ملک میں نوجوان سیاست کو پہچان دینے والے این سی پی کے سینئر لیڈر طارق انور ان دنوں نوجوانوں کے راہ سے بھٹکنے کے حوالے سے کافی فکر مند ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ بڑے لیڈروں نے نوجوان طاقت کو ذات برادری کے دائرے میں تقسیم کر کے نوجوانوں کو اپنے حق سے محروم کر دیا ہے۔ٹکٹ کے حوالہ سے ہوئے ہنگامے کو طارق صاحب سیاست میں بڑھ رہی پیسہ کی طاقت کا برا نتیجہ مانتے ہیں۔ بہار کی بدحالی کے لئے وہ لالو یادو اور نتیش کمار کو برابر کا قصوروار مانتے ہیں اور یہ ردعمل دیتے ہیں کہ بہار کی حقیقی ترقی تب ہوگی جب یہاں سرمایہ کاری کے اندراج کا راستہ کھلے گا، بجلی ہوگی اور کارخانوں کا جال بچھے گا۔پیش ہیں ’’چوتھی دنیا‘‘ کی ان سے ہوئی گفتگو کے اہم اقتباسات :
س:نتیش کمار دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی حکومت نے اقلیتوں کی فلاح کے لئے بہت سارے کام کئے ہیں؟آپ کی نظر میں نتیش کتنے درست ہیں؟
ج: نتیش کمار نے مسلمانوں کو ٹھگنے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں کیا ہے۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیںہے، جو نتیش کمار اپنی کابینہ میں مسلمانوں کو مناسب حصہ داری نہیں دے پائے، وہ پوری قوم کا بھلا کیا کریں گے۔ جو وزیر تھے انہیں بھی پارٹی سے باہر کر دیا گیا۔ابھی ٹکٹ تقسیم ہوئے ہیں، آپ خودہی دیکھ لیجئے کیا حال ہے۔ مسلمانوں کی دقتوں کو سمجھنے اور سلجھانے کا وقت ان کے پاس ہے ہی کہاں۔انہیں بس مسلمانوں کے ووٹ سے مطلب ہے لیکن اس انتخاب میں ان کا یہ وہم ختم ہو جائے گا، کیونکہ مسلمانوں سمیت پورے بہار کے عوام ان کا معنوی چہرہ دیکھ چکے ہیں۔
س: لیکن مسلمانوں کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے انھوں نے مودی اور   ورون گاندھی کو انتخابی تشہیر کے لئے بہار نہیں آنے دیا؟
ج: نریندر مودی سے نتیش کمار دور ہیں ہی کہاں، وہ تو بہار میں دوری بناتے ہیں اور دوسری ریاست میں ساتھ میں تصویر کھنچواتے ہیں۔اگر مسلمانوں کے زخموں کا انہیں اتنا ہی خیال ہوتا تو پھر بی جے پی سے ناطہ کیوں نہیں توڑ لیتے۔کیا بہار کی بی جے پی کے لوگ نریندر مودی کو اپنا لیڈر نہیں مانتے۔ نریندر مودی کانظریہ اور بہار کی بی جے پی کا نظریہ الگ الگ ہے۔اگر دہلی میں کبھی این ڈی اے کی حکومت بنے تو اس میں نریندر مودی کے لوگ یا پھر وہ خود نہیں ہوں گے۔صرف انتخابی تشہیر میں نہ بلانے سے مسئلہ حل نہیں ہو جاتا۔حکومت پانچ سال چلتی ہے اور اسی دوران پالیسیاں بنائی جاتی ہیں اور اس پر عمل کیا جاتا ہے۔ بی جے پی کے تعاون سے بننے والی حکومت میں مسلمانوں کا کوئی بھلا ہو سکتا یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ سیکولر لوگ بی جے پی کو برداشت نہیں کر سکتے۔
س: نتیش کمار کے پانچ سال کے دور اقتدار کو آپ کس طرح سے دیکھتے ہیں؟
ج :عوام کو بے حد مایوسی ہوئی ہے۔ بہار کے عوام نے بہار کی ترقی کے لئے جس اعتماد کے ساتھ نتیش کمار کو ووٹ دیا، اسے انھوں نے توڑ دیا۔ پانچ سال تک صرف بیان بازی ہی ہوتی رہی اور عوام کے بنیادی مسائل درکنار کر دئے گئے ۔سرمایہ کاری ذرا بھی نہیں ہوئی۔ایک میگاواٹ سے زائد بجلی نہیں بنی اور ایک بھی کارخانہ نہیں کھلا۔کوئی یہ تو بتائے کہ ان چیزوں کو علیحدہ کر کے ترقی کی کہانی لکھی جا سکتی ہے کیا؟مرکزی حکومت نے پیسہ دیا لیکن بہار کی صورت تبدیل نہیں ہو سکی۔کچھ سڑکیں بنی ہیں، وہ دو تین سالوں میں ٹوٹ جائیں گی۔ پھر کیا کیجئے گا۔ جب تک اپنے پیر مضبوط نہیں کئے جائیں گے تب تک صحیح معنوں میں ترقی کی بات سوچنا بھی بے معنی ہے۔نتیش کمار کو ترقی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ وہ لالو کا ہی کھیل کھیل رہے ہیں۔ ذات برادری میں بہار کو تقسیم کیا گیا اور عوام کے اصل مسئلہ کو نظر انداز کیا گیا۔ صوبے سے آج بھی بڑی تعداد میں نقل مکانی جاری ہے۔دوسری ریاستو ں میں بہاریوں کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے ، اس سے سبھی واقف ہیں۔ہمارے بہاری بھائی بے عزتی برداشت کر کے بھی اپنے کنبہ کے لئے پیسہ کماتے ہیں۔ آج بھی پڑھائی کے لئے ہمارے بچوں کو دوسری ریاستوں کا منھ دیکھنا پڑ رہا ہے۔بہار کا پیسہ دوسری ریاستوں میں جا رہا ہے۔
س: کارخانوں کا قیام اور سرمایہ کاری نہیں ہونے کے لئے مرکزی حکومت کو ہی قصوروار مانا جا رہا ہیـ،اس حوالہ سے آپ کا کیا کہنا ہے؟
ج: اپنی غلطیوں اور کمزوریوں کو چھپانے کے لئے اس طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ مرکزی حکومت کی پالیسیاں کسی ایک ریاست کے لئے نہیں بنائی جاتی ہیں۔ پورے ملک میں ایک ہی ضابطہ چلتا ہے۔ ان ہی پالیسیوں کے مطابق تجویزیں بنائی جاتی ہیں مگر یہاں تو نیت ہی صاف نہیں ہے تو پالیسیاں کیا کریں گی؟ صرف جھوٹے وعدے کر کے عوام کا ووٹ حاصل کرنا ہے تو ترقی کیسے ہوگی؟
س: بہار کی نوجوان سیاست راہ سے بھٹک رہی ہے ۔ اس کے لئے آپ کسے ذمہ دار مانتے ہیں؟
ج:غلطی دونوں طرف ہے ۔ نوجوان فوراً ریزلٹ چاہتے ہیں اور لالو اور نتیش جیسے لیڈر اسی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ لالچ دے کر پہلے ان کی اجتماعی طاقت کمزور کرتے ہیں اور اس کے بعد انہیں ذات برادری کے دائرے میں لاکر باندھ دیتے ہیں۔ نوجوان طاقت ذات برادری کے دائرے میں جا کر اتنی کمزور ہو جاتی ہے کہ وہ چاہ کر بھی اپنا حق نہیں لے پاتی۔ میری رائے ہے کہ نوجوان خود کو استعمال نہ ہونے دیں اور ذات برادری کی خیمہ بندی کی بجائے اجتماعیت کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔
س: آپ کی پارٹی این سی پی کن ایشوز کو لے کر عوام کے درمیان جائے گی؟
ج: ترقی ہمارا اہم ایشو ہوگا۔ نتیش کمار اور لالو پرساد نے ذات برادری کی سیاست کر کے بہار کو ترقی کے پائیدان سے کافی پیچھے کھڑا کر دیا ہے۔ ہماری پارٹی چاہتی ہے کہ بہار میں صحیح معنوں میں ترقی ہو۔سرمایہ کاری ہو، بجلی بنے،  کارخانے کھلیں اور نقل مکانی رکے۔ پڑھائی کا پختہ نظام ہو، غریبوں کا بہتراور سستا علاج ہو سکے، اس طرف ہم توجہ دیں گے۔ انتخابی منشور کی جگہ ہم عزم نامہ جاری کر ہے ہیں۔تشکیل حکومت میں ہم نہ لالو کا ساتھ دیں گے اور نہ ہی نتیش کا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here