hurriyat-conference
نئی دہلی:گزشتہ دو ہفتوں سے ملک میں بنے دہشت گرد اور جنگ جیسے ماحول کا مستقل حل نکانے کے لئے مرکزی حکومت نے ملک کے اندر اور باہر دونوں محاذوں پر سخت موقف اختیار کیا ہوا ہے۔بھارت ایک طرف جہاں پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر گھیرے ہوئے ہے، وہیں پلوامہ حملے کے بعد سے مسلسل دہشت گرد تنظیموں اور انہیں فروغ دینے والے علیحدگی پسندوں پر بھی شکنجہ کس رہا ہے۔جماعت اسلامی پر پابندی لگانے کے بعد اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ مرکزی حکومت اب ایسے کچھ اور تنظیموں پر جلد کارروائی کر سکتی ہے۔
jamaat-e-islami
مرکزی حکومت نے غیر قانونی اورتخریبی سرگرمیوں میں شامل ہونے کی وجہ سے کشمیر کے بنیاد پرست علیحدگی پسند تنظیم جماعت اسلامی پرکو پابندی لگا دی ہے، اس پرکئی تخریبی سرگرمیوں میں شامل ہونے کے الزام ہیں، اس کے ساتھ ہی کئی دہشت گرد تنظیموں سے اس کا رابطہ رہا ہے۔ وزیر اعظم کی صدارت میں سیکورٹی معاملات کی اعلیٰ سطحی کمیٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ لیا گیا تھا۔
اجلاس کے بعد مرکزی وزارت داخلہ نے حکم پابندی لاگو کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ وادی میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تقریباً 500 جماعت کے کارکن پکڑے جا چکے ہیں۔ مرکز کی طرف سے پابندی لگائے جانے کے بعد اب گرفتاریوں کا سلسلہ اور تیز ہونے کے ساتھ ہی جماعت کے اداروں پر تالابندی بھی شروع ہو جائے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here