قومی دیہی روزگار گارنٹی اسکیم بدعنوانیوں کا نیا باب

Share Article

شیوا کمار
دیہی باشندوں کو 100دن کا روزگار مہیا کرانے کے دعووں اور وعدوں کے ساتھ چلائی جا رہی قومی دیہی روزگار گارنٹی اسکیم کو فروری 2006میں نافذ کیا گیاتھا ۔ اس اسکیم کو نافذ ہوئے بھی چار سال گزر گئے لیکن نقل مکانی ہے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔اسکیم نافذ ہونے کے بعد سے دیہی باشندوں کو روزگار مہیا کرانے کے لئے مرکز سے رقم تو مل ہی رہی ہے ، اس کے ساتھ ہی ریاستی حکومت بھی شراکت کی شکل میں رقم مہیا کرا رہی ہے۔موصولہ رقم سے ہزاروں کی تعداد میں کام اور کروڑوں روپیوں کی مزدوری کی شکل میں ادائیگی کی جا رہی ہے۔ اس کے بعد بھی دیہی علاقوں میں روزگار کا فقدان ہے اور لوگ دیگر ریاستوں میں روزگار کی تلاش میں نقل مکانی کر رہے ہیں،جبکہ حکومت اور انتظامیہ ہزاروں کنبوں کو روزگار دینے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے آبائی ضلع میں روزگار گارنٹی اسکیم کے تحت گائوں گائوں میں تالابوں کا کام،مینڈھ باندھنے کا کام ، اسٹاف ڈیم کی تعمیر،سڑک کی تعمیر وغیرہ کے کام کرائے جا رہے ہیں۔ خواہ وہ ضلع صدر دفتر کے نزدیکی گائوں ہوں یا دور دراز کے جنگلی علاقوں کے گائوں ،کام مہیا کرانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگ کام کی تلاش میں گھر پریوار اورگائوں چھوڑ کر نہ جائیں، لیکن حکومت کی امنگی اسکیم میں کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود دیہی باشندے نقل مکانی کر رہے ہیں اور ان پر اس اسکیم کا خاص اثر نظر نہیں آرہا ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ کے آبائی ضلع کبیر دھام میں آج بھی راجناندگائوں ضلع سے لیبر ڈپارٹمنٹ چلایا جا رہا ہے۔ضلع میں لیبر ڈپارٹمنٹ کے افسران کہاں پائے جاتے ہیں ، دیہی باشندوں کو تو دور ، خبر نویسوں کو بھی یہ پتہ نہیں چل پا رہا ہے۔بہر حال کلکٹریٹ کے افسران تک کو یہ معلوم نہیں ہے۔ اس کے سبب ایسا لگتا ہے جیسے لیبر ڈپارٹمنٹ کو لیبر کے مفاد ات سے کوئی مطلب ہی نہیں رہا ہے، یا پھر یہ مان لیا جائے کہ علاقہ سے نقل مکانی نہیں ہو رہی ہے لیکن ریاست سے باہر درگ، رائے پور، بلاسپور ریلوے اسٹیشنوں کی جانب جانے والی بسوں میں اپنا سامان باندھ کر روانہ ہوتے لوگوں کا ہجوم بس اسٹینڈ پر دیکھنا عام بات ہو گئی ہے۔ علاقہ سے بیشتر مزدور لکھنؤ، دہلی، سورت، چندر پور(چاند گڑھ) ہریانہ وغیرہ جگہوں پرروزگار کی تلاش میں جارہے ہیں۔ ایسے میں نقل مکانی کر رہے لوگوں کو روکنے کے لئے حکومت یا انتظامیہ میں کوئی بھی مضبوط پہل نہیں کی جا رہی ہے،کیونکہ نگرانی کرنے والے اور تعمیل کرنے والوں کا ہی کچھ پتہ نہیں ہے۔ جبکہ ڈومیسٹک میگرینٹ ورکرس ایکٹ 1979کے تحت ریاست سے باہر دیگر ریاستوں میں منصوبہ بندی کے مقصد سے کسی ٹھیکیدار کے ذریعہ پانچ یا پانچ سے زائد مزدوروں کو لے جانے پر لیبر دفتر کی اجازت لینا لازمی ہے، مگر تمام قائدے قانون کو بالائے طاق رکھ کر زیادہ منافع کے لالچ میں نقل مکانی مسلسل جاری ہے۔
قومی دیہی روزگار گارنٹی ایکٹ کے تحت کام مانگنے اور کام نہ ملنے کی صورت میں بے روزگاری الائونس دئے جانے کی بھی تجویز ہے، مگر ضلع میں کام نہ مانگنے کے سبب اب تک 100دن روزگار مہیا نہ ہو پانے کے باوجود بے روزگاری الائونس کی ادائیگی کا حصہ کسی کو نہیں مل پایا ہے۔ کام کی حصولیابی کے بارے میں محکمہ سے موصول ہوئی معلومات کے مطابق اسکیم میں رجسٹرڈکنبوں کے ممبران کو گرام پنچایت یا ضلع پنچایت میں کام کا مطالبہ کرنے کے لئے درخواست دینا ضروری ہوتا ہے۔اس پر کارروائی کرکے پنچایت اور ضلع پنچایت کو اسکیم بنا کر مطالبہ نامہ بھیجتی ہے، جس کی بنیاد پر کام مہیا کرائے جاتے ہیں۔ گرام پنچایت میں کام مہیا نہ ہو پانے کی صورت میں نزدیکی گرام پنچایت میں کام مہیا کرائے جاتے ہیں۔ضلع پنچایت سے موصولہ معلومات کے مطابق ضلع کے اس سیشن میں تقریباً9000.937لاکھ روپے حاصل ہوئے ۔ ضلع میں تقریباً141475رجسٹرڈ کنبوں پر اب تک تقریباً8429.5لاکھ روپے روزگار مہیا کرانے کے لئے خرچ کئے جا چکے ہیں،جس میں مزدوری ادائیگی کی شکل میں تقریباً5055.725لاکھ روپے خرچ کئے جا چکے ہیں، جس میں39940رجسٹرڈ پریواروں کو روزگار مہیا کرایا گیا ہے، اس میں سے 13312کنبوں کو 100دنوں کا روزگار مہیا کرایا گیا ہے، جبکہ 47535کنبوں کے ذریعہ روزگار کا مطالبہ ہی نہیں کیا گیا۔ساتھ ہی اس اسکیم میں معذوروں کو بھی روزگار مہیا کرایا گیا ہے۔ ضلع پنچایت کی مانیں تو کروڑوں روپے خرچ کرنے کے بعد ہزاروں کنبوں کو روزگار مل رہا ہے، پھر بھی نقل مکانی جاری ہے۔لوگوں کی نقل مکانی کو لے کر کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس اسکیم میں100دن کا روزگار دینے کی گارنٹی ہے۔ کنبہ کے لوگ 100دن کا کام کم وقت میں کریں یا پھر 1-1دن آ کر 100دن کریں ، 100دن کی حاضری پوری ہونے پر اس پریوار کو کام نہیں ملتا ہے، بقیہ 265دن بے روزگار تو نہیں بیٹھا جا سکتا اسے بھی نقل مکانی کا ایک اہم سبب مانا جا رہا ہے۔ بہر حال کروڑوں روپے خرچ کرنے اور ہزاروں کی تعداد میں کام مہیا کرانے کے بعد دیہی باشندوں کی ہو رہی نقل مکانی گارنٹی گھر میں روزگار باہر کو ثابت کر رہا ہے۔وہیں ریاستی حکومت نے مائونواز اکثریتی علاقوں میں جس مقصد سے روزگار گارنٹی اسکیم کی شروعات کی ہے، وہ مقصد سرکاری افسران اور ملازمین کی لاپروائی کے سبب کامیاب ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ روزگار گارنٹی اسکیم مائونواز اکثریتی علاقوں میں بدحال صورتحال میں ہے۔
حکومت نے اس کی کامیابی کے جھنڈے بھلے ہی گاڑدئے ہوں، لیکن روزگار گارنٹی اسکیم سرکاری دفتروں کی فائلوں میں کچھ اور ہی قصہ بیان کرتی ہے۔ حکومت نے اس اسکیم کو مائونواز اکثریتی علاقوں میں ترقی کے تحت عمل درآمد کر کے سرکاری فائلوں میں ہی دفن کر کے اپنا پلڑا جھاڑ لیا ہے۔اس اسکیم کا فائدہ دیہی باشندوں کو ملے، حکومت نے اس کا کوئی بندوبست نہیں کیا ہے۔ روزگار گارنٹی اسکیم کے تحت جن مائونواز اکثریتی علاقوں میں ترقی کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کئے جا رہے ہیں، وہاں حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ کام میں لگے مزدوروں کو مہینوں سے ان کا محنتانہ نہیں دیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت 14سے 17سال تک کے ان اسکولی بچوں سے کام لیا جا رہا ہے جنہیں ڈھنگ سے یہ بھی نہیں معلوم ہے کہ انہیں مزدوری کتنی ملے گی۔
مائونواز اکثریتی علاقہ انتا گڑھ ترقیاتی بلاک کے تحت آنے والے گائوں کڑھئی کھودرا میں اینی کٹ تعمیری کام کے لئے حکومت کے ذریعہ روزگار گارنٹی اسکیم کے تحت 3کروڑ 45لاکھ روپے کی رقم منظور کی گئی ہے۔ اس علاقہ میں جب تعمیری مقام پر جا کر کام کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ سالوں سے چل رہی روزگار گارنٹی اسکیم کے تحت تعمیری کام میں لگے مزدوروں کو مہینوں سے تعمیری ایجنسی کے ذریعہ ادائیگی ہی نہیں کی گئی ہے۔ تعمیری کام میں گھٹیا مال کا استعمال کر کے جلد از جلد اس تعمیری کام کو پورا کرنے کی کوشش انتا گڑھ کے عوامی وسائل کی ذیلی تنظیم کے ذریعہ کی گئی ہے۔تعمیر ی کام میں لگی بچہ مزدور ساوتری ، اس کے والد بسنت ساکن کٹم کھور،پرمیشوری اور اس کے والد ٹانڈیا ساکن جیتنوا گائوں، ہیم لتانیتام اور والد اتوارو رام نیتام ساکن جیتنوا گائوں نے بتایا کہ کئی ماہ سے ان سے اس تعمیری کام میں بندھوا مزدوروں کی طرح کام لیا جا رہا ہے، مگر مزدوری کے نام پر آج تک ایک بھی روپیہ تعمیری ایجنسی کے انجینئر وریندر کمار کوڈاپی اور ایل ایم یادو کے ذریعہ نہیں دیا گیا ہے۔ ان کے ذریعہ یہاں دھمکیاں دی گئی ہیں کہ اگر کسی بھی طرح کے پیسے کے لین دین کی بات کی گئی تو ان کے گھروں کا دانا پانی تک بند کروا دیا جائیگا۔ ایسی حالت میں ان لوگوں کے لیے انسانی حقوق کے تحت ہندوستانی آئین کا بچہ مزدور قانون بھی کچھ نہیں کر پا رہا ہے، ان علاقوں میں بچہ مزدوروں کا استحصال قاعدے قانون کو بالائے طاق رکھ کر کیا جا رہا ہے۔
بچہ مزدور قانون کے دائرے میں آنے والے بچوں نے یہ بھی بتایا کہ یہاں صرف افسران کے ذریعہ بنائے گئے قاعدے قانون چل رہے ہیں،روزگار گارنٹی اسکیم کا فائدہ گائوں والوں کو کتنا مل رہا ہے، یہ رائے پور میں بیٹھے اعلیٰ افسران کوزمین پر آ کر دیکھنے کی ضرورت ہے، آخر کب تک بھولے بھالے قبائلیوں کے ساتھ ایسی نا انصافی ہوتی رہے گی اور حکومت خاموشی سے یہ سب تماشا دیکھتی رہے گی۔ ہمیں ہماری مزدوری کی ادائیگی تعمیری ایجنسی نہیں کررہی ہے اور سالوں سے مائونواز اکثریتی علاقوں میں ہمارا استحصال کیا جا رہا ہے، جس کی خبر لینے والا اب شاید کوئی نہیں بچا ہے۔ ہم سے تعمیری ایجنسی کے ذریعہ بڑے بڑے پتھروں کی ڈھلائی کروائی جا رہی ہے، لیکن پیسوں کے نام پر ہمارا دانا پانی تک بند کروانے کی دھمکیاں ہمیں دی جا رہی ہیں، آخر ہم لوگوں نے ایسا کون سا گناہ کیا ہے۔
خراب درجے کے تعمیری کام اور بچہ مزدوروں کو لے کر جب انسانی وسائل کی ذیلی تنظیم انتا گڑھ کے محکما جاتی افسر نے بتایا کہ کئی ماہ سے میرے ذریعہ اس علاقہ کا دورہ نہیں کیا گیا ہے،اس وجہ سے مجھے کسی طرح کی جانکاری نہیں ہے۔ تعمیری کام کے سلسلہ میں جب انسانی وسائل کی ذیلی تنظیم انتا گڑھ کے ایس ڈی او سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کسی بھی طرح کا بیان دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ حکومت اور محکمہ کے ذریعہ تعمیری کام کی جواب دہی ہمارے محکمہ کے سپرد کی گئی ہے۔ روزگار گارنٹی اسکیم کے تحت 3کروڑ 45لاکھ کے اینی کٹ تعمیری کام کا دارو مدار ہمارے محکمہ کو دیا گیا ہے، اس میں ہم کسی بھی طرح کے تعمیری سامان کا استعمال کریں اور کسی کے بھی ذریعہ کروایا جائے،اس میں کسی کو بھی دخل اندازی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے یہاں تک کہا کہ تعمیری مقام پر جا کر اس کی چھان بین کرنے کا اختیار بھی ہمارے محکمہ کے علاوہ کسی کو نہیں دیا گیا ہے۔ روزگار گارنٹی اسکیم کے اس کام کو ہمارا محکمہ کتنے بھی وقت اور مدت میں پورا کروائے اس سے کسی کا بھی کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اینی کٹ تعمیری کام میں لگی خواتین نے بتایا کہ انہیں تعمیری کام کے لئے 75روپے کی مزدوری پر لایا گیا ہے، لیکن 7دنوں کی مزدوری کی ادائیگی کے بعد آج تک کسی بھی طرح کی ادائیگی تعمیری ایجنسی کے ذریعہ نہیں کی گئی ہے، جبکہ اس تعمیری کام میں کام کرتے ہوئے دو ماہ سے بھی زیادہ کا وقت ہو گیا ہے، حکومت کے ذریعہ بھی ایساانتظام کیا گیا ہے کہ جہاں روزگار گارنٹی کے تحت کام ہو رہا ہے، وہاں مزدوروں کو ایک ہفتہ میں مزدوری کی ادائیگی کی جانی چاہئے اور مزدوری 100روپے سے کم نہیں دی جانی چاہئے۔ ایسی خراب صورتحال میں ہمارے سامنے، ہمارے کنبوں کی پرورش کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ ہمارے بچے دو وقت کی روٹی کے محتاج ہو کر رہ گئے ہیں۔ تعمیری کام کی ادائیگی کے لئے جب بھی تعمیری ایجنسی کے انجینئروں سے بات کی جاتی ہے تو ٹال مٹول کی صورتحال بتا کر پلا جھاڑ لیا جاتا ہے۔ ہمارے سامنے فاقہ کشی کی نوبت آ گئی ہے، انھوں نے یہ بھی بتایا کہ مائونواز اکثریتی علاقہ ہونے کے سبب پہلے ہمیں مائونوازوں کے ذریعہ پریشان کیا جاتا تھا، لیکن جب سے مرکز ی اور ریاستی حکومت نے ان علاقوں میں نکسلی سرگرمیوں پر لگام لگانے اور فوج کے جوانوں کو ہماری حفاظت کے لئے تعینات کیا ہے، جوانوں سے ہماری بہن بیٹیوں کی عزت بچانا مشکل ہو گیا ہے۔ ہماری اور ہماری بیٹیوںکا گھروں سے باہر نکلنا مشکل ہو گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اینی کٹ تعمیری کام میں5:1کا مسالہ پلستر 1:3:6کی ڈھلائی اور 8سے 10ایم ایم کے سریے کا استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ سرکاری سطح پر 3کروڑ 45لاکھ کے اینی کٹ تعمیری کام میں تعمیری ایجنسی کے ذریعہ 10:1کا مسالہ ، 1:6:10کی ڈھلائی اور 6ایم ایم کے سریے کا استعمال کر کے اس اینی کٹ تعمیر ی کام کو انجام دیا جا رہا ہے۔ تمام سرکاری ضوابط اور قوانین کو بالائے طاق رکھ کر یہ تعمیر تعمیری ایجنسی کے ذریعہ گھٹیا مال کا استعمال کر کے کی جا رہی ہے، وہیں تعمیری کام میں لگے مزدوروں کو مہینوں سے ادائیگی بھی نہیں کی گئی۔ حکومت کو کروڑوں روپے کا چونا لگا ہے، افسران اتنے بے لگام ہو چکے ہیں کہ انھوں نے روزگار گارنٹی اسکیم کا بورڈ اور میڈیکل کٹ تک کا بندوبست تعمیری کام پر نہیں کیا ہے۔
افسران فائلوں میں خانہ پری کر کے لاکھوں روپے کی رقم کو ڈکار چکے ہیں، جبکہ مزدور اپنی مزدوری کے لئے ابھی بھی منتظر ہیں، ایسی صورت میں خود ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت کے کروڑوں روپیوں کا سرکاری افسران کے ذریعہ کس طرح سے بیجا استعمال کیا جا رہا ہے اور کروڑوں روپیوں کی ان اسکیموں پر مائونواز اکثریتی علاقوں میں کتنی مستعدی سے کام ہو رہا ہے اور حکومت ان علاقوں کی ترقی کو لے کر کتنی حساس ہے۔ یہ تعمیری کاموں کے معیار اور اسکولی بچوں کو بندھوا مزدوری کرتے ہوئے دیکھ کر اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔ مزدور اب حکومت اور تعمیری ایجنسی کا خاموش رویہ دیکھ کر کہنے لگے ہیں کہ کوئی فرشتہ آئے اور ہماری مزدوری کی ادائیگی کرائے۔مائونواز اکثریتی علاقہ بیجا پور، دنتے واڑہ، جگدلپور، نارائن پور، بستر، کانکیر، کرندول اور بچیلی میں حکومت کے ذریعہ ان علاقوں کی ترقی کے نام پر کروڑوں روپیوں کے تعمیری کام کی منظوری روزگار گارنٹی اسکیم کے تحت کی گئی ہے، مگر حکومت کی تمام کوششیں سرکاری افسران اور ملازمین کی بدعنوانیوں میں ملوث رویہ کے سبب فائلوں میں ہی سچ ہوتی نظر آ رہی ہیں، جبکہ اس کی زمینی حقیقت کچھ اور ہی ہے، اگر صحیح طریقہ سے مائونواز اکثریتی علاقوں میں چل رہی سرکاری اسکیموں کا جائزہ لیا جائے تو بڑے پیمانہ پر بدعنوانیاں سامنے آ سکتی ہیں۔ نکسل متاثرہ علاقوں میں جب تک استحصال رکے گا نہیں تب تک قانون کسی کو بھی تسلیم نہیں ہوگا۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ آزادی کے بعد سے اب تک کا استحصال ہی آج نکسل پرستی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ ترقی کے لئے اربوں روپے آئے، فائلوں پر قبائلیوں اور پسماندہ علاقوں کے لئے خرچ ہوئے، مگر آج بھی قبائلی پوری طرح اپنے جسم کو کپڑوں سے ڈھک نہیں پائے ہیںاور پسماندہ علاقے اتنے ہی پسماندہ ہیں جتنے کہ آج سے 60سال پہلے تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *