنے والی پالیسی سے متاثر ہوکر تمام نکسلیوں نے ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کیاہے۔ سب نے اپنے اپنے رشتہ داروں کے ذریعے درخواست دیکر ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کی تھی۔ ہتھیار ڈالنے والے چھ نکسلیوں میں تین مرد اور تین خواتین ہیں۔ ان میں سکھلال دیہری عرف کندرادیہری، پی سی دی عرف پری سیکلا دیوی عرف ساوڑی سنگھ، پریم شیلا عرف کوپن ٹی، کرن ٹڈو عرف پکو ٹڈو عرف اوشا ٹڈو عرف پھلینا ٹڈو، بھگت سنگھ عرف بھگت سنگھ ہیمبرم عرف بابورام ہیمبرم اور سددھو مرانڈی عرف کنہو شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق تمام نکسلی دومکا اور سنتھال پرگنہ کے دیگر اضلاع میں سرگرم تھے۔ یہ لوگ تمام زونل کمانڈر تالا دا عرف سہدیو رائے کے دستے میں سرگرم تھے۔ اسکواڈ کے لئے انہوں نے بہت سے نکسلی واقعات کو انجام دیا تھا۔قابل ذکر ہے کہ نکسلی سرغنہ تالا دا 13 جنوری، 2019 کو پولیس تصادم میں مارا گیا تھا۔ سکھلال دیہری اور پریم شیلا دیوی کے علاوہ تمام چار نکسلی کاٹھی کنڈ تھانہ علاقہ میں دو جولائی 2013 پاکڑ میں ایس پی امرجیت بلیہار قتل میں ملوث تھے۔ ان کے خلاف دمکا ضلع میں بہت سے کیس درج ہیں۔
 
Image result for women Naxals surrender
ہتھیار ڈالنے والے تمام نکسلیوں کو جھارکھنڈ سرکار کی خود سپردگی پالیسی کے تحت پولیس کی جانب سے فوری طور پر ایک ایک لاکھ روپے دیئے گئے۔ پالیسی کے تحت دی جانے والی دیگر سہولیات بھی انہیں جلد ہی دستیاب کرائی جائے گی۔ ان سب کو پیشہ ورانہ تربیت بھی دی جائے گی۔ تمام نکسلیوں کو اپنا مقدمہ لڑنے کے لئے حکومت کی جانب سے وکیل فراہم کیا جائے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here