ڈاکٹر منیش کمار 

دو زار چودپ کے لوک سبھا انتخابات کے لیے مودی پورے ملک کا دور ہ کر رہے ہیں۔ حقیقت تو یہی ہے کہ ملک گزشتہ بیس سالوں میں آگے جانے کے بجائے ترقی کے سفر میں پیچھے چھوٹ گیا ہے۔ غریب اور غریب ہو گئے اور امیر پہلے سے کہیں زیادہ امیر ہو گئے۔ کسانوں کی حالت خراب ہے۔ وہ خود کشی کر رہے ہیں۔ کھیتوں کو چھوڑ کر شہروںمیں نقل مکانی کر رہے ہیں۔ دنیا کے سب سے زیادہ نوجوان ہندوستان میں تو رہتے ہیں، لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ یہاں سب سے زیادہ بے روزگار بھی رہتے ہیں۔ کاشتکاری، صنعت، کان کنی اور تعمیری شعبہ میں ہندوستان کی حالت کافی خراب ہے۔ کانگریس کی پالیسیوں کا اثر گزشتہ تین سالوں میں ہندوستان کے عوام نہ صرف دیکھ رہے ہیں، بلکہ برداشت بھی کر رہے ہیں۔ نریندر مودی ملک کے وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں، تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ملک کی معیشت کو بدحالی سے نکالنے کا کوئی ماڈل نریندر مودی کے پاس ہے؟ نریندر مودی کہتے ہیں کہ گجرات کے ماڈل کا نفاذ وہ پورے ملک میں کریں گے، تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ نریندر مودی کا اقتصادی ایجنڈا کیا ہے؟

p-3اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ گجرات میں ترقی کے بیشتر پیرا میٹرز پر دوسری ریاستوں سے کافی آگے ہیں۔ گجرات میں ملک کی آبادی کے صرف پانچ فیصد لوگ رہتے ہیں، لیکن گجرات میں اس کی شراکت 16 فیصد ہے اور ملک کے ایکسپورٹ میں گجرات کی حصہ داری 22 فیصد ہے۔ گجرات کی کاشتکاری 10 فیصد کی شرح سے آگے بڑھ رہی ہے، جبکہ ملک کی شرح زراعت محض 3 فیصد ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ گجرات کے گائوں میں 24 گھنٹے بجلی رہتی ہے۔ مودی کے دور اقتدار میں گجرات نے اوسطاً 10.5 فیصد کی شرح ترقی کو برقرار رکھا ہے۔ اعداد و شمار سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ مودی کی قیادت میں گجرات نئی بلندیوں پر پہنچا ہے۔ گجرات کی تجارتی شان و شوکت کی کہانی کوئی نئی نہیں ہے۔ یہ تاریخی دور میں سلک اور اسپائس روٹ کے مرکز میں رہا۔ انگریزوں کے زمانے میں سورت ہندوستان کی سب سے اہم بندرگاہ رہا اور برٹش راج کے دوران سے ہی گجرات میں سرکاری مشینری ملک کی بقیہ ریاستوں سے بہتر رہی ہے۔ اس دوران بڑودہ کے راجواڑہ کا بھی گجرات کو آگے بڑھانے میں اہم رول رہا، جس نے ریاست کے کیمیکل اور دوائیوں کے کاروبار کی شروعات کی۔ گجرات کا شمار کبھی بھی پس ماندہ ریاستوں میں نہیں ہوا۔ تعلیم، صنعت، تجارت اور دیگر شعبوں میں 2001 سے قبل بھی گجرات ملک کی سر فہرست ریاستوں میں رہا۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ نریندر مودی کو وراثت میں ایک ترقی پذیر اور دولت مند ریاست ملی، جسے وہ آگے بڑھانے میں کامیاب رہے۔ مودی کی ترقی کا ماڈل نا قابل تسخیر لبرلائزیشن کا رہا ہے۔ انہوں نے سرکاری اداروں کو مضبوط کرکے ترقی نہ کرکے، پرائیویٹائزیشن کے ذریعے ترقی کا راستہ چنا ہے۔ نریندر مودی کی ترقی کے ماڈل کے دو اصول ہیں۔ پہلا یہ کہ اقتصادی ترقی کے فروغ کے لیے اور نجی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کے لیے سازگار تجارتی ماحول بنانا اور دوسرا یہ کہ سرمایہ کاری کو بنائے رکھنے کے لیے ایماندار، شفاف اور مؤثر حکومت کا ماحول بنانا، یعنی ریاست میں نجی سرمایہ کاری کا راستہ صاف کرنا۔ مودی کی ترقی کا ماڈل سرکار اور سرمایہ داری کے درمیان ساز باز کی انوکھی مثال ہے، اس لیے یہ ماڈل کارپوریٹ دنیا کو بہت اچھا لگتا ہے۔ اس ماڈل کی سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ ترقی کے اس سفر میں عوام کی حصہ داری نہیں ہے۔ یہ وہی راستہ ہے، جسے منموہن سنگھ نے 1991 میں وزیر خزانہ رہتے ہوئے شروع کیا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ترقی کا یہ ماڈل پورے ملک میں نافذ کیا جاسکتا ہے؟
ہندوستان کا ہر علاقہ گجرات نہیں ہے۔ آدھے سے زیادہ علاقے پچھڑے پن کی چپیٹ میں ہیں۔ یہ علاقے زراعت پر مبنی ہیں، یہاں کی سرکاری مشینری کمزور ہے۔ تعلیم نہیں ہے۔ انڈسٹری کے کام آنے والے تربیت یافتہ انسانی وسائل نہیں ہیں۔ بنیادی سہولیات نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ کئی سماجی و سیاسی تضادات ہیں، جن کی وجہ سے ایسے علاقوں میں سرمایہ کاری ناممکن ہے۔ جب سرمایہ کاری ہی نہیں ہوگی، تو ان علاقوں میں گجرات ماڈل کامیاب نہیں ہو سکتا ہے۔ حیرانی اس بات کی ہے کہ نریندر مودی کا دھیان اب تک ان علاقوں کی طرف نہ تو گیا ہے اور نہ ہی ایسے علاقوں کے لیے ترقی کا ماڈل کیا ہو، اس پر انہوں نے کبھی کوئی رائے دی ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مشرقی اتر پردیش، بندیل کھنڈ، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، بہار، مغربی بنگال، اڑیسہ، اتراکھنڈ، کشمیر اور شمال مشرقی ریاستوں جیسے پچھڑے علاقوں کی ترقی کے لیے کوئی ماڈل تیار نہیں ہے۔
جو لوگ نریندر مودی کی حمایت کر رہے ہیں، وہ ایسے لوگ ہیں، جو نیو لبرل ازم کی عوام مخالف پالیسیوں کو صحیح مانتے ہیں۔ میڈیا میں اسے حمایت اس لیے ملتی ہے، کیوں کہ زیادہ تر میڈیا ہاؤس انہی صنعتی گھرانوں کے ذریعے چل رہے ہیں، جنہیں نیو لبرل پالیسیوں کا فائدہ مل رہا ہے۔ نریندر مودی اپنی تقریروں کے دوران جس گجرات ماڈل کی تشہیر اور پرچار کر رہے ہیں، وہ گمراہ کن اطلاعات اور جھوٹ کے پٹارے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اس ماڈل کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ ماڈل سرکار کو اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کو ہی صحیح مانتا ہے۔ یہ ماڈل تعلیم، روزگار، مواقع اور سماجی و سیاسی ترقی کے لیے پرائیویٹائزیشن پر منحصر ہے۔ مودی جی کی سرکار کی یہ خاصیت ہے کہ انہوں نے پوری سرکار کا ہی پرائیویٹائزیشن کر دیا ہے۔ سرکار کی پالیسیاں اور سرکار کی ترجیحات بنیادی سہولیات مہیا کرانے سے زیادہ نجی سرمایہ کاروں کی پیسے کمانے میں مدد کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی کا یہ ماڈل گجرات کے باشندوں کو فائدہ پہنچانے میں ناکام رہا ہے۔ جو بھی سڑکیں، انڈسٹری یا ایس ای زیڈ کی وجہ سے لوگوں کو فائدہ پہنچا ہے، یہ اصلیت میں پرائیویٹ کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا گیا تھا۔

2014کے لوک سبھا انتخابات کے لیے مودی پورے ملک کا دور ہ کر رہے ہیں۔ حقیقت تو یہی ہے کہ ملک گزشتہ بیس سالوں میں آگے جانے کے بجائے ترقی کے سفر میں پیچھے چھوٹ گیا ہے۔ غریب اور غریب ہو گئے اور امیر پہلے سے کہیں زیادہ امیر ہو گئے۔ کسانوں کی حالت خراب ہے۔ وہ خود کشی کر رہے ہیں۔ کھیتوں کو چھوڑ کر شہروںمیں نقل مکانی کر رہے ہیں۔ دنیا کے سب سے زیادہ نوجوان ہندوستان میں تو رہتے ہیں، لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ یہاں سب سے زیادہ بے روزگار بھی رہتے ہیں۔ کاشتکاری، صنعت، کان کنی اور تعمیری شعبہ میں ہندوستان کی حالت کافی خراب ہے۔ کانگریس کی پالیسیوں کا اثر گزشتہ تین سالوں میں ہندوستان کے عوام نہ صرف دیکھ رہے ہیں، بلکہ برداشت بھی کر رہے ہیں۔ نریندر مودی ملک کے وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں، تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ملک کی معیشت کو بدحالی سے نکالنے کا کوئی ماڈل نریندر مودی کے پاس ہے؟ نریندر مودی کہتے ہیں کہ گجرات کے ماڈل کا نفاذ وہ پورے ملک میں کریں گے، تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ نریندر مودی کا اقتصادی ایجنڈا کیا ہے؟

گجرات پر نظر ڈالیں تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس ماڈل میں ترقی کے اعداد و شمار تو اچھے دکھائی دیتے ہیں، لیکن اس سے روزگار نہیں ملتا، بلکہ بے روزگاری کا مسئلہ بڑھتا ہے اور ساتھ ہی اس میں لوگوں کی کل آمدنی میں مزدوری کا شیئر کم ہو جاتا ہے۔ اس ماڈل میں چھوٹے کسان، بے زمین کسان اور سرحدی کسانوں کی حالت بدتر ہو جاتی ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سرکار جس طریقے سے زمین کے استعمال کا قانون بنا دیتی ہے، اس سے زمین عام کسانوں کی پہنچ کے باہر چلی جاتی ہے۔ گجرات ماڈل عوامی پالیسی اور سرکار کے ذریعے پبلک ویلفیئر کے کاموں میں پیسے خرچ کرنے والا ماڈل نہیں ہے۔ اتنا ہی نہیں، یہ ماڈل سماجی ڈھانچے اور کمیوں کو دور کرنے کے لیے بھی پرائیویٹ سیکٹر پر منحصر ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا ماڈل ہے، جو شمولیتی نہیں ہے، بلکہ بھید بھاؤ میں گلے تک ڈوبا ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے ریاست کے اندر ہی الگ الگ شعبوں میں تضاد پیدا ہو گیا ہے، جس کا خمیازہ ماحولیات کے ساتھ ساتھ گاؤں میں رہنے والے غریبوں کو جھیلنا پڑ رہا ہے۔
پرائیویٹائزیشن اور سرمایہ کاری پر مبنی ترقیاتی ماڈل کا سب سے زیادہ نقصان سماجی ترقی پر پڑتا ہے۔ ناخواندگی ہندوستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ دنیا کی شرحِ خواندگی 84 فیصد ہے، جب کہ ہندوستان کی شرحِ خواندگی صرف 4.04 فیصد پر ہی اٹکی ہوئی ہے۔ ہندوستان میں دنیا کے سب سے زیادہ اَن پڑھ لوگ رہتے ہیں۔ 2001 سے 2011 کے درمیان قومی شرحِ خواندگی 9.2 فیصد کے حساب سے بڑھی ہے، لیکن گجرات میں دہائی کے حساب سے شرحِ خواندگی قومی اوسط سے نیچے صرف 8.89 فیصد ہے۔ یہی حال اعلیٰ تعلیم کا ہے۔ گجرات نے پیشہ ورانہ اور اعلیٰ تعلیم کو پرائیویٹ سیکٹر کے لیے کھول دیا ہے۔ پرائمری اور سیکنڈری اسکول میں اسی عمر کے بچوں پر غور کریں، تو لڑکیوں، پچھڑے، دلتوں، مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی پہنچ گجرات میں قومی سطح سے کم رہی۔ کئی ریاستوں کے مقابلے یہ کافی پیچھے ہیں۔ جب گجرات میں تعلیم پر سرکاری خرچ میں قومی تناسب کے مقابلے بھاری کٹوتی کی گئی، اس دوران تعلیم کے لیے سرکاری اور مقامی اکائیوں کے ذریعے چلائے جا رہے اسکولوں پر انحصار یا تو بڑھا یا اتنا ہی بنا رہا۔ ایسا خاص کر دیہی علاقوں میں ہوا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ نجی شعبہ کے مہنگے پرائیویٹ اسکول لوگوں کی تعلیم سے متعلق ضروریات کو پورا کرسکنے میں کامیاب نہیں ہیں۔ آئین کے نظریہ سے سرکار کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو تعلیم یافتہ بنائے، لیکن اس نیو لبرل اقتصادیات میں یہ اس کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ وجہ صاف ہے کہ تعلیم میں سرمایہ کاری کا مقصد لوگوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے بجائے منافع کمانا ہوتا ہے۔ چاہے وہ مودی ہوں یا پھر منموہن سنگھ، سمجھنے والی بات یہی ہے کہ ایسی اقتصادی پالیسیاں، جو کہ صرف نجی فائدے کے لیے ہیں، وہ نہ صرف عوام مخالف ہیں، بلکہ آئین مخالف بھی ہیں۔
گجرات کے ترقیاتی ماڈل کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ گجرات میں سرمایہ کار صرف سرمایہ کاری ہی نہیں کرتے، بلکہ ترقی کی سمت بھی طے کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ترقی کا فائدہ عام لوگوں کو نہیں ملتا۔ ترقی کی سمت و رفتار اب سرکار طے نہیں کرتی، بلکہ اسے سرمایہ کار، مالیاتی ادارے اور کارپوریٹ طے کرتے ہیں، جن کا مقصد عوام کی خدمت نہیں، بلکہ زیادہ سے زیادہ منافع کمانا ہوتا ہے۔ گجرات ماڈل کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی طرح ریاست میں سرمایہ کاری ہو۔ بندرگاہ، سڑک، ریل اور بجلی جیسے شعبے، جو اب تک سرکار کے پاس تھے، مودی جی نے اسے بھی پرائیویٹ کمپنیوں اور کارپوریٹ کے حوالے کر دیا۔ دراصل، گجرات ماڈل کا مطلب ہے کہ سرکار فیصلے سے متعلق تمام اختیارات، ایگزیکٹو اور اقتصادی کنٹرول کی قربانی دے دے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ گجرات ماڈل پوری طرح سے کارپوریٹ کی ترقی کا ماڈل ہے۔ یہ ماڈل نجی سرمایہ کاروں کا، نجی سرمایہ کاروں کے ذریعے، نجی سرمایہ کاروں کے لیے تیار کیا ہوا ماڈل ہے۔
اس ماڈل کا اثر ملک کے غریب عوام پر صاف نظر آتا ہے۔ یہ ماڈل امیروں کو فائدہ پہنچانے والا ماڈل ہے۔ گجرات میں مودی کے دورِ حکومت میں فی کس خرچ 2.5 فیصد ہر سال بڑھا، جب کہ گزشتہ پانچ برسوں میں ریاست کے درج فہرست قبائل کے لیے یہی اعداد و شمار 0.14 فیصد تھا۔ فی کس آمدنی کے سلسلے میں درج فہرست قبائل اور دیگر آبادی کے بیچ کا فاصلہ بہت زیادہ ہے۔ صحت کے پیمانوں کی بنیاد پر، جیسے بچوں کی شرحِ اموات، عورتوں اور مردوں کی شرحِ حیات، ٹیکہ لگانے اور زچگی سے قبل دیکھ بھال کے معاملوں میں قومی سطح کے مقابلے گجرات کی کارکردگی عام رہی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران زیادہ تر معاملوں میں گجرات دیگر ترقی یافتہ ریاستوں، جیسے تمل ناڈو، ہریانہ اور مہاراشٹر سے پیچھے ہی رہا ہے، باوجود اس کے کہ وہاں کی فی کس آمدنی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک اور بات، جو فکرمندی کا باعث ہے کہ پانچ سال کے اندر ہی بچوں کی شرحِ اموات کے معاملے میں گجرات قومی اوسط سے بھی پیچھے ہے۔ ایسی ہی حالت دیہی علاقوں میں عورتوں اور مردوں کی شرحِ اموات کے سلسلے میں بھی ہے۔ یقینی طور پر یہ اعداد و شمار غریب طبقے، خاص کر درج فہرست قبائل اور دیگر برادریوں کے درمیان ایک تقسیم کرنے والی لائن کھینچتے ہیں۔
یہ بحث کا موضوع نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ضرورت ہے کہ ریاست ملک کی اقتصادیات کو مضبوط بنانے کے لیے اہم رول نبھائے، ساتھ ہی سماج کے سبھی طبقوں کی سماجی و ثقافتی ترقی کی بنیاد تیار کرے۔ آئین کے مطابق، حکومت ہند کے لیے ناگزیر موضوع ہے کہ وہ مجموعی ترقی کی پالیسیاں بنائے اور امیر و غریب کے درمیان کے فاصلے کو کم کرے۔ گزشتہ 23 برسوں میں نیو لبرل پالیسیوں نے اس کے بالکل برعکس کام کیا ہے۔ ملک کے عوام کو بازار کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا، کیوں کہ ایسی ہی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کے 20 فیصد ضلعے پوری طرح سے ریاست کی مشینری کے کنٹرول سے باہر چلے گئے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کانگریس پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے اقتصادیات کو ایسے موڑ پر لاکر کھڑا کر دیا ہے، جہاں نیو لبرل پالیسیوں کو واحد ایک علاج سمجھا جانے لگا ہے۔ دراصل، نیو لبرل ازم ہندوستانی اقتصادیات کا علاج نہیں، بلکہ خطرہ ہے، جو اپنے ساتھ بدعنوانی، وسائل کی منظم طریقے سے لوٹ کے ساتھ ساتھ ملک کے اتحاد و سالمیت پر خطرہ لے کر آتی ہے۔ نریندر مودی کا نام نہاد کامیاب ترقیاتی ماڈل دراصل منموہن سنگھ کی اقتصادی پالیسی کا کامیابی کے ساتھ نفاذ ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزیر اعظم عہدہ کے امیدوار نریندر مودی اس خطرے سے نمٹنے کے بجائے اسے علاج مانتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here