نوجوت سدھو کا استعفیٰ منظور، وزیر اعلی نے گورنر کو فائل بھیجی

Share Article
Punjab Governor approves Navjot Singh Sidhu’s resignation letter. The Chief Minister’s …

 

چندی گڑھ، پنجاب کے وزیر اعلی کیپٹن امریندر سنگھ اور ریاست کے سبکدوش ہونے والے کابینی وزیر نوجوت سنگھ سدھو کے درمیان چل رہی سرد جنگ ہفتہ کو ختم ہوگئی۔ وزیر اعلی کیپٹن امریندر سنگھ نے نوجوت سنگھ سدھو کا استعفیٰ منظور کرکے فائل گورنر ووجیندر پال سنگھ بدنور کو بھیج دی ہے۔

Image result for Navjot Sidhu's resignation, the chief minister sent the governor file

وزیر اعلی کی طرف سے استعفیٰ قبول کئے جانے کی خبریں جیسے ہی میڈیا میں آئی تو نوجوت سنگھ سدھو نے اپنی سرکاری رہائش سے ملازمین کو واپس بھیج دیا۔ اسی دوران وزیر اعلی کے میڈیا مشیر روین ٹھکرالا نے استعفیٰ قبول کئے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی کی غیر موجودگی میں یہاں بھیجے گئے استعفیٰ کو پڑھنے کے بعد اسے قبول کر لیا گیا ہے۔ فائل گورنر کو بھیج دی گئی ہے۔

 

Image result for Navjot Sidhu's resignation, the chief minister sent the governor file

کچھ وقت تک پنجاب حکومت میں اہم مقام رکھنے والے نوجوت سنگھ سدھو کی حیثیت اب صرف ایک رکن اسمبلی کی ہے۔ سدھو اور وزیر اعلی کے درمیان طویل عرصے سیکھینچ تان چل رہی تھی۔ لوک سبھا انتخابات کے دوران بھی سدھو نے بھٹنڈہ ریلی میں جب کیپٹن امریندر سنگھ کے خلاف بیان دیا تھا تو امریندر سنگھ نے کہا تھا کہ سدھو انہیں ہٹا کر وزیر اعلی بننا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان تنازعہ مسلسل بڑھتا چلا گیا اور وزیر اعلی نے لوک سبھا انتخابات کے بعد اپنے وزراء کے محکموں میں ردوبدل کرتے ہوئے سدھو سے لوکل باڈی محکمہ واپس لے کر انہیں بجلی کی وزارت دی تھی۔ دیگر وزراء نے تو نئے وزارتوں میں عہدہ سنبھال لیا لیکن سدھو نے بجلی کی وزارت سنبھالنے کی بجائے دس جون کو کانگریس صدر راہل گاندھی کو اپنا استعفیٰ بھیج دیا۔

Image result for Navjot Sidhu's resignation, the chief minister sent the governor file

سدھو کی دباؤ کی سیاست میں کانگریس ہائی کمان جب نہیں پگھلی تو حالات سے تنگ آئے سدھو نے 14 جولائی کو ٹویٹر کے ذریعے اپنا استعفیٰ عام کر دیا۔ ٹویٹ پر استعفیٰ عام کرنے کے بعد بھی سدھوچو طرفہ تنقید کا شکار ہوئے، جس کے بعد 15 جولائی کو انہوں نے وزیر اعلی کیپٹن امریندر کی سرکاری رہائش گاہ پر اپنا استعفیٰ بھیجا۔ سدھو نے جب اپنا استعفیٰ وزیر اعلی کی رہائش بھیجا تھا تب کیپٹن دہلی میں تھے۔ کیپٹن کے 17 جولائی کو دہلی سے واپس آنے کے بعد سے ہی قیاس آرائی کا دور جاری تھا کہ سدھو کے معاملے میں وزیر اعلی جلد فیصلہ لیں گے۔ اس دوران کانگریس ہائی کمان نے بھی سدھو اور امریندر کے درمیان صلح کی کوشش کی۔ یہ کوشش بھی جب ناکام ہو گئی تو امریندر سنگھ نے سنیچر کی صبح سدھو کا استعفیٰ قبول کرکے فائل گورنرکو بھیج دی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *