اجے کمار 
p-4اتر پردیش کے عوام دہلی کی گدی کے لئے کسے اپنا رہنما چنیں گے؟انتخاب کن ایشوز پر لڑا جائے گا؟بڑھتی مہنگائی اور بدعنوانی کاایشو انتخاب میں کیا کردار نبھائے گا؟ووٹ بینک کی پالیسی پارلیمانی انتخاب میں بھی حاوی رہے گی یا نہیں؟اونچی ذاتیں کدھر جائیں گی، پچھڑوں کا ووٹ کسے ملے گا؟ دلت بہو جن سماج پارٹی کے ہی ساتھ جمے رہیںگے یا نہیں؟مسلمان کیا پالا بدلیںگے یا پھر اب کی پرانی روایتوں کو توڑ کر عوام ریاست کی ترقی کی بات کرنے والوں کو چنیں گے؟ تمام ایسے ہی سوالوں کا جواب تلاش کرنے میں اتر پردیش کے لیڈر لگے ہوئے ہیں۔عوام بھی ان سوالوں میں خوب دلچسپی لے رہے ہیں۔ لیکن کسی کے ہاتھ میں صحیح نمبر کی چابی نہیں لگ رہی ہے،جس سے اس کی قسمت کا تالا کھل جائے۔ مختلف پارٹیوں کے لیڈروں کے بیچ دہلی کے اقتدار کے لئے چوہے بلی جیسا کھیل چل رہا ہے۔ کردار کشی سے لے کر سیاسی بدنامی تک سب کچھ سیاست کی منچ پر واقع ہو رہے ہیں۔’لیڈر ہیرو باقی سب زیرو ‘کے تصور نے سیاست کو بازار اور عوام کو گراہک بنا دیا ہے۔ فی الحال ، خاموشی کی چادر اوڑھ کر عوام سب کو سن رہے ہیں۔ لیکن اسے اس بات کا ملال ضرور ہے کہ لیڈروں کے بڑے بڑے وعدوں ،ارادوں اور بڑبولے پن نے جمہوریت کو شرمسار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ ’میں صحیح باقی سب غلط‘ سیاست دانوں میں پنپتی یہ سوچ ملک کے لئے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو رہی ہے۔ لیکن اس کی کسی کو ذرہ برابر بھی فکر نہیں ہے۔
آج حالات یہ ہیں کہ جو لیڈر تلاش کرنے پر بھی نہیں ملتے تھے، وہ عوام کے قریب آنے کا موقع تلاش کرتے رہتے ہیں۔ سماجی اور ذاتی پروگراموں تک میں لیڈروں کی حصہ داری اچانک کافی تیزی سے بڑھ گئی ہے۔ بڑے بڑے اجلاس کرکے ووٹروں کو لبھایا جارہا ہے۔ سیاست کے میدان میں کانگریس و بی جے پی اور سماج وادی پارٹی تو کافی وقت سے تال ٹھونک ہی رہی تھیں،اب بہو جن سماج پارٹی سپریمو مایا وتی بھی میدان میں کود پڑی ہیں۔ گزشتہ دنوں وہ تقریبا ً تین ماہ کے بعد لکھنو پہنچیں تو ان کے تیوروں نے مخالفین کے چھکے چھڑا دیے۔تنظیموں کے پینچ کسنے ، امیدواروں کی زمینی حقیقت کا اندازہ لگانے کے علاوہ بہو جن سماج پارٹی سپریمو مایاوتی کے پہلے ہی وار میں صاف ہو گیا کہ وہ کسی کو چھوٹ نہیں دیںگی۔ بی جے پی نے انہیں تگڑی کی پالیسی دی تو مایا نے اڈوانی و مودی اور راجناتھ کو تگڑی کہہ کر خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تگڑی کے بیچ چل رہے آپسی اختلاف کا فائدہ بہو جن سماج پارٹی کو ملے گا۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس کو بھی بتا دیا کہ وہ اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ بہو جن سماج پارٹی ان کے ساتھ مل کر عام انتخاب لڑنے جا رہی ہے۔ مایا کے بیان سے ان کانگریسیوں کو سخت جھٹکا لگا ہے جو 2014 کے عام انتخاب میں بہو جن سماج پارٹی کی بیساکھی سے کانگریس کو مضبوطی دینے کی کوشش میں لگے تھے۔ اس معاملے میں ایک مرکزی وزیر اور بہو جن سماج پارٹی کی طرف سے کوئی بیان نہیں جاری کرنے کی وجہ سے اتحاد کو لے کر افواہوں کا بازار کافی وقت سے گرم تھا۔ بہو جن سماج پارٹی قیادت کو قانونی معاملوں سے راحت دیے جانے کے بعد تو کانگریس بہو جن سماج پارٹی کے بیچ کچھ پک رہا ہے۔ اس کو لے کر چرچا کافی ہی سنجیدہ ہو گئی ہے۔مایا نے نہ صرف کانگریس کے ساتھ اتحاد کی بات سے انکار کردیا بلکہ انہوں نے راہل کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ۔مایا نے راہل پر طنز کستے ہوئے کہا کہ وہ چاہیں تو ہزار دلت لیڈر پیدا کر سکتے ہیں، انہیں کس نے روکا ہے۔ غور طلب ہو راہل نے گزشتہ دنوں الزام لگایا تھا کہ مایا وتی نے کسی دوسرے دلت لیڈر کو نہیں ابھر نے دیا تھا۔ ویسے اتحاد والی بات پر سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ مایاوتی ایسے ہی نہیں کانگریس سے اتحاد کی بات سے انکار کر رہی ہیں۔ ان کا 1996 میں کانگریس کے ساتھ کا تجربہ اچھا نہیں ہے۔ تب دونوں نے مل کر اتر پردیش اسمبلی کا انتخاب لڑا تھا۔ اس تجربے سے بہو جن سماج پارٹی کو نقصان اٹھانا پڑا تھا اور بہو جن سماج پارٹی قیادت نے کہا بھی تھا کہ دلت ووٹ بینک تو کانگریس میں ٹرانسفر ہو گیا، لیکن کانگریس کے ووٹروں نے بہو جن سماج پارٹی امیدوروں کو ووٹ نہیں دیا۔ بہو جن سماج پارٹی کے ایک لیڈر کا کہنا تھا کہ مغربی اتر پردیش میں فسادوں کے بعد کانگریس کو اپنے معاون راشٹریہ لوک دل پر بھروسہ نہیں رہ گیا ہے، اسی لئے وہ بہو جن سماج پارٹی کی طرف دیکھ رہی ہے۔ مایا کا کہنا تھا کہ آئندہ پارلیمانی اور چار ریاستوں کے انتخاب میں بہو جن سماج پارٹی بیلنس آف پاور بن کر ابھرے گی۔
بہو جن سماج پارٹی سپریمو نے ایک طرف تو لمبے وقت سے چل رہی قیاسوں کو روکتے ہوئے واضح کردیا کہ نہ تو ان کا اتحاد کانگریس سے ہوگا نہ ہی بی جے پی سے۔وہ اپنے دم پر انتخاب لڑے گی تو دوسری طرف مایا وتی نے سب سے بڑا حملہ اپنی سب سے بڑی سیاسی مخالف سماج وادی پارٹی پر کیا۔ سماج وادی پارٹی کے پچھڑے کارڈ کی ہوا نکالنے کی تیاری کرکے دہلی سے لکھنو آئیں مایا نے پچھڑوں کو ملائم سے ہوشیار رہنے کی استدعا کی۔سماج وادی پارٹی کی سماجی انصاف یاترا کو انہوں نے چھلاوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ سماج وادی پارٹی نے پہلے ہی او بی سی ( پچھڑا طبقہ ) کا خاصا نقصان کیا ہے، اب اسے اور برداشت نہں کیا جائے گا۔ بہو جن سماج پارٹی سپریمو نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کو سماجی انصاف یاترا پر جانے سے پہلے اس ان 17 ذاتو ں کے ساتھ کی گئی پہلی زیادتیوں پر معافی مانگنی چاہئے تھی۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ سماج وادی پارٹی سرکارنے پچھلے دور اقتدار میں بھی ایک سرکاری حکم جاری کیا تھا، جسے کورٹ نے غیر آئینی قرار دے دیا تھا۔ بہو جن سماج پارٹی سماج وادی پارٹی پچھڑا کارڈ کھیلنے میں پوری طرح سے دلچسپی لے رہی ہے۔
بہو جن سماج پارٹی لیڈر نے مسلمانوں پر بھی ڈورے ڈالے، مظفر نگر فساد کے ملزموں کو سخت قانونی سزا نہ مل پانے کا ایشو اٹھاتے ہوئے مایاوتی نے اسے سماج وادی پارٹی اور بی جے پی کے بیچ ملی بھگت سے جوڑ کر پیش کیا۔ مایا کا حملہ تیکھا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سماج وادی لیڈر بری طرح سے بوکھلا گئے۔ سماج وادی پارٹی کے ترجمان اور اکھلیش سرکار میں وزیر راجندر چودھری نے مایا پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ پرانے صفحے پڑھنے کی عادی ہیں۔ سماج وادی پارٹی اور بی جے پی کے بیچ ملی بھگت کا الزام لگاتے وقت مایا وتی اپنے راکھی کے بندھن کو بھول گئیں۔ بی جے پی کے ہی وجہ سے وہ تین بار وزیر اعلیٰ بنی تھیں۔ بی جے پی نے بھی مایا کو نصیحت دی کہ وہ بی جے پی لیڈروں کے لئے پریشان نہ ہوں اور اپنی فکر کریں۔
بہر حال، اسے ملک کی بد قسمتی ہی کہی جائے گی کہ ہمارے سیاست داں اپنے سیاسی مفاد حاصل کرنے کے لئے ملک کی اہم شخصیتوں کو کو بھی ذات کے پھندے میں کسنے سے باز نہیں آتے ہیں، جو شخصیتیں تا عمر ذاتی تفریق یعنی ذاتی واد سے دور رہیں۔ ان کی ذاتیوں کو کھنگالا جا رہا ہے۔ سردار پٹیل کبھی ہندوستان کی آن بان شان ہوا کرتے تھے، لیکن اب ان کا نام پچھڑوں کو لبھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔پٹیل کی وراثت کو لے کر بی جے پی اور کانگریس میںہی نہیں،کئی علاقائی پارٹیوں تک میں ٹھنی ہوئی ہے۔ اسی طرح سے مہاتما گاندھی کبھی ملک کے باپو ہوا کرتے تھے، لیکن وہ دن لد گئے۔ اب گاندھی جی بنیا ذات کے ہیں۔سوامی وی ویکا نند کبھی ملک کے لئے فخر کا مقام رکھتے تھے،اب ا وہ کائستھ ذاتی کے ہیں۔ سماج وادی فکر کے حامل ڈاکٹر رام منوہر لوہیا جی اب اگروال ہو گئے ہیں۔ ملک کے لئے کبھی قربانی دینے اور بہادری و ہمت کے لئے جانے جاتے ہوںگے۔کبھی بابا صاحب امبیڈکر نے آئین کو مسودہ تیار کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہوگا لیکن آج بابا صاحب دلت ذات کا ہونے کی وجہ سے اپنی پہچان بنا رہے ہیں۔ سردار ولبھ بھائی پٹیل کبھی قومی اتحاد کے نمونہ رہیں ہوںگے لیکن آج کرمی ذات کے ہیں۔ تمام اہم شخصیتیں کسی نہ کسی ذات کے فریم میں باندھ دی گئی ہیں۔
بات کچھ گزشتہ دہائیوں کی کریں تو اس دور میں بھی کئی قابل قبول لیڈروں کو ان کے حامیوں نے وقت بہ وقت ذات برادری کی چاشنی میں خوب ڈبویا۔ بی جے پی نے اٹل بہاری باجپئی، کلراج مشر،مرلی منوہر جوشی کو برہمن، کلیان سنگھ کو لودھ، راجناتھ سنگھ کو چھتری، اوم پرکاش سنگھ کو پچھڑا سماج، ونئے کٹیار کو ہندوتوا کا چہرہ بناکر خوب سیاست کی۔ اسی طرح سے کانگریس نے پہلے کملا پتی ترپاٹھی، نارائن دت تیواری، رام پرکاش گپتا، مہاویر پرساد جیسے تمام لیڈروں کا استعمال ذاتی واد کی سیاست کو ہوا دینے کے لئے کیا اور اب یہی کام مرکزی وزیر پرکاش جیسوال ، سلمان خورشید، بینی پرساد ورما جیسے لیڈر کر رہے ہیں۔ تین بار وزیر اعلیٰ بنے ملائم سنگھ یادو ہمیشہ اپنے آپ کو پچھڑوں اور مسلمانوں کے لیڈر کی شکل میں متعارف کراتے رہے۔ یہی کام اب ان کے لڑکے اکھلیش یادو کر رہے ہیں۔ سماج وادی پارٹی میں اعظم خان اپنے آپ کو اقلیتوں کا رہنما ، نریش اگروال ویشای سماج کا ٹھیکدار سمجھتے ہیں۔مایا وتی تو اپنے آپ کو دلتوں کا مسیحا ہی مانتی ہیں۔ بھلے ہی ان کے مخالف کہتے رہتے ہیں کہ مایا وتی دلت کی نہیں دولت کی بیٹی ہیں۔ g

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here