سابق ممبر اسمبلی کی دال مل میں نکسلیوں نے لگائی آگ، دس کروڑ کی جائیداد جل کر خاکستر

Share Article

 

بہار کے سارن ضلع کے پرسا تھانہ علاقہ کے مرزا پورواقع دال مل میں نکسلیوں نے اتوار کی رات تقریباًڈیڑھ بجے آگ لگا دی، جس سے تقریباً 10 کروڑ روپے کی جائیداد جل کر خاکسترہو گئی۔

 

 

اس معاملہ میں دال مل کے گارڈ اور پرسا تھانہ علاقہ کے فتح پور گاؤں رہائشی وجے سنگھ نے پرسا تھانے میں تحریری ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مرزاپور میں واقع دال مل امنور کے سابق ممبر اسمبلی اور جے ڈی یو لیڈر کرشن کمار عرف منٹو سنگھ کی ہے۔ پرسا تھانہ انچارج کندن کمار سنگھ نے بتایا کہ اس معاملے میں تحقیقات کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گارڈز نے تحریری شکایت میں کہا ہے کہ قریب ایک درجن کی تعداد میں آئے نکسلیوں نے اسے یرغمال بنا لیا اور اس کے بعد دال مل میں پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی ۔ نکسلیوں نے آگ لگانے کے بعد لال سلام کے نعرے لگائے۔ تمام نکسلی پولیس کی وردی میں تھے۔ نکسلیوں نے جاتے وقت گارڈ سے کہا کہ تمہارا مالک لیوی نہیں پہنچا رہا ہے، جس کی وجہ سے دال مل میں آگ لگائی گئی ہے۔ نکسلیوں نے گارڈز کو خبردار کیا کہ اپنے مالک کو بتا دینا کہ لیوی نہیں پہنچانے کا کیا انجام ہوتا ہے۔

 

 

گارڈ نے بتایا کہمل کا صدر دروازہ بند تھا۔ چہار دیواری کود کر کر ایک نکسلی اندر گھسا اورخود کو پولیس بتا کر گارڈ روم کھلوایا۔ گیٹ کھول کر باہر نکلتے ہی اس نے ہتھیار کا خوف دکھا کراسے قبضے میں لے لیا اور دال مل کے باہر باسواری میں لے جاکر ہاتھ، پاؤں، منہ گمچھا سے باندھ دیا۔ اسکے بعد واقعہ کو انجام دیا۔ اس دوران نکسلیوں نے اس کا موبائل بھی لے لیا۔ نکسلیوں کے جانے کے بعد گارڈ نے کسی طرح خود کو آزاد کیا اور بغل کے گھر میں جا کر موبائل مانگ کر مل مالک کو واقعہ کی اطلاع دی ۔ اسکے بعد صبح پانچ بجے پرسا تھانہ کی پولیس کو مل مالک اور سابق ممبر اسمبلی نے واقعہ کی معلومات دی۔ ساتھ ہی پولیس سپرنٹنڈنٹ کو بھی اطلاع دی۔ اس کے بعد پرسا، بھیلدی ، مکیر سمیت کئی تھانہ کی پولیس پہنچی۔ فائر بریگیڈ کی ٹیم بھی پہنچی اور صبح تک آگ بجھانے میں لگی رہی۔ اس کی اطلاع پاکر موقع پر سینئر پولیس افسر بھی پہنچے اور تفتیش کی۔ فی الحال اس کی جانچ چل رہی ہے۔ مل مالک اور سابق ممبر اسمبلی نے بھی اس واقعہ میں نکسلیوں کے ہاتھ ہونے کی بات کہی ہے اور پولیس انتظامیہ سے اپنی سیکورٹی بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *