نواز شریف کی جیت

Share Article

اعجاز حفیظ خان 
p-8سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی مسلم لیگ ن 11مئی کو ہونے الیکشن میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ۔ قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت کے بعد اب وہ اسلام آباد حاصل کرنے کے لئے کسی جماعت کی محتاج نہیں رہی۔ میاں صاحب تیسری بار ملک کے وزیراعظم منتخب ہوں گے ۔اس سے پہلے کسی کے پاس یہ اعزاز نہیں۔پاکستان کی آبادی کے 62 فیصد صوبہ پنجاب میں بھی اُنہیں واضح اکثریت ملی ۔صوبہ بلوچستان میں بھی وہ دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنا سکتے ہیں ۔صوبہ خیبر پختونخواہ میں عمران خان کی تحریک انصاف کو اکثریت حاصل ہے ۔ جہاںجماعت ِ اسلامی اور آزاد اُمیدواروں کے ساتھ مل کر تحریک انصاف حکومت بنانے میں پر اُمید ہے ۔معزز قارئین ! جس وقت میں یہ کالم لکھ رہا ہوں ،ابھی حکومت سازی کا عمل شروع نہیں ہوا ۔خیال کیا جاتا ہے کہ جون کے پہلے ہفتے سے منتخب حکومتیں کام کرناشروع کر دیں گی۔تینوں صوبوں میں بدترین شکست کے بعد بھی پیپلز پارٹی کوصوبہ سندھ میں حکومت بنانے کے لئے سادہ اکثریت حاصل ہوئی۔اس بار اُسے وہاں 2008ء کے الیکشن کی نسبت زائد نشستیں ملیں۔اس پر بہت سے سیاسی حلقے حیران ہیں ۔قارئین کو یہ بات بھی بتاتے چلیں کہ پاکستان میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن ایک ہی دن میں ہوتے ہیں ۔کئی حلقوں کی جانب سے کہا جاتا رہا کہ موجودہ الیکشن کمیشن کو پاکستان کی تاریخ میں پہلی آزاد حیثیت حاصل تھی۔ جو کچھ الیکشن ڈے پر ہوا،اب اُس کے چرچے زباں زد عام ہیں۔ جس کے لئے لفظ دھاندلی یا دھاندلا بھی بہت چھوٹا ہے۔بعض پولنگ سٹیشنوں پر سو ،دو سو فیصد سے زائد ووٹ کاسٹ ہوئے ۔جس کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا ۔ ہم آنے والی پارلیمنٹ کے حضور ابھی سے ایک تجویز پیش کئے دیتے ہیں کہ آئندہ چیف الیکشن کمشنر اور نگراں وزیراعظم کی عمر کسی صورت بھی 70 سال سے زائد نہیں ہونی چاہیے ۔ حالیہ الیکشن میں اِن دونوں کی عمر 80 سال سے زائد تھی ۔اس کے لئے اگر آئین میں ترمیم بھی کرنی پڑے تو کر لینی چاہیے ۔
بہر کیف تمام تر تلخیوں اور ’’سمریوں ‘‘کے ہوتے ہوئے بھی 2013ء کے الیکشن ہوہی گئے۔ اس سے بڑی خوش قسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ اب پاکستان کا باقاعدہ شمار جمہوری ممالک میں ہونے لگا ہے۔الیکشن سے بہت پہلے ہی اس کے ہونے یا نہ حوالے سے رنگ رنگ کی بولیوں نے اس میں بھنگ بھرنے کی پوری کوشش کی۔ماڈل نمبر 1،یہ نہیں تو پھر 2اور یہ بھی نہیں تو وغیرہ وغیرہ ۔خدا جانے یار لوگ جمہوریت کو ’’ماڈلنگ ‘‘کرانے پر کیوں تُلے ہوئے تھے ؟ ہم تو برسہا برس سے ’’عشق ِ جمہوریت‘ ‘میں پوری طرح سے ملوث ہیں ۔ اب تو عوام نے بھی اس سے عشق بازی شروع کر دی ہے ۔ یار لوگوں نے الیکشن کے آگے بہت سے سوالات کے ناکے بھی لگا دئیے تھے۔ 11 مئی کی صبح ہی عوام نے اِن سب کو کھول کر رکھ چھوڑا۔اس کی رات کو کیا ہوا ؟اس پر آگے جاکر بات کریں گے ۔
گرمیوں کے دنوں میں سایہ کسی شفقت سے کسی طور بھی کم نہیں ہوتا ۔الیکشن ڈے پر ہمارے لاہور کا موسم مئی میں بھی خوشگوار رہا۔اسے ہم پروردگار کا خصوصی کرم کہیں گے۔ قیام ِ پاکستان کے اُس وقت کی بیورو کریسی نے جمہوری نظام کے خاتمے کے لئے ایک سے بڑھ کر ایک نظریہ پیش کیا۔جس سے ایک طرف اِ ن کی روزی روٹی چلتی رہی تو دوسری طرف ڈکٹیٹر کے راستے بھی کشادہ اور دلدادہ بنتے رہے ۔پچھلی جمہوری حکومت کے سال نکال لیں تو پاکستان کی تقریباً نصف کے قریب عمر اِن ہی ڈکٹیٹروں کے لاڈ پیار میں برباد کر دی گئی ۔ ڈکٹیٹر ضیا کی قربت حاصل کرنے کے لئے ہمارے اکثر نام نہاد دانشور عوام کے راستے کی دیوار بنے ہوئے تھے۔مجھے یہ کہنے دیجئے کہ ڈکٹیٹروں کی ’’سایہ ٔدیوار ‘‘ بھی عوام کے لئے کسی بیگار سے کم نہیں ہوتی۔ اُن دنوں ہم بھی کسی جمہوری قافلے کی سب سے پیچھے والی صف میں تھے۔یاد آیا کہ بھٹو صاحب کی پہلی برسی پر اُن کی آخری آرام گاہ نوڈیرو میں پولیس تشدد سے آج بھی جسم کے کئی حصوں میںدرد نکلتا رہتا ہے ۔ ضیا کے طیارہ کریش کے بعد 1988ء میں جب الیکشن ہوئے تو اُس دن ایسا لگ رہا تھا کہ پاکستان کی شفائی دن شروع ہو گئے ہیں ۔افسوس در افسوس ڈکٹیٹر ضیا کی باقیات باز نہیں آ ئیں ۔ غلام اسحٰق خان کی دور ِ صدارت میں ڈکٹیٹر کے ہی ’’دور ‘‘چلتے رہے ۔ ڈکٹیٹر کے بہت سے خود کو پینٹ کرا کر پیپلز پارٹی میں بھی شامل ہو گئے تھے۔حالیہ الیکشن سے پہلے بھی دوست، دشمن،دونوں برق رفتاری سے سے بدلتے رہے۔
کالم میں ہم نے الیکشن ڈے کی صبح کا ذکر کیا تھا ۔ہم لاہور کی ہی بات کریں گے۔جس کے ہم چشم دید رہے ۔تادمِ نظر تمام حلقوں پر لمبی لمبی قطاریں لگی دکھائی دیں ۔کچھ کا کہنا تھا کہ وہ صبح 6بجے سے کھڑے ہیں۔ہر طرف عمران خان کا بیٹ(اُن کا انتخابی نشان ) رنز اُگل رہا تھا ۔بہت سے صحافیوں نے شام کو پریس کلب میں آکر بتایا کہ آج کی رات پیارا لاہور جنون(عمران خان اپنے جلسوں لفظ ’’جنون ‘‘استعمال کرتے تھے ) ایک نئی تاریخ رقم کرے گا۔ جہاں تک پیپلز پارٹی کا تعلق ہے ،وہ اُس دن قصہ پارینہ بنی دکھائی دے رہی تھی ۔ہمارے خیال میں پیپلز پارٹی نے الیکشن کے نتائج کو تسلیم کر کے اچھا کیا ۔اس سے پاکستان کسی نئے ’’ہیرو ‘‘سے بچ جائے گا؟لیکن ابھی اس بارے میں حتمی طور پر کہنا مشکل ہے ۔اُمید رکھنی چاہیے کہ موجود ہ پارلیمنٹ بھی اپنی مدت پوری کرے گا ۔سابقہ قومی اسمبلی میں کسی پارٹی کو سادہ اکثریت حاصل نہیں تھی ۔گو اُس نے بھی اپنی مدت پور ی کی لیکن پیپلز پارٹی کو اس کے عوض ’’عدت ‘‘ملی۔ گورنر پنجاب مخدوم سید احمد محمود صاحب نے اپنے استعفیٰ (ابھی تک صدر نے اسے منظور نہیں کیا )بھیجنے کے موقع پر درست کہا کہ ’’پیپلز پارٹی کی توجہ گڈ گورننس پر کم اور جمہوری عمل مضبوط بنانے پر زیادہ رہی۔جس کے باعث الیکشن میں قوم نے پیپلز پارٹی کو لوڈشیڈنگ ،مہنگائی ،غربت ،بے روزگاری کا مسئلہ حل نہ کرنے کی سزا دی ‘‘۔ یہ سزا جیالوں (پیپلز پارٹی کے کارکن )کے لئے شفا کا باعث بھی بن سکتی ہے ۔وہ بیچارے توپارٹی کی حکومت میں بھی اپنوں کے مارے تھے ۔ا نہیں کیسے کیسے طعنے سننے پڑے ۔اگر کسی سائیکل کا پنکچر بھی ہو جاتا تو اس کا الزام بھی زرداری صاحب کے نام آتا۔سابقہ پنجاب حکومت (وہ ن لیگ کی ہی حکومت تھی )کی ناکامیاں بھی اُن کے کھاتے میں ڈالی گئیں۔
11 مئی کی خوشگوار صبح کی شام کو ابتدائی نتائج عوام کے جوش و خروش کی گواہی دینے لگے ۔چینلز کے اینکر پرسنز اور شریک مہمانوں نے بھی کہنا شروع کر دیا کہ پنجاب کے بڑے شہر وں میں تحریک انصاف جیتے گی۔جوں جوں رات پھیلنے لگی ،ہماری جمہوریت پر ماضی کی سیاہی لوٹتی دکھائی گئی ۔عمران خان صاحب جو ہماری رہائش گاہ کے حلقے سے کھڑے تھے،اُن کے پولنگ سٹیشنوں سے نتائج اچانک ’’بند ‘‘ ہوگئے ۔ یہی سلوک باقی حلقوں کے ساتھ بھی کیا گیا ۔افسوس در افسوس کس چالبازی سے 11مئی کی خوشگوار صبح ،ایک فریب رات میں بدل دی گئی۔ ان سب کے ہوتے ہوئے بھی میاں نواز شریف کی پارٹی کے منڈیٹ کو دل سے بھی تسلیم کرناچاہیے ۔ اُس کے بعد یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ وہ مہنگائی ،بے روزگاری بالخصوص دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کیا کرتے ہیں؟ g
نوٹ !کالم نگار پاکستان کے سینئر جرنلسٹ ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *