نیچر کو بچانے میں مصروف مادھوی کا ایک فین

Share Article

سنتوش دیو گری
p-11bجھارکھنڈ میں ایک آدمی بالی ووڈ کی دھک دھک گرل فرینڈ مادھودی دیکشت کو گواہ رکھ کر ماحولیاتی تحفظ اور فلاحی کاموں میں لگا ہو اہے۔ پپو سردار کی پوری زندگی فلاحی کام اور ماحولیاتی تحفظ کے تئیں وقف ہے۔ ماحولیات کو محفوظ رکھنے اور بچانے کے لئے اس سال انہوں نے مادھوری دیکشت کے نام پر ایک مہم چلا رکھی ہے۔ اس کے پیچھے ان کا مقصد ہے لوگوں کو ماحولیات کو بچانے کا بامعنی پیغام دینا۔اس مہم میں عام لوگ بھی کھل کر ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔
جھارکھنڈ کی لوہ نگری جمشید پور کے رہنے والے پپو سردار زندگی گزارنے کے لئے چاٹ کی دکان چلاتے ہیں،لیکن ان کی زندگی کا مقصد کچھ اور ہے۔ پپو سردار مشہور اداکارہ مادھوری دیکشت کے فین ہیں۔ وہ مادھوری کو بھگوان مانتے ہیں۔ کوئی بھی خدمت کا کام ہو، مادھوری دیکشت کے نام کو ہی آگے رکھ کر کرتے ہیں۔ گزشتہ20 برسوں سے مادھوی دیکشت کے نام پر عوامی خدمت انجام دے رہے ہیں۔پپو سردار کی اس دلچسپی کے چرچے اب عام لوگوں کی زبان پر ہیں۔ مقامی باشندے مادھوری کے انوکھے دیوانے کے ذریعہ ذہنی اور جسمانی معذور، بے سہارا اور لاوارث بچوں کے دکھ درد کو دور کرنے کے لئے کئے گئے کاموں کی سراہنا کرتے ہیں۔ مادھوری دیکشت کا جنم دن 15 مئی کو پپو سردار ایک خاص دن کے طور پر مناتے ہیں۔ وہ گزشتہ دو دہائی سے مادھودی دیکشت کے جنم دن کو فلاحی کاموں کے لئے وقف کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس سال مادھوری کے نام پر انہوں نے جنم کے مہینے کے دوران ماحولیاتی تحفظ کو لے کر ایک مہم چلائی۔ 15 مئی سے 15جون تک پپو سردار نے شجر کاری کی مہم چلائی۔ انہوں نے اس مہم میں شہر کے لوگوں کو بھی جوڑا ۔ اس دوران انہوں نے شہر کی اہم جگہوں پر شجر کاری تو کی ہی، ساتھ ہی ہزاروں پودوں کی تقسیم کرکے دوسرے لوگوںکو بھی ماحولیاتی تحفظ کے لئے راغب کیا۔ اپنی چاٹ کی دکان پر آنے والے گراہکوں کو بھی وہ کئی طرح کے پھل اور پھول کے پودے گفٹ کرتے ہیں۔ زمین پر ہریالی اور قدرتی حسن کو بچائے رکھنے کے لئے وہ لوگوں کو ہمیشہ بیدار کرتے ہیں۔ عالمی یوم ماحولیات کے دن سے ہی وہ لوگوں کے بیچ جاکر رمضان کے پاک مہینے میں روزہ داروں کو ساتھ لے کر ہریالی پھیلانے کا پیغام دے رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہریالی کا پیغام سماج کے ہر طبقہ ،ہر مذہب تک پہنچے۔تاکہ آنے والی نسل کے لئے زمین کو ہری بھری بنا کر رکھا جا سکے۔
پپو سردار صرف ماحولیات اور مادھوری دیکشت کے ہی دیوانے نہیں ہیں، بلکہ فلاحی کاموں میں بھی ان کی گہری دلچسپی ہے۔ ملک کے کسی بھی کونے میں قدرتی آفت آئی ہو، وہ لوگوں کی مدد کے لئے لگ جاتے ہیں۔ مشرقی اتر پردیش کے کچھ ضلعوں میں ان کے ذریعہ کئے گئے فلاحی کاموں کے کئی نایاب نمونے ہیں۔ غریب لڑکیوں کی شادی کرانے کے لئے وہ تن من دھن سے جٹ جاتے ہیں۔ جھارکھنڈ میں غریبوں اور آدیواسیوں کی مدد کے لئے بھی وہ ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *