قومی تعلیمی پالیسی:مدارس کے نصاب سے چھیڑ چھاڑ نہ کرے حکومت :دارالعلوم دیوبند

Share Article
Daruloolum-Deoband
نیشنل ایجوکیشن پالیسی( قومی تعلیمی پالیسی) کے سلسلہ میں مرکزی حکومت کی جانب سے 20جنوری کوبنگلور میں منعقدکانفرنس میں دارالعلوم دیوبند نے تین اہم تجاویز پیش کرکے اپنا واضح موقف حکومت کے سامنے رکھا۔اجلاس میں پیش کی گئی تجاویز کے سلسلہ میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے بتایا کہ حکومت مدرسہ بورڈ کے زیرانتظام چلائے جا رہے مدارس کی تعلیم میں دخل اندازی نہ کرے، ساتھ ہی یوگا پر اہم فیصلہ لیتے ہوئے دارالعلوم نے اپنی تجویز میں کہا کہ اس کو اختیاری موضوع کے طور شامل کیاجاسکتاہے۔ہفتہ کو دارالعلوم دیوبندکے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مدارس کے نصاب میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے، ساتھ ہی تجویز پیش کی گئی کہ مدارس سے تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو تعلیم یافتہ ہونے کادرجہ دیاجائے،جو ابھی تک حکومت نے نہیں دیاہے۔ مہتمم مفتی نعمانی نے بتایا کہ بنگلور کانفرنس میں دارالعلوم دیوبند کے نمائندہ کے طورپر رکن شوریٰ مولانا محمد اسماعیل مالیگاؤں شرکت کررہے ہیں،انہوں نے کہاکہ دارالعلوم دیوبند نے یوگا کو لازمی طورپر شامل کئے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے اس کو اختیاری موضوع کے طورپر شامل کئے جانے کی تجویز پیش کی ہے،جو چاہے یوگا کرے اور جس کی مرضی نہیں ہے وہ نہ کرے۔
ہفتے کے روز مولانا محمد اسماعیل نے پیش کی تجویز میں حکومت کے سامنے صاف کہاکہ مدرسہ بورڈ کے مدارس کے تعلیمی نصاف میں تبدیلی کرکے ٹکراؤ کی صورتحال نہ بنائی جائے ،جس کو مذہبی طورپر قبول کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرناپڑے۔ آپ کو بتادیں کہ قومی تعلیمی پالیسی کے بنگلور میں منعقد اجلاس میں جمعہ کو دارالعلوم دیوبند کے نمائندہ مولانا محمد اسماعیل کئی وجوہات کے سبب اپنی تجاویز پیش نہیں کرسکے تھے،جنہوں نے آج ہفتے کے روز دارالعلوم دیوبند کی جانب سے حکومت کے سامنے اپنے واضح موقف کا اظہار کیا۔ اجلاس میں شرکت کے لئے دارالعلوم دیوبند کو وزارت انسانی و سائل فلاح و بہبود کی جانب سے مدعوکیاگیا تھا،جس کو دارالعلوم دیوبند نے قبول کرتے ہوئے رکن شوریٰ مولانا محمد اسماعیل مالیگاؤں کو اس اجلاس میں بطور نمائندہ شرکت کرنے کے لئے بھیجا ہے۔مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے بتایاکہ کانفرنس میں دارالعلوم دیوبند کی تجاویز پر سنجیدگی سے غور فکر کیاگیا ۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *