قومی دیہی صحت مشن اسکیم: یہاں بھی گھوٹالہ

Share Article

سریندر اگنی ہوتری
اترپردیش  میں پانچ سال قبل نافذ ہوئی قومی دیہی صحت مشن اسکیم میں کارڈ بنوانے سے لے کر علاج کرانے تک کی راہ میں روڑے ہی روڑے نظر آرہے ہیں۔ محکمہ دیہی ترقیات کے ذریعہ چلائی جارہی اسکیم کے حوالے سے کیے جارہے بڑے بڑے دعوے کھوکھلے نظر آرہے ہیں، کیوں کہ اس اسکیم کا مقصد تھا غیررسمی طبی خدمات فراہم کرنے والے نظام کو یقینی بنانا ، لیکن اتنے سال گزرجانے کے باوجود یہ اسکیم عام لوگوں کو طبی خدمات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مرکز کی اس اہم اسکیم میں سرکاری اسپتالوں کے زیر انتظام پنچایتوں کو زمین سونپی جانی تھی، جس میں دیہی صحت اور فلاح و بہبود کمیٹی  کے ذریعہ گرام پنچایت سطح پر اے این اے، ایم پی ایچ ڈبلیو، آنگن باڑی کارکنوں اور کمیونٹی ہیلتھ کے رضاکاروں کو پنچایتوں کے دائرے میں رہ کر دیہی لوگوں کو غیررسمی طبی خدمات مہیا کرانا تھیں اور سرکاری اسپتالوں کا انتظام ضلع پنچایتوں کے ذریعہ کیا جانا تھا، لیکن بدعنوانی، انتظامی لال فیتہ شاہی کے ساتھ ساتھ بجٹ اور ٹریننگ کی کمی کی وجہ سے اس اسکیم کے عملآوری کی حالت ڈھاک کے تین پات والی ہے۔ اس اسکیم کے تحت غریب کنبوں کا مفت صحت بیمہ کیا جانا تھا، لیکن اس کے عمل آوری کی حالت  تشویش کا سبب بن گئی ہے۔ غریب اور بے سہارا کنبوں کو آج بھی مذکورہ اسکیم کا کوئی فائدہ نہیں مل پا رہا ہے اور صاحب حیثیت طبقہ سرکاری مشینری سے ساز باز کر کے مفت بیمہ کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ حالانکہ محکمہ دیہی ترقیات نے ہیلپ لائن نمبر کی سہولت شروع کی ہے، لیکن اس سہولت کا اشتہار دیہی علاقوں سے نکلنے والے دیہی اخباروں کی جگہ راجدھانی اور شہری علاقوں کے انگریزی اور ہندی کے رنگین اخباروں میںشائع کرا کے پورے بجٹ کو خرچ کر دیاگیاہے، کیوں کہ اس مشن کو ریاست میں چلانے والی نوکر شاہی کا مقصد، وزیراعلیٰ اور محکمہ کے وزیر کی نظروں میں بنے رہنا ہے اور دیہی عوام اسمارٹ کارڈ کے بارے میں جانیں یا نہ جانیںاس سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ سرکاری دعوے میں کہا گیا ہے کہ ریاست کے تمام اسمارٹ کارڈ ہولڈر ہیلپ لائن(09198004444 ) پر فون کر کے اسکیم کے تحت امپینلڈ(رجسٹرڈ) اسپتالوں سے، مریض کو اسپتال تک لے جانے کے لیے ایمبولینس کی مفت سہولت حاصل کرسکتے ہیں۔ اسکیم کے تحت پہلے مرحلہ میں 12 بڑے اسپتالوں میں مریض کا علاج اور اسپتال سے متعلق ان کے اپنے تجربہ بیان کرنے کے لیے ویڈیو بوتھ کی سہولت ہے، لیکن اس اسکیم کی پول کھلنے لگی ہے۔ قنوج ضلع کے تال گرام بلاک سے راویندر ولد ملیکھان، سریندر ولد بابو رام، اجے پال ولد اتر سنگھ، اوم پرکاش ولد گجادھر، جدویر ولد رام سنہی، مدن لال ولدبھرت سنگھ، سرمن سنگھ ولد رامادین وغیرہ تمام دیہی باشندے اپنے اپنے اسمارٹ کارڈ لے کر ہیڈکوارٹر پر پہنچے۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ بلاک ہیڈکوارٹر کی اسمارٹ کارڈ بنانے والی ٹیم نے فروری 2010 میں اسمارٹ کارڈ بنائے تھے، لیکن ان کے ساتھ دھوکہ کیا گیا۔ جب انہیں اسمارٹ کارڈ کی ضرورت پیش آتی ہے تو وہ صرف ایک سادہ کاغذ ثابت ہوتے ہیں۔ جب ان دیہاتیوں نے اسمارٹ کارڈ بنانے والی ٹیم سے بات کی تو انہوں نے بھی ان کارڈوں کو فرضی قرار دیا۔ دیہی باشندوں کا کہنا تھا کہ 50 سے زیادہ کارڈ ہولڈر دھاندھلی کا شکار ہوئے ہیں۔ وہیں یہ لوگ ادارہ برائے دیہی انسانی ترقی کے ڈائریکٹر اجے پانڈے سے بھی ملے، جس پر پانڈے نے دیہی عوام کے سی ڈی او سے ملنے کے مطالبہ پرچیف ڈیولپمنٹ آفیسر سے بات کی تو پتہ چلا کہ سی ڈی او تال گرام میں ہی موجود تھے۔ انہوں نے دیہی باشندوں کے  مسائل کو سن کر ان کے فوری حل کا بھروسہ بھی دلایا۔ وہیں دوسری جانب امبیڈکر نگر کے اسمارٹ کارڈ ہولڈر کو پرائیویٹ اسپتالوں میں علاج کرانا کافی مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔ کارڈ ہولڈر وںکا ماننا ہے کہ پرائیویٹ ڈاکٹروں کے ذریعہ اپنے آپ وائوچر بنانے کی وجہ سے ضرورت سے زیادہ رقم کارڈ کے کھاتے سے نکال لی جاتی ہے، کیوں کہ کارڈ ہولڈر کو اس کے تعلق سے کوئی خاص معلومات نہیں رہتی، جب وہ بیچارے اپنا علاج کرانے نرسنگ ہوم پر پہنچتے ہیں تو میٹھے الفاظ سے ان کا خیرمقدم کیا جاتا ہے، لیکن جب چند گھنٹوں میں علاج کے بعد بڑی رقم کے خرچ کا جامہ پہنچایا جاتا ہے تب اس کارڈ ہولڈر کو گھٹن محسوس ہوتی ہے، کیوں کہ یہ اسمارٹ کارڈ اسکیم مرکزی حکومت کے ذریعہ چلائی جارہی ہے، اس میں پوری اسکیم کا نشانہ تو مثبت سوچ کر رکھا گیا، لیکن اس میںسرکاری اسپتالوں کو نہیں کے برابر شامل کیاگیا، صرف ہر ضلع کے ضلع اسپتال کو اس سہولت کے لیے منتخب کیا گیا، لیکن اسمارٹ کارڈ ہولڈروں کے علاج کے لیے اگر تمام کمیونٹی طبی مراکز کا انتخاب کیا گیا ہوتا تو شاید اس اسکیم میں بندر بانٹ کی یہ حالت دیکھنے کو نہیں ملتی۔
اس اسکیم کے چلانے میں حکومت کی چوک عام آدمی کے لیے پریشانی کا سبب بن گئی ہے۔ اسکیم کے ذریعہ پرائیویٹ اسپتالوں کی طرف کسی بھی افسر یا محکمہ کی نظر نہیں پڑ رہی ہے، جس سے پرائیویٹ اسپتالوں کی اندھیر گردی میں خوب چاندی کٹ رہی ہے۔ اس بات کا انکشاف تب ہوا جب پتہ چلا کہ قومی صحت بیمہ اسکیم کے تحت بنارس کے ایک نجی اسپتال میں مُردوں کا علاج کیا گیا۔ علاج کے نام پر اسپتال کے ڈائریکٹر نے 1.42 کروڑ روپے ہضم کرلیے۔ ابھی 10 لاکھ روپے ادا کرنا باقی تھے، اس کی شکایت ہوئی تو دیہی ترقیات کمشنر نے خفیہ طریقے سے بنارس اور جونپور ٹیم بھیج کر جانچ کرائی اور الزام ثابت ہونے پر مقامی انتظامیہ کو کارروائی کی ہدایت دی۔ شیو سرجیکل سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایس پی یادو کے خلاف مقدمہ درج ہوگیا۔ سارناتھ تھانہ انچارج شیو شنکر سنگھ کے مطابق ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ آفیسر(ڈی ڈی او) کی تحریر پر رپورٹ درج ہوئی ہے۔ جانچ میں اگر اسپتال کے دیگر لوگ ملوث پائے گئے تو ان کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ ادھر شہر کے تین اور پرائیویٹ اسپتالوں کے خلاف بھی اسی طرح کے فرضی معاملے کی چھان بین ہورہی ہے۔ ضلع میں اب تک اس اسکیم کے تحت ہوئی 9کروڑ 36 لاکھ کی کلیئرنس کی بھی جانچ شروع ہو گئی ہے۔ جانچ سے پتہ چلا ہے کہ جونپور کے کیراکت تھانہ علاقہ کے بانسواری گاؤں کے 18 لوگوں کو برین ہیموٹوما کا شکار بتا کر فرضی طریقے سے ان کے نام ہیلتھ اسمارٹ کارڈ بنا کر 1.42 کروڑ روپے ہضم کرلیے گئے۔ 18 مبینہ مریضوں کی فہرست میں گاؤں کے پانچ ایسے لوگوں کا نام ہے جن کی دو سال قبل موت ہوچکی ہے۔ جب کہ سات لوگ ایسے ہیں جو اس گاؤں کے باشندے ہی نہیں ہیں۔ چار لوگ گاؤں کے تو ہیں مگر انہوں نے اس اسپتال میں علاج کرایا ہی نہیں۔ جب کہ دو لوگوں نے کسی اسپتال میں علاج نہیں کرایا۔
18 لوگوں کے فرضی طریقے سے بنائے گئے کارڈ اور بل ادائیگی کی اطلاع گزشتہ اکتوبر میں ہی لکھنؤ کے افسران کو انٹرنیٹ کے ذریعہ مل گئی تھی۔ دیہی ترقیات کمشنر کی ہدایت پر نومبر میں گاؤں گئی ٹیم نے جانچ کے بعد پورے معاملے کا انکشاف کیا۔ 11 جنوری 2010 کو ضلع میں بی پی ایل درجہ میں شامل لوگوں کے اسمارٹ کارڈ بننے شروع ہوئے تھے۔ پہلے مرحلہ میں اس کے لیے شہر کے 105 اسپتال منتخب کیے گئے۔ اگست اور نومبر میں کچھ اسپتالوں کے ڈائریکٹروں کی ساز باز سے فرضی کلیئرنس کی شکایت ملی۔ حکومت کی ہدایت پر حیدرآباد سے آئی سہ رکنی ٹیم نے اسپتالوں کی فزیکل تصدیق کی تھی۔
راجدھانی سے ملحق بارہ بنکی ضلع میں قومی صحت بیمہ اسکیم آج پرائیویٹ نرسنگ ہومز کی ناجائز کمائی کا ذریعہ بن گئی ہے۔ جہاں غریب کارڈ ہولڈروں کا زبردست استحصال کیا جاتا ہے۔ شکایت کرنے پر افسر ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے صرف خانہ پری کر کے اپنی ذمہ داری ختم کردیتے ہیں۔ حالات اتنے سنگین ہیں کہ علاج کے نام پر کنبہ کو ملے 30 ہزار روپے ان کے کھاتے سے کسی نہ کسی بہانے نکال لیے جاتے ہیں۔ مریضوں کو سڑکوں پر مرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس اسکیم میں دھاندلی اور بدعنوانی کا کھیل اسی وقت سے شروع ہوجاتا ہے جب قوانین اور معیار کو درکنار کر کے ایسے اسپتالوں اور نرسنگ ہومز کو منظوری دے دی جاتی ہے، جن کے پاس علاج کے وسائل تو دور کی بات ہے، علاج کے لیے ڈاکٹر اور تربیت یافتہ ملازمین تک نہیں ہیں اور اسی لاپروائی ومناسب علاج نہ ہو پانے کے سبب مریضوں کی موت تک ہوجاتی ہے۔ ابھی حال ہی میں شہر کے ایک معروف نرسنگ ہوم نے قومی صحت بیمہ اسکیم کے کارڈ پر پیٹ میں پتھری کا آپریشن کرانے آئی خاتون چمپا کے کارڈ سے 13 ہزار روپے نکال لیے اور جب خاتون کی حالت خراب ہوئی تو انسانیت کی ساری حدوں کو پار کرتے ہوئے ڈاکٹروں نے خاتون کو باہر کا راستہ دکھا دیا۔ اس کے بعد بے حد غریب اور در در علاج کے لیے بھٹکتی ہوئی اس خاتون نے تڑپتے ہوئے دم توڑ دیا۔ دیہی ترقیات کے وزیر ددو پرساد حکومت کی حساسیت کا  دعویٰ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وارانسی میں گھوٹالہ پکڑا ہے۔ آگے بھی جہاں شکایتیں ملیںگی کسی کو بخشا نہیں جائے گا۔
دیہی ترقیات کے سکریٹری منوج کمار سنگھ نے اس اسکیم پر عمل آوری کے سلسلہ میں ہدایات جاری کی ہیں، ان میں کہا گیا ہے کہ ریاست میں قومی صحت بیمہ اسکیم پر عمل آوری 2008 سے پہلے مرحلہ کے 15 اضلاع میں شروع کی گئی۔ اب یہ اسکیم ریاست کے تمام اضلاع میں نافذ ہے۔ قومی صحت بیمہ اسکیم کے تحت ابھی تک ریاست میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ بیمہ دعوے پیش ہوئے ہیں، یعنی ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کا اسکیم کے تحت علاج کرتے ہوئے کل 118 کروڑ روپے کے بیمہ دعوے پیش کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں 80 کروڑ کی ادائیگی خدمات دینے والے اسپتالوں کو کی گئیہے۔ اس وقت اسکیم کے تحت ریاست میں اضلاع کے کل 1044 اسپتال امپینلڈ ہیں، جن میں 158 سرکاری اور 886 پرائیویٹ اسپتال ہیں۔ اسکیم کے خاص طور سے چار اسٹیک ہولڈرز، ریاستی حکومت، بی پی ایل کنبہ، بیمہ کرنے والی کمپنی اور خدمات دینے والے اسپتال ہیں۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ذریعہ وقت وقت پر جو مسائل، خامیاں سامنے آئی ہیں، ان میں ریاستی حکومت کے ذریعہ بی پی ایل فہرست کا تکنیکی طور پر فائنل  نہ ہونا اور قومی صحت بیمہ اسکیم کا ویب سائٹ پر وقت سے اَپ لوڈ نہ کیا جانا تھا، مرزا پور، فتح پور اور کانشی رام نگر کے ڈاٹا کا ابھی تک پینڈنگ میں رہنا، اسمارٹ کارڈ میں پانچ ممبران کے نام نہ ہونا، کارڈ بنانے کے سے پہلے اور کارڈ بنانے کے دوران انشورنس کمپنی کے ذریعہ کافی تشہیر و ترسیل نہ کیا جانا اور اس وجہ سے لوگوں میں اسکیم کی پوری معلومات نہ ہونا، کارڈ بنانے کے وقت ہی اسے امیدوار کو  دستیاب نہ کرانا، ایسے لوگوں کا کارڈ بنانا جن کا نام بی پی ایل فہرست میں نہیں ہے(ضلع بھدوہی میں ایسا معاملہ روشنی میں آیا ہے۔) قانوناً 4 ماہ کی مدت گزر جانے کے بعد بھی زیادہ رقم لے کر کارڈ بنانا، کارڈ بنوانے والے سے  30 روپے کی جگہ زیادہ رقم لیا جانا، کارڈ ہولڈرز کو او پی ڈی کی سہولت دستیاب نہ کرانا، بی پی ایل کنبہ کے ساتھ اسپتالوں میں جانے کے بعد کارڈ کا کام نہ کرنا، کارڈ پر تمام پانچ ممبران کا نام نہ ہونا، امپینلڈ اسپتالوں کی فہرست اور فون نمبر بیمہ کمپنی کے ذریعہ نہ دیا جانا، اسپتال میں ایڈمٹ ہونے کے دوران بھی انشورنس کمپنی کے نمائندوں کے ذریعہ گمراہ کیا جانا، کہیں کہیں پر دوائیوں کے لیے پیسہ لیا جانا یعنی سہولتوں کا پوری طرح کیش لیس نہ ہونا اور انشورنس کمپنی کے ذریعہ وقت سے پریمیم کی ادائیگی نہ ہونا، کارڈ بنانے کے لیے کافی تعداد میں ایف کے او کا دستیاب نہ ہونا، ایف کے او کا وقت سے نہ پہنچنا، بی پی ایل کنبوں کا کارڈ بنانے کے لیے کافی تعداد میں سینٹر پر نہ آنا، سینٹر پر بجلی وغیرہ کی سہولت نہ ہونا۔ سرکاری اسپتالوں کے ذریعہ اسکیم کے تئیں دلچسپی نہ دکھانا، کچھ نجی اسپتالوں کے ذریعہ بے قاعدگی کیے جانے کی شکایت مریض کا علاج کیے بغیر کلیم ریز کرنا، ایک ہی مریض کو مہینے میں کئی بار ایڈمٹ کرنا، ضرورت سے زیادہ رقم کا پیکیج لاک کرنا، مریض کی غیرضروری بھرتی کرانا اور مریض کے ایڈمٹ نہ ہونے پر بھی کلیم ریز کرنا وغیرہ۔
خدمات فراہم کرنے والے اسپتال کے ذریعہ امپینلمینٹ کے عمل کا مشکل ہونا، امپینلمینٹ کرانے کے لیے پریشان کیا جانا، اسپتالوں کے تئیں بیمہ کمپنی کے ذریعہ جان بوجھ کر گمراہ کن اطلاع پھیلا کر غلط پروپیگنڈہ کرنے کی کوشش کرنا، انشورنس کمپنی کے نمائندوں کے ذریعہ آف ٹائم پر فون وغیرہ کر کے ڈاکٹروں کو پریشان کرنا، ضلع سطح پر انشورنس کمپنی کے نمائندے کے ذریعہ اسپتالوں میں مریضوں کو گمراہ کرنا، دعوؤں کی ادائیگی میں غیر ضروری طور پر 26 دن سے زیادہ تاخیر کرنا، ٹی پی اے کے ذریعہ مینول اتھرائزیشن دینے میں تاخیر کیا جانا، غلط طریقے سے اسپتالوں کو ڈی امپینل اور بلیک لسٹ کیا جانا، ’’نان میڈیکل‘‘ اسٹاف کے ذریعہ میڈیکل آڈٹ کرایا جانا خاص ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *